المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علقمة بن ناجية بن الحارث أبو كلثوم الخزاعي ثم المصطلقي · حديث 14710
4 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا يعقوب بن حميد ثنا عيسى بن الحضرمي بن كلثوم بن علقمة بن ناجية بن الحارث الخزاعي عن جده كلثوم عن أبيه علقمة قال Y بعث إلينا رسول الله صلى الله عليه و سلم الوليد بن عقبة بن أبي معيط يصدق أموالنا فسار حتى إذا كان قريبا منا وذلك بعد وقعة المريسيع رجع فركبناه في أثره فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أتيت قوما في جاهليتهم أخذوا اللباس ومنعوا الصدقة فلم يغير ذلك النبي صلى الله عليه و سلم حتى نزلت { يا أيها الذين آمنوا إن جاءكم فاسق } الآية وأتى المصطلقون النبي صلى الله عليه و سلم أثر الوليد بطائفة من صدقاتهم يسوقونها ونفقات يحملونها فذكروا ذلك له وأنهم خرجوا يطلبون الوليد بصدقاتهم فلم يجدوه فدفعوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ما كان معهم وقالوا يا رسول الله بلغنا مخرج رسولك فسررنا بذلك وقلنا نتلقاه فبلغهنا محعته فخفنا أن يكون ذلك من سخطة علينا وعرضوا على النبي صلى الله عليه و سلم أن يشتروا منه ما بقي فقبل منهم الفرائض وقال : ( ارجعوا بنفقاتكم لا نبيع شيئا من الصدقات حتى نقبضه فرجعوا إلى أهليهم وبعث إليهم من يقبض بقية صدقاتهم
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف حضرت ولید بن عقبہ بن ابو معیط کو بھیجا وہ ہمارے مالوں کا صدقہ وصول کرتے تھے ‘پس وہ چلے جب ہمارے قریب ہوئے ‘یہ غزوہ مریسیع کے بعد کی بات ہے وہ واپس ہوئے تو ہم بھی سوار ہو کر ان کے پیچھے ہو لئے‘ پس وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے‘عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ایک قوم کے پاس ان کی جاہلیت میں آیا تو انہوں نے میرا لباس چھین لیا اور صدقہ بھی نہ دیا۔ اس بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تبدیلی کا کوئی اثر نظر نہ آیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ’’یا ايها الذين آمنوا الی آخرہ (الحجرات:۶) اور مصطلقین ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ولید کے پیچھے‘ صدقات و خیرات کی ایک خاص مقدار لے کر ‘وہ اونٹوں کو ہانکتے تھے اور سامان ِخرچ ان کے اوپر لادنے والے تھے۔ پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا‘ پہلے وہ صدقات لے کر حضرت ولید کی تلاش میں نکلے لیکن ان کو نہ پایا تو وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے ‘جو کچھ بھی ان کے پاس تھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کا قاصد ہم تک پہنچا ‘ہم اس سے بہت خوش ہوئے۔ہم نے کہا: ہم ان سے ملیں گے ۔ تو ہمیں پتا چلا کہ وہ لوٹ بھی آئےہیں‘ ہم ڈر گئے کہ کہیں وہ ہم پر ناراض ہی نہ ہو گئے ہوں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات عرض کی کہ وہ مابقی خریدلیں گے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرض صدقات قبول فرما لئے اور فرمایا: اپنے صدقات لے کر واپس لوٹ جاؤ کیونکہ ہم جب تک کسی چیز پر قبضہ نہیں کر لیتے اسے بیچتے نہیں ہیں ۔ پس وہ اپنے گھروں کولوٹ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا جو ان کے بقیہ صدقات پر قبضہ کرے۔
أبيه علقمة ← جده كلثوم ← عِيسَى بْنُ الْحَضْرَمِيِّ بْنِ كُلْثُومِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ نَاجِيَةَ بْنِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ
Hadith 14710
