المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عمران بن الحصين الخزاعي سبرة بن معبد الجهني عن عمران بن حصين · حديث 14914
206 - حدثنا محمد بن أحمد بن نصر الترمذي ثنا الحارث بن معبد بن عبد العزيز بن الربيع بن سبرة بن عمرو بن صحار بن زيد بن جهينة بن قضاعة بن مالك بن حمير حدثني عمي حرملة بن عبد العزيز عن أبيه عن جده عن سبرة بن معبد صاحب النبي صلى الله عليه و سلم قال Y اجتمع عند معاوية جماعة من افناء الناس فقال ليحدث كل رجل منكم بمكرمة قومه وما كان فيهم من فضل فحدث القوم حتى انتهى الحديث إلى فتى من جهينة فحدث بحديث مجر عن تمامة فالتفت إليه عمران بن الحصين فقال : حدث يا أخا جهينة بفيك كله فأشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( جهينة مني وأنا منهم غضبوا لغضبي ورضوا لرضائي أغضب لغضبي وأرضى لرضاهم من أغضبهم فقد أغضبني ومن أغضبني فقد أغضب الله ) فقال معاوية بن أبي سفيان : كذبت إنما جاء الحديث في قريش فقال : ( يكذبني بني معاوية بن حرب ... ويشتمني لقولي في جهينة ) ( ولو أني كذبت لطن قولي ... ولم أكذب لقومي من مزينة ) ( ولكين سمعت وأنت ميت ... رسول الله يوم لو شنينة ) ( يقول القوم مني وأنا منهم ... جهينة يوم خاصمه عيينة ) ( إذا غضبوا غضبت وفي رضاي ... منة ليست منينة ) ( وما كانوا كدكوان ورعل ... ولا حيين من سلفي جهينة )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بڑے لوگوں کی ایک جماعت حضرت معاویہ کے پاس جمع ہوئی ‘انہوں نے کہا: تم میں سے ہر ایک آدمی اپنی قوم کی عزت کو بیان کرے اور جو ان میں فضیلت ہے۔ پس قوم نے خوب بیان کیا حتی ٰ کہ بات آ پہنچی بنو جہینہ کے ایک نو جوان پر۔اس نے ایک بات بیان کرنا شروع کی جس کو مکمل کرنے سے عاجز آ گیا‘ پس حضرت عمران بن حصین اس کی طرف متوجہ ہوئے‘فرمایا: اے بنو جہینہ کے نوجوان! اپنے منہ سے ساری بات بیان کرو۔ پس میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بنو جہینہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں ‘وہ میرے غصہ ہونے سے غصہ ہوتے ہیں اور میرے راضی ہونے سے راضی ہوتے ہیں اور میں ان کے غصہ ہونے سے غصے ہوتا ہوں اور ان کی رضامندی سے راضی ہوتا ہوں ‘جس نے ان کو ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے ان کو راضی کیا اُس نے مجھے راضی کیا اور جس نے مجھے ناراض کیا اُس نے اللہ کو ناراض کیا۔ حضرت معاویہ بن ابوسفیان نے کہا: تم نے جھوٹ بولا‘ یہ حدیث تو قریش کی شان میں آیا ہے ۔ پس انہوں نے کہا:’’بنو معاویہ بن حرب مجھے جھٹلاتے ہیں اور بنو جہینہ کے بارے میرے قول کی وجہ سے مجھے گالیاں دیتے ہیں ‘اور اگر میں نے جھوٹ بولا تو وہ اسے میرا قول گمان کرے اور میں بنومز ینہ سے اپنی قوم کیلئے جھوٹ نہیں بولتا ہوں‘لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( تُو مرنے والا ہے ) لوی شنینہ کے دن ‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: یہ قوم مجھ سے اور میں ان سے ہوں‘ یعنی بنوجہینہ‘ اس دن جس دن بنوعیینہ سے لڑائی ہوئی‘ جب یہ غصے ہوں تو میں غصے ہوتا ہوں اور میری رضا ‘ان کی رضا میں ہے ‘اور وہ بنوذکوان اور رعل کی طرح نہیں ہیں اور نہ دونوں قبیلے جو گزرے ‘یہ جہینہ کی بات ہے۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14914
