المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عفيف بن معدي كرب الكندي · حديث 14890
182 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبيد المحاربي ثنا سعيد بن خيثم ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي ثنا سعيد بن خثيم الهلالي ( ح ) وحدثنا الحسين بن محمد الخيا الرامهرمزي ثنا أحمد بن رشد بن خثيم الهلالي حدثني عمي سعيد بن خثيم عن أسد بن عبد الله البجلي عن يحيى بن عفيف عن أبيه عن جده وكان أخو ابن الأشعث بن قيس لأمه قال Y وردت مكة لابتاع لأهل يمن طيبها وعطرها فأويت إلى العباس بن عبد المطلب وكان رجلا تاجرا فأنا عنده وقد طلعت الشمس فأنا أنظر إذ جاء شاب فقلب بصره في السماء ثم ضرب ببصره قبل الكعبة فلم ألبث أن جاء غلام فقام عن يمينه فلم ألبث إذ جاءت امرأة فقامت خلفهما وكبر الشاب فكبرا ثم ركع فركعا فسجد فسجدا قلت يا عباس أمر عظيم قال : العباس أمر عظيم هل تعلم الشاب ؟ قلت : لا قال : هو محمد بن عبد الله بن عبد المطلب ابن أخي هل تعلم من المرأة ؟ قلت : لا قال : هذه خديجة بنت خويلد بن أسد بن عبد العزي سيدة نساء قريش زوج ابن أخي وهذا علي بن أبي طالب ابن أخي زعم ابن أخي أن ربه رب السماء والأرض أمره بهذا الدين لا والله ما أعرف أحدا على وجه الأرض على هذا الدين غير هؤلاء الثلاثة
حضرت یحییٰ عفیف سے مروی ہے‘ انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا اور وہ ابن اشعث بن قیس کے ماں کی طرف سے بھائی تھے۔ فرماتے ہیں: میں مکہ میں داخل ہوا تاکہ اپنے گھر والوں کیلئے خوشبو اور عطر خرید سکوں‘ پس میں نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کے گھر میں پناہ لی ‘وہ بھی تاجر تھے (اور میں بھی تاجر تھا ) ‘میں ابھی ان کے پاس ہی تھا کہ سورج طلوع ہوا۔ پس میں برابر دیکھ رہا تھا جب ایک جوان آیا‘ اس نے ایک نظر آسمان کی طرف پلٹائی پھر کعبہ کی طرف نظر یں جمالیں۔ پس وہ زیادہ دیر نہ ٹھہرے ہوں گے کہ ایک لڑکا آیا ‘وہ ان کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا‘ پس وہ زیادہ دیر نہ ٹھہرا کہ ایک عورت آئی ‘وہ ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی ‘اُس نوخیز جوان نے اللہ اکبر کہا۔ پیچھے سے ان دونوں نے بھی اللہ اکبر کہا ‘اس کے بعد اس نے رکوع کیا تو ان دونوں نے رکوع کیا ‘اس نے سجدہ کیا تو ان دونوں نے بھی سجدہ کیا۔ میں نے کہا: اے عباس! یہ معاملہ بہت بڑا ہے ( تعجب خیز ہے )۔ حضرت عباس نے کہا: واقعی بہت بڑا امر ہے ‘آپ جانتے ہیں کہ یہ جوان کون ہے؟ میں نے کہا: نہیں! انہوں نے کہا:یہ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہے ‘میرے بھائی کا بیٹا ہے کیا آپ اس عورت کو جانتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں! انہوں نے کہا: یہ حضرت خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد عزیٰ ہیں جو قریشی عورتوں کی سردار ہیں اور میرے بھتیجے کی بیوی ہیں اور یہ حضرت علی بن ابوطالب میرے بھتیجے ہیں‘ میرے بھتیجے کا نظریہ ہے کہ ان کا رب وہی ہے جو آسمان و زمین کا رب ہے ‘اس رب نے ان کو اس دین کا حکم دیا ہے ‘قسم بخدا! میں اس روئے زمین پر اس دین پر صرف ان تین شخصیات کو دیکھتا ہوں‘ بس ان کے علاوہ کوئی نہیں۔
جده وكان أخو ابن الأشعث بن قيس لأمه ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَفِيفٍ، ← أَسَدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ، ← عَمِّي سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ رَشَدِ بْنِ خُثَيْمِ الْهِلَالِيُّ ← الحسين بن محمد الخيا الرامهرمزي ← سَعِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ الْهِلَالِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← سعيد بن خيثم ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14890
