المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكاف بن وداعة الهلالي · حديث 14866
158 - حدثنا محمد بن أحمد الخزاعي القاضي ثنا عبد الجبار بن عاصم ثنا بقية بن الوليد عن معاوية بن يحيى عن سليمان بن موسى عن مكحول عن غصيف بن الحارث عن عطية بن بسر المازني قال Y جاء عكاف بن وداعة الهلالي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا عكاف ألك زوجة ؟ ) قال : لا قال : ( ولا جارية ؟ ) قال : لا قال : ( وأنت صحيح موسر ؟ ) قال نعم والحمد لله قال : ( فأنت إذا من إخوان الشياطين أما أن تكون من رهبان النصارى فأنت منهم وأن تكون منا فاصنع كما نصنع فان من سنتنا النكاح شراركم عزابكم وأرذل موتاكم عزابكم أفي الشيطان تمرسون ما له في نفسي سلاح أبلغ في الصالحين من الرجال والنساء إلا المتزوجون أولئك هم المطهرون المبرأون من الخنا ويحك يا عكاف إنهن صواحب داود صواحب يوسف وصواحب كرسف ) قال : عطية : ومن كرسف يا رسول الله ؟ قال : ( رجل كان في بني إسرائيل على ساحل من سواحل البحر يصوم النهار ويقوم الليل لا يفتر من صيام ولا صلاة كفر من بعد ذلك بالله العظيم في سبب امرأة عشقها فترك ما كان عليه من عبادة ربه عز و جل فتداركه الله وسلف منه فتاب الله عليه ويحك يا عكاف تزوج فأنك من المذنبين ) فقال عكاف : لا أبرح يا رسول الله حتى تزوجني من شئت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فقد زوجتك على اسم الله وبركته كريمة بنت كلثوم الحميري )
حضرت عطیہ بن بسر مازنی فرماتے ہیں کہ حضرت عکاف بن وداعہ ہلالی ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تیری بیوی ہے؟ عرض کی : نہیں! فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ عرض کی : نہیں! فرمایا: کیا تُو تندرست اور خوشحال ہے؟ عرض کی: ہاں! الحمد للہ! فرمایا: پھر تو شیطانوں کے بھائیوں سے ہے یا تیرا تعلق عیسائیوں کے راہبوں سے ہے ‘پس تُو اُن میں سے ایک ہے حالانکہ تجھے ہم سے ہونا چاہیے‘ (جا!) اسی طرح کر جوتُو کرتا ہے کیونکہ ہماری سنت تو نکاح ہے ‘تم میں سے شریر وہ ہیں جو بغیر بیویوں کے زندگی گزار دیتے ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے رذیل وہی ہوئے جو بغیر شادی کے زندگی گزارکر چلے گے‘ کیا تم شیطانی کاموں میں مشق کرتے ہو‘ میں اپنے دل میں نیک مردوں اور عورتوں میں زیادہ مؤثر ہتھیارنہیں پاتا سوائے اس کے جو شادی کرنے والے ہیں‘ وہی پاکیزہ اور بدکلامی وفحش گوئی سے پاک ہیں۔ تجھے افسوس! اے عکاف! بے شک وہ عورتیں‘صواحب داؤد‘یوسف اور کرسف ہیں۔حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! کرسف کون ہیں؟ فرمایا: بنواسرائیل میں ایک آدمی تھا جو سمندر کے کناروں میں سے کسی کنارے پر رہتا تھا‘ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا‘ روزے اور نماز سے کبھی سست نہیں پڑتا تھا ‘اس کے بعد اس نے اللہ عظیم سے کفر کیا جس کا سبب ایک عورت بنی جس کے عشق میں وہ مبتلا ہو گیا تھا‘پس اس نے وہ عبادت بھی ترک کر دی جو اس پر اس کے رب کی طرف سے فرض تھی ‘آخر کا ر اللہ نے اسے تو بہ کی توفیق دی اور اسے سابقہ روش سے پھیر دیا ‘تجھے افسوس! اے عکاف! شادی کر ‘ورنہ تُو تو گناہ گاروں میں سے ہے۔ حضرت عکاف نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب تک آپ میری شادی نہیں کر یں گے ‘میں تو اسی حالت پر رہوں گا‘ آپ جس سے چاہیں (میری شادی کر دیں) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ کے نام اور اس برکت پر تیرا نکاح کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کیا۔
عطية بن بسر المازني ← غُصَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ الْقَاضِي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14866
