Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عكاف بن وداعة الهلالي · حديث 14866

158 - حدثنا محمد بن أحمد الخزاعي القاضي ثنا عبد الجبار بن عاصم ثنا بقية بن الوليد عن معاوية بن يحيى عن سليمان بن موسى عن مكحول عن غصيف بن الحارث عن عطية بن بسر المازني قال Y جاء عكاف بن وداعة الهلالي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا عكاف ألك زوجة ؟ ) قال : لا قال : ( ولا جارية ؟ ) قال : لا قال : ( وأنت صحيح موسر ؟ ) قال نعم والحمد لله قال : ( فأنت إذا من إخوان الشياطين أما أن تكون من رهبان النصارى فأنت منهم وأن تكون منا فاصنع كما نصنع فان من سنتنا النكاح شراركم عزابكم وأرذل موتاكم عزابكم أفي الشيطان تمرسون ما له في نفسي سلاح أبلغ في الصالحين من الرجال والنساء إلا المتزوجون أولئك هم المطهرون المبرأون من الخنا ويحك يا عكاف إنهن صواحب داود صواحب يوسف وصواحب كرسف ) قال : عطية : ومن كرسف يا رسول الله ؟ قال : ( رجل كان في بني إسرائيل على ساحل من سواحل البحر يصوم النهار ويقوم الليل لا يفتر من صيام ولا صلاة كفر من بعد ذلك بالله العظيم في سبب امرأة عشقها فترك ما كان عليه من عبادة ربه عز و جل فتداركه الله وسلف منه فتاب الله عليه ويحك يا عكاف تزوج فأنك من المذنبين ) فقال عكاف : لا أبرح يا رسول الله حتى تزوجني من شئت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فقد زوجتك على اسم الله وبركته كريمة بنت كلثوم الحميري )

حضرت عطیہ بن بسر مازنی فرماتے ہیں کہ حضرت عکاف بن وداعہ ہلالی ‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اے عکاف! کیا تیری بیوی ہے؟ عرض کی : نہیں! فرمایا: لونڈی بھی نہیں ہے؟ عرض کی : نہیں! فرمایا: کیا تُو تندرست اور خوشحال ہے؟ عرض کی: ہاں! الحمد للہ! فرمایا: پھر تو شیطانوں کے بھائیوں سے ہے یا تیرا تعلق عیسائیوں کے راہبوں سے ہے ‘پس تُو اُن میں سے ایک ہے حالانکہ تجھے ہم سے ہونا چاہیے‘ (جا!) اسی طرح کر جوتُو کرتا ہے کیونکہ ہماری سنت تو نکاح ہے ‘تم میں سے شریر وہ ہیں جو بغیر بیویوں کے زندگی گزار دیتے ہیں اور تمہارے مُردوں میں سے رذیل وہی ہوئے جو بغیر شادی کے زندگی گزارکر چلے گے‘ کیا تم شیطانی کاموں میں مشق کرتے ہو‘ میں اپنے دل میں نیک مردوں اور عورتوں میں زیادہ مؤثر ہتھیارنہیں پاتا سوائے اس کے جو شادی کرنے والے ہیں‘ وہی پاکیزہ اور بدکلامی وفحش گوئی سے پاک ہیں۔ تجھے افسوس! اے عکاف! بے شک وہ عورتیں‘صواحب داؤد‘یوسف اور کرسف ہیں۔حضرت عطیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:اے اللہ کے رسول! کرسف کون ہیں؟ فرمایا: بنواسرائیل میں ایک آدمی تھا جو سمندر کے کناروں میں سے کسی کنارے پر رہتا تھا‘ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا‘ روزے اور نماز سے کبھی سست نہیں پڑتا تھا ‘اس کے بعد اس نے اللہ عظیم سے کفر کیا جس کا سبب ایک عورت بنی جس کے عشق میں وہ مبتلا ہو گیا تھا‘پس اس نے وہ عبادت بھی ترک کر دی جو اس پر اس کے رب کی طرف سے فرض تھی ‘آخر کا ر اللہ نے اسے تو بہ کی توفیق دی اور اسے سابقہ روش سے پھیر دیا ‘تجھے افسوس! اے عکاف! شادی کر ‘ورنہ تُو تو گناہ گاروں میں سے ہے۔ حضرت عکاف نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب تک آپ میری شادی نہیں کر یں گے ‘میں تو اسی حالت پر رہوں گا‘ آپ جس سے چاہیں (میری شادی کر دیں) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اللہ کے نام اور اس برکت پر تیرا نکاح کریمہ بنت کلثوم حمیری سے کیا۔

عطية بن بسر المازني ← غُصَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَكْحُولٌ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَاصِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخُزَاعِيُّ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14866

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبدة بن حزن النصري واختلف في امسه وصحبته ويقال السوائي · حديث 14867

159 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا أبو أسامة عن الأعمش عن أبي إسحاق عن عبدة السوائي قال Y لفط قوم قرب النبي صلى الله عليه و سلم فقال بعض أصحابه : يا رسول الله لو بعثت إلى هؤلاء بعض من ينهاهم عن هذا فقال : ( لو بعثت إليهم فنهيتهم إن يأتوا الحخجون لأتاه بعضهم وإن لم يكن له به حاجة )

حضرت عبدہ السوائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلط بات کی ‘آپ کے بعض اصحاب نے عرض کی: یارسول اللہ ! اگر آپ ان کی طرف بھیجے گئے ہیں تو کسی کو بھیجتے جوان کو اس سے منع کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں ان کی طرف بھیجا گیا ہوں تو میں خود ان کو منع کرتا ہوں کہ وہ حجون کے مقام پر آ ئیں ‘ان میں سے بعض آپ کے پاس آئے ‘اگر چہ ان میں سے کسی کو ضرورت نہ تھی۔

لفط قوم قرب النبي صلى الله عليه و سلم فقال بعض أصحابه ← عَبْدَةَ السُّوَائِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14867

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عتير العذري عن النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 14868

160 - حدثنا أبو جعفر محمد بن أحمد بن نصر الترمذي ثنا بكر بن عبد الوهاب ثنا زياد بن نصر عن سليمان بن مطير عن أبيه عن عتير العذري Y أنه استقطع رسول الله صلى الله عليه و سلم أرضا بوادي القرى فهي تسمى اليوم بويرة عتير قال : ورأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم حين نزل تبوك فصلى بوادي القرى

حضرت عتیر العذری رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے قری ٰکی وادی سے زمین علیحد ہو کر کے دینے کا مطالبہ کیا گیا‘ اس کا نام آج بویر ہ عتیر ہے ‘فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کو دیکھا جس وقت آپ تبوک آئے وہاں وادی قری ٰآپ نے نماز پڑھی۔

أَبِيهِ ← سليمان بن مطير ← زياد بن نصر ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ التِّرْمِذِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14868

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عنترة أبو هارون · حديث 14869

161 - حدثنا خلف بن عمرو العكبري و أحمد بن يحيى الحلواني قالا ثنا سعيد بن سليمان الواسطي ثنا المشمعل بن ملحان أنا عبد الملك بن هارون بن عنترة عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم : ( ما تعدون الشهيد فيكم ؟ ) قلنا : يا رسول الله من قتل في سبيل الله قال : ( إن شهداء أمتي إذا لقليل من قتل في سبيل الله فهو شهيد والبطن شهيد والمتردي شهيد والنفساء شهيد والغريق شهيد ) زاد الحلواني في حديثه : ( والسل شهيد والحريق شهيد والغريب شهيد )

حضرت عنترہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر کس کو شہید شمار و کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! جو اللہ کی راہ میں قتل ہو۔ فرمایا: پھر تو میری اُمت کے شہداء کی تعداد کم ہو جائے گی ‘جو اللہ کی راہ میں قتل ہو وہ بھی شہید ہے ‘ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے‘ نا گہانی موت مرنے والا بھی شہید ہے ‘نفاس میں مرنے والی عورت بھی شہید ہے ‘ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے ۔حضرت حلوانی نے اس حدیث میں اضافہ کیا: سُل کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے ‘آگ میں جل کر مرنے والا اور حالتِ سفر میں مر جانے والا بھی شہید ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، ← الْمُشْمَعِلُّ بْنُ مِلْحَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← خلف بن عمرو العكبري و أحمد بن يحيى الحلواني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14869

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علاء بن الحضرمي من أخباره · حديث 14870

162 - حدثنا محمد بن عبوس بن كامل السراج ثنا علي بن الجعد ثنا شعبة عن منصور بن زاذان عن محمد بن سيرين أن العلاء بن الحضرمي Y كتب إلى النبي صلى الله عليه و سلم فبدأ بنفسه

حضرت محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت علاء بن الحضرمی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خط لکھا ‘جس میں اپنے نام سے ابتداء کی۔

إلى النبي صلى الله عليه و سلم فبدأ بنفسه ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← محمد بن عبوس بن كامل السراج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14870

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علاء بن الحضرمي من أخباره · حديث 14871

163 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملحك بن هشام السدوسي عن زياد عن ابن إسحاق قال Y العلاء بن الحضرمي كان الحضرمي حليف حرب بن أمية بن عبد شمس قالك ابن إسحاق : واسم الحضرمي عبد الله بن عباد بن الصدف وإنما قيل الحضرمي لأنه جاء من بلاد حضرموت

حضرت ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: حضرمی ‘حرب بن امیہ بن عبدشمس کے حلیف ہیں ۔ ابن اسحاق فرماتے ہیں: حضرمی کا نام عبداللہ بن عباد بن الصدف ہے‘ حضرمی نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حضر موت کے شہر سے آئے تھے۔

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← زِيَادٍ، ← عبد الملحك بن هشام السدوسي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14871

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14872

164 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ثنا عبد الملك بن هشام عن أبي عبيدة معمر بن المثنى قال Y الحضرمي أبو العلاء اسمه عبد الهل بن عباد بن أكبر بن ربيعة بن مالك بن عريف بن مالك بن الخزرج بن الصدف وكان العلاء عاملا للنبي صلى الله عليه و سلم على البحرين توفي النبي صلى الله عليه و سلم وهو عليها وتوفي العلاء في البحرين أو راجعا منها سنة احدى وعشرين ويقال سنة أربع عشرة ويقال سنة خمس عشرة

حضرت معمر بن مثنیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت حضرمی ابوالعلاء کا نام عبداللہ بن عباد بن اکبر بن ربیعہ بن مالک بن عریف بن مالک بن خزرج بن صدف ہے ‘علاء کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کا عامل مقرر کیا تھا‘ حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو یہ وہاں تھے اور علاء کا وصال بھی بحرین میں ہوا ‘یا وہاں سے ۲۱ ہجری کو واپس آ گئے تھے ‘بعض نے کہا: ۱۴ کو واپس آئے، بعض نے کہا: ۱۵ کو واپس آئے تھے۔

أبي عبيدة معمر بن المثنى ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14872

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14873

165 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا محمد بن يحيى الأزدي ثنا داود بن المحبر بن فخذم بن سليمان مولى أبي بكرة قال ثنا أبي المحبر بن فخذم عن المسور بن عبد الله الباهلي عن بعض ولد الجارود عن الجارود Y أنه أخذ هذه النسخة من نسخة عهد العلاء الذي كتب له النبي صلى الله عليه و سلم وحين بعثه إلى البحرين : ( بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من محمد رسول الله النبي الأمي القرشي الهاشمي رسول الله ونبيه إلى خلقه كافة للعلاء بن الحضرمي ومن معه من المسلمين عهدا أعهده إليهم اتقوا الله أيها المسلمون ما استطعتم فإني قد بعثت عليكم العلاء بن الحضرمي وأمرته أن يتقي الله وحده لا شريك له وأن يلين فيكم الجناح ويحيسن فيكم السيرة ويحكم بينكم وبين من لقيه من الناس بنما أمر الله في كتابه من العدل وأمرتكم بطاعته إذا فعل ذلك فإن حكم فعدل وقسم فأقسط واسترحم فرحم فاسمعوا له وأطيعوا وأحسنوا مؤازرته ومعاونته فإن له عليكم من الحق طاعته وحقا عظيما لا تقدرون كل قدره ولا يبلغ القول كنه عظمة حق الله وحق رسوله وكما أن لله ولرسوله على الناس عامة وعليكم خاصة حقا واجبا في طاعته والوفاء بعهده ورضي الله عمن اعتصم بالطاعة حق كذلك للمسلمين على ولاتهم حق واجب وطاعة فإن في الطاعة دركا لكل حين ونجاة من كل شر يتقى وأنا أشهد على من وليته شيئا من أمر المسلمين قليلا أو كثيرا فليستخيروا الله عند ذلك ثم ليستعملوا عليهم أفضلهم في أنفسهم إلا وأصابت العلاء بن الحضرمي مصيبة الموت فخالد بن الوليد سيف الله يخلف فيكم العلاء بن الحضرمي فاستمعوا له وأطيعوا أحسنوا مؤازرته وطاعته فسيروا على بركة الله وعونه ونصره وعاقبة رشده وتوفيقه من لقيتم من الناس فادعوهم إلى كتاب الله المنزل وسنة رسوله واحلال ما أحل الله لهم في كتابه وتحريم ما حرم الله عليهم في كتابه وأن يخلعوا الأنداد ويبرأوا من الشرك والكفر والنفاق وأن يكفروا بعبادة الطواغيت واللاتي والعزى وأن يتركوا عبادة عيسى بن مريم وعزيز بن مروة والملائكة والشمس والقمر والنيران وكل شيء متخذ نصبا من دون الله وأن يتبرأوا مما بريء الله ورسوله فإذا فعلوا ذلك فأقروا به فقد دخلوا في الولاية سموهم عند ذلك بما في كتاب الله الذي تدعونهم إليه كتاب الله المنزل مع الروح الأمين على صفيه من العالمين محمد بن عبد الله رسول الله ونبيه أرسله رحمه للعالمين عامة الأبيض منهم والأسود والأنس والجن كتاب فيه بيان لكل شيء كان قبلكم وما هو كائن بعدكم ليكون حاجزا بين الناس حجز الله به بعضهم عن بعض وهو كتاب الله مهيمنا على الكتب مصدقا لما فيها من التوراة والانجيل والزبور يخبركم الله فيه بما قد كان قبلكم مما قد فاتكم دركه في آبائكم الأولين الذين اقتصر رسل الله وأنساؤه كيف كان حوانهم لرسله وكيف كان تصديقهم بآيات الله وكيف كان تكذيبهم بآيات الله فأخبركم الله في كتابه شأنهم وأعمالهم وأعمال من هلك منهم بذنبه ليجتنبوا مثل ذفلك أن يعملوا مثله كي لا تحل عليهم من سخطه ونقمته مثل الذي حل عليهم من سوء أعمالهم وتهاونهم بأمر الله واخبركم الله عز و جل في كتابه هذا بانجاء من نجا ممن كان قبلكم لكي تعملوا مثل أعمالهم فكتب لكم في كتابه هذا تبيان لكل شيء ذلك كله برحمة منه لكم وشفقا من ربكم عليكم وهو هدى من الله من الله من الضلالة تبيان من العمي وإقالة من العثرة ونجاة من الفتنة ونور من الظلمة وشفاء من الأحداث وعصمة من الهلكة ورشد من الغواية وتبيان ما بين الدنيا والآخرة وفيه كمال دينكم فإذا عرضتم عليهم هذا فأقروا كلكم فقد استكملوا الولاية فاعرضوا عليهم عند ذلك الاسلام والاسلا م الصلوات الخمس وإيتاء الزكاة وحج البيت وصيام شهر رمضان والغسل من الجنابة والطهور قبل الصلاة وبر الوالدين وصلة الرحم المسلمة وحسن صحبة الوالدين المشركين فإذا فعلوا ذلك فقد أسلموا فادعوهم عند ذلك إلى الإيمان وابعثوا لهم شرائعكم ومعالم الإيمان شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله وإن ما جاء به محمد الحق وأن ما سواه الباطل والإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله وأنبيائه واليوم الآخر والإيمان بهذا الكتاب ما بين يديه وما خلفه بالتوراة والانجيل والزبور والإيمان بالبينات والموت والحياة والبعث بعد الموت والحساب والجنة والنار والإيمان بالله ولرسوله وللمؤمنين كافة فإذا فعلوا ذلك واقروا به فهم مسلمون مؤمنون ثم تدعوهم بعد ذلك إلى الإحسان أن يحسنوا فيما بينهم وبين الله في أداء الأمانة وعهده الذي عهده إلى رسوله وعهد رسوله إلى خلقه وائمة المؤمنين والتسليم لأئمة المسمين من كل غائلة لسان ويد وأن يبتغوا لبقية المسلمين خيرا كما يبتغي أحدهم لنفسه والتصديق بمواعيد الرب عز و جل ولقائه ومعاتبته والوداع من الدنيا في كل ساعة والمحاسبة للنفس عن استئناف كل يوم وليلة والتعاهد لما فرض الله يؤديه إليه في السر والعلانية فإذا فعلوا ذلك فهم مسملون محسنون مؤمنون ثم انعتوا لهم الكبائر ودلوهم عليها وخوفوهم من الهلكة في الكبائر إن الكبائر من الموبقات أولهن الشرك بالله لا يغفر أن يشرك به والسحر وما للساحر من خلاق وقطيعة الرحم يلعنهم الله والفرار من الزحف يبوؤوا بغضب من الله والغلول فيأتوا بما غلوا يوم القيامة لا يقبل الله منهم وقتل النفس المؤمنة جزاؤه جهنهم وقذف المحصنة لعنوا في الدنيا والآخرة وأكل مال اليتيم يأكلومن في بطونهم نارا وسيصلون سعيرا وأكل الربا فائذنوا بحرب من الله ورسوله فإذا انتهوا من الكبائر فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون فقد استكملوا التقوى فادعوهم بعد ذلك إلى العبادة والعبادة الصيام والقيام والخشوع والركوع والسجود والإنابة والإحسان والتحميد والتهليل والتسبيح ولاتكبير والصدقة بعد الزكاة والتواضع والسكينة والسكون والمواساة والدعاء والتضرع والإقرار بالملكة والعبودية واستقلاله لما كثر من العمل الصالح فإذا فعلوا ذلك فهم مسلمون مؤمنون محسنون متقون عابدون وقد استكملوا العبادة فادعوهم عند ذلك إلى الجهاد وبينوا لهم ورغبوهم فيما رغبهم الله فيه من فضل الجهاد وفضل ثوابه عند الله فإن انتدجبوا لهم فبايعوهم وادعوهم حتى تبايعوهم إلى سنة الله وسنة رسوله عليكم عهد الله وذمته وسبع كفالات منه لا تنكثوا أيديكم من بيعته ولاتنقضون أمر ولاتي من ولاة المسلمين فإذا أقروا بذلك فبايعوهم وأتسغفروا الله لهم فإذا خرجتم تقاتلون في سبيل الله غضبا لله ونصرا لدينه فمن لقوا من الناس فليدعوهم إلى مثل الذي دعو إليه من كتاب الله وإسلامه وإيمانه وإحسانه وتقواه وعباداته وهجرته فمن تبعهم فهو المستجيب المؤمن المحسن التقي العابد المهاجر له ما لكم وعليه ما عليكم ومن أبى هذا عليكم فقاتلوه حتى يفي إلى أمر الله ويفيء إلى فتنته ومن عاهدتم وأعطيتم ذمة الله كفوا له بها ومن أسلم وأعطاكم الرضا فهو منكم وأنتم منه ومن قاتلكم على هذا من بعد ما بينتموه له فقاتلوه ومن حاربكم فحاربوه أو كايدكم فكيدوا له أو جمع لكم فاجمعوا له أو غالكم فغولوه أو خادعكم فاخدعوه من غير أن تعتدوا أو ماكركم فامكروا به من غير أن تعتدوا سرا وعلانية فإنه من ينتصر من بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل واعملوا أن الله معكم يراكم ويرى أعمالكم ويعلم ما تصنعون كله فاتقوا الله وكونوا على حذر في إنما هذه أمانة ائتمنني عليها ربي أبلغها عباده عذرا منه إليهم وحجة منه احتج بها على من بلغه من الخلق جميعا فمن عمل بما فيه نجا ومن اتبع ما فيه اهتدى ومن خاصم به فلح ومن قاتل به نصر ومن تركه ضل حتى يراجعه تعلموا ما فيه واسمعوه آذانكم وعوه أجوافكم واستحفظووه قلوبكم فإنه نور الأنصار وربيع القلوب وشفاء لما في الصدور وكفى به أمرا ومعتبرا وزاجرا وعظة وداعيا إلى الله ورسوله هذا هو الخير الذي لا شر فيه كتاب محمد بن عبد الله رسول الله صلى الله عليه و سلم للعلاء بن الحضرمي حين بعثه إلى البحرين يدعو إلى الله عز و جل ورسوله أمره أن يدعو إلى ما فيه من حلال وينهاه عما فيه من حرام ويدل على ما فيه من رشد وينهى عما فيه من غي

حضرت جارود سے مروی ہے کہ انہوں نے یہ نسخہ حضرت علاءکے زمانے کے نسخہ سے لیا جو ان کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا جب ان کو بحرین کی طرف بھیجا: اللہ کے نام سے شروع جو انتہائی مہربان ‘ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے! یہ خط اللہ کے نبی ورسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جواُمی نبی ہیں، قریشی ہاشمی ہیں ‘کی طرف سے اللہ کی تمام مخلوق کی طرف حضرت علاء حضرمی کے واسطہ سے اور جو ان کے ساتھ دیگر مسلمان موجود ہیں‘ یہ ایک وعدہ ہے جو میں ان سے کر رہا ہوں ‘اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو جہاں تک تمہاری طاقت ہے ‘بے شک میں نے تمہاری طرف حضرت علاء بن حضرمی اور ان کی بیوی کو بھیجا ہے کہ وہ اللہ وحدہ ‘لاشریک سے ڈر یں اور تمہارے ساتھ نرمی کا سلوک کر یں اور تمہارے ساتھ اچھے چال چلن کا مظاہرہ کریں‘ تمہارے درمیان اور مسلمانوں میں سے جو ان سے ملے ‘اُن کے درمیان فیصلہ کر یں اس چیز کے ساتھ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دیا یعنی عدل کا اور میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ ان کی اطاعت کرو جب وہ عدل کر یں ‘اگر وہ فیصلہ کر یں اور عدل کر یں تقسیم کر یں‘ اور انصاف کریں ‘ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کر یں ‘ان کی بات سنو اور اطاعت کرو اور اچھی طرح ان کی معاونت کرو ‘بے شک تمہارے اوپر حق ہے کہ ان کی اطاعت کر واور بہت بڑاحق ہے جس پر کماحقہ‘ تم قادر نہ ہوسکو اور ساری بات اللہ اور اس کے رسول کے حق تک نہیں پہنچ سکتی ہے جیسے اللہ اور اس کے رسول کا عام لوگوں پر حق ہے تمہارے اوپر خاص حق ہے‘ جو ان کی اطاعت اور ان کے وعدہ کو پورا کرنے میں واجب ہے۔ اللہ راضی ہوا‘ اس سے جس نے اطاعت کو لازم پکڑا ‘یہ اسی طرح تمام مسلمانوں کا ان کے والیوں پر حق ہے۔ بے شک اطاعت میں ہر خیر کو پانا ہے اور ہر اس شر سے نجات ہے جس سے بچنا ضروری ہے اور میں گواہ ہوں ‘ہر اُس آدمی پر جو مسلمانوں کے امر میں سے کسی شی کا والی بنا خواہ وہ تھوڑی ہے یا زیادہ۔ ایسے موقعہ پر اللہ سے خیر مانگو پھر لوگوں پر عامل بنے وہ آدمی جو ان میں سے زیادہ فضیلت والا ہے ‘ورنہ حضرت علاء بن حضرمی کوموت کی مصیبت پہنچے کی تو حضرت خالد بن ولید اللہ کی تلوار تمہارے اند ر حضرت علاء بن حضرمی کے نائب ہوں گے۔ ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت کرنا ‘اچھی طرح ان کی اطاعت کرنا ‘اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ کی برکت اور مدد ونصرت کی راہ چلنے والے ہو گے ‘انجام کار اللہ کی طرف سے رہنمائی اور اس کی توفیق ہو گی‘ لوگوں میں سے جس سے تم ملو‘ اسے اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دو جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اس کے رسول کی سنت کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ جو اللہ نے اپنی کتاب میں ان کے لیے حلال کیا اور اپنی کتاب میں جوان پر حرام کیا ‘اور یہ کہ اس کا مدمقابل نہ بنائیں ‘شرک سے برأت کا اظہار کر یں‘کفر اور نفاق سے دور ہوں ‘طاغوت اور لات وعزیٰ کی عبادت کا انکار کر یں ۔حضرت عیسیٰ بن مریم ‘حضرت عزیر بن مروہ ‘فرشتوں ‘سورج‘ چاند‘ آگ اور ہر وہ چیز جس کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر بت بنایا ہے ‘اس کی عبادت کو ترک کر دیں۔ ہر اس چیز سے برأت کا اظہار کر یں جس سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برأت کی ہے۔ پس جب وہ یہ کام کر یں اور اقراری ہوں تو وہ تمہاری ولایت میں داخل ہو گئے ۔اس وقت ان کے سامنے نام لو ان چیزوں کا جواللہ کی کتاب میں ہیں‘ جس کی طرف تم ان کو بلاتے ہو ‘وہ اللہ کی کتاب ہے جو حضرت روح الامین کی معیت میں تمام عالموں میں سے چنے ہوئے بندے پر نازل ہوئی ہے‘ جن کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہ ہے ‘وہ اللہ کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں‘ اللہ نے آپ کو تمام عالموں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے ‘عام کر کے خواہ وہ سفید ہیں یا سیاہ ‘انسان ہیں یا جن ۔ یہ ایسی کتاب ہے جس میں ہرشی کا بیان ہے جو تم سے پہلے تھی ‘جو تمہارے بعد ہو گی تا کہ لوگوں کے درمیان رکاوٹ ہو ‘جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض سے روکا ہے‘ یہ کتاب پہلی کتابوں کی محافظ اور تورات‘ انجیل اور زبور میں جو ہے اس کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں بتا تا ہے جو تم سے پہلے تھا ‘اس میں سے تم نے فوت کیا جس کا پانا تمہارے پہلے آباء میں ‘جن کے پاس اللہ کے رسول و انبیاء تشریف لائے‘ ان کا اللہ کے رسولوں کو کیسا جواب تھا۔ اللہ کی آیتوں کی تصدیق تھی تو کس انداز میں اور تکذیب کس انداز میں تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تمہیں ان کے کام اور اعمال سے آ گاہ فرمایا ‘نیز ان لوگوں کے اعمال سے جو اپنے گناہ کے سبب ان سے پہلے ہلاک ہوئےتاکہ تم ان جیسے اعمال سے اجتناب کرو۔ ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں پر بھی ایسی ہی مصیبت آئے جیسی ان پر ان کے اعمال کے سبب آئی‘ اللہ کی ناراضگی اور انتقام کیونکہ انہوں نے اللہ کے حکم کو بجالانے میں سستی کا مظاہرہ کیا ‘اللہ نے تمہیں خبر دار کیا ہے اپنی اس کتاب میں پہلوں میں سے جس کو اس نے نجات دی‘ کیسے اس کو نجات دی تا کہ تم اس جیسے اعمال کرو۔ پس اس نے تمہارے لیے اس کو ہرشی کا بیان بنایا۔ یہ سب کچھ اس کی رحمت ہے تمہارے لیے اور تم پر تمہارے رب کی طرف سے شفقت ہے‘ یہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہے گمراہی سے اور اندھے پن سے بیان ‘پھسلاہٹ سے بچنا‘ فتنہ سے نجات ‘تاریکی سے نور‘ حادثات سے شفاء ‘ہلاکت سے بچاؤ کا سبب گمراہی سے رُشد و ہدایت ‘نیز دنیا و آخرت کے درمیان پھیلی ہوئی ہر چیز کا بیان ہے۔ اس میں تمہارا مکمل دین ہے ‘پس جب اسے پیش کرو تو وہ تمہارے سامنے اقرار کریں تو وہ ولایت کو مکمل کرنے والے ہوں گے۔ اس وقت ان پر اسلام پیش کرو اور اسلام‘ پانچ نماز یں زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج ‘ماہِ رمضان کے روزے رکھنا‘جنابت سے غسل‘ نماز سے پہلے وضو کرنا‘ والدین سے نیکی کرنا ‘صلہ رحمی کرنا اور مشرک والدین سے اچھی صحبت رکھنا۔ پس جب وہ یہ کام کر لیں تو وہ مسلمان بن گئے ‘اس وقت ان کو ایمان کی طرف بلاؤ ‘ان کیلئے اپنی شریعتوں کو واضح کرو اور ایمان کی علامات بتاؤ۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ‘وہ لاشریک ہے ‘حضرت محمد اس کے بندے اور سچے رسول ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کرآئے وہ حق ہے اور اس کے علاوہ باطل ہے۔ اللہ پر ایمان ‘اس کے فرشتوں ‘اس کی کتابوں ‘اس کے رسولوں ‘نبیوں اور یومِ آخرت پر ایمان اور اس کتاب پر ایمان جو سامنے ہے اور جو پیچھے تھا ‘مثلا ً تو رات انجیل اور زبور ‘واضح دلیلوں پر ایمان ‘موت ‘حیات‘ موت کے بعد اٹھنا‘ حساب ‘جنت ‘دوزخ پر ایمان ۔ خیر خواہی اللہ ‘اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کیلئے ‘پس جب انہوں نے ایسا کر لیا اور اقرار کیا تو وہ مسلمان بھی ہیں اور مؤمن بھی ہیں پھر ان کو احسان کی طرف دعوت دو کہ وہ احسان کریں اپنے اور اللہ کے درمیان جو کچھ معاملہ ہے‘ امانت کو ادا کرنے میں اس کے وعدہ کو پورا کرنے میں جو اس نے اپنے رسول سے لیا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مخلوق اور مؤمنوں کے اماموں سے لیا۔ محفوظ رکھنا‘ مسلمانوں کے اماموں کو ہر تکلیف دِہ زبان اور ہاتھ سے۔ بقیہ مسلمانوں کیلئے خیر طلب کرنا جیسے ان میں سے کوئی اپنے لیے خیر طلب کرتا ہے ‘اللہ کے وعدوں ‘ملاقات‘ اس کی سزا ‘ہر گھڑی اس دنیا سے الوداع ہونے کی ‘ہر دن اور رات شروع ہونے پر اپنے نفس کے محاسبہ کی تصدیق کرنا۔ معاہدہ کرنا کہ جب اللہ تعالیٰ کوئی چیز فرض فرمائے گا تو اسے پوشیدہ و اعلانیہ ادا کروں گا۔ پس جب لوگوں نے یہ کر لیا تو وہ مسلمان بھی ہیں‘محسن بھی اور مؤمن بھی ہیں ۔ پھر ان لوگوں کے سامنے وضاحت کر یں کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں اور ان پر ان کی راہنمائی کریں۔ کبیرہ گنا ہوں کے ارتکاب کی صورت میں ہلاکت سے ان کو خوف دلائیں‘ بے شک کبیرہ گناہ ہلاک کرنے والے ہیں‘ ان میں سے پہلا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ہے۔ جادو ‘جادوگر کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ قطع تعلقی‘ قطع تعلقی کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ لشکر سے بھاگنا‘اللہ کے غضب کا حق دار بنا تا ہے۔خیانت کرنا ‘پس جن لوگوں نے خیانت کی ہوگی وہ قیامت کے دن ان چیزوں کو اُٹھا کر لائیں گے ‘اللہ قبول نہ فرمائے گا مؤمن کو قتل کرنا تو اس کی سزا جہنم ہے ‘پاکدامن پر تہمت لگانا تو ایسے لوگوں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ یتیم کا مال کھانا ‘جو کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب جہنم رسید ہوں گے۔سود کھانا‘ جو سود کھاتے ہیں وہ اللہ و رسول کو جنگ کا چیلنج دیتے ہیں۔ پس جب وہ کبیرہ گناہوں سے رُک جائیں تو وہ مؤمن مسلمان ‘محسن اور متقی ہیں ۔ انہوں نے تقوی ٰکی ایک منزل حاصل کر لی ہے۔ اس کے بعد ان کو عبادت کی طرف بلائیں۔ عبادت یہ ہے: روزے رکھنا‘ رات کو قیام کرنا ‘خشوع کرنا ‘رکوع کرنا‘ سجود کرنا‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘اچھائی کرنا ‘حمد بیان کرنا ‘لا الہ الا اللہ پڑھنا ‘سبحان اللہ کہنا ‘اللہ اکبر کہنا ‘زکوٰۃ کی ادائیگی کے بعد صدقہ کرنا‘ عاجزی کرنا ‘سکینت ‘سکون ‘با ہم غمگساری ‘دعا‘ آہ وزاری (اللہ کی بارگاہ میں )اللہ کی ملکیت ‘عبودیت اور اس کے اپنی ہر صفت میں مستقل ہونے کا اقرار کر نا‘ عمل صالح کی فہرست لمبی ہے‘ پس جب وہ یہ کر لیں تو وہ مسلمان‘مؤمن‘محسن‘ متقی اور عابد ہیں ‘پس انہوں نے عبادت کا راستہ طے کر لیا ہے۔ اس وقت ان کو جہاد کی دعوت دیں‘ ان کیلئے پوری وضاحت کر یں ‘انہیں اس چیز میں رغبت دلائیں جس میں اللہ نے رغبت دلائی ہے ‘جہاد کی فضیلت سے (جنت) انہیں بتائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کتنا ثواب ہے‘ پس اگر وہ اس کے قابل ہو جائیں تو ان سے با قاعدہ بیعت لیں اور ان کو دعوت دیں حتیٰ کہ ان سے اللہ و رسول کی سنت کی بیعت لیں‘ تم پر اللہ کا وعدہ اور اس کا ذمہ ہے ‘اس کی طرف سے سات کفالتیں ہیں: تمہارے ساتھ اس کی بیعت نہ توڑیں ‘مسلمانوں کے والیوں میں سے میرے والیوں کے عہد کو نہ توڑیں‘ پس جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو ان کو بیعت کر یں‘ ان کیلئے اللہ سے بخشش مانگیں‘ پس جب تم نکلوتو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلو ‘اگر کسی پر غصہ کروتو اللہ کی رضا کیلئے اور اس کے دین کی مدد کیلئے ‘لوگوں میں سے جوملیں تو ان کو دعوت دینی چاہیے اسی کی مثل کی طرف جس کی طرف دوسروں کو بلایا گیا۔ مثلاً اللہ کی کتاب ‘اس کے اسلام ‘ایمان ‘احسان ‘تقوی ٰ‘عبادت اور ہجرت کی طرف ۔ پس ان میں سے جو پیروی کرے تو وہ قبول کرنے والا مؤمن‘محسن‘ متقی‘ عابد اور مہاجر ہے ۔ اس کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے ہیں ‘ان پر وہی فرائض ہیں جو تمہارے اوپر ہیں اور جس نے انکار کیا تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس سے جنگ کر وحتیٰ کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے اور فتنہ سے بچ جائے ۔ جوتم نے وعدہ کیا اور اللہ کا ذمہ دیا تو اسے پورا کرو‘ جو مسلمان ہوا اور اس نے تمہیں رضا عطا کی تو وہ تم سے اور تم اس سے ہو اور جس نے اس پرتم سے قتال کیا‘ اس کے بعد کہ تم نے اس کیلئے سب کچھ بیان کر دیا تو اس سے قتال کرو۔ جو تم سے جنگ کرے تم بھی اس سے جنت کر سکتے ہو جوتم سے مکر کرے اُسے اس کے مکر کی سزا دو‘ یا وہ تمہارے لیے لشکر جمع کرے تو تم اس کیلئے جمع کر و‘یا تمہیں دھوکہ دے تو تم اسے دھوکہ کی سزا دو‘ یا جوتم سے خیانت کرے تو اسے خیانت کی سزا دولیکن حد سے تجاوز نہ کرنا ‘یا جوتمہیں فریب دے اسے فریب کی سزا دو بغیر زیادتی کیے ‘پوشیدگی میں اور علانیہ طور پر کیونکہ جو ظلم کے بعد غالب آئیں تو ان پر کوئی راستہ نہیں ہے۔ جان لو! اللہ تمہارے ساتھ ہے ‘وہ تمہیں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ‘جو تم کرتے ہو ‘وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اور محتاط ہو جاؤ اس بات میں کہ یہ امانت ہے جس پر مجھے میرے رب نے امین بنایا ہے کہ میں اس کے بندوں کو پہنچاؤں اس کی طرف سے ان کی طرف عذر‘ اس کی طرف سے حجت‘ جس کے ساتھ اس نے دلیل قائم کی ہے ‘اس کے خلاف جس کو اس کی تمام مخلوق میں سے یہ پیغام پہنچا ہے‘ اس میں جو ہے جس نے اس پر عمل کیا اُس نے نجات پائی ‘جو اس میں ہے جس نے اس کی پیروی کی اُس نے ہدایت پائی‘ جس نے اس کے ذریعے دشمن پر دلیل قائم کی اُس نے فلاح پائی ‘جس نے اس کو سامنے رکھ کر جہاد کیا اُس کی مدد کی گئی ‘جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہ ہوا یہاں تک کہ وہ رجوع کرلے‘ جو اس میں ہے اسے اچھی طرح سیکھ لو اور اسے اپنے کانوں کو سنوا لو ‘اپنے پیٹوں میں یاد رکھ لو اور اپنے دلوں کو یاد کر وا لو کیونکہ یہ آنکھوں کا نور‘ دلوں کو موسمِ بہار اور سینوں کی بیماری کیلئے شفاء ہے۔ حکم دینے‘ اعتبار کرنے ‘جھڑ کنے‘ نصیحت کرنے اور اللہ و رسول کی طرف بلانے کو کافی ہے‘ یہی وہ خبر ہے جس میں کوئی بُرائی نہیں ۔ حضرت محمد بن عبداللہ جو اللہ کے رسول ہیں‘ کا خط حضرت علاء بن حضرمی کیلئے جس وقت ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کی طرف بھیجا ‘وہ اللہ کے رسول کی طرف بلانے والے تھے‘ انہیں حکم صادر فرمایا کہ اس میں جو حلال ہے ‘اس کی طرف بلاؤ اور منع کرو اس سے جو حرام ہے اور راہنمائی کرواس پر جو اس میں ہدایت ہے اور جو گمراہی ہے ‘ اس سے روکو۔

الْجَارُودِ، ← بعض ولد الجارود ← المسور بن عبد الله الباهلي ← أَبِي الْمُحَبَّرُ بْنُ فَخْذَمٍ ← دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ بْنِ فَخْذَمِ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَى أَبِي بَكْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14873

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14874

166 - حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق قال Y ولما فرغ خالد بن الوليد من اليمامة بعث أبو بكر الصديق رضي الله عنه العلاء بن الحضرمي إلى البحرين وكان العلاء هو الذي بعثه رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى المنذر بن ساوي العبدي فأسلم المنذر وأقام العلاء بها أميرا لرسول الله صلى الله عليه و سلم وارتدت ربيعة بالبحرين فيمن ارتد من العرب إلا الجارود بن عمرو فإنه ثبت على الإسلام ومن تبعه من قومه واجتمعت ربيعة بالبحرين وارتدت وقالوا نرد الملك في آل المنذر فكلموا المنذر بن النعمان بن المنذر وكان يسمى العرور وكان يقول بعد ذلك حين أسلم وأسلم الناس وعليهم السيف لست بالعرور ولكني المغرور فلما اجتمعت ربيعة بالبحرين سار إليهم العلاء بن الحضرمي وأمده بثمامة بن أثال الحنفي وكان قد أسلم وأسلم قومه فلما أمر العلاء بن الحضرمي بثامة بن أثال سار معه بمن معه من بني سحيم حتى خاض إلى ربيعة البحري فسارت ربيعة إليهم فحصروهم وهم بجوانا حصن بالبحرين حتى كاد المسلمون أن يهلكوا من الجهد فقال عبد الله بن حدق العامري في ذلك حيث أصابهم ما أصاببهم : ( ألا أبلغ ابا بكر رسولا ... وفتيان المدينة أجمعينا ) ( فهل لك في شباب منك أمسوا ... جميعا في جوانا محضرينا ) ( توكلنا على الرحمن أنا ... وجدنا النصر للمتوكلينا ) فقال عبد الله بن حدق : دعوني أهبط من الحصن وأنا آتيكم بالخبر وكان مع عبد الله بن حدق امرأة من بني عجل فنزل من الحصن فأخذوه وقالوا ممن أنت ؟ فأنتسب وجعل ينادي يا أبجراه وكان في القوم فجاء أبجر فعرفه فقال : ما شأنك ؟ فقال إني قد هلكت من الجوع فأطعمه وسقاه وقال : احملني وخل سبيلي فانطلق فحمله على بغل وقال انطلق فشأنك فلما خرج من عندهم عبد الله بن حدق رجع إلى أصحابه فأخبرهم أن القوم سكارى لا غناء عندخهم فبيتهم العلاء فيمن معه من المسلمين من العرب والعجم فقتلوهم قتلا وشديدا وأنهزموا

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں: اور جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ یمامہ کی جنگ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت علاء بن حضری کو بحرین کی طرف بھیجا حضرت علاء وہی شخصیت تھے جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن ساوی العبدی کی طرف بھیجا ‘پس منذر نے اسلام قبول کر لیا اور حضرت علاءنے اُن کو وہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امیر مقرر کیا۔ بنوربیعہ بحرین میں مرتد ہوئے‘ان لوگوں میں سے جو عرب کے لوگ مرتد ہوئے مگر حضرت جارود بن عمر ومرتد نہ ہوا‘ وہ اسلام پر ثابت رہا اور چند وہ لوگ بھی جنہوں نے اس کی پیروی کی ۔ بنور بیعہ قبیلہ والے بحرین میں اکٹھے ہو کر مرتد ہوئے اور کہا: ہم ملک کو آلِ مندر میں لوٹا دیں گے۔ پس انہوں نے منذر بن نعمان بن منذر سے کلام کیا‘ اس کوعر ور کہا جا تا تھا۔ اور وہ جب بعد میں مسلمان ہوا تو کہا کرتا تھا اور دیگر لوگ بھی مسلمان ہوئے اور ان پر تلوارتھی: میں عرور نہیں ہوں بلکہ میں مغرور ہوں ‘جب بنور بیعہ بحرین میں اکٹھے ہوئے تو حضرت علاء بن حضرمی ان کی طرف چلے۔ ثمامہ بن اثال سے انہوں نے مدد لی جو مسلمان ہو چکے تھے اور ان کی قوم بھی ۔ پس جب حضرت علاء بن حضرمی نے حضرت ثمامہ بن اثال حنفی سے درخواست کی تو وہ ان کے ساتھ چل پڑے اور ان کے ساتھ بنوسحیم کے لوگ بھی تھے‘ یہاں تک کہ سمندر میں گھس گئے جور بیعہ تک پہنچنے میں راستہ پر آتا تھا‘ پس ربیعہ ان کی طرف چلے ‘پس انہوں نے ان کا محاصرہ کر لیا جبکہ وہ جواثا میں تھے جو بحرین میں ایک قلعہ تھا حتی ٰ کہ قریب تھا کہ مسلمان جد و جہد اور تھکاوٹ سے ہلاک ہو جاتے ۔ پس حضرت عبداللہ بن حدق عامری نے اس سلسلہ میں کہا جب وہ اتنی بڑی مصیبت کا شکار ہوئے:’’خبردار! اے قاصد ! حضرت ابوبکر کو یہ بات پہنچا دے کہ ہم نے مدینہ کے جوانوں کو اکٹھا کیا ہے ‘کیا آپ کو کسی جوان کی ضرورت ہے ‘یہ سارے کے سارے جواثا کے قلعہ میں حاضر ہو گئے ہیں‘ ہم نے رحمٰن پر بھروسہ کیا ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ تو کل کرنے والوں کی ہمیشہ مدد کی گئی ہے‘‘۔ پس حضرت عبداللہ بن حدق نے کہا: مجھے اجازت دو‘ میں قلعہ سے نیچے (اندر ) اترتا ہوں اور تمہارے پاس خبرلاؤں گا جبکہ حضرت عبداللہ بن حداق کے ساتھ بنو عجل کی ایک عورت بھی تھی۔ پس وہ قلعہ سے نیچے اترے تو انہوں نے گرفتار کر کے پوچھا: تُو کون ہے؟ انہوں نے اپنا نسب بیان کیا اور بلند آواز سے نداء دینا شروع کی: اے ابجر! جبکہ وہ قوم کے اندر موجود تھے ‘پس ابجر آ گئے اور انہوں نے حضرت عبداللہ کو پہچان لیا ‘کہا: کیا کام ہے؟ فرمایا: میں بھوک سے مر رہا ہوں ۔ پس انہوں نے حضرت عبداللہ کو کھلایا پلایا‘ کہا: مجھے سواری پر سوار کرو اور میرا راستہ چھوڑ دو۔ پس وہ گئے اور انہیں خچر پر سوار کیا اور کہا: جاؤ اپنا کام کرو (یعنی تمہارا راستہ چھوڑا)۔ پس جب حضرت عبداللہ بن حدق ان کے پاس سے نکلے تو اپنے دوستوں کی طرف لوٹ کر آئے‘ تو ان کو بتایا کہ قوم مدہوش ہے ‘ان کے پاس غنی نہیں ہے ۔ پس حضرت علاء نے ان کو عرب و عجم کےمسلمانوں میں رات گزار نے دی جو ان کے پاس تھے۔ اس کے بعد ان کوسختی سے قتل کیا اور وہ شکست کھا گئے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14874

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14875

167 - حدثنا الحسين بن أحمد بن بسطام الزعفراني ثنا إسماعيل بن إبراهيم صاحب الهروي ثنا أبي عن ابي بن كعب صاحب الجربوعي الجريري عن أبي السليل عن أبي هريرة رضي الله عنه قال Y لما بعث النبي صلى الله عليه و سلم العلاء بن الحضرمي إلى البحرين تبعته فرأيت منه ثلاث خصال لا أدري أيتهن أعجب انتهينا إعلى شاطيء البحر فقالوا سموا واقتحموا فسمينا واقتحمنا فعبرنا فما بل الماء إلا أسافل أخفاف إبلنا فلما قفلنا صرنا بعد بفلاه من الأرض فليس معنا ماء فشكونا غليه فصلى ركعتين ثم دعا فإذا سحابة مثل الترس ثم أرخت عزاليها فسقينا واستقينا ومات بعد ما بعثه أبو بكر إلى البحرين لما ارتدت ربيعة فأظفره الله بهم وأعطوا ما منعوا من الزكاة ومات فدفناه في الرمل فلما سرنا غير بعيد قلنا يجيء سبع فيألكه فرجعنا فلم نره

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ‘فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علاء بن حضرمی کو بحرین کی طرف بھیجا تو میں بھی ان کے پیچھے گیا‘ پس میں نے ان میں تین خصلتیں دیکھیں اور یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ کون سی زیادہ پسند یدہ ہے۔ ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو لوگوں نے کہا: اللہ کا نام لے کر داخل ہو جاؤ۔ پس ہم نے سمندر پار کیا ‘لیکن پانی نے صرف ہمارے اونٹوں کے پاؤں کے تلوے تر کیے‘ پس جب ہم پچھلے پاؤں لوٹے تو ہم ایک چٹیل میدان میں آ گئے ‘ہمارے پاس پانی نہ تھا۔ پس ہم نے ان سے شکایت کی ‘انہوں نے دو رکعت پڑھ کر بارش کیلئے دعا کی ۔اچا نک بادل ڈھال کی مانند اُمڈ آیا پھر خوب دل کھول کر برسا ‘ہم نے پیا پلایا۔ ان کا وصال ہوا ‘اسکے بعد کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں (ایک بار پھر )بحرین بھیجا جب بنور بیعہ مرتد ہوئے پس اللہ نے ان پر ان کو فتح دی اور جو زکوٰۃ دینے سے وہ رُک گئے تھے ‘وہ دینے پر رضامند ہو گئے ‘اس کے بعد وہ فوت ہوئے تو ہم نے انہیں ریت میں دفن کیا۔پس جب ہم دور تک چل آئے تو ہم نے کہا: درندے آ کر ان کو کھائیں گے ( کیونکہ مضبوط قبر نہیں بنائی) پس ہم واپس آئے تو ہم نے ان کو وہاں نہ دیکھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي السَّلِيلِ ← ابي بن كعب صاحب الجربوعي الجريري ← أَبِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، صَاحِبُ الْهَرَوِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14875

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ نسبته · حديث 14876

168 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة قال Y وبعث ابو بكر العلاء بن الحضرمي في جيش من المسلمين قبل أهل البحرين وكانوا قد منعوا الجزية وبعث أبو بكر إليهم حين منعوا حق الله في أموالهم فسار إليهم وبينه وبينهم البحر حتى مشوا فيه بأرجلهم فقطعوا كذلك بمكان كانت تجري فيه السفن قبل ذلك وهي تجري فيه اليوم وقاتلهم وأظهره الله عليهم فسلموا فامتنعوا من حق الله في أموالهم

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بحرین کی طرف جانے والے مسلمانوں کے ایک لشکر میں حضرت علاء بن حضرمی کو بھیجا جبکہ بحرین والے جز یہ نہیں دے رہے تھے اور حضرت ابوبکر نے ان کو اس وقت بھیجا جب انہوں نے اللہ کا حق ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا جو ان کے مالوں میں تھا۔ پس وہ ان کی طرف چلے اس حال میں کہ ان کے اور بحرین والوں کے درمیان سمندر تھا یہاں تک کہ وہ سارے کے سارے سمندر میں سے پیدل چل کر پار ہوئے جبکہ اس سے پہلے اس جگہ سے کشتیاں لوگوں کو اُٹھا کر پار لگاتی تھیں اور اس دن بھی کشتیاں چل رہی تھیں۔ آپ نے ان سے جنگ کی اور اللہ نے ان پر غلبہ عطا فرمایا ‘پس ان سب نے سرتسلیم خم کر دیا لیکن اللہ کا حق ادا کر نے سے رُکے ر ہے جو ان کے مالوں میں تھا۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14876

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ وما أسند العلاء بن الحضرمي · حديث 14877

169 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا ابن جريج أخبرني إسماعيل بن محمد بن سعيد أنه أخبره حميد بن عبد الرحمن بن عوف أن السائب بن يزيد أخبره أنه سمع العلاء بن الحضرمي قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( يمكث المهاجر بمكة بعد انقضاء نسكه ثلاثا )

حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ہجرت کرنے والا اپنے حج کے ارکان ادا کر نے کے بعد مکہ میں تین دن رہ سکتا ہے ۔

يمكث المهاجر بمكة بعد انقضاء نسكه ثلاثا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْعَلَاءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ ← أَنَّهُ ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14877

chevron_left Previous
1…141516…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter