Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يزيد بن مرثد عن عوف · حديث 14854

147 - حدثنا أبو زرعة ثنا يزيد بن عبد ربه ثنا بقية ثنا الوضين بن عطاء عن يزيد بن مرثد المودعي عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت عوف بن مالک ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کرتے ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← يزيد بن مرثد المودعي ← الْوَضِينِ بْنِ عَطَاءٍ، ← بَقِيَّةُ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ← أَبُو زُرْعَةَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14854

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علي العقيلي عن عوف بن مالك · حديث 14855

148 - حدثنا عبد الله بن محمد بن العباس الأصبهاني ثنا أبو مسعود أحمد بن الفرات ثنا إسحاق بن إبراهيم بصفاء عن عكرمة بن عمار عن عبد الله بن عبد الرحمن عن علي العقيلي عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : له : ( أمسك ستا بين يدي الساعة ) الحديث

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ ‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قیامت سے پہلے چھ چیز یں شمار کرو۔

له أمسك ستا بين يدي الساعة الحديث ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← علي العقيلي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← إسحاق بن إبراهيم بصفاء ← أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ← عبد الله بن محمد بن العباس الأصبهاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14855

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ الزهري عن عوف بن مالك · حديث 14856

149 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا محمد بن عزيز ثنا سلامة بن روح عن عقيل بن شهاب حدثني عوف بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( أمتي ثلاث أثلاث فثلث يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب وثلث يحاسبون حسابا يسيرا ثم يدخلون الجنة وثلث يمحصون ويكسفون ثم يأتي الملائكة فيقولون وجدناهم يقولون لا إله إلا الله وحده ويقول الله صدقوا لا إله إلا أنا ادخلوهم الجنة بقول لا إله إلا الله وحده واحملوا خطاياهم على أهل التكذيب فهي التي قال الله تعالى { وليحملن أثقالهم وأثقالا مع أثقالهم وليسألن يوم القيامة عما كانوا يفترون } وتصديقها في التي ذكر فيها الملائكة قال الله عز و جل ( ثم أورثنا الكتاب الذي اصطفينا من عبادنا ) فجعلهم ثلاثة أفواج وهم أصناف كلهم ( فمنهم ظالم لنفسه ) ( فهذا الذي يكشف ويمحص ) { ومنهم مقتصد } وهو الذي يحاسب حسابا يسيرا ( ومنهم سابق بالخيرات بإذن الله ) فهذا الذي يلج الجنة بغير حساب ولا عذاب بإذن الله يدخلونها جميعا لم يفرق بينهم { يحلون فيها من أساور من ذهب ويلبسون ثيابا خضرا من سندس وإستبرق متكئين فيها على الأرائك نعم الثواب وحسنت مرتفقا } الذي أحلنا دار المقامة من فضله لا يمسنا فيها نصب ولا يمسنا فيها لغوب والذي كفروا لهم نار جهنم لا يفقضى عليهم فيموتوا ولا يخفف عنهم من عذابها كذلك تجزي كل كفور )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ حضوری صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میری اُمت کے تین حصے ہیں ‘ایک تہائی جنت میں بغیر حساب و کتاب کے داخل ہوں گے‘ ایک تہائی سے مختصر حساب لیا جائےگا پھر جنت میں داخل ہوں گے‘ ایک تہائی کا ہلکا پھلکا حساب ہو گا اور ان کے گناہوں سے پردہ سرکا یا جائےگا۔ پھر فرشتے آ کر کہیں گے: ہم نے ان کو لا الہ الا اللہ وحدہ کہتے ہوئے پایا۔اللہ فرمائے گا:انہوں نے سچ کہا‘ لا الہ الا اللہ میں ہی ہوں ‘ان کو جنت میں داخل کر و‘ لا الہ الا اللہ وحدہ کہنے کے صدقے ان کی خطائیں ‘جھٹلانے والوں پر ڈال دو۔ پس اللہ تعالی ٰکے فرمان :’’وليحملن اثقالهم الى آخره ‘‘سے یہی مراد ہے ‘اللہ فرماتا ہے :’’ثم اورثنا الی آخرہ ‘‘ پس اللہ تعالی ٰنے ان کے تین گروہ بنائے اور وہ سارے کے سارے تین قسمیں ہیں ۔’’فمنهم ظالم لنفسه‘‘ “ اس آیت میں اسی گروہ کا ذکر ہے۔اورفرمایا: ’’ومنهم مقصد‘‘ یہ وہ ہیں جن سے ہلکا پھلکا حساب لیا جائےگا۔فرمایا: ’’منهم سابق بالخيرات باذن الله “ یہ وہ گروہ ہے جس کو بغیر حساب و عذاب جنت میں داخل کیا جائےگا اللہ کے حکم سے‘یہ اکٹھے داخل ہوں گے‘ ان کو الگ الگ نہیں کیا جائےگا۔ (فرمایا:) ’’یحلون فيها من اساور الی آخرہ‘‘۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عقيل بن شهاب ← سلامة بن روح ← محمد بن عزيز ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14856

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ محمد بن أبي محمد عن عوف بن مالك · حديث 14857

150 - حدثنا طالب بن قرة الأذني ثنا محمد بن عيسى الطباع ثنا هشيم عن يعلى بن عطاء عن محمد بن أبي محمد عن عوف بن مالك قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في خباء له فقلت يا رسول الله أدخل ؟ قال : ( ادخل ) فقلت كلي ؟ فقال : ( كلك قال أمسك ستا يكون بين يدي الساعة أولهن وفاة نبيكم فبكيت ثم فتح بيت المقدس وفتنة تدخل كل بيت شعر ومدر ويفيض المال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دينار فبسخطها وموتان يكون في الناس كقعاص الغنم وهدنة تكون بينكم وبين بني الأصفر فيغدرون بكم فيسيرون إليكم في ثمانين غاتية تحت كل غاية اثنا عشر ألفا )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خیمہ میں آیا ‘میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں داخل ہوسکتا ہوں؟ فرمایا: داخل ہو جاؤ! میں نے عرض کی : کیا سارا داخل ہو جاؤں؟ فرمایا: سارے داخل ہو جاؤ۔ فرمایا: وہ چھ چیزیں حاصل کرو جو قیامت سے پہلے ہوں گی‘ ان میں سے پہلی تمہارے نبی کا وصال ہے۔ پس میں رو پڑا۔ فرمایا: پھر بیت المقدس فتح ہوگا‘پھر ایسا فتنہ ہوگا جو ہر گھر میں داخل ہو جائےگا خواہ پختہ ہو یا کچا ہوگا‘تمہارے اندر مال عام ہو جائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض ہو گا‘ لوگوں کے اندر بکریوں کی بیماری کی طرح ایک بیماری ہوگی‘ تمہارے اور بنواصفر کے درمیان ایک لڑائی ہو گی پس وہ تم سے غد رکریں گے ‘پس وہ اسی جھنڈے کو لے کر تمہاری طرف چلیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار کا لشکر ہوگا۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في خباء له فقلت ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُحَمَّدٍ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← هُشَيْمٌ ← محمد بن عيسى الطباع ← طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14857

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عوف بن القعقاع بن معبد بن زرارة بن عرس بن زيد بن عبد الله بن دارم · حديث 14858

151 - حدثنا أحمد بن محمد بن صدقة و أحمد بن مابهرام الأيذجي قالا ثنا محمد بن محمد بن مرزوق ثنا محمود بن توبة بن قيس بن عوف بن القعقاع بن معبد بن زرارة بن عرس بن زيد بن عبد الله بن دارم حدثني أبي عن جده عوف بن القعقاع قال Y وفد أبي إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأنا معه غليم فأمر لكل رجل ببردين وأمر لي ببرد فلما انصرفنا باع علي رجل منهم أحد برديه فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم في بردين فنظر إلي وقال : ( من أين لك هذا ؟ ) قلت أشتريتها من فلان قال : ( أنت كنت أحق منه إذ ضيع ما أعطاه رسول الله صلى الله عليه و سلم )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میں چھوٹا بچہ بھی ان کے ساتھ تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آدمی کیلئے دو چادروں کا حکم دیا ‘لیکن میرے لیے ایک چادر کا حکم دیا۔ پس جب ہم واپس لوٹے تو ان میں سے ایک آدمی نے اپنی دو چادروں میں سے ایک چادر بیچ دی ۔ پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو چادروں میں آیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا :یہ تُو نے کہاں سے لی؟ میں نے عرض کی : میں فلاں ( اس کا نام لے کر ) سے خریدی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تُو ہی اس کا زیادہ حقدار ہے کیونکہ اس آدمی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطیہ کو ضائع کر دیا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14858

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عوف بن القعقاع بن معبد بن زرارة بن عرس بن زيد بن عبد الله بن دارم · حديث 14859

152 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي حدثني أبي Y ( ح )

أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14859

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عوف أبو سلمة الأنصاري · حديث 14860

152 - وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن داود الشاذكوني قالا ثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فديك أبنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة عن عوف بن سلمة بن عوف عن أبيه عن جده قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولموالي الأنصار )

حضرت عوف بن سلمہ بن عوف اپنے والدسے ‘وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ ! انصار کے بچوں اور انصار کے بچوں کے بچوں اور انصار کے غلاموں کو بخش دے!

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَوْفِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ عَوْفٍ ← محمد بن إسماعيل بن أبي فديك أبنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حبيبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14860

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عوف أبو شبل عكراش بن ذؤيب التميمي صحب النبي صلى الله عليه و سلم وسمع منه وهو عكراش بن ذؤيب بن عرقوص بن جعدة بن عمرو بن النزال بن مرة بن عبيد · حديث 14861

153 - حدثني بهذه النسبة عبيد اله بن محمد بن أبي محمد اليزيدي عن محمد بن سعد عن الواقدي Y

یہ نسب عبیداللہ بن محمد بن ابومحمد الیزیدی نے محمد بن سعد سے‘ وہ واقدی کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں ۔

الْوَاقِدِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← بهذه النسبة عبيد اله بن محمد بن أبي محمد اليزيدي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14861

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عوف أبو شبل عكراش بن ذؤيب التميمي صحب النبي صلى الله عليه و سلم وسمع منه وهو عكراش بن ذؤيب بن عرقوص بن جعدة بن عمرو بن النزال بن مرة بن عبيد · حديث 14862

154 - حدثنا محمد بن زكريا الغلابي ثنا العلاء بن الفضل بن أبي سوية المنقري حدثني عبيد الله بن عكراش بن ذؤيب عن أبيه قال Y بعثني بنو مرة بصدقات أموالهم إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقدمت عليه المدينة فوجدته جالسا بين المهاجرين والأنصار فقدمت عليه إبل كأنها عروق الأرطي فقال : ( من الرجل ؟ ) فقلت عكراش بن ذؤيب قال : ( ارفع في النسب ) فقلت ابن حرقوص بن جعد بن عمرو بن النزال بن مرة بن عبيد وهذه صدقات بني مرة بن عبيد فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( هذه أبل قومي هذه صدقات قومي ) ثم أمر بها رسول الله صلى الله عليه و سلم إن توسم بميسم أبل الصدقة وضم إليها ثم أخذ بيدي فانطلق بي إلى منزل أم سلمة فقال : ( هل من طعام ؟ فأتينا بجفنة كثيرة الثريد والوذر فأقبلنا ناكل منها فجعلت أضبط يدي في جوانبها فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده اليسرى على يدي اليمنى ) ثم قال : ( يا عكراش كل من موضع واحد فإنه طعام واحد ) ثم أتينا بطبق فيه ألوان من رطب فجعلت آكل بين يدي وجالت يد رسول الله صلى الله عليه و سلم في الطبق ثم قال : ( يا عكراش كل من حيث شئت فإنه من غير لون ) ثم أتينا بماء فغسل رسول الله صلى الله عليه و سلم يده ثم مسح ببلل كفيه وجهه وذراعيه ورأسه ثم قال : ( يا عكراش هذا الوضوء مما غيرت النار )

حضرت عکراش بن ذؤیب فرماتے ہیں کہ بنومرہ نے مجھے اپنے مالوں کے صدقے دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا‘پس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینے پہنچا‘ پس میں نے دیکھا کہ آپ مہاجرین و انصار کے درمیان بیٹھے تھے ‘پس میں آپ کے پاس صدقے کے اونٹ لایا ‘گویا ارطی کی جڑیں ہیں (ارطی‘ ریت میں اُگنے والا ایک پودا ہے )۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون آدمی ہے؟ میں نے عرض کی : عکراش بن ذؤیب ہوں ۔ فرمایا: اپنا نسب بیان کر۔ میں نے عرض کی : حرقوص بن جعد بن عمروبن نزال بن مرہ بن عبید کا بیٹا ‘اور یہ صدقات مرہ بن عبید کے ہیں ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا ‘پھر فرمایا :یہ تو میری قوم کے صدقات ہیں ‘یہ تو میری قوم کے صدقات ہیں ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ کے اونٹوں والے نشانات لگاؤ اور دوسروں کے ساتھ ان کو ملا دو۔ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر لے گئے ‘فرمایا: کچھ کھانا ہے؟ پس ہمارے پاس ثریدسے بھرا ہوا ایک پیالہ لایا گیا‘پس ہم اس سے کھانے لگے ‘پس میرا ہاتھ اس پیالے کی مختلف اطراف میں حرکت کرنے لگا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑا‘ پھر فرمایا: اے عکراش! ایک جگہ سے کھا کیونکہ کھانا ایک جیسا ہے۔ پھر ہمارے پاس ایک تھال لایا گیا جس میں مختلف رنگوں کی تر کھجوریں تھیں ۔ پس میں نے اپنے سامنے سے کھانا شروع کیا جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ مبارک تھال میں اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے ‘پھر فرمایا: اے عکراش! جہاں سے چاہے کھا کیونکہ یہ مختلف قسم کا کھانا ہے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنی ہتھیلیوں کی تری کو اپنے چہرے‘بازوؤں اور سر پر پھیرا۔ پھر فرمایا:اے عکراش! جس چیز کو آگ نے بدل دیا ہو‘اس سے وضو کا طریقہ یہ ہے۔

أَبِيهِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ، ← العلاء بن الفضل بن أبي سوية المنقري، ← محمد بن زكريا الغلابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14862

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عنمة الجهني · حديث 14863

155 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرح المصري ثنا يحيى بن بكير حدثني رفيع بن خالد العائشي عن محمد بن إبراهيم بن عنمة الجهني عن أبيه عن جده قال Y خرج النبي صلى الله عليه و سلم ذات يوم فلقيه رجل من الأنصار فقال : يا رسول الله بأبي وأمي أنت إنه ليسوؤني الذي أرى بوجهك وعن ما هو ؟ قال : فنظر النبي صلى الله عليه و سلم إلى وجه الرجل ساعة ثم قال : ( الجوع ) فخرج الرجل يعدو أو شبيها بالعدو حتى أتى بيته فالتمس فيه الطعام فلم يجد شيئا فخرج إلى بني قريظة فآجر نفسه بكل دلو ينزعها تمرة حتى جمع حفنة أو كفا من تمر ثم رجع بالتمر حتى وجد النبي صلى الله عليه و سلم في مجلس لم يرم فوضعه بين يديه وقال : كل أي رسول الله فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( من أين لك هذا التمر ؟ ) فأخبره الخبر فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إني لأظنك تحب الله ورسوله ؟ ) قال : أجل والذي بعثك بالحق لأنت أحب إلي من نفسي وولدي وأهلي ومالي فقال : ( أما لا فاصطبر للفافة وأعد للبلاء تحفاف فوالذي بعثني بالحق لهما إلى من يحبني أسرع من هبوط الماء من رأس الحبل إلى أسفله )

حضرت عنمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلے ‘پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک انصاری ملا ‘عرض کی : اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! جو میں آپ کے چہرے پر دیکھ رہا ہوں اور جس کی حقیقت معلوم نہیں کہ کیا ہے ‘مجھے تکلیف دیتا ہے؟ راوی کا بیان ہے : پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گھڑی اس آدمی کی طرف دیکھا۔ پھر فرمایا: بھوک لگی ہے ۔ پس وہ آدمی دوڑ تا ہوا گیا ‘یا دوڑ نے کے مشابہ چلا یہاں تک کہ اپنے گھر آیا ‘اس نے کھانا تلاش کیا لیکن اس نے کچھ نہ پایاپس وہ بنوقریظہ کی طرف گیا ‘مزدوری کی ‘ہر ڈول کھینچنے کے بدلے ایک کھجور یہاں تک کہ اس نے مٹھی بھر یا ہتھیلی بھر کھجور یں اکٹھی کیں، پھر وہ کھجوریں لے کر آیا حتی ٰ کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مجلس میں پایا جو تیر بازی والی نہ تھی‘ پس اس نے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیں اور عرض کی: اے نبی! آپ کھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے یہ کھجوریں کہاں سے لیں؟ پس اس نے ساری خبر دی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمایا: میر ایقین ہے کہ تُو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا ! اس نے عرض کی : ہاں !قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ‘آپ مجھے میری جان ‘میرے والد ‘میرے اہل اور میرے مال سے زیادہ پسند یدہ ہیں ۔ فرمایا: فاقہ کی خاطر صبر کرنا ہو گا اور گھیرا ڈال کر آنے والی بلاؤں کیلئے تیار ہو جاؤ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ‘یہ دونوں چیز یں اُن کیلئے ہیں جو مجھ سے محبت کرتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہیں جتنی تیزی سے پہاڑ کی چوٹی سے پانی آ تا ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنَمَةَ الْجُهَنِيِّ ← رُفَيْعُ بْنُ خَالِدٍ الْعَائِشِيُّ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباع روح بن الفرح المصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14863

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علياء السلمي · حديث 14864

156 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون ثنا أبو خيثمة زهير بن حرب قالا ثنا علي بن ثابت حدثني عبد الحميد بن جعفر الأنصاري عن أبيه عن علياء السلمي قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا تقوم الساعة إلا على حثالة من الناس )

حضرت علیا ءسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا: قیامت کی تلچھٹ لوگوں پر آئےگی۔

«لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا عَلَى حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ» ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← علياء السلمي ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَلِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14864

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ علياء السلمي · حديث 14865

157 - حدثنا مطلب بن شحيب الأزدي المصري ثنا حصين بن محمد ثنا علي بن ثابت الجزري عن عبد الحميد بن جعفر عن أبيه عن علياء السلمي قال Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا تقوم الساعة حتى يملك الناس رجل من الموالي يقال له جهجاه )

حضرت علیاء السلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ لوگوں کے غلاموں کا ایک آدمی مالک بنے گا ‘اس کا نام جہجاہ ہوگا۔

لا تقوم الساعة حتى يملك الناس رجل من الموالي يقال له جهجاه ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← علياء السلمي ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ← حصين بن محمد ← مطلب بن شحيب الأزدي المصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14865

chevron_left Previous
1…131415…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter