Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ شهر أبو عبلة العقيلي عن عوف بن مالك · حديث 14830

123 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا هشام بن عمار ثنا مسلمة بن علي ثنا إبراهيم بن أبي عبلة عن أبيه عن عوف بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( إن بين يدي الساعة سنين خوادع يتهم فيها الأمين ويؤتمن فيها الخائن ويكذب فيها الصادق ويصدق فيها الكاذب ويتكلم في أمر الناس الرويبضة ) قيل يا رسول الله وما الرويبضة ؟ قال : ( السفيه ينطق في أمر العامة )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے دھوکوں کا سال ہو گا‘ اس میں امانت دار آدمی پر الزام لگایا جائےگا‘اُس وقت خائن امانت دار ہوگا‘ سچے آدمی کو جھوٹا کہا جائے گا اور جھوٹے کو سچا کہا جائےگا‘لوگوں کے معاملات پاگل لوگوں کے ہاتھوں میں ہوں گے‘عرض کی: یارسول اللہ! رویبضہ سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: پاگل آدمی جو عام لوگوں کے معاملے میں بولتا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14830

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ شهر أبو عبلة العقيلي عن عوف بن مالك · حديث 14831

124 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ثنا إسماعيل بن عياش عن إبراهيم بن أبي عبلة عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل حدیث روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14831

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ شهر أبو عبلة العقيلي عن عوف بن مالك · حديث 14832

125 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و القاسم بن زكريا المطرز و أحمد بن زهير التستري قالوا ثنا أبو كريب ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن إبراهيم بن أبي عبلة عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يكون أمام الدجال سنون خوادع يكثر فيها المطر ويقل فيها النبت ويكذب فيها الصادق ويصدق فيها الكاذب ويؤتمن فيها الخائن ويخون فيها المين وتنطق فيها الرويبضة ) قيل يا رسول الله وما الرويبضة ؟ قال : ( من لا يؤبه له )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دجال کے آنے سے پہلے دھو کے باز دجالوں کا دور ہو گا‘ بارش کثرت سے ہوگی‘ لیکن فصل کم ہو گی‘ اس وقت سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کوسچا کہا جائے گا‘ خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن کہا جائےگا‘ان میں پاگل گفتگو کریں گے۔عرض کی گئی: یارسول اللہ! رویبضہ سے مراد کیا ہے؟ فرمایا: جس کی لوگوں کوکوئی پروانہیں ہو گی۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14832

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ سليم بن عامر الخبائري عن عوف بن مالك · حديث 14833

126 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري و أحمد بن المعلى الدمشقي قالا ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا ابن جابر قال سمعت سليم بن عامر يقول : سمعت عوف بن مالك الأشجعي يقول Y نزلنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم منزلا فأستيقظت من الليل فإذا أنا لا أرى في العسكر شيئا أطول من مؤخرة الرحل قد لصق كل انسان وبعيره بالأرض فقمت اتخلل الناس حتى دفعت إلى مضطجع النبي فإذا هو ليس فيه فوضعت يدي على الفراش فإذا هو بارد فقمت فخرجت أتخلل الناس وأقول إنا لله وإنا إليه راجعون ذهب برسول الله صلى الله عليه و سلم حتى خرجت من العسكر كله فبصرت بسواد فمضيت إليه فرميت بحجر فمضيت إلى السواد وإذا معاذ بن جبل و أبو عبيدة بن الجراح وإذا بين أيدينا صوت كدوي الرحا وكصوت العصا تصفها الرياح فقال بعضنا لبعض أي قوم استووا حتى تصحوا أو يأتيكم رسول الله صلى الله عليه و سلم فلبثنا ما شاء الله ثم نادى : ( أثم معاذ بن جبل و أبو عبيدة بن الجراح و عوف بن مالك ؟ ) قلنا نعم فأقبل إلينا حتى كنا معه لا نسأله شيئا ولا يخبرنا حتى قعد على فراشه فقال : ( أتدرون ما خيرني ربي الليلة ؟ ) قلنا الله ورسوله أعلم قال : ( فإنه خيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة ) قلنا يا رسول الله ادع الله أن يجعلنا من أهلها قال : ( هي لكل مسلم )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ایک جگہ پر اُترے ‘رات کو میری آنکھ کھل گئی ‘میں نے لشکر میں نگاہ دوڑائی تو مجھے کجاوا سب سے اونچا اور لمبا نظر آ یا ‘ہر آدمی اسی کے ساتھ لگا ہوا تھا اور اس کا اونٹ زمین پر ۔ میں اُٹھ کر لوگوں کو تلاش کرنے لگا یہاں تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوابگاہ تک پہنچا‘ پس میں نے اپنا ہاتھ بستر پر رکھا۔ میں نے اندازہ لگایا کہ وہ ٹھنڈا ہے۔ پس میں اُٹھ کر نکلا جبکہ میں لوگوں میں سے گزر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ کے رسول گزر گئے یہاں تک کہ میں سارے لشکر سے باہر نکل گیا۔ پس میں نے مٹی دیکھی‘ میں اس کی طرف گیا ‘میں نے پتھر پھینکا پھر میں سائےکی طرف گیا‘ اچانک میری نگاہ پڑی تو وہ حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما تھے۔ہم سب کے سامنے مکھیوں کے بھنبھنانے کی آواز کی طرح ایک آواز تھی یا اس آدمی کی طرح جو عصا ( نرم و نازک ) کو ہوا ٹکراتی ہےتوکلتی ہے۔ پس ہم نے ایک دوسرے سے کہا: اے گروہ ! کمر باندھ لوحتی ٰ کہ تم بیدار ہو یا تمہارے پاس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی تشریف لے آئیں ‘جتنا اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے ‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی: کیا یہاں حضرت معاذ بن جبل ‘ابوعبیدہ بن جراح اور عوف بن مالک ہیں؟ ہم نے عرض کی: ہاں! پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے حتیٰ کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہو گئی نہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات پوچھی نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سی بات کی خبر دی حتی ٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر اپنے بستر پر بیٹھ گئے ۔فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے رب نے آج رات مجھے کیا اختیار دیا ہے؟ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ! فرمایا: اللہ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ اگر میں چاہوں تو میری آدھی اُمت (بغیر حساب ) جنت میں داخل ہو اور اگر میں چاہوں تو شفاعت کروں (اور ساری اُمت جنت میں داخل کروالوں ) میں نے حق شفاعت کو چنا۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دعا فرمائیں!اللہ تعالیٰ ہمیں شفاعت کا اہل بنائے۔ فرمایا: میں ہر مسلمان کیلئے ہے۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← ابْنِ جَابِرٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الحسين بن إسحاق التستري و أحمد بن المعلى الدمشقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14833

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يحيى بن جابر الطائي عن عوف · حديث 14834

127 - حدثنا محمد بن الحسين الأنماطي ثنا داود بن عمرو الضبي ثنا إسماعيل بن عياش حد \ ثني سليمان بن سليم الكناني عن يحيى بن جابر عن عوف بن مالك الأشجعي Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( تعوذوا بالله من طمع يهدي إلى طبع ومن طمع إلى غير مطمع )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو اس طمع سے جو طبیعت کی حصہ بن جائے اور ایسے طمع سے جس کا کوئی مطمح ِنظر نہ ہو۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ سَلِيمٍ الْكِنَانِيِّ، ← إسماعيل بن عياش حد ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14834

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يحيى بن جابر الطائي عن عوف · حديث 14835

128 - حدثنا طلب بن قرة الأدني ثنا محمد بن عيسى الطباع ( ح ) وحدثنا أحمد بن عمرو القطراني ثنا أبو الربيع الزهراني قالا ثنا إسماعيل بن عياش عن سليمان بن سليم عن يحيى بن جابر عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( تعوذوا بالله من طمع يهدي إلى طبع ومن مطمع يرد إلى طمع ومن طمع إلى غير مطمع )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ طلب کرو اس طمع سے جو طبیعت کی حصہ بن جائے اور ایسے طمع سے جس کا کوئی مطمح نظر نہ ہو۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ ← محمد بن عيسى الطباع ← طلب بن قرة الأدني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14835

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ راشد بن سعد عن عوف بن مالك · حديث 14836

129 - حدثنا جعفر بن محمد الفريابي و عبد الله بن سليمان بن الأشعث السجزي قالا ثنا عمرو بن عثمان الحمصي ( ح ) وحدثنا حبر بن عرفة المصري ثنا يزيد بن عبد ربه الجرجسي قالا ثنا عباد بن يوسف عن صفوان بن عمرو عن راشد بن سعد عن عوف بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( افترقت اليهود على احدى وسبعين فرقة وافترقت النصارى على اثنتين وسبعين فرقة والذي نفسي بيده لتفترقن أمتي على ثلاث وسبعين فرقة واحدة في الجنة واثنتان وسبعون في النار ) قيل يا رسول اله ومن هي ؟ قال : ( الجماعة )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کے اکہتّر فرقے اور عیسائیوں کے بہتّر فرقے تھے ‘قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میری اُمت کے ضرور بضر ور تہتّرفرقے ہوں گے ‘ایک فرقہ جنتی ہو گا اور بہتّر جہنمی ۔عرض کی گئی: یارسول اللہ ! جنتی کون ہے؟ فرمایا: جماعت ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبَّادِ بْنِ يُوسُفَ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ الْجُرْجُسِيِّ، ← وحدثنا حبر بن عرفة المصري ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ← جعفر بن محمد الفريابي و عبد الله بن سليمان بن الأشعث السجزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14836

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ربيعة بن لقيط عن عوف بن مالك · حديث 14837

130 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا قتيبة بن سعيد ثنا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن ربيعة بن لقيط عن عوف بن مالك قال Y دخلت على النبي صلى الله عليه و سلم وستة نفر أو سبعة نفر أو ثمانية فقال : ( بايعوني ) فبايعناه فأخذ علينا ما أخد على النساء ثم اتبع ذلك بكلمة خفيفة فقال : ( لا تسألو الناس شيئا )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھ‘ یا سات یا آٹھ آدمیوں کے ساتھ آیا ‘ہم نے آپ کی بیعت کی‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میری بیعت کرو‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اسی بات پر بیعت لی جس پر عورتوں سے لی‘ پھر اس کے بعد ایک کلمہ آہستہ سے کہا۔ فرمایا : لوگوں سے کوئی چیز نہ مانگنا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ربيعة بن لقيط ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14837

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ربيعة بن هدير عن عوف بن مالك · حديث 14838

131 - حدثنا محمد بن حاتم المروزي ثنا حبان بن موسى و سويد بن نصر قالا ثنا ابن المبارك ثنا سعيد بن أبي أيوب ثنا يزيد بن أبي حبيب ( ح ) وحدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن بشار بندار ثنا وهب بن جرير ثنا أبي قال سمعت يحيى بن أيوب عن يزيد بن ابي حبيب عن ربيعة بن هدير عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y غزونا مع عمرو بن العاص ومعنا عمر بن الخطاب و أبو عبيدة بن الجراح فأصابتنا مخمصة شديدة فوجدت قوما يريدون أن ينخروا جزورا فقلت أعينكم علينا وأنحرها وتقطعوني منها شيئا قالوا : نعم ففعلت فذكرت ذلك لعمر بن الخطاب فقال : قد تعجلت أجره وما أنا بآكله وقال أبو عبيدة مثل ذلك فتقدم علي النبي صلى الله عليه و سلم فلما رآني قال : ( يا صحاب الجزور )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمرو بن عاص کی معیت میں جہاد کیا جبکہ ہمارے ساتھ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہما تھے ‘پس ہمیں سخت بھوک نے آ لیا ‘پس میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا میں اس پر تمہاری مدد کروں اور ان کو ذبح کرواؤں اور تم اس میں سے مجھے کچھ دے دو؟ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ پس میں نے وہ کیا ‘پس میں نے یہ بات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گوش گزار کی تو فرمایا: آپ نے اس کے اجر میں جلدی کی ہے ‘میں تو اسے نہیں کھاؤں گا اور حضرت ابوعبیدہ نے بھی یہی بات فرمائی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا: اے اونٹ والے۔

غَزَوْنَا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، ← عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← ربيعة بن هدير ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حبان بن موسى و سويد بن نصر ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14838

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يزيد بن الأصم عن عوف بن مالك · حديث 14839

132 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا أبو مسهر ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا هشام بن عمار قالا ثنا صدقة بن خالد عن زيد بن واقد عن بسر بن عبد الله عن يزيد بن الأصم عن عوف بن مالك Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( إن شئتم أخبرتكم عن الإمارة وما هي ؟ أولها ملاممة ونثانيها ندامة وثالثها عذاب يوم القيامة إلا من عدل )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تم کو حکومت کے متعلق بتاؤں کہ وہ کیا ہے؟ فرمایا: شروع میں ملامت ‘درمیان میں ندامت اور آخرت میں عذاب ہے ‘ہاں اگر عدل کیا ہوتو پھر نہیں۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← بُسْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14839

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو المليح بن أسامة الهذلي عن عوف بن مالك · حديث 14840

133 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عمرو بن عون الواسطي أنا خالد عن خالد الحذاء عن أبي قلابة عن أبي المليح عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض مغازيه فانتبهت ذات ليلة فلم أر رسول الله صلى الله عليه و سلم في مكانه وذا أصحابه كأن على رؤوسهم الصخور وإذا افبل قد وضعت صراتها وإذا أنا بخيال قد تصدى لي وتصدأت له فإذا معاذ بن جبل فقلت إينه رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : ورائي فإذا أنا بخيال قد تصدى إلي وصدأت له فإذا هو أبو موسى الأشعري قال : فحدثني حميد بن هلال عن أبي بردة عن أبي موسى عن عوف بن مالك الأشجعي قال : سمعت خلف أبي موسى هزيرا كهزير الرحى فقلت أين النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : ورائي قد أقبل فإذا أنا برسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الهل أن النبي إذا كان في أرض العدو كان عليه حرس فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أتاني آت من ربي عز و جل فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فأخترت الشفاعة ) قال معاذ بأبي أنت وأمي قد عرفت قرابتي ومنزلتي فأجعلني منهم فقال : ( أنت منهم ) فقال عوف و أبو موسى يا رسول اله قد عرفت أنا تركنا أهلنا نؤثر الله ورسوله فاجعلنا منهم قال : ( هي لكل مسلم أنتما منهم ) فانتهينا إلىالقوم حين نادوا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( اقعدوا ) فقعدواا كأن أحد لم يقم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أتاني آت من ربي فخيرني بين أن يدخل شطر أمتي وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة ) فقال القوم يا رسول الله اجعلنا منهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( انصتوا ) فأنصتوا كأن أحدا لم يتكلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن شفاعتي لمن مات لا يشرك بالله شيئا )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘تو میں ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا تو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر نہیں تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ایسے پڑے تھے جیسے ان کے سروں پر بھاری پتھر ہوں‘ اونٹوں نے بھی اپنے سرزمین پر دھر رکھے تھے ‘لیکن میں کسی آنے والے کے خیال میں تھا اور خیال کیا ہی تھا کہ اچانک میری نگاہ پڑی تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ میں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ فرمایا: میرے پیچھے۔ پس میں ایک ایسے خیال میں منہمک تھا جو مجھے آیا تھا ‘ابھی میں نے خیال کیا ہی تھا کہ اچانک حضرت ابوموسی ٰاشعری رضی اللہ عنہ نظر آئے ۔ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوموسی ٰرضی اللہ عنہ کے پیچھے چکی کی آواز کی طرح کی ایک آواز سنی۔ میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے آنے والے ہیں ۔ اچانک میری نگاہ پڑی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! جب آپ دشمن کے ملک میں ہیں تو آپ کے پاس کوئی چوکیدار ہونا چاہیے ۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے آنے والا میرے پاس آیا‘میرے رب نے مجھے دو چیزوں کے درمیان اختیار دیا (کہ میں ان میں سے ایک چن لوں ) میری آدھی اُمت (بغیر حساب ) جنت میں داخل ہو ‘یا میں شفاعت کو چن لوں ۔حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میری قرابت اور منزلت آپ کو معلوم ہے ‘مجھے ان میں سے بنالیں ۔ فرمایا: تم ان میں سے ہو۔ پس حضرت عوف اور ابوموسی ٰنے بھی عرض کی : اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ ہم نے اپنے اہل وعیال کو چھوڑا اور اللہ اور اس کےرسول کو اختیار کیا‘ پس ہمیں ان میں سے بنالیں ۔فرمایا: میں ہر مسلمان کا حق ہے ‘تم بھی ان میں سے ہو۔ پس ہم قوم کی طرف آئے جب انہوں نے آواز دی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ! تو لوگ بیٹھ گئے گویا کوئی بھی کھڑا نہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا ‘پس اللہ تعالی ٰنے مجھے اختیار دیا کہ میری اُمت کا ایک حصہ ( بلا حساب ) جنت میں داخل ہو‘یا میں ان سب کی سفارش کروں (اور سب کو جنت میں داخل کروں ) پس میں نے شفاعت کو اختیار کیا۔ پس قوم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہمیں ان میں سے بنالیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خاموش ہو جاؤ! پس لوگوں پر خاموشی طاری ہوگئی‘ گویا کسی کے منہ میں کلام نہ تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میری شفاعت ہر اُس آدمی کا حق ہے جو اس حال میں فوت ہو اکہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کر رہا تھا۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14840

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو المليح بن أسامة الهذلي عن عوف بن مالك · حديث 14841

134 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا خالد بن خداش ( ح ) وحدثنا الهيثم بن خالد المصيصي ثنا محمد بن عيسى الطباع قالا ثنا أبو عوانة عن قتادة عن أبي المليح عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y عرس بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات ليلة فافترش كل واحد منا ذراع راحلت9ه وانتبهت بعض الليل فإذا ناقة للنبي ليس قدامها أحد فانطلقت أطلب رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا معاذ بن جبل و عبد الله بن قيس قائمان فقلت أين رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالا : ما ندري غير أنا قد سمعنا صوتا بأعلى الوادي قال : مث لهزير الرحا فلم يلبث إلا يسيرا حتى أتانا النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( إنه أتاني آت من ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة ) فقلنا يا رسول الله نناشدك الله والصحبة لما جعلتنا من أهل الشفاعة قال : ( إنكم من أهل شفاعتي ) فانطلقنا معا نستبق إلى الناس فإذا الناس قد فزعوا وفقدوا نبيهم فقال : ( إنه أتاني آت من ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة والشفاعة فاخترت الشفاعة ) قالوا : يا رسول الله نناشدك الله والصحبة لما جلعتنا من أه للشفاعتك فلما أضبوا قال : ( أشهدكم أن شفاعتي لمن مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایک رات گزاری‘ پس ہم میں سے ہر آدمی نے اپنے کجاوے کے پائے کو بستر بنایا‘ میں رات کے کسی حصے میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اوٹنی پر نگاہ پڑی‘اس کے سامنے کوئی(چوکیدار) نہیں تھا‘ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چلا‘ اچانک حضرت معاذ بن جبل اور حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہما کھڑے تھے۔ میں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں معلوم نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے وادی کے اوپر والے حصے سے ایک آواز سنی ہے۔ وہ کہتے ہیں: چکی کی آواز کی طرح ۔ پس تھوڑی دیر گزری کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ گئے ‘فرمایا: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا ‘اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو آپ کی آدھی اُمت ( بلا حساب ) جنت میں داخل ہو ‘یا آپ حق ِشفاعت لے لیں ۔ پس میں نے حق ِشفاعت کو چن لیا۔ پس ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم آپ کو اللہ کا واسطہ دیتے ہیں اور آپ کی صحبت کا کہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنالیں ۔فرمایا: تم میری شفاعت کے حق دار ہو۔ پس ہم اکٹھے نکلے ‘ہم لوگوں کی طرف جانے میں ایک دوسرے سے سبقت لے رہے تھے ‘اچا نک لوگ گھبرائے ہوئے تھے اور اپنے نبی کو گم کیے ہوئے ۔ پس کہا: بے شک بات یہ ہے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آ یا‘ اللہ نے مجھے اختیار دیا کہ میری آدھی اُمت جنت میں داخل ہو ‘یا میں حقِ شفاعت کو چن لوں ۔ پس میں نے حقِ شفاعت کو چین لیا۔ صحابہ نے عرض کی: آپ کو اللہ اور آپ کی صحبت کا واسطہ ‘ہمیں بھی ضرور شفاعت والوں سے بنالیں۔ پس جب وہ خاموش ہوئے تو فرمایا: میں تمہیں گواہ بنا تا ہوں کہ میری سفارش میرے ہر اُس اُمتی کے لیے ہے جس نے مرنے تک شرک نہیں کیا۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← أَبِي الْمَلِيحِ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← محمد بن عيسى الطباع ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14841

chevron_left Previous
1…111213…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter