Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عطاء الخراساني عن عوف بن مالك · حديث 14818

111 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهويه ثنا أبي ثنا حسين بن علي الجعفي ثنا واقد بن سليمان ثنا عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه عن عوف بن مالك قال Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم معتكفا في العشر الأواخر من رمضان فلما إن كان ليلة ثلاث وعشرين قال : ( من أحب ( أن ) يقوم معنا هذه الليلة فليقم مقامي حتى انقضى ثلث الليل ) ثم انصرف فمشيت معه إلى قتيبة فقلنا يا رسول الله لو قمت بنا هذه الليلة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( بحسب امريء أن يقوم دع الإمام حتى ينصرف يحسب له قيام ليلة )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ‘پس جب تئیسو یں رات ہوتی تو فرمایا کرتے: جو اس رات ہمارے ساتھ قیام کرنا پسند کرے تو وہ اسی جگہ قیام کرے یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ گزر جائے پھر واپس لوٹے ‘پس میں قتیبہ تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کیلئے امام کے ساتھ قیام کافی ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ جائے تو اس کے لیے ایک مکمل رات کا قیام شمار کیا جائےگا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، ← واقد بن سليمان ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14818

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يزيد بن حمير عن عوف بن مالك · حديث 14819

112 - حدثنا أبو عوانة يعقوب بن إسحاق النيسابوري ثنا حطية بن بقية بن الوليد حدثني أبي عن زيد بن واقد عن بسربن عبيد الله عن يزيد بن حمير قال : سمعت عوف بن مالك يقول Y سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( القصاص ثلاثة أمير أو مأمور أو مختال )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تاریخی واقعات صرف تین آدمی بیان کرتے ہیں‘ امیر یا امیر کا مقررہ کردہ یا تکبر کرنے والا ۔

الْقِصَاصُ ثَلَاثَةٌ: أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← يزيد بن حمير ← بسربن عبيد الله ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← أَبِي ← حطية بن بقية بن الوليد ← أَبُو عَوَانَةَ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ النَّيْسَابُورِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14819

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عاصم بن حميد عن عوف بن مالك · حديث 14820

113 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن عمرو بن قيس الكندي أنه سمع عاصم بن حميد يقول سمعت عوف بن مالك يقول Y قمت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فبدأ فاستاك ثم توضأ ثم قام فصلى فقمت معه فبدأ فاستفتح من البقرة لا يمر بآية رحمة إلا وقت فسأل ولا يمر بآية عذاب إلا وقف بتعوذ ثم ركع فمكث راكعا بقدر قيامه يقول في ركوعه : ( سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة ) ثم قرأ آل عمران ثم سورة سورة يفعل مثل ذلك

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک سے ابتداء کی پھر وضو کیا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ‘پس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہو گیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ بقرہ سے آغاز فرمایا ‘جس بھی رحمت والی آیت سے گزرتے تو کھڑے ہو کر دعا کرتے عذاب والی آیت پڑھتے تو وہاں ٹھہر کر اللہ کی پناہ مانگتے ‘پھر رکوع کیا اور رکوع میں اتنی مقدار ٹھہرے جتنا قیام میں ٹھہرے ‘رکوع میں پڑھا: ’’سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة “پھرسورۂ آل عمران پڑھی پھر اسی طرح ایک ایک سورت پڑھتے رہے۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← عَاصِمَ بْنَ حُمَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ: ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14820

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ذو كلاع عن عوف بن مالك · حديث 14821

114 - حدثنا محمد بن إسحاق بن راهوية حدثني أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ثنا محمد بن المثنى قالا ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا معاوية بن صالح عن أزهر بن سعيد الكلاعي عن ذي كلاع عن عوف بن مالك قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( القصاص ثلاثة أمير أو مأمور أو مختال )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تاریخی واقعات صرف تین آدمی بیان کرتے ہیں ‘امیر یا امیر کا مقررہ کردہ یا تکبر کرنے والا ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ذِي كَلَاعٍ ← أزهر بن سعيد الكلاعي ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← وحدثنا محمد بن صالح بن الوليد النرسي ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14821

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ مسلم بن قرظة الأشعري عن عوف بن مالك · حديث 14822

115 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح أن ربيعة بن يزيد حدثه عن مسلم بن قرظة الأشعري عن عوف بن مالك الأشجعي قال Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( خياركم وخيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشراركم وشرار أئمتكم الذي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم ) قالوا أفلا ننابذهم يا رسول الله ؟ قال : ( لا ما أقاموا الصلاة الخمس إلا من وليه وال فرآه يأتي شيئا من معصية الله فليكره ما أتى من معصية الله ألا ولا تنزعوا يدا من طاعة )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر اور تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہیں‘ وہ تمہارے لیے رحمت مانگتے ہیں اور تم ان کیلئے رحمت مانگتے ہو اور تم میں سے بُرے اور تمہارے حکمرانوں میں سے بُرے وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں‘ تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں ۔لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! فرمایا نہیں! جب تک وہ پانچ نمازیں قائم کریں مگر وہ آدمی جو والی بنا‘پس وہ اللہ کی نافرمانی ہوتے ہوئے دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ناپسند کرے جو اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے ‘خبردار! اطاعت سےہاتھ کومت کھینچو ( یا روکو ) ۔

عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← مسلم بن قرظة الأشعري ← معاوية بن صالح أن ربيعة بن يزيد ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14822

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ مسلم بن قرظة الأشعري عن عوف بن مالك · حديث 14823

116 - حدثنا موسى بن هارون ثنا إسحاق بن راهوية أنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يزيد بن يزيد عن جابر عن زريق بن حيان عن مسلم بن قرظة عن عوف بن مالك Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ( خيار أئمتكم الذي تحبونهم ويحبونكم وتدعون الله لهم ويدعون الله لكم وشرار أئمتمكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم ) قيل يا رسول الله أفلا ننابذهم ؟ قال : ( لا ما أقاموا الصلاة فيكم ) فإذا رأيتم من واليكم شيئا تكرهونه فأكرهوا عمله ولا تنزعوا يدا من طاعة )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر اور تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہیں ‘وہ تمہارے لیے رحمت مانگتے ہیں اور تم ان کیلئے رحمت مانگتے ہو اور تم میں سے بُرے اور تمہارے حکمرانوں میں سے بُرے وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں ‘تم ان پر لعنت کرتے ہواور وہ تم پرلعنت کر تے ہیں ۔لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! فرمایا: نہیں ! جب تک وہ پانچ نمازیں قائم کریں مگر وہ آ دمی جو والی بنا، پس وہ اللہ کی نافرمانی ہوتے ہوئے دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ناپسند کرے جو اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے‘ خبردار! اطاعت سے ہاتھ کومت کھینچو(یا روکو)۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، ← زريق بن حيان ← جَابِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ يَزِيدَ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ رَاهُوَيْهِ ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14823

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ مسلم بن قرظة الأشعري عن عوف بن مالك · حديث 14824

117 - حدثنا محمد بن حاتم المروزي ثنا حبان بن موسى ثنا عبد الله بن المبارك ( ح ) وحدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر حدثني زريق مولى بني فزارة عن مسلم بن قرظة قال سمعت عوف بن مالك يقول Y قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم ) قلنا يا رسول الله أفلا ننابذهم عند ذلك ؟ قال : ( لا ما أقاموا الصلاة فيكم ومن ولي عليه وال فرأى منه شيئا من معصية الله فليكره ما يأتي من معصية الله ولا ينزع يدا من طاعة )

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر اور تمہارے اماموں میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو اور وہ تمہیں پسند کرتے ہیں ‘وہ تمہارے لیےرحمت مانگتے ہیں اور تم ان کیلئے رحمت مانگتے ہو اور تم میں سے بُرے اور تمہارے حکمرانوں میں سے بُرے وہ ہیں جن سے تم نفرت کرتے ہو اور وہ تم سے نفرت کرتے ہیں‘ تم ان پر لعنت کرتے ہو اور وہ تم پر لعنت کرتے ہیں ۔ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! فرمایا نہیں ! جب تک وہ پانچ نماز یں قائم کر یں مگر وہ آدمی جو والی بنا‘ پس وہ اللہ کی نافرمانی ہوتے ہوئے دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ناپسند کرے جو اللہ کی نافرمانی ہوئی ہے‘ خبردار! اطاعت سے ہاتھ کومت کھینچو ( یا روکو ) ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ، ← زريق مولى بني فزارة ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14824

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ أبو عبيد الله بن مشكم عن عوف · حديث 14825

118 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا أبو مسهر و محمد بن المبارك الصوري ( ح ) وحدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عثمان ( ح ) وحدثنا إدريس بن عبد الكريم الحداد ثنا الحكم بن موسى قالوا ثنا يحيى بن حمزة عن يزيد بن عبيدة حدثني أبو عبدي الله عن عوف بن مالك Y عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( الرؤيا ثلاثة منها تهاويل من الشيطان ليحزن ابن آدم ومنها ما يهم يه الرجل في يقظته فرآه في منامه ومنها جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة ) فقلت له أنت سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أنا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب تین طرح کے ہیں ‘شیطان کے ڈراوے تا کہ آدمی غمگین ہو‘ عالمِ بیداری میں بندہ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے تو عالم خواب میں اسی کو مشاہدہ کرتا ہے‘ وہ خواب جو نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک ہے۔ میں نے (یعنی ایک راوی نے ) ان سے عرض کی: آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو خود سنا؟ فرمایا: میں نے بذات خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أبو عبدي الله ← يَزِيدَ بْنِ عَبِيدَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← إِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ ← هشام بن عثمان ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ ← أبو مسهر و محمد بن المبارك الصوري ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14825

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ضمرة بن حبيب عن عوف بن مالك · حديث 14826

119 - حدثنا إبراهيم بن محمد بن عرق الحمصي ثنا سليمان بن سلمة الخبائري ثنا أبو حيوة شريح بن زيد حدثني أبو عدي أرطأة بن المنذر عن ضمرة بن حبيب عن عوف بن مالك قال Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا عوف أعدد ستا بين يدي الساعة أولهن موتي ثم التي تليها فتح بيت المقدس ثم الذي يليه منزل تنزله أمتي من الشام يفنهم فيه موتان كقعاص الغنم ثم التي تليها يفيض المال فيكم حتى يعطى الرجل مائة دجينار فيظل يسخطها ثم الذي يليها فتنة تقع فيكم لا يبقى بيت عربي إلا دخلته ثم التي تليها يصالحكم بنو الأصفر صلحا يجتمعون عند آخره ثمانين غاية تحت كل غاية أثنا عشر ألفا )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عوف! قیامت سے پہلے آنے والی چھ چیز یں گن لے‘ ان میں سے پہلی میرا وصال ہے پھر جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے ‘وہ بیت المقدس کی فتح ہے پھر اس کے ساتھ جو ملی ہو گی وہ ایک منزل ہے جس پر شام میں میری اُمت اُترے گی ‘اس میں ان کو بکریوں کی بیماری جیسی ایک وباء آ کرفنا کرے گی‘ پھر اس کے ساتھ جو ملی ہوئی ہے وہ یہ کہ تمہارے اندر مال زیادہ ہو جائے گا حتیٰ کہ ایک آدمی کو سو دینارملیں گے تو بھی وہ ناراض ہوگا ( کہ تھوڑے ملے ہیں ) پھر اس کے ساتھ ایک فتنہ ملا ہوا ہے ‘جو تمہارے اندر ہو گا جو عربی گھر میں داخل ہوگا‘ پھر اس کے ساتھ جو بات ملی ہوئی ہے وہ یہ کہ بنواصفر تم سے صلح کریں گے ‘ایسی صلح جس کے آخر میں وہ اسّی غایتیں اکٹھی کریں گے ( دھوکے سے ) ‘ہر غایت کے نیچے بارہ ہزار آدمی ہوں گے۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← ضَمْرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ← أَبُو عَدِيٍّ أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← أبو حيوة شريح بن زيد ← سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14826

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ شهر بن حوشب عن عوف بن مالك · حديث 14827

120 - حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ثنا محمد بن المبارك الصوري ثنا عمرو بن واقد عن يزيد بن أبي مالك عن شهر بن حوشب قال Y لما فتحت مصر سبوا أهل الشام فأخرج عوف بن مالك رأسه من ترس ثم قال : يا أهل مصر أنا عوف بن مالك لا تسبوا أهل الشام فإني مسعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( فيهم الأبدال وبهم تنصرون وبهم ترزقون )

حضرت شہر بن حوشب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مصر کو فتح کیا گیا تو انہوں نے شامیوں کو گالیاں دیں ‘پس حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے ڈھال سے سر نکال کر فرمایا: اے مصر والو! میں عوف بن مالک ہوں ‘شامیوں کو گالی نہ دو کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ان میں ابدال ہیں ‘ان کے صدقے تمہاری مدد کی جاتی ہے اور تمہیں رزق دیا جا تا ہے ۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ ← عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ، ← أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14827

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ يحيى بن أبي عمرو السيباني عن عوف · حديث 14828

121 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي ثنا هشام بن عمار ثنا محمد بن حمير ثنا إبراهيم بن أبي عبلة عن يحيى بن ابي عمرو الشيباني عن عوف بن مالك Y أنه دخل المسجد متوكئا على ذي كلاع و كعب يقص على الناس فقال عوف لذي كلاع ألا تنه ابن أخيك هذا عما يفعل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( لا يقص علىالناس إلا أمير أو مأمور أو مختال )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اس حال میں کہ وہ ذی کلاغ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے‘ آگے کعب لوگوں کے سامنے قصے بیان کر رہے تھے تو حضرت عوف نے حضرت ذی کلاع سے فرمایا: اے میرے بھائی کے بیٹے! کیا میں نے اس کو اس کام سے منع نہیں کیا تھا جو وہ کر رہا ہے‘کیونکہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: لوگوں پر قصے امیر ‘مامور یا متکبر آ دمی بیان کرے گا۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14828

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبد الله بن الديلم عن عوف بن مالك · حديث 14829

122 - حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زريق الحمصي ثنا جدي إبراهيم بن العلاء ثنا بقية بن الوليد حدثني عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان عن أبيه أنه سمع عبد الله بن الديلم يقول : حدثني عوف بن مالك قال Y رحت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك وهو في قبة فسمع ركز رجلي فقال : ( من هذا ؟ ) قلت عوف بن مالك فقال : ( ادخل يا عوف ) فقلت أكلي يا رسول الله ؟ فقال : ( نعم ) فدخلت فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ وضوءا مكيئا فقال : ( يا عوف ست بين يدي الساعة ما تعدون ؟ أولهن موت نبيكم صلى الله عليه و سلم قل احدى ) قلت احدى فوجمت عند ذلك وجمة شديدة ثم قال : ( فتح إيليا قل اثنتين ) قلت اثنتين ( ثم يفيض فيكم المال حتى يعطى الرجل مائة دينار فيسخطها قل ثلاثا ) فقلت ثلاثا ( ثم موتان يرسل عليكم كقعاص الغنم قل أربعا ) قلت أربعا ( ثم فتنة تخرج من بينكم لا تكاد تدع بيتا من المسلمين إلا دخلته قل خمسا ) قلت خمسا ( ثم هدنة تكون بينكم وبين الروم يغدرون في آخرها فيجتمعون لكم حمل امرأة فيأتونكم في ثمانين غاية تحت كل غاية ثمانون ألفا )

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں میری حاضری ہوئی جبکہ آپ ایک قبّہ میں تھے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جوتیوں کی آہٹ سن لی ‘فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کی: عوف بن مالک ۔ فرمایا: اے عوف! آ جائیں۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! مکمل؟ فرمایا: ہاں ۔ پس میں حاضر خدمت ہوا ‘اچا نک میری نگاہ پڑی تو آپ خوبصورت وضو فرما رہے تھے ‘فرمایا: اے عوف! قیامت سے پہلے چھ چیز یں ہوں گی ‘جن کو تم شمار کر سکتے ہو ‘ان میں سے پہلی تمہارے نبی کا وصال ہے ‘تو کہہ! ایک ۔ میں نے کہا: ایک ۔ پس اس پر میں اُداس ہو کر سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔ پھر فرمایا: ایلیاء کی فتح کہہ! دو۔ میں نے کہا: دو۔ فرمایا: پھر تمہارے اندر مال کی فراوانی ہو گی حتی ٰ کہ ایک آدمی کو سود ینار دیئے جائیں گے لیکن وہ پھر بھی ناراض ہو گا۔ فرمایا: کہو! تین۔ میں نے کہا: تین۔ فرمایا: پھر ایک وباء ( بیماری) ہے جو تم پر بھیجی جائےگی جیسے بکریوں کی بیماری ہوتی ہے(فرمایا:)کہہ! چار۔ میں نے کہا: چار۔ فرمایا: پھر ایک فتنہ ہو گا جو تمہارے اندر سے نکلے گا جو مسلمانوں کے گھروں میں سے ہر گھر میں داخل ہو جائےگا‘ کہہ! پانچ۔ میں نے کہا: پانچ ۔فرمایا:پھر تمہارے اور رومیوں کے درمیان ایک جنگ ہوگی جس کے آخر میں وہ دھوکہ کریں گے‘ پس وہ تمہارے لیے ایک عورت کا بوجھ اکٹھا کریں گے اور تمہارے پاس اسّی جھنڈوں میں آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے اسّی ہزار آدمی ہوں گے۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← محمد بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء بن زريق الحمصي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14829

chevron_left Previous
1…101112…55
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter