المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ كثير بن مرة الحضرمي عن عوف بن مالك · حديث 14806
99 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا أبو عاصم عن عبد الحميد بن جعفر عن جعفر عن صالح بن أبي عريب عن كثير بن مرة عن عوف بن مالك أن Y النبي صلى الله عليه و سلم دخل المسجد وبيده عصا فرأى افناء معلقة فطعن في قنو منها فإذا فيه حشف فقال : ( من صاحب هذا ؟ لو تصدق بأطيب منه إن صاحب هذا ليأكل الحشف يوم القيامة ) ثم قال : ( يا أهل المدينة لتدعنها للعوافي أربعين عاما ) قيل وما العوافي ؟ قال : ( الطير والسباع )
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئےاس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں عصا مبارک تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لٹکے ہوئے خوشے دیکھے ‘ان میں سے ایک کو مارا‘ اس میں خشک خراب کھجور یں تھیں ۔ فرمایا: اس کا مالک کون ہے؟ کاش! وہ اس سے اچھی کھجوریں صدقہ کرنا ‘بے شک اس کا مالک قیامت کے دن خراب سوکھی ہوئی کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھرفرمایا: اے مدینہ والو! تم چالیس سال اس کو عوافی کیلئے چھوڑ دو گے۔عرض کی :عوافی سے کیا مراد ہے؟.فرمایا: پرندے اوردرندے۔
عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ، ← جَعْفَرٌ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 14806
