المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ ومن روى عن أم سلمة من أهل مصر أبو قيس مولى عمرو بن العاص عن أم سلمة · حديث 19739
789 - حدثنا بكر بن سهل ثنا عبد الله بن صالح ثنا موسى بن علي بن رباح اللخمي عن أبيه عن أبي قيس Y أن عبد الله بن عمرو بن العاص أرسله إلى أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم يسألها : هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل وهو صائم ؟ فإن قالت لا فقل لها أن عائشة تحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقبل وهو صائم قال أبو قيس : فجئتها فقالت : أحر أم مملوك ؟ فقلت : بل مملوك فقالت : ادنه فدنوت فقلت : إن عبد الله بن عمرو أرسلني إليك لأسألك هل كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل وهو صائم ؟ فقالت : لا فقلت : إن عائشة تحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقبل وهو صائم فقالت : لعله أنه كان لم يك يتمالك لها حبا
حضرت ابو قیس سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ کے پاس ان کو بھیجا تاکہ وہ ان سے دریافت کریں کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے تھے؟ پس اگر وہ فرمائیں کہ نہیں ! تو کہنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس کو بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے۔ حضرت ابو قیس فرماتے ہیں: پس میں آیا ' تو انہوں نے فرمایا: کیا تو آزاد ہے یا غلام؟ میں نے عرض کی: غلام۔ فرمایا : میرے قریب ہو جا۔ پس میں قریب ہوا تو میں نے عرض کی: حضرت عبداللہ بن عمرو نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے؟ فرمایا: نہیں! میں نے عرض کی: بے شک حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حدیث بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ فرمایا ممکن ہے کہ وہ ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے قابو نہ رکھ سکتے ہوں۔
أَبِيهِ ← موسى بن علي بن رباحٍ اللخمي، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ
Hadith 19739
