المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أم سلمة · حديث 19535
585 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم ثنا عبد الرزاق أنا ابن جريج أخبرني حبيب بن أبي ثابت أن عبد المجيد بن عبد الله بن أبي عمرو و القاسم بن محمد بن عبد الرحمن أخبراه أنهما سمعا أبا بكر بن عبد الرحمن يخبر أن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أخبرته Y أنها لما قدمت المدينة أخبرتهم أنها بنت أمية بن المغيرة فكذبوها ويقولون ما أكذب الغرائب حتى أنشأ ناس منهم إلى الحج فقالوا : أتكتبين إلى أهلك فكتبت معهم فرجعوا إلى المدينة يصدقونها وازدادت عليهم كرامة قالت : فلما وضعت زينب جاءني النبي صلى الله عليه و سلم فخطبني فقلت : ما مثلي تنكح أما أنا فلا ولد في وأنا غيور ذات عيال قال : ( أنا أكبر منك وأما الغيرة فيذهبها الله وأما العيال فإلى الله ورسوله ) فتزوجها فجعل يأتيها فيقول : ( أين زناب ؟ ) حتى جاء عمار بن ياسر يوما فاختلجها وقال : هذه تمنع رسول الله صلى الله عليه و سلم وكانت ترضعها فجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( أين زناب ؟ ) قالت قريبة بنت أبي أمية ووافقها عندها أخذها عمار بن ياسر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أنا آتيكم الليلة ) قالت : فقمت فوضعت ثفالي وأخرت حبات من شعير كانت في جر وأخرجت شحما فعصدته له قالت : فبات النبي صلى الله عليه و سلم ثم أصبح فقال حين أصبح ( إن بك على أهلك كرامة فإن شئت سبعت وإن أسبع أسبع لنسائي )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ جب وہ مدینہ آئیں تو لوگوں کو بتایا کہ وہ امیہ بنت مغیرہ کی بیٹی ہیں' لوگوں نے جھٹلایا اور کہنے لگے: کتنا عجیب و غریب جھوٹ ہے حتیٰ کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے حج کی تیاری کی تو کہا: اپنے اہل کو کوئی لکھ کر دینا ہے (تو دے دو)۔ پس ان کو خط لکھ کر دیا۔ وہ مدینہ کی طرف لوٹ کر آئے تو انہوں نے ان کی تصدیق کی اور لوگوں کے سامنے ان کی عزت بڑھ گئی۔ فرماتی ہیں: پس جب (میری بیٹی) زینب پیدا ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا: کیا میرے جیسی عورت سے بھی نکاح کیا جائے گا؟ ایک تو اب مجھے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے' دوسرا بال بچوں والی ' غیرت مند (جوشیلی) عورت ہوں۔ فرمایا: میں تجھ سے بڑا ہوں' بہر حال غیرت تو اللہ ختم کر دے گا لیکن عیال' اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہوں گے۔ پس اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو فرماتے : زناب کہا ہے؟ (ام سلمہ کی بیٹی حضرت زینب سے مراد ہے) حتیٰ کہ حضرت عمار بن یاسر آئے اور اس کے لے لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے رکاوٹ ہے حالانکہ وہ دودھ پلانے والی تھی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے' فرمایا: زناب کہاں ہے؟ عرض کی: امیہ کی بیٹی قریبہ موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس ٹھہر کر ان سے موافقت کی۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو لے لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں رات کو تمہارے پاس آؤں گا۔ فرماتی ہیں: میں اٹھی اور نیچے کپڑا (یاچمڑا) بچھایا' گھڑے سے کچھ جو نکالے' ادھر سے چربی لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلوہ بنایا۔ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (ان کے پاس) رات گزاری پھر صبح کی' جب صبح کی تو فرمایا: بے شک تیرے گھر والے (میرے) کے نزدیک تیری بڑی عزت ہے' پس اگر تو چاہے تو میں سات دن مقرر کر دوں اور اگر (تیرے لیے) سات دن مقرر کروں گا تو دوسری بیویوں کے لیے بھی سات دن مقرر کروں گا۔
حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19535
