المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ عمرة بنت عبد الرحمن عن أم سلمة · حديث 19798
848 - حدثنا عبد الملك بن يحيى بن بكير ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن يونس بن يزيد عن الزهري عن عمرة بنت عبد الرحمن عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت Y كان بحجرة رسول الله صلى الله عليه و سلم صياح فخرح في رداء متوشحا فقال : ( ما هؤلاء ؟ ) قالوا : يختصمون يا رسول الله فقضى بينهم نبي الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( إني لأقضي بينكم ولعل أحدكم أن يكون أبلغ من أخيه في الكلام فأقضي له بما أستبين فمن قضيت له شيئا ليس له فإنما أعطيه حلسة من النار )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضر ت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے کے پاس شور تھا' پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھولدار چادر میں اسے سمیٹتے ہوئے نکلے' فرمایا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! جھگڑ رہے ہیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ کیا۔ پھر فرمایا: میں تمہارے درمیان فیصلہ کروں اور ممکن ہے تم میں سے کوئی ایک کلام کرنے میں اپنے بھائی سے زیادہ بلیغ ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ کر دوں جو میرے سامنے ظاہر ہو( کیونکہ شریعت کا حکم ظاہر پر ہوتا ہے) پس اگر میں نے کسی کے لیے غیر کی چیز کا فیصلہ کر دیا تو وہ یوں سمجھے کہ اس نے دوزخ کی گرمی حاصل کی۔
أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ
Hadith 19798
