Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 19247

296 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عقبة بن مكرم الضبي ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن عائشة قالت Y قدمنا مهاجرين فسلكنا في ثنية صعبة فنفر بي جمل كنت عليه قويا منكرا فوالله ما أنسى قول أمي : يا عريسة فركبت في رأسه فسمعت قائلا يقول : والله ما أراه ألقي خطامه فألقيته فقام يستدير كأنما إنسان قائم تحته يمسكه

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم ہجرت کرتے ہوئے آئے ، پس ہم ثنیہ صعبہ والا راستہ چلے ، پس مجھے لے کر اونٹ بھاگا جس پر میں سوار تھی ، وہ طاقتور اور بگڑا ہوا تھا قسم بخدا ! میں اپنی والدہ کی بات نہیں بھولی ( جو انہوں نے کی: ) اے عریسہ ! پس میں اس کے سر پر سوار ہوئی۔ پس میں نے ایک کہنے والے کو سنا ، وہ کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم میرا خیال ہے کہ اس کہ مہار ڈال دی گئی ہے ۔ پس میں نے اسے پھینک دیا ، پس وہ گھومنے لگا گویا اس کے نیچے کھڑا ہونے والا ایک انسان ہے جو اسے روک رہا ہے ۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عقبة بن مكرم الضبي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19247

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 19248

297 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثنا عبد الله بن محمد بن سالم القزاز ثنا إبراهيم بن يوسف بن أبي إسحاق عن أبيه عن أبي إسحاق عن البراء بن عازب قال Y دخلت مع أبي بكر أول ما قدم المدينة فإذا عائشة مضطجعة قد أخذتها الحمى فأتاها أبو بكر فقال : كيف أنت يا بنية وقبل خدها

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ میں سب سے پہلے آیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور آپ کو بخار تھا، حضرت ابو بکر آپ کے پاس آئے اور فرمایا : اے میری بیٹی ! تم کیسی ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ان ( یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے رخسار کو چوما ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← عبد الله بن محمد بن سالم القزاز ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19248

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 19249

298 - حدثنا عبد الله بن علي بن الجارود النيسابوري ثنا محمد بن يحيى النيسابوري ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح بن كيسان عن الزهري عن القاسم بن محمد قال قال معاوية Y والله ما رأيت خطيبا قط أبلغ ولا أفطن من عائشة رضي الله عنها

حضرت امیر معاویہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑا خطیب ، فصاحت اور فطانت کے لحاظ سے کسی کو نہیں دیکھا۔

معاوية والله ما رأيت خطيبا قط أبلغ ولا أفطن من عائشة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ← عبد الله بن علي بن الجارود النيسابوري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19249

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 19250

299 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال وجدت في كتاب أبي ثنا إبراهيم بن خالد قال حدثني رباح بن زيد قال معمر عن الزهري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( لو جمع علم نساء هذه الأمة فيهن أزواج النبي صلى الله عليه و سلم كان علم عائشة أكثر من علمهن )

حضرت زہری فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : اس امت کی ساری عورتیں ، ان میں ازواج رسول بھی شامل ہیں ، اکٹھی کر لی جائیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا علم سب سے زیادہ ہوگا۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ← وجدت في كتاب أبي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19250

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب خطبة عائشة رضي الله عنها · حديث 19251

300 - حدثنا عبد الله بن محمد بن عمران الأصبهاني ثنا موسى بن عبد الرحمن بن مهدي ثنا علي بن أحمد السدوسي عن أبيه قال Y بلغ عائشة أن ناسا ينالون من أبي بكر فأرسلت إلى أزفلة منهم وسدلت أستارها وعذلت وقرعت وقالت : أبي وما أبيه أبي لا تعطوه الأيدي هيهات والله ذلك طود منيف وظل مديد أنجح والله إذا كذبتم وسبق إذ ونيتم سبق الجواد إذ استولى على الأمد فتى قريش ناشئا وكهفا كهلا يفك عانيها ويريش مملقها وتراب صدعها ويلم شعثها حتى حليته قلوبها ثم استشرى في دينه فما برحت شكيمته في ذات الله حتى اتخذ بفنائه مسجدا يحيي فيه ما أمات المبطلون وكان رحمة الله عليه غزير الدمعة وقيد الجوانح شجي النشيج فاصطففت إليه نسوان مكة وولدانها يسخرون منه ويستهزئون به { الله يستهزئ بهم ويمدهم في طغيانهم يعمهون } فأكثرت ذلك رجالات قريش فحنت قسيها وفوقت سهامها واقثلوه عرضا فما فلوا له صفاة ولا قصفوا له قناة ومر على سيسائه حتى إذ ضرب الدين بحرابه وألقى بركه ورست أوتاده ودخل الناس فيه أفواجا ومن كل فرقة أرسالا وأشتاتا اختار الله لنبيه ما عنده فلما قبضه الله عز و جل ضرب الشيطان رواقه ونصب حبائله ومد طنبه وأجلب بخيله ورجله فاضطرب حبل الإسلام ومرج عهده وماج أهله وعاد مبرمه أنكاثا وبغى الغوائل وظنت الرجال أن قد أكثبت أطماعهم ولات حين التي يرجعون والصديق بين أظهرهم فقام حاسرا مشمرا فرفع حاشيته وجمع قطرته فرد نشر الإسلام على عزة ولم شعثه بطيه وأقام أوده بنفاثه فانذعر النفاق بوطأته وانتاش الدين بنعشه فلما أراح الحق على أهله وأقر الرؤوس على كواهلها وحقن الدماء في أهبها حضرت منيته فسد ثلمته بشقيقه في المرحمة ونظيره في السيرة والمعدلة ذاك ابن الخطاب لله أم حملت به ودرت عليه لقد أوحدت به قبيح الكفرة وذيخها وشرد الشرك شذر مذر ونعج الأرض ونخها فقاءت أكلها ولفظت خبيثها برأسه وتصدق عنها وتصدى له وتأباها ثم ورع فيها ثم تركها كما صحبها فأروني ما تقولون ؟ وأي يومي أبي تنقمون أيوم إقامته إذ عدل فيكم أو يوم ظعنه إذ نظر لكم أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم

حضرت احمد سدوی فرماتے ہیں : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتا چلا کہ کچھ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازیبا باتیں کرتے ہیں ، پس ان کی ایک جماعت کی طرف سے پیغام بھیجا ، پردہ لٹکا دیا، ملامت کی، مکان کو خالی چھوڑ دیا ، اور کہا : میرے والد گرامی ۔ میرے والد گرامی کی کیا بات ہے ؟ تم ان پر احسانات کرنے والے نہیں ہو ، بخدا ! وہ ایک بلند پہاڑ " یعنی صاحب عزم و ہمت اور پھیلنے والے سایہ تھے ، بخدا ! وہ کامیاب ہوئے جب تم نے جھٹلایا اور وہ سبقت لے گئے جب تم نے سستی کی : جواد ( سخی آدمی ) سبقت لے گیا ، جب وہ آخر تک والی بنے وہ قریش کے جوان مرد ہیں ، ترقی کرنے والے ، لوگوں کیلئے پناہ گاہ اور پختہ عمر والے ہیں ، وہ قیدیوں کو آزاد کرتے ہیں ، غریب کے احوال درست کرتے ہیں، دراڑ یا شگاف کو بھرے والے ہیں ، یعنی امت میں باہم صلح کرواتے ہیں ، بگڑی بنانے والے ہیں حتیٰ کہ ان کا زیور ( زیب و زینت اور سجاوٹ ) امت کے دل ہیں ، انہوں نے دین میں کوشش شروع کی ، پس وہ اللہ کی ذات کے حوالے سے غیرت مند بن کر رہے ، کبھی نہیں جھکے یہاں تک کہ انہوں نے اپنے صحن میں ایک مسجد بنائی ، اسی میں راتوں کو زندہ کرتے ( جاگتے ) جب تک باطل کی پوجا کرنے والے مر نہیں گئے ، اور وہ ( اللہ ان پر رحم فرمائے ) مسلسل آنسو بہانے والے تھے ، روشن دل والے، جو کوئی ان کا قرآن پڑھتا سنتا تو رنجیدہ ہو جاتا ، مکہ کی عورتیں اور بچے ان کے پاس اکٹھے ہو کر مسخرہ پن اور استہزاء کرتے " ( اللہ فرماتا ہے : ) اللہ انہیں ان کے استہزاء کی سزا دیتا ہے ان اور ان کی سر کشی میں ان کو ڈھیل دیتا ہے اور وہ ٹامک ٹوئیاں کھاتے ہیں "۔ پس قریشی لوگوں نے یہ کام کثرت سے کیا ، انہوں نے اپنی کمانوں کو موڑا، ان کے تیروں کو سیدھا کر کے ان کو نشانہ بنایا ، پس وہ ان کو کمزور نہ کر سکے یعنی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے ،، ان کے خیمے کی لکڑی نہیں توڑ سکے ، وہ حق پر چلتے رہے ( ان کی کمر ٹیڑھی نہیں ہوئی ) حتیٰ کہ جب دین ثابت اور مضبوط ہو گیا، اس نے اپنی کوڑی رکھ دی اپنے کیل گاڑ دیے ۔ لوگ گروہ در گروہ اس میں داخل ہونے لگے ، ہر گروہ سے قاصد وقتا فوقتاً آنے لگے ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کیلئے وہ پسند کیا جو اس کے پاس تھا ، پس جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا، جب شیطان نے ڈیرے ڈال دیئے ( خیمے لگا لیے ) اور پھندے نصب کر لیے ، طنابوں کو کھینچ دیا ( لمبا کیا ) اپنے گھوڑوں اور مردوں کو کام پر لگا دیا، اسلام کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ، عہد اسلام بگاڑ کا شکار ہو گیا ، اہل اسلام اس میں پڑنے لگے ، اس کا اتحاد پارہ پارہ ہونے لگا، سر کشی کرنے والوں نے بغاوت کر دی ۔ لوگ گمان کرنے لگے کہ ان کی خواہشیں سامنے آ گئی ہیں اور وہ گھڑی قریب ہے جب لوگ واپس لوٹیں گے ( اسلام چھوڑ دیں گے ) جبکہ حضرت صدیق ان کے درمیان تھے ، پس وہ اٹھ کھڑے ہوئے اس حال میں کہ ( لوگوں پر ) افسوس کرنے والے اور ( حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے مکمل ) تیار تھے ۔ آپ نے اسلام کا حاشیہ ( کنارا ) بلند کیا ( یا جمع کیا ) یعنی مسلمانوں کا شیرزاہ بکھرنے نہیں دیا اور اس کے دونوں کناروں کو ملا دیا، اسلام کے بکھرنے کو ایک روشنی پر لوٹا دیا ، آپ کے صدقے اللہ نے مسلمانوں کی بگڑی بنا دی ، اس ( اسلام ) میں آ جانے والی کجی کو سیدھا کر کے رفع کیا، ان کے حملہ سے عالم نفاق مرعوب ہو گیا ( بلکہ مایوس ہوا ) ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دین کو گڑھوں میں سے نکالا ، اس کو چھڑایا ) اور اس کو کھڑا کیا) جب حق والوں کو حق مل گیا ، سر اپنے کندھوں پر قائم و دائم ہو گئے ، خون اپنی جگہ محفوظ ہو گئے ، آپ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آ گیا، اس کے شگاف بند ہو گئے ، زخموں پر مرہم لگ ادی ، ان کی سیرت اور عدل میں ان کی مثال حضرت ابن خطاب رضی اللہ عنہ تھے ، ان کی ماں کو اللہ برکت دے جو ان کے ساتھ حاملہ ہوئیں ، ( جن کے پیٹ میں وہ آئے ) ان کو دودھ پلا کر پروان چڑھایا۔ حقیقت میں اس نے ایک ایسا بچہ جنا جو زمانے میں یکہ و تنہا ہے ، اس کی مثال نہیں ملتی ، جس سے بڑے بڑے کافروں کی قباحت اور تکبر ، خاک میں مل گیا ، شرک تتر بتر ہو گیا ، زمین کو ( شرک کی پلیدیوں سے ) پاک اور صاف کر دیا ، زمین نے کھائی ہوئی چیزیں اگل دیں اور ہر خبیث چیز ساری کی ساری باہر پھینک دی، اس پر صدقات و خیرات کا نظام جاری کیا۔ پیش آمدہ مشکلات کا سامنا کیا، زمین کو نافرمانیوں سے پاک کیا، پھر اس پرہیز گاری کی مثالیں قائم کیں، پھر جس طرح اس کو پکڑا تھا ، ایسے ہی چھوڑا پس تم مجھے بتاؤ کہ تم کیا کہتے ہیں ؟ تم میرے والد گرامی سے کس دن کا انتقام لیتے ہو ؟ کیا اس دن کا جس دن اس نے دین کو دوبارہ قائم کیا ، جب تم میں عدل کی فضا قائم کی ، یا جس دن وہ رخصت ہونے لگے تو غور و فکر کر کے تمہارے لیے انتخاب کیا۔ پس بس یہی بات کہوں گی ، اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے استغفار کرتی ہوں ۔

بلغ عائشة ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ السَّدُوسِيِّ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19251

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19252

301 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار قال Y فولد عمر عبد الله بن عمر و أخته لأبيه و أمه حفصة بنت عمر زوج النبي صلى الله عليه و سلم و عبد الرحمن الأكبر و أمهم زينب بنت مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح كانت من المهاجرات وكانت قبل النبي صلى الله عليه و سلم عند خنيس بن حذافة السهمي وشهد بدرا أبوها و عمها زيد وشهد بدرا أخوالها عثمان و قدامة و عبد الله بن خالها والسائب بن عثمان

حضرت زبیر بن بکار فرماتے ہیں : پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی ان کے باپ اور ماں کی طرف سے بہن حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی زوجہ محترمہ کی ولادت ہوئی ، اور حضرت عبدالرحمن اکبر پیدا ہوئے ، ان سب کی ماں کا نام حضرت زینب بنت مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمع ہے ۔ ان کا تعلق ہجرت کرنے والی عورتوں سے ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی زوجیت میں آنے سے پہلے خنیس بن حذافہ سہمی کے پاس تھیں، بدر میں ان کے والد گرامی ، ان کے چچا حضرت زید حاضر ہوئے نیز ان کے ماموں حضرت عثمان قدامہ ، ان کے خالو کے بیٹے عبداللہ اور سائب بن عثمان بھی حاضر تھے ۔

الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19252

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19253

302 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا عبد الرزاق أنا معمر ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين ( ح ) وحدثنا عبيد الله العمري حدثنا أحمد بن محمد السالمي ثنا أبو بكر بن أبي أوس الأعمش عن سليمان بن بلال عن محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة ( ح ) وحدثنا أحمد بن طاهر بن حرملة بن يحيى قال ثنا جدي إدريس بن يحيى الخولاني عن حيوة بن شريح عن عقيل ( ح ) وحدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا الحسن بن علي الحلواني ثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ثنا أبي عن صالح بن كيسان ( ح ) وحدثنا العباس بن محمد المجاشعي ثنا محمد بن أبي يعقوب الكرماني ثنا حسان بن إبراهيم عن يونس بن يزيد كلهم عن الزهري عن سالم عن أبيه عن عمر قال Y تأيمت حفصة من خنيس بن حذافة السهمي وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم شهد بدرا فتوفي بالمدينة فلقيت أبا بكر فعرضتها فسكت عني فدخلني من ذلك ما دخلني فلما تزوجها رسول الله صلى الله عليه و سلم قلت له : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ذكرها فمن أجل ذلك سكت واللفظ لحديث موسى بن عقبة و ابن أبي عتيق

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت حفصہ ، حضرت خنیس بن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں، ان کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے صحابہ سے تھا، بدر میں حاضر ہوئے ، مدینہ میں ان کا وصال ہوا، پس میں حضرت ابو بکر سے ملا، پس میں نے حضرت حفصۃ رضی اللہ عنہا کو ان پر پیش کیا، پس وہ خاموش رہے ، اس دن مجھے جو ناگواری ہوئی، وہ ہوئی ، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا تو میں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا : جو رویہ آپ نے اختیار کیا ، اس پر آپ کو کس چیز نے ابھارا ؟ فرمایا : بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کا ذکر کر چکے تھے ، پس اسی وجہ سے میں خاموش رہا۔ یہ الفاظ حضرت موسیٰ بن عقبہ اور ابن ابو عتیق کے ہیں ۔ ( نوٹ : اس حدیث کی امام طبرانی نے چھ سندیں ذکر کی ہیں ) ۔

عُمَرَ، ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← يونس بن يزيد كلهم ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ← عَقِیلٍ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← جدي إدريس بن يحيى الخولاني ← أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، ← محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أبو بكر بن أبي أوس الأعمش ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ السَّالِمِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19253

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19254

303 - حدثنا أبو عاصم الصوري محمد بن إبراهيم ثنا سليمان بن عبد الرحمن ثنا إسماعيل بن عياش عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر Y أن جارية لحفصة زوج النبي صلى الله عليه و سلم سحرتها فاعترفت به على نفسها فأمرت حفصة عبد الرحمن بن زيد فقتلها فأنكر ذلك عليها عثمان فأتاه عبد الله فقال : إنها سحرتها واعترفت به وكان عثمان أنكر عليها ما فعلت دون السلطان

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ کی لونڈی نے ان پر جادو کیا، خود اس نے اپنے اوپر اعتراف کیا، حضرت حفصہ نے حضرت عبدالرحمن بن زید کو حکم دیا تو اس کو قتل کیا گیا، حضرت عثمان نے اس پر اعتراض کیا، حضرت عبداللہ آپ کے پاس آئے حضرت عثمان سے عرض کی : اس نے جادو کیا اور اعتراف کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر اعتراض کیا کہ بادشاہ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا ہے ۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو عاصم الصوري محمد بن إبراهيم

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19254

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19255

304 - حدثنا عمرو بن أبي الطاهر بن السرح المصري ثنا يوسف بن عدي ثنا يحيى بن أبي زكريا بن أبي زائدة عن صالح بن صالح عن سلمة بن كهيل عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن عمر قال Y طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حفصة ثم راجعها

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر رجوع فرمایا ۔

طلق رسول الله صلى الله عليه و سلم حفصة ثم راجعها ← عُمَرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ ← يحيى بن أبي زكريا بن أبي زائدة ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19255

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19256

305 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن عبد الله بن نمير ثنا يونس بن بكير ثنا الأعمش عن أبي صالح عن ابن عمر قال Y دخل عمر على حفصة وهي تبكي فقال : ما يبكيك ؟ لعل رسول الله صلى الله عليه و سلم طلقك إن النبي صلى الله عليه و سلم طلقك وراجعك من أجلي والله لئن كان طلقك لا أكلمك كلمة أبدا

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اس حال میں کہ آپ روہ رہی تھیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ ہو سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے تمہیں طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے تمہیں طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا اور میری وجہ سے رجوع کر لیا، اللہ کی قسم ! اگر تمہیں طلاق دے دی ہو تی تو میں تم سے کبھی گفتگو نہ کرتا۔

دَخَلَ عُمَرُ عَلَى حَفْصَةَ وَهِيَ تَبْكِي، ← ابْنِ عُمَرَ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19256

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19257

306 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا المنذر بن الوليد الجارودي ثنا أبي ثنا الحسن بن أبي جعفر عن عاصم عن زر عن عمار بن ياسر قال Y أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يطلق حفصة فجاء جبريل فقال : لا تطلقها فإنها صوامة قوامة وإنها زوجتك في الجنة

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی بارگاہ میں تشریف لائے آپ ان کو طلاق نہ دیں کیونکہ یہ ہمیشہ روزہ رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہیں اور جنت میں آپ کی زوجہ پاک ہیں ۔

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← أَبِي ← المنذر بن الوليد الجارودي ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19257

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ حفصة بنت عمر بن الخطاب رضي الله عنها من أخبارها · حديث 19258

307 - حدثنا أحمد بن طاهر بن حرملة بن يحيى ثنا ابن وهب حدثني عمرو بن صالح الحضرمي عن موسى بن علي بن رباح عن أبيه عن عقبة بن عامر الجهني Y أن النبي صلى الله عليه و سلم طلق حفصة فبلغ ذلك عمر بن الخطاب فوضع التراب على رأسه فقال : ما يعبأ الله بك يا ابن الخطاب بعدها فنزل جبريل على النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن الله يأمرك أن تراجع حفصة رحمة لعمر

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا ، یہ بات حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر پر مٹی ڈالی اور فرمایا : اے ابن خطاب ! اس کے بعد اللہ کو تمہاری پروا نہیں ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آئے ، اور عرض کی : اللہ عزوجل آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ حفصہ کو طلاق دینے کے ارادہ سے رجوع فرمائیں، حضرت عمر پر شفقت فرماتے ہوئے ۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← عمرو بن صالح الحضرمي ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19258

chevron_left Previous
1…474849…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter