Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19223

272 - حدثنا موسى بن هارون ثنا حجاج بن يوسف الشاعر ( ح ) وحدثنا زكريا بن يحيى الساجي قال ثنا محمد بن منصور الجواد ( ح ) وحدثنا علي بن سعيد الرازي قال ثنا إسحاق بن زريق الراسبي و إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني قالوا ثنا عبد الملك بن إبراهيم الجدي ثنا محمد بن محمد أبو نافع الطائفي حدثني القاسم بن عبد الواحد بن أيمن قال حدثني عمر بن عبد الله بن عروة عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت Y فخرت بمال أبي في الجاهلية وكان قدر ألف ألف أوقية فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : ( اسكتي يا عائشة فإني كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) ثم انشأ رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث أن إحدى عشرة امرأة اجتمعن في الجاهلية فتعاهدن لتخبرن كل امرأة بما في زوجها ولا تكذب قيل أنت يا فلانة قالت : الليل ليل تهامة لا حر ولا برد ولا مخافة قيل أنت يا فلانة قالت : الريح ريح زرنب والمس مس أرنب وأغلبه والناس يغلب قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت أنه لرفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت مالكا وما مالك ؟ له إبل كثيرات المسارح قليلات المبارك إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك قيل أنت يا فلانة قالت : زوجي أذكره إن أذكره أذكر هجره وبجره أخشى أن لا أذره قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت إذا دخل فهد وإذا خرج أسد ولا يسأل عما عهد قيل أنت يا فلانة قالت : لحم جمل غث على جبل لا بالسمين فينتقل ولا بالسهل فيرتقى إليه قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت أنه إذا أكل لف وإذا شرب اشتف وإذا ذبح اغتث وإذا نام التف ولا يدخل الكف فيعلم البث قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت العشنق إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق قيل أنت يا فلانة قالت : عياياء طباقاء كل داء له داء شجك أو فلك أو جمع كلالك قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت أبا زرع وما أبو زرع ؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجح نفسي فبجحت إلي وجدني في غنيمة بشق فجعلني بين حائل وصائل وأطيط ودائس ومنق فأنا أنام عنده فأتصبح وأشرب فأتقمح وأنطق فلا أتقبح ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع ؟ مضجعه مس الشطبة ويشبعه ذراع الجفرة بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع ؟ ملء إزارها وزين أبيها وزين أمها وخير جارتها جارية أبي زرع وما جارية أبي زرع ؟ لا تخرج حديثنا تبثيثا ولا تهلك ميرتنا تنقيثا فخرج من عندي أبو زرع والأوطاب تمخض فإذا هو بأم غلامين كالسقرين فتزوجها أبو زرع وطلقني فاستبدلت وكل بدل أعور فنكحت شابا سريا ركب شريا وأخذ خطيا وأعطاني نعما ثريا وأعطاني من كل سائمة زوجا فقال : امتاري يا أم زرع ميري أهلك فجمعت من ذلك فلم يملأ أصغر وعاء من أوعية أبي زرع قالت عائشة : فقلت يا رسول الله بل أنت خير من أبي زرع

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال پر بڑا فخر تھا ۔ وہ تقریباً لاکھ اوقیہ چاندی کی مقدار تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ! میں تیرے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حدیث بیان کرنا شروع کی کہ زمانہ جاہلیت میں گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں۔ باہم معاہدہ کیا کہ ہر عورت اپنے شوہر کی بات بتائے گی ، جو اس میں ہے اور جھوٹ نہیں بولے گی ۔ کہا گیا ؛ تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : میرا خاوند تو تہامہ کی رات کی طرح ہے ( یعنی کوئی تکلیف نہیں دیتا ) نہ گرم ہے ، نہ ٹھنڈا ہے ، کوئی ڈر خوف نہیں ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : میرا خاوند ایسا ہے کہ اس کے جسم سے زرنب ( زعفران ) جیسی خوشبو آتی ہے اور ہاتھ لگاؤ تو اس کا جسم خرگوش کی طرح ملائم اور نرم ہے ۔ میں تو اس پر غالب ہوں ، لیکن لوگوں پر وہ غالب ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : بخدا ! جو مجھے معلوم ہے کہ وہ بلند ستون والا ( مشہور ) ہے ۔ لمبے قد والا ہے ۔ بڑی راکھ والا ( سخی ) ہے ۔ اس کا گھر لوگوں کے قریب ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : میں نے مالک سے نکاح کیا اور مالک کون ہے ؟ زیادہ اونٹوں والا ، جن کے چلنے کے راستے تو بہت ہوں ، لیکن بیٹھنے کی جگہیں کم ہوں جب عورتیں مزا ہر ( سارنگیوں یا مہمانوں کے لئے آگ جانے والوں ) کی آواز سنیں تو یقین کر لیں کہ وہ ہلاک ہونے والی ہیں ۔ کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی اس نے کہا : میں اپنے خاوند کا تذکرہ کرتی ہوں ، اگر میں اس کا ذکر کروں تو میں اس کی چھوٹی بڑی سب باتیں بتا دوں گی۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کے حالات بیان کرنا چھوڑ نہ دوں ۔ ( کیونکہ وہ بہت طول طویل ہے ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں کیا : میں ڈرتی ہوں کہ اس سے جدا ہونے پہ قدرت نہ پاؤں ، کیونکہ اسی کے نطفہ سے میری اولاد ہے ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : بخدا ! جو مجھے معلوم ہے ، وہ یہ جب وہ گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح سو رہتا ہے ( گھر کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا ۔ بعض نے کہا: چیتے کی طرح میرے اوپر کود پڑتا ہے یکبارگی جماع میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر کی طرح بہادر ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے کہا : وہ اونٹ کے گوشت جیسا ہے ۔ دبلا پتلا ہے ۔ بخیل ہے ۔ کمزور ہے موٹا نہیں ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور آسان ہے کہ اسے منتقل کیا جائے ۔ کہا گیا تو (بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : وہ جب کھاتا اور پیتا ہے تو سب ہی کھا پی لیتا ہے اور جب سوتا ہے تو گہرا اور گھنا سمٹا ہوا ہے ۔ اپنا ہاتھ اندر داخل نہیں کرتا کہ عورت کا عیب معلوم کرے ۔ ( بعض نے کہا : یہ الفاظ مرد کی مدح ہیں ، لیکن بعض نے کہا : مذمت ہیں یعنی عورت کو ہاتھ لگا کر اس کا دکھ نہیں پہنچتا ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا: میں نے بدخلق ، تلخ مزاج سے نکاح کیا ہے ( یا وہ لمبا تڑنگا دبلا پتلا ہے ۔ ) اگر میں اس کے عیبوں میں گفتگو کروں تو مجھے طلا ق دے دے اور اگر خاموش رہوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ۔ وہ مجھے طلاق نہ دے ۔ ( بعض جگہ اس کے الٹ ہے کہ اگر میں خاموش رہوں تو مجھے طلاق ہو جائے ، اگر بولوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : وہ تو بالکل ڈھیلا ، نامراد بات کرنے سے عاجز ہے ۔ ہر بیماری اس کو ہے ۔ زخمی ہے ۔ کندھے موٹے ہیں یہاں تک کہ تمام کو اکٹھا کیا ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : میں نے ابو زرع سے نکاح کیا اور ابو زرع کون ہے ؟ اس نے زیور پہنا کر میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں بازوؤں کو چربی سے بھر دیا۔ وہ میری ذات سے خوش ہوئے اور میں نے ان کو حاصل کر کے فخر محسوس کیا۔ اس نے ایک حصے کے ساتھ مجھے غنیمت میں پایا تو مجھے روکنے والے اور حملہ کرنے والے ، خراٹوں کی ہلکی آواز نکالنے والے ، کوٹ کر غلہ صاف کرنے والے اور آواز نکالنے والے کے درمیان بنا دیا۔ پس میں اس کے ہاں سوتی ہوں تو صبح کے وقت ناشتہ کرتی ہوں ( یا صبح کے وقت جا سوتی ہوں ) اگر میں پیتی ہوں تو خوب سیراب ہو کر پیتی ہوں ۔ میں بولتی ہوں تو اس کی برائی بیان نہیں کرتی ۔ ابن ابو زرع اور ابن زرع کیا ؟ اس کا بستر ، چمڑے کی کاٹی ہوئی لمبی پٹی نکالنے کا مقام ہے اور بکری یا بھیڑ کے موٹے تازے بچے کا بازو اسے سیر کرتا ہے ۔ بنت ابو زرع اور بنت ابو زرع کیا ؟ اس کا تہبند بھرا ہوا ، اپنے باپ اور ماں کی زینت و سجاوٹ اور اپنی پڑوس کے لئے بھی بہتر اور ابو زرع کی لونڈی اور ابو زرع کی لونڈی کیا ؟ وہ ہماری بات کو پھیلانے کے لئے نکلتی نہیں ہے ۔ وہ ہماری چغلی کھا کر فساد نہیں ڈالتی ہے ۔ پس میرے پاس سے ابو زرع نکلا ، اس حال میں کہ دودھ کی مشکوں سے مکھن نکالا جا رہا تھا۔ وہ دو چیتوں جیسے دو بیٹوں کی ماں ہے ۔ پس ابو زرع نے اس سے شادی کر لی اور مجھے طلاق دی تو میں نے خاوند بدل لیا۔ ہر بدلا ہوا کانا ہے ۔ میں نے ایک شریف نوجوان سے شادی کی جو کسی ضروری کام کے لئے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے ۔ وہ سیدھا نیزہ پکڑنے والا ہے ۔ اس نے مجھے بہت نعمتیں عطا کی ہیں ۔ اس نے مجھے ہر چرنے والے جانور کا جوڑا دیا ۔ فرمایا : اے ام زرع ! ( اپنی ذات کے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے خوراک مہیا کر ۔ پس میں نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹا برتن بھی نہ بھر سکا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بلکہ آپ میرے لئے ابو زرع سے بہت بہتر ہیں ۔

فَخُرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو نَافِعٍ الطَّائِفِيُّ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← إسحاق بن زريق الراسبي و إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ← محمد بن منصور الجواد ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← حجاج بن يوسف الشاعر ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19223

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19224

273 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا محمد بن أبي عمر العدني قال ثنا سفيان عن داود بن شابور عن عمر بن عبد الله بن عروة عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم Y نحوه

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس جیسی حدیث روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19224

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19225

274 - حدثنا عبيد الله بن محمد العمري ثنا الزبير بن بكار حدثني محمد بن الضحاك بن عثمان الحرامي عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( يا عائشة كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن قرية من قرى اليمن كان بها بطون من بطون اليمن وفيها إحدى عشر امرأة وإنهن خرجن إلى مجلس لهن فقالت بعضهن لبعض تعالوا فلنذكرن بعولتنا ببعض ما فيهم ولا نكذب فقيل للأولى تكلمي فقالت وذكر الحديث وقالت الثانية : وهي عمرة بنت عبد عمرو وقيل للثالثة تكلمي وهي حبا بنت كعب قيل للرابعة تكلمي [ وهي ] هدد بنت أبي هرومة قيل للخامسة تكلمي وهي كبشة قيل للسادسة تكلمي وهي هند قيل للسابعة تكلمي وهي حبا بنت علقمة قيل للثامنة تكلمي وهي أسماء بنت عبد قيل للتاسعة [ تكلمي و ] لم يسمها قيل للعاشرة تكلمي وهي كبيشة بنت الأرقم قيل لأم زرع [ تكلمي وهي ] بنت الأكيحل بن ساعدة فقالت : أبو زرع وما أبو زرع ؟ وذكر الحديث

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے عائشہ میں تیرے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : یمن کے دیہاتوں میں سے ایک دیہات ہے ، جس میں یمن کے قبیلوں کی شاخوں میں سے چند شاخیں رہتی ہیں ۔ اس میں گیارہ عورتیں اکٹھی تھیں۔ وہ اپنی مجلس لگانے کے لئے اپنے گھروں سے نکلیں ۔ ایک دوسرے سے کہا : آؤ ! ہم اپنے شوہروں کی بعض باتوں کے حوالے سے گفتگو کریں ، جو ان میں موجود ہیں اور جھوٹ نہیں بولیں گی ۔ پس پہلی سے کہا گیا ، کلام کر۔ پس اس نے کہا اور پوری بات ذکر فرمائی ۔ دوسری نے کہا : جبکہ وہ عمرہ بنت عبد عمرو تھی ۔ تیسری سے کہا گیا : کلام کر ! اس کا نام حبا بنت کعب تھا۔ چوتھی سے کہا گیا : کلام کر وہ ھدد بنت ابو ھرومہ تھی ۔ پانچویں سے کہا گیا ؛ کلام کر۔ وہ کبشہ تھی ۔ چھٹی سے کہا گیا: کلام کر ، اس کا نام ھند تھا۔ ساتویں سے کہا گیا : کلام کر۔ وہ حبا بنت علقمہ تھی ۔ آٹھویں سے کہا گیا : کلام کر۔ وہ اسماء بنت عبد تھی ۔ نویں سے کہا گیا : کلام کر ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کا نام ذکر نہیں فرمایا ۔ دسویں سے کہا گیا : کلام کر ، وہ کبیثۃ بنت ارقم تھی ۔ ام زرع سے کہا گیا : کلام کر ۔ یہ اکیحل بن ساعدہ کی بیٹی تھی ۔ پس اس نے کہا : ابو زرع اور ابو زرع کون ؟ اور پوری حدیث ذکر فرمائی۔

يَا عَائِشَةُ كَنْتُ لَكِ كَأَبِي زَرْعٍ لِأُمِّ زَرْعٍ ← دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ الْحَرَامِيُّ ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19225

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19226

275 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y كنت ألعب باللعب فتأتيني صواحبي فإذا دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فررن منه فيأخذهن رسول الله صلى الله عليه و سلم فيردهن إلي

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں کھلونوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی ، پس میری سہیلیاں میرے پاس آ جاتیں ، پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم تشریف لاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رعب سے بھاگ جاتیں ، پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کو پکڑ کر میری طرف لوٹا دیتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19226

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19227

276 - حدثنا أحمد بن علي الأبار ثنا كثير بن عبيد الحمصي ثنا محمد بن حمير عن سفيان الثوري عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدخل علي وأنا ألعب بالبنات

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میرے پاس تشریف لاتے اس حال میں کہ میں لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھی ۔

ألعب بالبنات ← كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يدخل علي ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَبَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19227

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19228

277 - حدثنا محمد بن معاذ الحلبي ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة Y أنها كانت تلعب بالبنات يعني اللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم فكن صواحبي يجئن فينقمعن من رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسربهن فيلعبن معي

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے سامنے لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں، پس میری سہیلیاں آ جایا کرتی تھیں ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رعب سے پردے کی اوٹ میں ہو جایا کرتیں ، پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کو ( میرے پاس ) بھیج دیتے تو وہ میرے ساتھ کھیلتیں ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19228

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19229

278 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y كنت ألعب بهذه البنات فكن جواري يأتينني فيلعبن معي فإذا رأين رسول الله صلى الله عليه و سلم تقمعن فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسربهن إلي

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں ان لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی ، پس میری ہم عمر لڑکیاں تھیں ، وہ میرے پاس آتیں اور میرے ساتھ مل کر کھیلتیں ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھتیں تو خلوت نشیں ہو جاتیں۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس واپس لاتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19229

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19230

279 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبد الله بن نمير عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y كنت ألعب بالبنات على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے زمانے میں لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں ۔

كنت ألعب بالبنات على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19230

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب لعب عائشة باللعب عند رسول الله صلى الله عليه و سلم · حديث 19231

280 - حدثنا موسى بن هارون ثنا حجاج بن يوسف الشاعر ثنا أحمد بن إسحاق ثنا وهيب بن خالد عن عبيد الله بن عمر عن يزيد بن رومان عن عروة عن عائشة قالت Y كنت ألعب بالبنات على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے زمانے میں لڑکیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھیں ۔

كنت ألعب بالبنات على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19231

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب تزوج النبي صلى الله عليه و سلم لعائشة وهي تلعب في أرجوحة · حديث 19232

281 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا معاوية بن هشام عن حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y تزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا على الأرجوحة

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے جس وقت مجھ سے شادی فرمائی ، میں اس وقت ارجوحہ میں کھیل رہی تھی ۔ ( ارجوحہ سے مراد وہ ہے کہ جس کے دونوں کنارے ایک بلند جگہ پر باندھ دئیے جاتے ہیں اور بچے اس پر جھولتے ہیں ۔ لغات الحدیث )

تزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا على الأرجوحة ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19232

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب حمل النبي صلى الله عليه و سلم عائشة لتنظر إلى لعب الحبشة · حديث 19233

282 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن [ عروة عن ] عائشة قالت Y والله لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقوم على باب حجرتي والحبشة يلعبون بالحراب في المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم يسترني بردائه لأنظر إلى لعبهم من بين أذنيه وعاتقه ثم يقوم من أجلي حتى أكون أنا الذي أنصرف فأقدر وأقدر الجارية الحديثة السن الحريصة للهو

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشی لوگ مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ جنگی مشق کر رہے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنی چادر کے ساتھ پردہ کیا تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھوں ، آپ کے دونوں کندھوں اور کانوں کے درمیان سے پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میری وجہ سے کھڑے رہے ، یہاں تک کہ میں خود ہی وہاں سے چلی ، پس تم اندازہ کرو اس کم سن لڑکی کا جو کھیل کی حریص ہے ۔

عَائِشَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19233

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب حمل النبي صلى الله عليه و سلم عائشة لتنظر إلى لعب الحبشة · حديث 19234

283 - حدثنا إبراهيم بن نائلة الأصبهاني ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا وهب بن جرير بن حازم ثنا أبي قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهري عن عروة عن عائشة قالت Y لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقوم على باب حجرتي والحبشة يلعبون بحرابهم في المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم يسترني بردائه لكي أنظر إلى لعبهم فيقوم من أجلي قائما حتى كنت أكون أنا أنصرف فاقدر يا ابن أختي قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو دیکھا کہ آپ میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے تھے اور حبشی لوگ مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ جنگی مشق کر رہے تھے ، حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنی چادر کے ساتھ پردہ کیا تاکہ میں ان کے کھیل کو دیکھوں ، آپ کے دونوں کندھوں اور کانوں کے درمیان سے پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم میری وجہ سے کھڑے رہے ، یہاں تک کہ میں خود ہی وہاں سے چلی ، پس تم اندازہ کرو اس کم سن لڑکی کا جو کھیل کی حریص ہے ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19234

chevron_left Previous
1…454647…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter