المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19223
272 - حدثنا موسى بن هارون ثنا حجاج بن يوسف الشاعر ( ح ) وحدثنا زكريا بن يحيى الساجي قال ثنا محمد بن منصور الجواد ( ح ) وحدثنا علي بن سعيد الرازي قال ثنا إسحاق بن زريق الراسبي و إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني قالوا ثنا عبد الملك بن إبراهيم الجدي ثنا محمد بن محمد أبو نافع الطائفي حدثني القاسم بن عبد الواحد بن أيمن قال حدثني عمر بن عبد الله بن عروة عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت Y فخرت بمال أبي في الجاهلية وكان قدر ألف ألف أوقية فقال لي النبي صلى الله عليه و سلم : ( اسكتي يا عائشة فإني كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) ثم انشأ رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث أن إحدى عشرة امرأة اجتمعن في الجاهلية فتعاهدن لتخبرن كل امرأة بما في زوجها ولا تكذب قيل أنت يا فلانة قالت : الليل ليل تهامة لا حر ولا برد ولا مخافة قيل أنت يا فلانة قالت : الريح ريح زرنب والمس مس أرنب وأغلبه والناس يغلب قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت أنه لرفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت مالكا وما مالك ؟ له إبل كثيرات المسارح قليلات المبارك إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك قيل أنت يا فلانة قالت : زوجي أذكره إن أذكره أذكر هجره وبجره أخشى أن لا أذره قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت إذا دخل فهد وإذا خرج أسد ولا يسأل عما عهد قيل أنت يا فلانة قالت : لحم جمل غث على جبل لا بالسمين فينتقل ولا بالسهل فيرتقى إليه قيل أنت يا فلانة قالت : والله ما علمت أنه إذا أكل لف وإذا شرب اشتف وإذا ذبح اغتث وإذا نام التف ولا يدخل الكف فيعلم البث قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت العشنق إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق قيل أنت يا فلانة قالت : عياياء طباقاء كل داء له داء شجك أو فلك أو جمع كلالك قيل أنت يا فلانة قالت : نكحت أبا زرع وما أبو زرع ؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجح نفسي فبجحت إلي وجدني في غنيمة بشق فجعلني بين حائل وصائل وأطيط ودائس ومنق فأنا أنام عنده فأتصبح وأشرب فأتقمح وأنطق فلا أتقبح ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع ؟ مضجعه مس الشطبة ويشبعه ذراع الجفرة بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع ؟ ملء إزارها وزين أبيها وزين أمها وخير جارتها جارية أبي زرع وما جارية أبي زرع ؟ لا تخرج حديثنا تبثيثا ولا تهلك ميرتنا تنقيثا فخرج من عندي أبو زرع والأوطاب تمخض فإذا هو بأم غلامين كالسقرين فتزوجها أبو زرع وطلقني فاستبدلت وكل بدل أعور فنكحت شابا سريا ركب شريا وأخذ خطيا وأعطاني نعما ثريا وأعطاني من كل سائمة زوجا فقال : امتاري يا أم زرع ميري أهلك فجمعت من ذلك فلم يملأ أصغر وعاء من أوعية أبي زرع قالت عائشة : فقلت يا رسول الله بل أنت خير من أبي زرع
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے زمانہ جاہلیت میں اپنے والد کے مال پر بڑا فخر تھا ۔ وہ تقریباً لاکھ اوقیہ چاندی کی مقدار تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : اے عائشہ ! خاموش ! میں تیرے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حدیث بیان کرنا شروع کی کہ زمانہ جاہلیت میں گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں۔ باہم معاہدہ کیا کہ ہر عورت اپنے شوہر کی بات بتائے گی ، جو اس میں ہے اور جھوٹ نہیں بولے گی ۔ کہا گیا ؛ تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : میرا خاوند تو تہامہ کی رات کی طرح ہے ( یعنی کوئی تکلیف نہیں دیتا ) نہ گرم ہے ، نہ ٹھنڈا ہے ، کوئی ڈر خوف نہیں ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : میرا خاوند ایسا ہے کہ اس کے جسم سے زرنب ( زعفران ) جیسی خوشبو آتی ہے اور ہاتھ لگاؤ تو اس کا جسم خرگوش کی طرح ملائم اور نرم ہے ۔ میں تو اس پر غالب ہوں ، لیکن لوگوں پر وہ غالب ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : بخدا ! جو مجھے معلوم ہے کہ وہ بلند ستون والا ( مشہور ) ہے ۔ لمبے قد والا ہے ۔ بڑی راکھ والا ( سخی ) ہے ۔ اس کا گھر لوگوں کے قریب ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : میں نے مالک سے نکاح کیا اور مالک کون ہے ؟ زیادہ اونٹوں والا ، جن کے چلنے کے راستے تو بہت ہوں ، لیکن بیٹھنے کی جگہیں کم ہوں جب عورتیں مزا ہر ( سارنگیوں یا مہمانوں کے لئے آگ جانے والوں ) کی آواز سنیں تو یقین کر لیں کہ وہ ہلاک ہونے والی ہیں ۔ کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی اس نے کہا : میں اپنے خاوند کا تذکرہ کرتی ہوں ، اگر میں اس کا ذکر کروں تو میں اس کی چھوٹی بڑی سب باتیں بتا دوں گی۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کے حالات بیان کرنا چھوڑ نہ دوں ۔ ( کیونکہ وہ بہت طول طویل ہے ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں کیا : میں ڈرتی ہوں کہ اس سے جدا ہونے پہ قدرت نہ پاؤں ، کیونکہ اسی کے نطفہ سے میری اولاد ہے ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : بخدا ! جو مجھے معلوم ہے ، وہ یہ جب وہ گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح سو رہتا ہے ( گھر کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا ۔ بعض نے کہا: چیتے کی طرح میرے اوپر کود پڑتا ہے یکبارگی جماع میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر کی طرح بہادر ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے کہا : وہ اونٹ کے گوشت جیسا ہے ۔ دبلا پتلا ہے ۔ بخیل ہے ۔ کمزور ہے موٹا نہیں ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور آسان ہے کہ اسے منتقل کیا جائے ۔ کہا گیا تو (بتا !) اے فلانی ! اس نے کہا : وہ جب کھاتا اور پیتا ہے تو سب ہی کھا پی لیتا ہے اور جب سوتا ہے تو گہرا اور گھنا سمٹا ہوا ہے ۔ اپنا ہاتھ اندر داخل نہیں کرتا کہ عورت کا عیب معلوم کرے ۔ ( بعض نے کہا : یہ الفاظ مرد کی مدح ہیں ، لیکن بعض نے کہا : مذمت ہیں یعنی عورت کو ہاتھ لگا کر اس کا دکھ نہیں پہنچتا ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا: میں نے بدخلق ، تلخ مزاج سے نکاح کیا ہے ( یا وہ لمبا تڑنگا دبلا پتلا ہے ۔ ) اگر میں اس کے عیبوں میں گفتگو کروں تو مجھے طلا ق دے دے اور اگر خاموش رہوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ۔ وہ مجھے طلاق نہ دے ۔ ( بعض جگہ اس کے الٹ ہے کہ اگر میں خاموش رہوں تو مجھے طلاق ہو جائے ، اگر بولوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ۔ ) کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : وہ تو بالکل ڈھیلا ، نامراد بات کرنے سے عاجز ہے ۔ ہر بیماری اس کو ہے ۔ زخمی ہے ۔ کندھے موٹے ہیں یہاں تک کہ تمام کو اکٹھا کیا ہے ۔ کہا گیا : تو ( بتا ! ) اے فلانی ! اس نے کہا : میں نے ابو زرع سے نکاح کیا اور ابو زرع کون ہے ؟ اس نے زیور پہنا کر میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں بازوؤں کو چربی سے بھر دیا۔ وہ میری ذات سے خوش ہوئے اور میں نے ان کو حاصل کر کے فخر محسوس کیا۔ اس نے ایک حصے کے ساتھ مجھے غنیمت میں پایا تو مجھے روکنے والے اور حملہ کرنے والے ، خراٹوں کی ہلکی آواز نکالنے والے ، کوٹ کر غلہ صاف کرنے والے اور آواز نکالنے والے کے درمیان بنا دیا۔ پس میں اس کے ہاں سوتی ہوں تو صبح کے وقت ناشتہ کرتی ہوں ( یا صبح کے وقت جا سوتی ہوں ) اگر میں پیتی ہوں تو خوب سیراب ہو کر پیتی ہوں ۔ میں بولتی ہوں تو اس کی برائی بیان نہیں کرتی ۔ ابن ابو زرع اور ابن زرع کیا ؟ اس کا بستر ، چمڑے کی کاٹی ہوئی لمبی پٹی نکالنے کا مقام ہے اور بکری یا بھیڑ کے موٹے تازے بچے کا بازو اسے سیر کرتا ہے ۔ بنت ابو زرع اور بنت ابو زرع کیا ؟ اس کا تہبند بھرا ہوا ، اپنے باپ اور ماں کی زینت و سجاوٹ اور اپنی پڑوس کے لئے بھی بہتر اور ابو زرع کی لونڈی اور ابو زرع کی لونڈی کیا ؟ وہ ہماری بات کو پھیلانے کے لئے نکلتی نہیں ہے ۔ وہ ہماری چغلی کھا کر فساد نہیں ڈالتی ہے ۔ پس میرے پاس سے ابو زرع نکلا ، اس حال میں کہ دودھ کی مشکوں سے مکھن نکالا جا رہا تھا۔ وہ دو چیتوں جیسے دو بیٹوں کی ماں ہے ۔ پس ابو زرع نے اس سے شادی کر لی اور مجھے طلاق دی تو میں نے خاوند بدل لیا۔ ہر بدلا ہوا کانا ہے ۔ میں نے ایک شریف نوجوان سے شادی کی جو کسی ضروری کام کے لئے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے ۔ وہ سیدھا نیزہ پکڑنے والا ہے ۔ اس نے مجھے بہت نعمتیں عطا کی ہیں ۔ اس نے مجھے ہر چرنے والے جانور کا جوڑا دیا ۔ فرمایا : اے ام زرع ! ( اپنی ذات کے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے خوراک مہیا کر ۔ پس میں نے اسے اکٹھا کیا تو وہ ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹا برتن بھی نہ بھر سکا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! بلکہ آپ میرے لئے ابو زرع سے بہت بہتر ہیں ۔
فَخُرْتُ بِمَالِ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ قَدْرَ أَلْفِ أَلْفِ أُوقِيَّةٍ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو نَافِعٍ الطَّائِفِيُّ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ ← إسحاق بن زريق الراسبي و إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ← محمد بن منصور الجواد ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← حجاج بن يوسف الشاعر ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19223
