Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب في أي غزاة كان قول أهل الإفك · حديث 19211

260 - حدثنا أبو شعيب الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق قال Y كانت غزوة بني المصطلق في شعبان سنة ست وفي تلك الغزوة خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم بعائشة معه أقرع بين نسائه فخرج سهمها وفي تلك الغزوة قال فيها أهل الإفك ما قالوا فأنزل الله عز و جل براءتها

حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں : یہ واقعہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا، وہ سن چھ ہجری ماہ شعبان میں تھا اور اس غزوہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لیکر تشریف لے چلے ۔ آپ نے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کی تو ان کا قرعہ نکلا ۔ اسی غزوہ میں بہتان والوں نے ان کے بارے میں کہا ۔ جو کہا پس اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت اتری۔

فِيهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا ← «كَانَتْ غَزْوَةُ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19211

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب في أي غزاة كان قول أهل الإفك · حديث 19212

261 - حدثنا موسى بن زكريا التستري ثنا شباب العصفري قال Y كانت سنة ست من الهجرة كانت غزوة بني المصطلق وفي هذه الغزاة قال أهل الإفك في عائشة ما قالوا : ونزل فيها القرآن { إن الذين جاؤوا بالإفك } الآيات

حضرت شباب عصفری فرماتے ہیں : وہ سن چھ ہجری تھا ۔ یہ واقعہ غزوہ بنی مصطلق میں ہوا ۔ اسی غزوہ میں بہتان والوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہا جو کہا ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن اتارا۔ " ان الذین جاء و ابالافک " تمام آیتیں ۔

ونزل فيها القرآن إن الذين جاؤوا بالإفك الآيات ← أهل الإفك في عائشة ما ← كانت سنة ست من الهجرة كانت غزوة بني المصطلق وفي هذه الغزاة ← شَبَابٌ الْعُصْفُرِيُّ ← موسى بن زكريا التستري،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19212

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب جلد النبي صلى الله عليه و سلم أصحاب الإفك · حديث 19213

262 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن منهال ثنا حماد بن سلمة عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جلدهم ثمانين ثمانين

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں اَسی اَسی کوڑے لگائے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19213

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب جلد النبي صلى الله عليه و سلم أصحاب الإفك · حديث 19214

263 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا محمد بن أبي عدي عن محمد بن إسحاق عن عبد الله بن أبي بكر عن عمرة عن عائشة قالت Y لما نزل عذري قام رسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فذكر ذلك وتلا القرآن فلما نزل أمر برجلين وامرأة فضربوا حدهم

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں : جب میرا عذر اترا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم منبر کھڑے ہوئے اس کا ذکر کیا اور قرآن کی تلاوت کی ۔ پس جب ( منبر سے ) اترے تو دو مردوں اور ایک عورت کو حد لگانے کا حکم دیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19214

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب جلد النبي صلى الله عليه و سلم أصحاب الإفك · حديث 19215

264 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا عبد الله بن هارون أبو علقمة الفروي ثنا قدامة بن محمد الأشجعي ثنا مخرمة بن بكير عن أبيه عن ابن شهاب عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ( إذا كان يوم القيامة حد الله الذين شتموا عائشة ثمانين ثمانين على رؤوس الخلائق فيستوهب ربي المهاجرين منهم فاستأمرك يا عائشة ) فسمعت عائشة الكلام فبكت وهي في البيت ثم قالت : والذي بعثك بالحق نبيا لسرورك أطيب إلي من سروري فتبسم رسول الله صلى الله عليه و سلم ضاحكا وقال : ( ابنة أبيها )

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : فرماتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ ( پہلے ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا کہنے والوں کو تمام مخلوقات کے سامنے اَسی اَسی کوڑے لگائے گا ۔ پس میرا رب ان میں سے مہاجرین سے ہبہ کا مطالبہ کرے گا۔ اے عائشہ ! میں تجھ سے مشورہ کروں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کلام سن کر رو پڑیں جبکہ وہ اپنے گھر میں موجود تھیں۔ پھر کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا ! آپ کی خوشی مجھے اپنی خوشی سے زیادہ خوش کرنے والی ہے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا اور کہا : اپنے باپ کی بیٹی ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← قُدَامَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَشْجَعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19215

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19216

265 - حدثنا العباس بن الفضل الاسفاطي ثنا موسى بن إسماعيل ثنا سعيد بن سلمة بن أبي الحسام عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) ثم أنشأ يحدث بحديث أم زرع وصواحبها قال : ( اجتمع إحدى عشرة امرأة فتعاهدن وتعاقدن أن ينعتن أزواجهن ويصدقن فقالت إحداهن : زوجي عياياء طباقاء كل داء له داء شجك أو فلك أو جمع كلالك قالت الأخرى : زوجي لحم جمل غث بجبل وعر لا سمين فيرتقى إليه ولا سهل فينتقل قالت الأخرى : زوجي العشنق إن أسكت أطلق وإن أنطق أعلق قالت الأخرى : زوجي إذا شرب اشتف وإذا رقد التف ولا يولج الكف فيعلم البث قالت الأخرى : زوجي لا أتم خبره أخشى أن لا أذره قال له عروة : هؤلاء خمسة يشكون قالت الأخرى : زوجي حر [ كليل ] تهامة لا حر ولا بارد ولا مخافة قالت الأخرى : [ زوجي ] إذا دخل فهد وإذا خرج أسد ولا يسأل عما عهد قالت الأخرى : زوجي الريج ريح زرنب والمس مس أرنب أغلبه والناس يغلب قالت الأخرى : زوجي رفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد قالت الأخرى : زوجي أبو مالك وما أبو مالك ؟ ذو إبل كثيرة المسالك قليلة المبارك إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك قالت الأخرى : زوجي أبو زرع وما أبو زرع ؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجح نفسي فبجحت إليه ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع ؟ مضجعه كمسل الشطبة ويشبعه ذراع الجفرة بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع ؟ ملء كسائها وصغر ردائها وخير نسائها وغيظ جاراتها وطوع أبيها وطوع أمها خادم أبي زرع وما خادم أبي زرع ؟ لا تبث حديثنا تبثيثا ولا تفسد ميرننا تنقيثا ولا تعشى بيتنا تعشيشا أتاني أبو زرع وأنا في شق فبلحني فذهب بي إلى أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق فأنا عنده أشرب وأتقنح وأرقد فأتصبح وأقول فلا أقبح خرج من عندي أبو زرع والأوطاب تمخض فأبصر امرأة لها ابنان كالفهدين يلعبان من تحتها برمانتين فنكحها أبو زرع وطلقني فنكحت بعده شابا سريا ركب فرسا شريا وأخذ رمحا خطيا وأراع على بنتي نعما ثريا وأتاني في كل سائمة زوجا فقال : كلي وميري أهلك فلو جمعت كل شيء أصبته منه فجعلته في أصغر وعاء من أوعية أبي زرع ما ملأه قالت عائشة : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( فكنت لك كأبي زرع لأم زرع )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تیرے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ام زرع اور اس کی سہیلیوں والی حدیث بیان کرنا شروع کی۔ فرمایا : گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں۔ باہم معاہدہ کیا اور شرط باندھی کہ اپنے شوہروں کی صفات ( اچھی بری ) بیان کریں گی اور سچ بولیں گی ۔ پس ان میں سے ایک نے کہا : میرا خاوند تو بالکل ڈھیلا ، نامراد بات کرنے سے عاجز ہے ۔ ہر بیماری اس کو ہے ۔ زخمی ہے ۔ کندھے موٹے ہیں یہاں تک کہ تمام کو تیرے لئے اکٹھا کیا ہے ۔ دوسری نے کہا : میرا خاوند دبلے پتلے اونٹ کے گوشت جیسا ہے ۔ بخیل ہے ۔ کمزور ہے موٹا نہیں ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور ہموار نہیں ہے کہ اسے متنقل کیا جائے ۔ اور نے کہا : میرا خاوند بد خلق تلخ مزاج ہے ( یا لمبا تڑنگا دبلا پتلا ہے ۔ ) اگر میں خاموش رہوں تو مجھے طلاق ہو جائے ، اگر بولوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ۔ ( بعض جگہ اس کے الٹ ہے کہ اگر میں اس کے عیبوں میں گفتگو کروں تو مجھے طلاق دے دے اور اگر خاموش رہوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ، وہ مجھے طلاق نہ دے ۔ ) اور نے کہا : میرا خاوند جب پیتا ہے تو سب ہی پی لیتا ہے اور جب سوتا ہے تو گہرا اور گھنا سمٹا ہوا ہوتا ہے ۔ اپنا ہاتھ اندر داخل نہیں کرتا کہ عورت کا عیب معلوم کرے ۔ ( بعض نے کہا : یہ الفاظ مرد کی مدح ہیں ، لیکن بعض نے کہا : یعنی عورت کو ہاتھ لگا کر اس کا دکھ نہیں پہنچتا ۔ ) اور نے کہا : میرا خاوند اپنی بات پوری نہیں کرتا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کے حالات بیان کرنا چھوڑ نہ دوں ۔ ( کیونکہ وہ بہت طول طویل ہے ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا : میں ڈرتی ہوں کہ اس سے جدا ہونے پہ قدرت نہ پاؤں ، کیونکہ اسی کے نفطہ سے میری اولاد ہے ۔ ) راوی حدیث حضرت عروہ فرماتے ہیں : یہ پانچ عورتیں ( اپنے خاوندوں کی ) شکایت کرتی ہیں ۔ اور نے کہا : میرا خاوند تو تہامہ کی رات کی طرح ہے ( یعنی کوئی تکلیف نہیں دیتا ) نہ گرم ہے ، نہ ٹھنڈا ہے ، کوئی ڈر خوف نہیں ۔ اور نے کہا : میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح سو رہتا ہے ( گھر کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا ۔ بعض نے کہا : چیتے کی طرح میرے اوپر کود پڑتا ہے یکبارگی جماع میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ ) اور جب باہر نکلتا ہے شیر کی طرح بہادر ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے وعدہ کیا ہو۔ ایک اور عورت نے کہا : میرا خاوند ایسا ہے کہ اس کے جسم سے زرنب ( زعفران ) جیسی خوشبو آتی ہے اور ہاتھ لگاؤ تو اس کا جسم خرگوش کی طرح ملائم اور نرم ہے ۔ میں تو اس پر غالب ہوں ، لیکن لوگوں پر وہ غالب ہے اور نہ کہا : میرا خاوند بلند ستون والا ( مشہور ) ہے ۔ لمبے قد والا ہے ۔ بڑی راکھ والا ( سخی ) ہے ۔ اس کا گھر لوگوں کے قریب ہے ۔ اور نے کہا میرا خاوند " ابو مالک " ہے اور ابو مالک کون ہوتا ہے ؟ اونٹوں والا، جن کے چلنے کے راستے تو بہت ہیں ، لیکن بیٹھنے کی جگہیں کم ہیں ، جب عورتیں مزاھر ( سارنگیوں یا مہمانوں کے لئے آگ جلانے والوں ) کی آواز سنیں تو یقین کر لیں کہ وہ ہلاک ہونے والی ہیں ۔ اور نے کہا : میرا خاوند ابو زرع ہے اور ابو زرع کون ہے ؟ اس نے زیور پہنا کر میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں بازوں کو چربی سے بھر دیا ۔ وہ میری ذات سے خوش ہوئے اور میں نے ان کو حاصل کر کے فخر محسوس کیا۔ ابن ابو زرع اور ابن ابو زرع کون ؟ اس کا بستر اس طرح ہے ، جس طرح چمڑے کی کاٹی ہوئی لمبی پٹی نکالنے کا مقام ہوتا ہے اور بکری یا بھیڑ کے موٹے تازے بچے کا بازو کھا کر وہ سیر ہوتا ہے ۔ بنت ابو زرع اور بنت ابو زرع کیا : اس کی بڑی چادر بھری ہوئی ، اس کی دوسری چادر چھوٹی ہے ۔ عورتوں میں سے بہترین عورت ہے ۔ اس کی پڑوسی عورتیں اس سے غصہ کرتی ہیں اور اپنے باپ کی خوشی اور اپنی ماں کی بھی خوشی کا سبب ہے اور ابو زرع کی لونڈی ( خادمہ) ہے اور ابو زرع کی لونڈی کیسی ہے ؟ وہ ہماری بات کو پھیلاتی نہیں ہے ۔ وہ ہماری چغلی کھا کر فساد نہیں ڈالتی ہے ۔ ہمارے گھر میں رات کا کھانا خوب سیر ہو کر نہیں کھاتی ہے ۔ پس میری پاس ابو زرع آیا جبکہ میں ایک پہلو پر تھی ۔ اس نے مجھے تھکا دیا۔ پس وہ مجھے ایسے لوگوں کے پاس لے گیا ، جو گھوڑے جیسی آواز نکالنے والے ، خراٹے مارنے والے ،کوٹ کر غلہ صاف کرنے والے اور آواز نکالنے والے تھے ۔ پس میں ان کے پاس پیتے پیتے ٹھہر جاتی ہوں ( یعنی اس قدر کثرت سے دودھ یا شربت ہوتا ہے کہ یکبارگی پیا ہی نہیں جا سکتا یا معنی یہ ہے کہ سیراب ہونے کے بعد زبردستی پیتی ہوں ۔ یہ خاوند کی تعریف ہے کہ وہ کھانے پینے کو بہت دیتا ہے ) اور سوتی ہوں تو صبح کے وقت سوتی ہوں ۔ میں باتیں کرتی ہوں تو بری نہیں ٹھہرتی ہوں ( یعنی وہ مجھے کسی بات پر ملامت نہیں کرتا کیونکہ وہ میری عزت نفس کا خیال رکھتا ہے اور اسے مجھ سے محبت ہے ۔ ) ابو زرع میرے پاس سے نکلا ، اس حال میں کہ دودھ کی مشکوں کا مسکہ ( مکھن ) نکالا جا رہا تھا۔ اس نے ایک ایسی عورت کو دیکھا، جس کے دو چیتوں جیدے دو بیٹے تھے ۔ وہ دونوں اس کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ۔ پس ابو زرع نے اس سے شادی کر لی اور مجھے طلاق دی تو میں نے ایک شریف جوان سے شادی کی جو خریداروں کو دکھانے کیلئے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے ۔ خطی ( خط کی طرح سیدھا ) نیزہ پکڑنے والا ہے ۔ اس نے مجھے ہر چرنے والے جانور کا جوڑا دیا۔ کہا : اے ام زرع ! تو ( خوب سیر ہو کر ) کھا اور اپنے اہل و عیال کے لئے خوراک مہیا کر۔ پس اگر میں ہر اس چیز کو اکٹھا کروں جو اس سے مجھے ملی ہے اور وہ ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن میں بھی رکھوں تو وہ نہیں بھرتا ہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تیرے لیے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19216

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19217

266 - حدثنا أحمد بن المعلى ثنا هشام بن عمار ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن عقال الحراني ثنا أبو جعفر النفيلي ( ح ) وحدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي قالوا ثنا عيسى بن يونس عن هشام بن عروة عن أخيه عبد الله بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) فذكر نحوه

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تیرے لئے اس طرح ہوں جس طرح ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ پس اس کے بعد اس جیسی حدیث بیان کی ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19217

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19218

267 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري و جعفر بن محمد الفريابي قالا حدثنا حامد بن يحيى البلخي قال ثنا سفيان بن عيينة عن داود بن شابور عن عبد الله بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) فذكر نحوه

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں آپ کے لئے ایسے ہوں جیسے زبو زرع ، ام زرع کے لئے تھا۔ اس کے بعد اس جیسی حدیث بیان کی ہے ۔

كنت لك كأبي زرع لأم زرع فذكر نحوه ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← الحسين بن إسحاق التستري و جعفر بن محمد الفريابي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19218

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19219

268 - حدثنا معاذ بن المثنى و عبد الله بن أحمد بن حنبل قالا ثنا يحيى بن معين ثنا عقبة بن خالد السكوني ثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قال عقبة بن خالد قال هشام بن عروة فحدثني يزيد بن رومان عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( اجتمع إحدى عشرة امرأة في الجاهلية فتعاقدن أن يتصادقن بينهن ولا يكتمن من أخبار أزواجهن شيئا فقالت الأولى : زوجي لحم جمل غث على رأس جبل لا سهل فيرتقى ولا سمين فينتقل قالت الثانية : زوجي لا أبث خبره إني أخاف أن لا أذره إن أذكره أذكر عجره وبجره قالت الثالثة : زوجي العشنق إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق قالت الرابعة : زوجي إذا أكل لف وإن شرب اشتف وإن أضطجع التف ولا يولج الكف ليعلم البث قالت الخامسة : زوجي عياياء طباقاء كل داء له داء شجك أو فلك أو جمع كلالك قالت السادسة : زوجي كليل تهامة لا حر ولا قر ولا مخافة قالت السابعة : زوجي إذا دخل فهد وإن خرج أسد ولا يسأل عما عهد قالت الثامنة : زوجي المس مس أرنب والريج ريح زرنب وأنا أغلبه والناس يغلب قالت التاسعة : زوجي رفيع العماد طويل النجاد عظيم الرماد قريب البيت من الناد قالت العاشرة : زوجي مالك هو مالك وما مالك ؟ مالك خير من ذلك له إبل قليلات المسارح كثيرات المبارك إذا سمعن صوت المزاهر أيقن أنهن هوالك قالت الحادية عشرة : زوجي أبو زرع وما أبو زرع ؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبجحني فبجحت إلى نفسي وجدني في أهل غنيمة بشق فجعلني في أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق فعنده أقول فلا أقبح وأرقد فأتصبح وأشرب فأتقنح أم أبي زرع وما أم أبي زرع ؟ عكومها رداح وبيتها فساح ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع ؟ مضجعه كمسل شطبة يشبعه ذراع الجفرة بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع ؟ طوع أبيها وطوع أمها وملء كسائها وغيظ جارتها جارية أبي زرع وما جارية أبي زرع ؟ لا تبث حديثنا ولا تملأ ميرننا تنقيثا لا تملأ بيتنا تعشيشا خرج أبو زرع والأوطاب تمخض فمر بامرأة لها ابنان لها كالفهدين يلعبان من تحت خصرها برمانتين فطلقني ونكحها فنكحت بعده رجلا سريا ركب شريا وأخذ خطيا وأراح علي نعما ثريا وأعطاني من كل رائحة زوجا فقال : كلي أم زرع وميري أهلك فلو جمعت كل شيء أعطانيه ما ملأ أصغر إناء من آنية أبي زرع فقالت عائشة : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : گیارہ عورتیں اکٹھی ہوئیں اور شرط باندھی کہ آپس میں سچ بولیں گی اور اپنے شوہروں کی کوئی بات نہیں چھپائیں گی ۔ پس ان میں سے پہلی نے کہا : میرا خاوند دبلے اونٹ کے گوشت جیسا ہے ، جو پہاڑ کے اوپر ہو ( جسے کوئی پسند نہیں کرتا نہ اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ اس کے حصول کے لئے کوئی تکلیف گوارا کرتا ہے ۔) نہ ہموار ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور نہ موٹا ہے کہ اسے منتقل کیا جائے ۔ دوسری نے کہا : میرا خاوند اپنی بات پوری نہیں کرتا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کے حالات بیان کرنا چھوڑ نہ دوں ۔ اگر بیان کروں گو ہر چھوٹی بڑی چیز بیان کر دوں ( کیونکہ وہ بہت طول طویل ہے ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا : میں ڈرتی ہوں کہ اس سے جدا ہونے پہ قدرت نہ پاؤں ، کیونکہ اسی کے نطفہ سے میری اولاد ہے ۔ ) اور تیسری نے کہا : میرا خاوند بدخلق تلخ مزاج ہے ( یا لمبا تڑنگا دبلا پتلا ہے ۔ ) کہ اگر میں اس کے عیبوں میں گفتگو کروں تو مجھے طلاق دے دے اور اگر خاموش رہوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ، وہ مجھے طلاق نہ دے ۔ چوتھی نے کہا : میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو لپٹ جاتا ہے ۔ اگر پیتا ہے تو سب ہی پی لیتا ہے اور جب سوتا ہے تو گہرا اور گھنا سمٹا ہوا ہے ۔ اپنا ہاتھ اندر داخل نہیں کرتا کہ عورت کا عیب معلوم کرے ۔ پانچویں نے کہا : میرا خاوند تو بالکل ڈھیلا ڈھالا ، نامراد بات کرنے سے عاجز ہے ۔ ہر بیماری اس کو ہے ۔ زخمی ہے ۔ کندھے موٹے ہیں یہاں تک کہ اس نے تیرے لئے تمام کو اکٹھا کیا ہے ۔ چھٹی نے کہا : میرا خاوند تو تہامہ کی رات کی طرح ہے ( یعنی کوئی تکلیف نہیں دیتا ) نہ گرم ہے ، نہ ٹھنڈا ہے ، کوئی ڈر خوف نہیں ۔ ساتویں نے کہا : میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح سو رہتا ہے ( گھر کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا ۔ بعض نے کہا : چیتے کی طرح میرے اوپر کود پڑتا ہے یکبارگی جماع میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر کی طرح بہادر ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے وعدہ کیا ہو۔ آٹھویں نے کہا : میرا خاوند ایسا ہے کہ اس کے جسم سے زرنب ( زعفران ) جیسی خوشبو آتی ہے اور ہاتھ لگاؤ تو اس کا جسم خرگوش کی طرح ملائم اور نرم ہے ۔ میں تو اس پر غالب ہوں ، لیکن لوگوں پر وہ غالب ہے ۔ نویں نے کہا : میرا خاوند بلند ستون والا ( مشہور ) ہے ۔ لمبے قد والا ہے ۔ بڑی راکھ والا ( سخی ) ہے ۔ اس کا گھر لوگوں کے قریب ہے ۔ دسویں نے کہا : میرا خاوند " ابو مالک " ہے اور ابو مالک کون ہوتا ہے ؟ مالک اس سے بہتر ہے ۔ اس کے اونٹ ہیں ، جن کے چلنے کے راستے تو تھوڑے ہیں ، لیکن بیٹھنے کی جگہیں زیادہ ہیں جب عورتیں مزاھر ( سارنگیوں یا مہمانوں کے لئے آگ جانے والوں ) آواز سنیں تو یقین کر لیں کہ وہ ہلاک ہونے والی ہیں ۔ گیارھویں نے کہا : میر اخاوند ابو زرع ہے اور ابو زرع کون ہے ؟ اس نے زیور پہنا کر میرے دونوں کان لٹکا کر ہلا دیئے ۔ میرے دونوں بازوؤں کو چربی سے بھر دیا ۔ وہ میری ذات سے خوش ہوئے اور میں نے ان کو حاصل کر کے فخر محسوس کیا۔ اس نے ایک حصے کے ساتھ مجھے غنیمت میں پایا تو وہ مجھے اسے لوگوں کے پاس لے گیا، جو بھوڑے جیسی آواز نکالنے والے ، خراٹے مارنے والے ، کوٹ کر غلہ صاف کرنے والے اور آواز نکالنے والے تھے۔ میں باتیں کرتی ہوں تو بری نہیں ٹھہرتی ہوں ( یعنی وہ مجھے کسی بات پر ملامت نہیں کرتا کیونکہ وہ میری عزت نفس کا خیال رکھتا ہے اور اسے مجھ سے محبت ہے ۔ ) سوتی ہوں تو صبح کے وقت سوتی ہوں۔ پس میں اس کے پاس پیتے پیتے ٹھہر جاتی ہوں ( یعنی اس قدر کثرت سے دودھ یا شربت ہوتا ہے کہ یکبارگی پیا ہی نہیں جا سکتا یا معنی یہ ہے کہ سیراب ہونے کے بعد زبردستی پیتی ہوں ۔یہ خاوند کی تعریف ہے کہ وہ کھانے پینے کو بہت دیتا ہے ) ام زرع ہے اور ام زرع کون ہے ؟ اسکی تھیلی بوجھل ہے یعنی مال بہت زیادہ ہے ۔ اس کا گھر وسیع ہے ۔ ابن ابو زرع ہے اور ابن زرع کون ہے ؟ اس کا بستر اس طرح ہے جس طرح چمڑے کی کاٹی ہوئی لمبی پٹی نکالنے کا مقام ہوتا ہے اور بکری یا بھیڑ کے موٹے تازے بچے کا بازو کھا کر وہ سیر ہوتا ہے۔ بنت ابو زرع اور بنت ابو زرع کیا ؟ اپنے باپ کی خوشی اور اپنی ماں کی بھی خوشی کا سبب ہے ۔ اس کی بڑی چادر بھری ہوئی ۔ اس کی پڑوسی عورتیں اس سے غصہ کرتی ہیں اور ابو زرع کی لونڈی ( خادمہ ) ہے اور ابو زرع کی لونڈی کیسی ہے ؟ وہ ہماری بات کو پھیلاتی نہیں ہے ۔ وہ ہماری چغلی کھا کر فساد نہیں ڈالتی ہے ۔ ہمارے گھر کو پرندوں کے گھونسلے بنا کر نہیں بھرتی ابوزرع میرے پاس سے نکلا ، اس حال میں کہ دودھ کی مشکوں کا مکھن نکالا جا رہا تھا۔ وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا ، جس کے دو چیتوں جیسے دو بیٹے تھے ۔ وہ دونوں اس کے پہلے کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ۔ پس ابو زرع نے اس سے شادی کر لی اور مجھے طلاق دی تو اس کے بعد میں نے ایک شریف جوان سے شادی کی جو خریداروں کو دکھانے کیلئے گھوڑے پر سوار ہوتا ہے ۔ خطی ( خط کی طرح سیدھا نیزہ پکڑے نے والا ہے ۔ اس نے مجھے بہت زیادہ نعمتیں عطا کی ہیں ۔ ہر نعمت کا جوڑا ( دو ) دیا۔ کہا : اے ام زرع ! تو ( خوب سیر ہو کر ) کھا اور اپنے اہل و عیال کے لئے خوراک مہیا کر ۔ پس اگر میں ہر اس چیز کو اکٹھا کروں جو اس سے مجھے ملی ہے اور ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوٹے برتن میں رکھوں تو وہ نہیں بھرتا ہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : میں تیرے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع، ام زرع کے لئے تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← معاذ بن المثنى و عبد الله بن أحمد بن حنبل

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19219

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19220

269 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا زيد بن المبارك ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون و عبد الله بن أحمد بن حنبل قالا ثنا أبو خيثمة زهير بن حرب ثنا ريحان بن سعيد ثنا عباد بن منصور عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت Y قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع ) فقلت : يا رسول الله وما أبو زرع و أم زرع ؟ قال : ( اجتمعن عشر نسوة فأقسمن ليصدقن عن أزواجهن فقالت إحداهن : زوجي لا أخبر خبره أخشى أن لا أذره قالت الأخرى : هو العشنق إن أسكت أعلق وإن أنطق أطلق قالت الأخرى : هو لحم جمل غث على جبل لا سمين فيرتقى إليه ولا سهل فينتقل قالت الأخرى : هو إذا أكل لف وإن شرب اشتف ولا يدخل الكف فيخرج البث قالت الأخرى : هو ليل تهامة لا حر ولا قر ولا مخافة قالت الأخرى : هو إذا دخل فهد وإذا خرج أسد ولا يسأل عما عهد قالت الأخرى : الريح ريح زرنب والمس مس أرنب وإنما أغلبه والناس يغلب قالت الأخرى : هو طويل الزناد رفيع العماد عظيم الرماد قريب البيت من الناد قالت الأخرى : هو مالك وما مالك ؟ له إبل كثيرات المسالك قليلات المبارك إذا سمعن صوت المزمار أيقن أنهن هوالك قالت الأخرى : هو أبو زرع وما أبو زرع ؟ صاحب نعم وزرع آنسني فآنست من حلي أذني ومن شحم عضدي وبجحني فبجحت إلى نفسي فعنده أرقد فأتصبح وأشرب فأتقمح وأقول فلا أقبح أخذني من أهل بيت بشق فجعلني في أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق ابن أبي زرع وما ابن أبي زرع ؟ مرقده كالشطبة ويكفيه ذراع القصبة بنت أبي زرع وما بنت أبي زرع ؟ ملء كسائها وعطف ردائها وقرة عين لأبيها وأمها وزين لأهلها وغير مجاز بها خادم أبي زرع وما خادم أبي زرع ؟ لا تفشي حديثنا تبثيثا ولا تفسد ميرتنا تنقيثا فخرج من عندي أبو زرع والأوطاب تمخض فرأى امرأة معها ابنان لها كالفهدين يلعبان من تحتها برمانتين فنكحها وطلقني فنكحت بعده شابا سريا فخرج شحيا وأخذ خطيا فساق نعما ثريا وأعطاني من كل سائمة زوجا وقال : ميري أهلك يا أم زرع فقلت : لو كان هذا أجمع في وعاء من أوعية أبي زرع لم تمله قالت عائشة : فقلت يا رسول الله أنت خير لي من أبي زرع لأم زرع

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تیرے لیے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا ۔ میں نے عرض کہ : اے اللہ کے رسول ! ابو زرع کون تھا اور ام زرع کون تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : دس عورتیں اکٹھی ہوئیں۔ انہوں نے قسم کھائی کہ اپنے شوہروں کے بارے میں سچ بولیں گی ۔ پس ان میں سے ایک نے کہا : میں اس کی پوری بات نہیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میں اس کے حالات بیان کرنا چھوڑ نہ دوں ۔ ( کیونکہ وہ بہت طول طویل ہے ۔ بعض نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا : میں ڈرتی ہوں کہ اس سے جدا ہونے پہ قدرت نہ پاؤں ، کیونکہ اسی کے نطفہ سے میری اولاد ہے ۔ ) دوسری نے کہا : بدخلق تلخ مزاد ہے ( لمبا تڑنگا دبلا پتلا ہے ۔ ) اگر خاموش رہوں تو یوں ہی لٹکی رہوں ، وہ مجھے طلاق نہ دے اور اگر میں اس کے عیبوں میں گفتگوں کروں تو مجھے طلاق دے دے ۔ ایک اور نے کہا : وہ دبلے اونٹ کے گوشت جیسا ہے ، جو پہاڑ ہر پڑا ہو۔ کمزور ہے موٹا نہیں ہے کہ اس پر چڑھا جائے اور آسان نہیں ہے کہ اسے منتقل کیا جائے ۔ ایک اور نے کہا : جب وہ کھاتا ہے تو ؛لپٹ جاتا ہے جب پیتا ہے تو سب ہی پی لیتا ہے اور جب سوتا ہے تو گہرا اور گھنا سمٹا ہوا ہے ۔ اپنا ہاتھ اندر داخل نہیں کرتا کہ عورت کے عیب معلوم کرے ۔ ( بعض نے کہا : یہ الفاظ مرد کی مدح ہیں ، لیکن بعض نے کہا :یعنی وہ تہامہ کی رات کی طرح ہے ( یعنی کوئی تکلیف نہیں دیتا ) نہ گرم ہے ، نہ ٹھنڈا ہے ، کوئی ڈر خوف نہیں ۔ ایک اور نے کہا : جب وہ گھر میں آتا ہے تو چیتے کی طرح سو رہتا ہے ( گھر کے کاموں کی پرواہ نہیں کرتا۔ بعض نے کہا : چیتے کی طرح میرے اوپر کود پڑتا ہے یکبارگی جماع میں مشغول ہو جاتا ہے ۔ ) اور جب باہر نکلتا ہے تو شیر کی طرح بہادر ہوتا ہے ۔ اس کے بارے میں سوال نہیں کرتا جو اس نے وعدہ کیا ہو۔ ایک اور نے کہا : وہ ایسا ہے کہ اس کے جسم سے زرنب ( زعفران ) جیسی خوشبو آتی ہے اور ہاتھ لگاؤ تو اس کا جسم خرگوش کی طرح ملائم اور نرم ہے ۔ میں تو اس پر غالب ہوں ، لیکن لوگوں پر وہ غالب ہے ۔ ایک اور عورت نے کہا : وہ بلند ستون والا ( مشہور ) ہے ۔ لمبے قد والا ہے ۔ بڑی راکھ والا ( سخی ) ہے ۔ اس کا گھر لوگوں کے قریب ہے اور نے کہا : میرا خاوند " ابو مالک " ہے اور ابو مالک کون ہوتا ہے ؟ اونٹوں والا، جن کے چلنے کے راستے تو بہت ہوں ، لیکن بیٹھنے کی جگہیں کم ہوں جب عورتیں سا رنگیوں کی آواز سنیں تو یقین کر لیں کہ وہ ہلاک ہونے والی ہیں ۔ ایک اور نے کہا : میرا خاوند ابو زرع ہے اور ابو زرع کون ہے ؟ نعمتوں اور کھیتوں کا مالک ہے ۔ وہ مجھ سے مانوس ہے اور میں اپنے کانوں کے زیور اور اپنے دونوں بازوؤں کی چربی سے مانوس ہوں ۔ وہ میری ذات سے خوش ہوئے اور میں نے ان کو حاصل کر کے فخر محسوس کیا۔ پس میں اس کے پاس سوتی ہوں تو صبح کے وقت سوتی ہوں۔ پس میں اس کے پاس پیتے پیتے ٹھہر جاتی ہوں ( یعنی اس قدر کثرت سے دودھ یا شربت ہوتا ہے کہ یکبارگی پیا ہی نہیں جا سکتا یا معنی یہ ہے کہ سیراب ہونے کے بعد زبردستی پیتی ہوں ۔ یہ خاوند کی تعریف ہے کہ وہ کھانے پینے کو بہت دیتا ہے ) اور میں باتیں کرتی ہوں تو بری نہیں ٹھہرتی ہوں ( یعنی وہ مجھے کسی بات پر ملامت نہیں کرتا کیونکہ وہ میری عزت نفس کا خیال رکھتا ہے اور اسے مجھ سے محبت ہے ۔ ) پس اس نے گھر والوں کے پاس سے ایک پہلو سے پکڑا اور وہ مجھے ایسے لوگوں کے پاس لے گیا، جو گھوڑے جیسی آواز نکالنے والے خراٹے مارنے والے ، کوٹ کر غلہ صاف کرنے والے اور آواز نکالنے والے تے ۔ ابن ابو زرع اور ابن زرع کون ؟ اس کا بستر اس طرح ہے ، جس طرح چمڑے کی کاٹی ہوئی لمبی پٹی نکالنے کا مقام ہوتا ہے اور اسے قصاب کا بکری کا کاٹا ہوا بازو کافی ہوتا ہے ۔ بنت ابو زرع اور بنت ابو زرع کیا ؟ اس کی بڑی چادر بھری ہوئی ، اس کی دوسری چادر لپیٹنے والی ہے اور اپنے باپ اور اپنی ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سبب ہے ۔ اپنے گھر والوں کے لئے سجاوٹ ہے اور وہ رضاکار ہے اور ابو زرع کی لونڈی ( خادمہ ) ہے اور ابو زرع کی لونڈی کیسی ہے ؟ وہ ہمارا راز افشاں نہیں کرتی ہے ۔ وہ ہماری چغلی کھا کر فساد نہیں ڈالتی ہے ۔ ابو زرع میرے پاس سے نکلا، اس حال میں کہ دودھ کی مشکوں کا مکھن نکالا جا رہا تھا۔ اس نے ایک ایسی عورت کو دیکھا ، جس کے دو چیتے جیسے دو بیٹے تھے ۔ وہ دونوں اس کے نیچے دو اناروں سے کھیل رہے تھے ۔ پس ابو زرع نے اس سے شادی کر لی اور مجھے طلاق دے دی تو اس کے بعد میں نے ایک شریف جوان سے شادی کی جو کسی لالچ کی بنیاد پر گھر سے نکلتا ہے ۔ خطی ( خط کی طرح سیدھا ) نیزہ پکڑنے والا ہے ۔ اس نے بہت زیادہ نعمتیں مہیا کی ہیں ۔ اس نے مجھے ہر چرنے والے جانور کا ایک جوڑا ( دو ) دیا ہے ۔ اس نے کہا : اے ام زرع ! تو ( خوب سیر ہو کر ) کھا اور اپنے اہل و عیال کے لئے خوراک مہیا کر۔ میں کہتی ہوں : پس اگر میں ہر چیز ابو زرع کے برتنوں میں سے سب سے چھوتے برتن میں اکٹھا کروں تو وہ نہیں بھرتا ہے ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! آپ میرے لئے ابو زرع سے بہتر ہیں ، جیسے وہ ام زرع کے لئے تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← ريحان بن سعيد ← أبو خيثمة زهير بن حرب ← موسى بن هارون و عبد الله بن أحمد بن حنبل ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19220

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19221

270 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا عبد العزيز بن محمد بن زبالة المخزومي قال ثنا عبد الجبار بن سعيد المساحقي ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y ( يا عائشة كنت لك كأبي زرع لأم زرع إلا أن أبا زرع طلق وأنا لا أطلق )

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تمہارے لئے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا مگر ابو زرع نے طلاق دے دی تھی اور میں طلاق نہیں دوں گا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ الْمُسَاحِقِيُّ ← عبد العزيز بن محمد بن زبالة المخزومي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19221

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ طرق حديث أم زرع وحسن عشرة النبي صلى الله عليه و سلم عائشة · حديث 19222

271 - حدثنا أبو حصين محمد بن الحسين القاضي و محمد بن عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا عبيد بن يعيش ثنا يحيى بن يعلى ثنا عبد الكريم أبو بكر الشامي عن يونس بن أبي إسحاق عن هشام بن عروة عن أبي عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y ( كنت لك كأبي زرع لأم زرع

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مجھے فرمایا : میں تمہارے لیے ایسے ہوں جیسے ابو زرع ، ام زرع کے لئے تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو بَكْرٍ الشَّامِيُّ ← يحيى بن يعلى ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19222

chevron_left Previous
1…444546…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter