المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب تأويل قوله { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة } الآية · حديث 19175
224 - حدثنا داود بن محمد بن صالح ثنا العباس بن الوليد النرسي ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة Y في قوله { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة } إلى قوله { والمساكين } يقول : لا يحلف أولوا الفضل منكم والسعة { أن يؤتوا أولي القربى } إلى قوله { غفور رحيم } نزلت هذه الآية في رجل من قريش يقال له مسطح كان بينه وبين أبي بكر قربة وكان يتيما في حجره وكان ممن أذاع على عائشة ما أذاع فلما أنزل الله براءتها وعذرها آلى أبو بكر أن لا يرزأه فقال : أما تحب أن يغفر الله لك ؟ قال : بلى قال : فاعف وتجاوز قال أبو بكر : لا جرم لا أمنعه معروفا كنت أوليه إياه قبل اليوم
حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں مروی ہے: " اور قسم نہ کھائیں تم میں سے فضیلت اور مالی وسعت والے" اللہ تعالیٰ کے اس قول تک " اور مسکینوں پر" ۔ فرماتے ہیں: قسم نہ کھائیں تم میں سے فضیلت والے کہ وہ قریبی رشتہ داروں کو نہیں دیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول تک" اللہ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ " یہ آیت کریمہ قریش کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی، جس کا نام مسطح تھا۔ اس کے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان قریبی رشتہ داری تھی۔ وہ یتیم تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گود میں پرورش پائی تھی۔ وہ بھی ان لوگوں میں سے تھا، جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خلاف جانےوالی باتوں کو عام کیا، جو عام کیا۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان کی برأت اور عذر نازل کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قسم کھالی کہ آپ اس پر خرچ کرنے کی تکلیف برداشت نہیں کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا آپ کو پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے۔ عرض کی: کیوں نہیں۔ فرمایا: معاف کرو اور درگذر کرو۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: یقینا ً میں نیکی کرنے سے نہیں رکوں گا، جو آج کے دن سے پہلے میں اس سے کیا کرتا تھا۔
سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← داود بن محمد بن صالح
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19175
