المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب تأويل قول الله { والذي تولى كبره } الآية · حديث 19127
176 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا بن جعفر ثنا شعبة عن سليمان الأعمش قال سمعت أبا الضحى يحدث عن مسروق قال Y دخلت على عائشة وعندها حسان بن ثابت ينشدها شعرا يشبب بأبيات له : ( حصان رزان ما تزن بريبة ... وتصبح غرثى من لحوم الغوافل ) فقالت له عائشة : لست كذلك قال مسروق : فقلت لها أتأذنين له أن يدخل عليك وقد قال الله { والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم } ؟ فقالت : وأي عذاب أشد من العمى ؟ فقالت : إنه ينافح أو يهاجم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم
حضرت مسروق فرماتے ہیں : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ ان کے پاس حضرت حسان بن ثابت وہاں بیٹھ کر انہیں شعر سنا رہے تھے: " وہ پاکدامن ' صاحب الرائے ہیں'ان پر شک نہیں کیا جا سکتا' وہ کسی کی غیبت نہیں کرتیں " ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے فرمایا: تو اس طرح نہیں ہے۔ حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: کیا آپ ان کو اپنے پاس آنے کی اجازت دیتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عظیم"۔ فرمایا: نابینا پن سے کون سا عذاب بڑا ہے۔
مَسْرُوقٍ ← أَبَا الضُّحَی ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← بن جعفر، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19127
