المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19103
152 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن مقسم عن عائشة قالت Y دخلت على أم مسطح على عظم أو شوكة فقالت : تعس مسطح فقلت بئس ما قلت رجل من أصحاب رسول الله عليه السلام فقالت : أشهد أنك من الغافلات المؤمنات أتدرين ما قد طار عليك ؟ قلت : لا والله قالت : متى عهد رسول الله بك ؟ قلت : رسول الله بفعل في أزواجه ما أحب يبدأ بمن أحب منهن ويأتي من أحب قالت : فإنه طبق عليك كذا وكذا فخررت مغشيا علي فبلغ أم رومان أمي فلما بلغها الأمر أتتني فحملتني فذهبت إلى بيتها فبلغ رسول الله أن عائشة قد بلغها الأمر فجاء إليها فدخل عليها وجلس عندها وقال : ( يا عائشة إن الله قد وسع التوبة ) فازددت شرا إلى ما بي فبينا نحن كذلك إذ جاء أبو بكر فدخل علي فقال : يا رسول الله ما تنتظر بهذه التي خانتك وفضحتني ؟ قالت : فازددت شرا إلى شر قالت : فأرسل إلى علي فقال : ( يا علي ما ترى في عائشة ؟ ) قال : الله ورسوله أعلم قال : ( لتخبرني ما ترى في عائشة ) قال : قد وسع الله النساء ولكن أرسل إلى بريرة خادمتها فسلها فعسى أن تكون قد اطلعت على شيء من أمرها فأرسل إلى بريرة فجاءت فقال لها : ( أتشهدين أني رسول الله ؟ ) قالت : نعم قال : ( فإني سائلك عن شيء فلا تكتميني ) قالت : نعم يا رسول الله ما من شيء تسألني عنه إلا أخبرتك به ولا أكتمك إن شاء الله شيئا قال : ( قد كنت عند عائشة فهل رأيت منها ما تكرهينه ؟ ) قالت : لا والذي بعثك بالنبوة ما رأيت منها مذ كنت عندها إلا خلة قال : ( وما هي ؟ ) قالت : عجنت عجينا لي فقلت لعائشة : احفظي هذه العجينة حتى أقتبس نارا فأخبز فقامت تصلي فغفلت عن الخمير فجاءت شاة فأكلتها فأرسل إلى أسامة فقال : ( يا أسامة ما ترى في عائشة ؟ ) قال : الله ورسوله أعلم قال : ( لتخبرني بما ترى فيها ) قال : فإني أرى أن تمسك فيها حتى يحدث الله إليك فيها قالت : فما كان إلا يسيرا حتى نزل الوحي فلم يزل يرى في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم السرور وجاء عذرها من السماء يعني من الله فقال رسول الله : ( أبشري يا عائشة ثم أبشري يا عائشة فقد أنبأني الله بعذرك ) فقلت : بغير حمدك وحمد صاحبك قالت : فعند ذلك تكلمت وكانت إذا أتاها يقول : ( كيف تيكم ؟ )
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں؛ حضرت ام مسطح میرے پاس آئیں۔ پس ہم کھلی زمین کی طرف نکلیں۔ ان کا پاؤں کسی ہڈی یا کانٹے پر آ گیا۔ پس انہوں نے کہا: مسطح ہلاک ہو۔ میں نے کہا: تو نے کتنی بری بات کی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے۔ کہا: میں گواہی دیتی ہوں تو بھولی بھالی مؤمن عورتوں سے ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں ، تیرے بارے کیا باتیں گردش کر رہی ہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ بخدا! کہا: رسول کریم نے تیرے ساتھ کب ملاقات کی؟ میں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج سے اپنی پسند کا سلوک کرتے ہیں۔ وہ اسی سے شروع کرتے ہیں، جس سے شروع کرنا انہیں پسند ہو اور ااسی کے پاس آتے ہیں ، جو انہیں پسند ہو۔ کہا: کیونکہ اس نے تیرے اور پر یہ یہ بہتان باندھا ہے۔ یہ سنتے ہی میں غش کھا کر گر پڑی ۔ حضرت ام رومان کو یہ بات پہنچی۔ جوں ہی انہیں پتا چلا تو وہ میرے پاس آئیں۔ وہ مجھے اٹھا کراپنے گھر لےگئیں۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا چلا کہ حضرت عائشہ کو ان کے معاملے کی خبر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے، ان کے پاس داخل ہو کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ فرمایا: اے عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے (میری امت کےلئے خصوصا) توبہ کی آسانی پیدا کی ہے۔ یہ سن کر میری تکلیف میں اور اضافہ ہو گیا۔ ہم اسی حال پر تھے جب حضرت ابو بکر آئے۔ وہ میرے پاس داخل ہوئے۔ فرمایا: اے اللہ کے رسول ! اس عورت کے حوالے سے کس چیز کا انتظار ہے۔ جس نے (لوگوں کے خیال کے مطابق ) آپ سے خیانت کی اور مجھے رسوا کر دیا۔ فرماتی ہیں: یہ سن کر میری تکلیف اور بڑھ گئی۔ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کی طرف آدمی بھیجا۔ (جب وہ آئےتو ) فرمایا: اے علی ! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ فرمایا: حضرت عائشہ کے بارے میں اپنے خیال سے تو مجھے آگاہ کرو! عرض کی: اللہ نے بہت عورتیں پیدا فرمائی ہیں، لیکن آپ ان کی خاص خادمہ حضرت بریرہ کو بلوا کر پوچھیں! ممکن ہے، وہ ان کی کوئی بات آپ کو بتا دے۔ پس آپ نے حضرت بریرہ کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ آئیں تو فرمایا: کیا تو گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں؟ عرض کی ہاں ۔ فرمایا: میں تجھ سے ایک بات پوچھنے والا ہوں۔ تو نے مجھ سے نہیں چھپانی۔ عرض کی : ہاں اے اللہ کے رسول ! آپ جو بات بھی مجھ سے دریافت کریں گے ، میں آپ کو صحیح صحیح جواب دوں گی اور کوئی چیز نہیں چھپاؤں گی۔ ان شاء اللہ۔ فرمایا: تو (کافی عرصہ) حضرت عائشہ کے ساتھ رہی۔ کیا تو نے اس سے کوئی نا پسندیدہ بات دیکھی؟ عرض کی: نہیں۔ قسم ہے، اس ذات کی جس نے آپ کو نبوت دے کر مبعوث فرمایا! میں جب سے ان کے ساتھ ہوں، میں نے ان میں خوبی ہی دیکھی ہے۔ فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی میں نے اپنے لئے آٹا گوندھ کر حضرت عائشہ سے عرض کی: اس آٹے کی حفاظت کرنا یہاں تک کہ میں (پڑوسیوں سے) آگ لے آؤں اور روٹیاں پکاؤں۔ پس وہ اُٹھ کر نمازادا کرنے لگ گئیں اور آٹے سے بے خبر ہو گئیں۔ بکری آئی اور اسے کھا گئی۔ پس آپ نے حضرت اسامہ کی طرف بھی آدمی بھیجا۔ (جب وہ آئےتو ) فرمایا: اے اسامہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: حضرت عائشہ کے بارے میں اپنے خیال سے تو مجھے آگاہ کرو! عرض کی: میرا خیال ہے آپ (صبرسے) انتظار فرمائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آپ سے کوئی بات بتا دے۔ فرماتی ہیں: اس کے بعد زیادہ دیر نہ گزری کہ وحی اتری۔ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں خوشی دیکھی جاتی رہی۔ اور ان کا عذر آسمان سے آیا یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! تجھے بشارت ہو پھر بشارت ہو اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے عذر سے آگاہ کر دیا۔ میں نے کہا: آپ کے اور آپ کے صحابی (ابو بکر) کے شکریہ کے بغیر۔فرماتی ہیں: پس اس وقت میں نے کلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان کے پاس آیا کرتے تھے تو کہتے : آپ کا کیا حال ہے؟
دخلت على أم مسطح على عظم أو شوكة ← عَائِشَةَ ← مِقْسَمٍ، ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19103
