Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19103

152 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا عتاب بن بشير عن خصيف عن مقسم عن عائشة قالت Y دخلت على أم مسطح على عظم أو شوكة فقالت : تعس مسطح فقلت بئس ما قلت رجل من أصحاب رسول الله عليه السلام فقالت : أشهد أنك من الغافلات المؤمنات أتدرين ما قد طار عليك ؟ قلت : لا والله قالت : متى عهد رسول الله بك ؟ قلت : رسول الله بفعل في أزواجه ما أحب يبدأ بمن أحب منهن ويأتي من أحب قالت : فإنه طبق عليك كذا وكذا فخررت مغشيا علي فبلغ أم رومان أمي فلما بلغها الأمر أتتني فحملتني فذهبت إلى بيتها فبلغ رسول الله أن عائشة قد بلغها الأمر فجاء إليها فدخل عليها وجلس عندها وقال : ( يا عائشة إن الله قد وسع التوبة ) فازددت شرا إلى ما بي فبينا نحن كذلك إذ جاء أبو بكر فدخل علي فقال : يا رسول الله ما تنتظر بهذه التي خانتك وفضحتني ؟ قالت : فازددت شرا إلى شر قالت : فأرسل إلى علي فقال : ( يا علي ما ترى في عائشة ؟ ) قال : الله ورسوله أعلم قال : ( لتخبرني ما ترى في عائشة ) قال : قد وسع الله النساء ولكن أرسل إلى بريرة خادمتها فسلها فعسى أن تكون قد اطلعت على شيء من أمرها فأرسل إلى بريرة فجاءت فقال لها : ( أتشهدين أني رسول الله ؟ ) قالت : نعم قال : ( فإني سائلك عن شيء فلا تكتميني ) قالت : نعم يا رسول الله ما من شيء تسألني عنه إلا أخبرتك به ولا أكتمك إن شاء الله شيئا قال : ( قد كنت عند عائشة فهل رأيت منها ما تكرهينه ؟ ) قالت : لا والذي بعثك بالنبوة ما رأيت منها مذ كنت عندها إلا خلة قال : ( وما هي ؟ ) قالت : عجنت عجينا لي فقلت لعائشة : احفظي هذه العجينة حتى أقتبس نارا فأخبز فقامت تصلي فغفلت عن الخمير فجاءت شاة فأكلتها فأرسل إلى أسامة فقال : ( يا أسامة ما ترى في عائشة ؟ ) قال : الله ورسوله أعلم قال : ( لتخبرني بما ترى فيها ) قال : فإني أرى أن تمسك فيها حتى يحدث الله إليك فيها قالت : فما كان إلا يسيرا حتى نزل الوحي فلم يزل يرى في وجه رسول الله صلى الله عليه و سلم السرور وجاء عذرها من السماء يعني من الله فقال رسول الله : ( أبشري يا عائشة ثم أبشري يا عائشة فقد أنبأني الله بعذرك ) فقلت : بغير حمدك وحمد صاحبك قالت : فعند ذلك تكلمت وكانت إذا أتاها يقول : ( كيف تيكم ؟ )

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں؛ حضرت ام مسطح میرے پاس آئیں۔ پس ہم کھلی زمین کی طرف نکلیں۔ ان کا پاؤں کسی ہڈی یا کانٹے پر آ گیا۔ پس انہوں نے کہا: مسطح ہلاک ہو۔ میں نے کہا: تو نے کتنی بری بات کی ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صحابی ہے۔ کہا: میں گواہی دیتی ہوں تو بھولی بھالی مؤمن عورتوں سے ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں ، تیرے بارے کیا باتیں گردش کر رہی ہیں؟ میں نے کہا: نہیں۔ بخدا! کہا: رسول کریم نے تیرے ساتھ کب ملاقات کی؟ میں نے کہا: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی ازواج سے اپنی پسند کا سلوک کرتے ہیں۔ وہ اسی سے شروع کرتے ہیں، جس سے شروع کرنا انہیں پسند ہو اور ااسی کے پاس آتے ہیں ، جو انہیں پسند ہو۔ کہا: کیونکہ اس نے تیرے اور پر یہ یہ بہتان باندھا ہے۔ یہ سنتے ہی میں غش کھا کر گر پڑی ۔ حضرت ام رومان کو یہ بات پہنچی۔ جوں ہی انہیں پتا چلا تو وہ میرے پاس آئیں۔ وہ مجھے اٹھا کراپنے گھر لےگئیں۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتا چلا کہ حضرت عائشہ کو ان کے معاملے کی خبر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آئے، ان کے پاس داخل ہو کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ فرمایا: اے عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے (میری امت کےلئے خصوصا) توبہ کی آسانی پیدا کی ہے۔ یہ سن کر میری تکلیف میں اور اضافہ ہو گیا۔ ہم اسی حال پر تھے جب حضرت ابو بکر آئے۔ وہ میرے پاس داخل ہوئے۔ فرمایا: اے اللہ کے رسول ! اس عورت کے حوالے سے کس چیز کا انتظار ہے۔ جس نے (لوگوں کے خیال کے مطابق ) آپ سے خیانت کی اور مجھے رسوا کر دیا۔ فرماتی ہیں: یہ سن کر میری تکلیف اور بڑھ گئی۔ فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کی طرف آدمی بھیجا۔ (جب وہ آئےتو ) فرمایا: اے علی ! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ فرمایا: حضرت عائشہ کے بارے میں اپنے خیال سے تو مجھے آگاہ کرو! عرض کی: اللہ نے بہت عورتیں پیدا فرمائی ہیں، لیکن آپ ان کی خاص خادمہ حضرت بریرہ کو بلوا کر پوچھیں! ممکن ہے، وہ ان کی کوئی بات آپ کو بتا دے۔ پس آپ نے حضرت بریرہ کی طرف پیغام بھیجا۔ وہ آئیں تو فرمایا: کیا تو گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں؟ عرض کی ہاں ۔ فرمایا: میں تجھ سے ایک بات پوچھنے والا ہوں۔ تو نے مجھ سے نہیں چھپانی۔ عرض کی : ہاں اے اللہ کے رسول ! آپ جو بات بھی مجھ سے دریافت کریں گے ، میں آپ کو صحیح صحیح جواب دوں گی اور کوئی چیز نہیں چھپاؤں گی۔ ان شاء اللہ۔ فرمایا: تو (کافی عرصہ) حضرت عائشہ کے ساتھ رہی۔ کیا تو نے اس سے کوئی نا پسندیدہ بات دیکھی؟ عرض کی: نہیں۔ قسم ہے، اس ذات کی جس نے آپ کو نبوت دے کر مبعوث فرمایا! میں جب سے ان کے ساتھ ہوں، میں نے ان میں خوبی ہی دیکھی ہے۔ فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی میں نے اپنے لئے آٹا گوندھ کر حضرت عائشہ سے عرض کی: اس آٹے کی حفاظت کرنا یہاں تک کہ میں (پڑوسیوں سے) آگ لے آؤں اور روٹیاں پکاؤں۔ پس وہ اُٹھ کر نمازادا کرنے لگ گئیں اور آٹے سے بے خبر ہو گئیں۔ بکری آئی اور اسے کھا گئی۔ پس آپ نے حضرت اسامہ کی طرف بھی آدمی بھیجا۔ (جب وہ آئےتو ) فرمایا: اے اسامہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: حضرت عائشہ کے بارے میں اپنے خیال سے تو مجھے آگاہ کرو! عرض کی: میرا خیال ہے آپ (صبرسے) انتظار فرمائیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آپ سے کوئی بات بتا دے۔ فرماتی ہیں: اس کے بعد زیادہ دیر نہ گزری کہ وحی اتری۔ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے میں خوشی دیکھی جاتی رہی۔ اور ان کا عذر آسمان سے آیا یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! تجھے بشارت ہو پھر بشارت ہو اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے عذر سے آگاہ کر دیا۔ میں نے کہا: آپ کے اور آپ کے صحابی (ابو بکر) کے شکریہ کے بغیر۔فرماتی ہیں: پس اس وقت میں نے کلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ان کے پاس آیا کرتے تھے تو کہتے : آپ کا کیا حال ہے؟

دخلت على أم مسطح على عظم أو شوكة ← عَائِشَةَ ← مِقْسَمٍ، ← خُصَيْفٍ ← عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19103

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19104

153 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا زيد بن الحريش ثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي ثنا أبو سعد البقال عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه الأسود قال Y قلت : يا أم المؤمنين أو يا أمتاه ألا تحدثيني كيف كان يعني أمر الإفك ؟ قالت : تزوجني رسول الله عليه السلام وأنا أخوض المطر بمكة وما عندي ما يرغب فيه الرجال وأنا بنت ست سنين فلما بلغني أنه تزوجني ألقى الله علي الحياء ثم إن رسول الله عليه السلام هاجر وأنا معه فاحتملت إليه وقد جاءني وأنا بنت تسع سنين فسار رسول الله مسيرا فخرج بي معه وكنت خفيفة في حدجة لي عليها ستور فإذا ارتحلوا جلست عليها واحتملوا وأنا فيها فشدوها على ظهر البعير فنزلوا منزلا وخرجت لحاجتي فرجعت وقد بادروا بالرحيل فجلست في الحداجة وقد رأوني حين حركت الستور فلما جلست فيها ضربت بيدي على صدري فإذا قد نسيت قلادة كانت معي فخرجت مسرعة أطلبها فرجعت فإذا القوم قد ساورا فإذا أنا لا أرى إلا الغبار من بعيد فإذا هم قد وضعوا الحداجة على ظهر البعير لا يروني إلا أني فيها لما رأوا من خفتي فإذا رجل آخذ برأس بعيره فقلت : من الرجل ؟ قال : صفوان بن المعطل السلمي أم المؤمنين أنت ؟ قلت : نعم قال : إنا لله وإنا إليه راجعون قلت : أدر عني وجهك وضع رجلك على ذراع بعيرك قال : أفعل ونعمة عين وكرامة قالت : فأدركت الناس حين نزلوا فذهب فوضعني عند الحداجة فنظر إلي الناس ولا أشعر قالت : وأنكرت لطف أبوي وأنكرت رسول الله ولا أعلم ما قد كان قيل حتى دخلت خادمتي أو ربيبتي فقالت : كذا قالت : وقال لي رجل من المهاجرين : ما أغفلك فأخذتني حمى نافض فأخذت أمي كل ثوب في البيت فألقته علي فاستشار رسول الله أناسا من أصحابه فقال : ( ما ترون ؟ ) فقال بعضهم : ما أكثر النساء وتقدر على البدل وقال بعضهم : أنت رسول الله وعليك ينزل الوحي وأمرنا لأمرك تبع وقال بعضهم : والله ليبيننه الله فلا تعجل قالت : وقد صار وجه أبي كأنه صب عليه الزرنيخ قالت : فدخل علي رسول الله فرأى ما بي قال : ( ما لهذه ؟ ) قالت أمي : مما لهذه مما قلتم وقيل فلم يتكلم ولم يقل شيئا قالت : فزادني ذلك على ما عندي قالت : وأتاني فقال : ( اتقي الله يا عائشة وإن كنت قارفت من هذا شيئا فتوبي إلى الله فإن الله يقبل التوبة عن عباده ويعفو عن السيئات ) قالت : وطلبت اسم يعقوب فلم أقدر عليه فقلت : غير أني أقول كما قال أبو يوسف { فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون } { إنما أشكو بثي وحزني إلى الله وأعلم من الله ما لا تعلمون } قالت : فبينا رسول الله مع أصحابه ووجهه كأنما ذيب عليه الزرنيخ حتى نزل عليه الوحي وكان إذا أوحي إليه لم يطرف فعرف أصحابه أنه يوحي إليه وجعلوا ينظرون إلى وجهه وهو يتهلل ويسفر فلما قضي الوحي قال : ( أبشر يا أبا بكر قد أنزل الله عذر ابنتك وبراءتها ) فانطلق إليها فبشرها قالت : وقرأ عليه ما نزل في قالت : وأقبل أبو بكر مسرعا يكاد أن ينكب قالت : فقلت بحمد الله لا بحمد صاحبك الذي جئت من عنده فجاء رسول الله فجلس عند رأسي فأخذ بكفي فانتزعت يدي منه فضربني أبو بكر وقال : أتنزعين كفك من رسول الله ؟ أوبرسول الله تفعلين هذا ؟ فضحك رسول الله قالت : فهذا كان أمري

حضرت عبدالرحمٰن بن اسود اپنے والد اسود سے روایت کرتے ہیں' وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے ام المؤمنین ! یا عرض کی: اے امی جان! کیا آپ مجھے واقعۂ افک بیان نہیں فرمائیں گی کہ وہ کیسے ہوا؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس وقت مجھ سے شادی فرمائی تو میرے پاس وہ چیز نہیں تھا جس میں مردوں کو رغبت ہوتی ہے' میری عمر اس وقت چھ سال تھی' جب مجھے معلوم ہوا کہ میری شادی ہوئی ہے تو اللہ نے مجھ پر حیاء ڈال دی' پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو میں آپ کے ساتھ تھی' مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا گیا اس وقت میری عمر نو سال تھی' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کے لئے چلے تو میں بھی اپ کے ساتھ نکلی' میں ہودج میں تھی جس پر پردہ تھا' جب وہ ہودج تیار کیا گیا تو میں اس میں بیٹھی اور اسے اونٹ کی پیٹھ پر باندھا گیا' پھر ہم ایک جگہ اترے تو میں قضائے حاجت کے لئے نکلی ' جب میں واپس ائی تو کجاوہ باندھا ہوا تھا' میں نے پردہ ہٹایا اور اس میں بیٹھی ' جب میں نے غور کیا توا پنے ہار کو نہ پایا جو میرے گلے میں تھا' میں جلدی سے اس کی تلاش میں نکلی' جب میں واپس قافلہ کی جگہ پر آئی تو میں دور غبار اُڑتا دیکھ رہی تھی(یعنی قافلہ جا چکا تھا) انہوں نے ہودج کو اونٹ کی پیٹھ پر رکھا ہوا تھا اور انہیں ہودج میں میرے نہ ہونے کا احساس اس لیے نہ ہوا کہ ان دنوں میں کمزور تھی اور میرا وزن کم تھا۔ پھر میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے اونٹ کی نکیل پکڑے ہوئے پیچھے سےمیری طرف آ رہا تھا' میں نے کہا: تو کون آدمی ہے؟ اس نے کہا: صفوان بن معطل اسلمی! ام المؤمنین آپ ہیں؟میں نے کہا: جی ہاں! صفوان نے پڑھا : انا للہ وانا الیہ راجعون ! میں نے کہا: اپنا چہرہ دوسری طرف کر۔ پھر میں نے اپنا پاؤں اونٹ کے پالان پر رکھا۔ صفوان نے کہا: میں نے ایسا عزت کی وجہ سے کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: میں قافلہ والوں سے ملی جس وقت انہوں نے ایک جگہ قیام کیا' صفوان گئے اور مجھے میرے ہودج کے پاس لے گئے ' لوگ مجھے دیکھ رہے تھے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا۔ حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: مجھے اپنے والدین کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجھ پر مہربانیاں محسوس نہ ہوئیں' مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے؟یہاں تک کہ میری خادمہ میرے پاس آئی' اس نے کہا: لوگ اس اس طرح باتیں کر رہے ہیں۔مہاجرین میں سے ایک آدمی نے مجھے کہا: آپ کو کس نے غافل رکھا؟ یہ سب سن کر مجھے سخت بخار ہو گیا' میری والدہ نے گھر میں موجود تمام کپڑے مجھ پر ڈال دئیے۔ اُدھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے بارے میں صحابہ کرام سے مشورہ کرنے لگے' فرمایا : تم اس بارے میں کیا رائے دیتے ہو؟ بعض نے کہا: یہ اکثر عورتوں کی باتیں ہیں'آپ ان سے بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بعض نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں' آپ پر وحی نازل ہو گی' آپ ہمیں حکم دیں ' ہم آپ کی اتباع کریں گے۔ بعض نے کہا: اللہ عزوجل کی قسم ! اللہ پاک ضرور بیان کر دے گا'آپ جلدی نہ فرمائیں۔ حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : میرے والد کا چہرہ اس طرح ہو گیا جس طرح کہ ان پر زرنیخ ڈالی گئی ہے۔ حضرت سیدہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میری حالت کو دیکھا' فرمایا : یہ کیا ہے؟ میری والدہ نے عرض کی: یہ اس بات کی وجہ سے ہے جو آپ نے اور بعض حضرات نے فرمائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید کچھ نہ فرمایا اور نہ کسی بات کا جواب دیا۔ حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میری خراب حالت میں مزید اضافہ ہوا۔ حضرت سیدہ فرماتی ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے' فرمایا: اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو! اگر کوئی ایسا معاملہ ہے تو اللہ سے توبہ کر کیونکہ اللہ عزوجل اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور غلطیوں کو معاف فرماتا ہے۔ حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت یعقوب کا نام نہیں چاہا'میں نے کہا: تو صبر اچھا ہے اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں ان باتوں پر جو تم بتا رہے ہو' میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی وہ شان معلوم ہے جو تم نہیں جانتے۔ حضرت سیدہ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کےساتھ تھے' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک ایسا تھا گویا کہ اس پر زرنیخ نہ ڈالی گئی ہے' آپ پر وحی اترنا شروع ہو ئی'جب وحی نازل ہوتی تو آپ اِدھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے' آپ کے صحابہ کومعلوم ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے'صحابہ کرام آپ کے چہرۂ مبارک کی طرف دیکھ رہے تھے' آپ کے چہرہ خوشی سے چمک گیا'جب وحی آنا ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا: اے ابو بکر ! خوشخبری ہو! اللہ عزوجل نے تمہاری صاحبزادی کی پاکدامنی بیان فرمائی ہے'جو اس پر تہمت لگی اس سے اسے بری کر دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ' حضرت عائشہ کے پاس آئے اور جو وحی نازل ہوئی تھی وہ پڑھی۔ پھر حضرت ابو بکر جلدی سے آئے'قریب تھا کہ وہ گر جاتے۔ حضرت سیدہ فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کی حمد ہے! جو آپ کے ساتھی(مراد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات تھی) لے کر آئے ہیں اس پر حمد نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرے سر کے پاس بیٹھے ' میری ہتھیلی پکڑی'میں نے اپنا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھڑالیا'حضرت ابو بکر نے مجھے مارا' فرمایا: کیا تو اپنا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چھڑاتی ہے'یا فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے' فرمایا : یہ کام تھا۔

أَبيه الأَسود، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أَبُو سَعْدٍ الْبَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ. ← زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19104

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19105

154 - حدثنا أحمد بن عمرو الخلال المكي ثنا محمد بن أبي عمر العدني حدثنا سفيان بن عيينة عن أبي سعيد الأعور عن عبد الرحمن بن الأسود عن أبيه عن عائشة قالت Y تزوجني رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلي حوف فما هو أن تزوجني حتى ألقى الله علي الحياء والحوف قال والحوف شيء يصنعه الأعراف على الصبيان من سور يلبسه الأعراب أبناءهم

حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے نکاح فرمایا جبکہ مجھ پر "حوف" تھی' پس ان کے مجھ سے شادی کرنے کی دیر تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حیاء کی دولت سے نوازا اور "حوف" بھی۔ راوی فرماتے ہیں: "حوف" ایسی چیز کو کہتے ہیں جو لوگ اپنے بچوں سے کرتے ہیں' مثلاً وہ کنگن جو دیہاتی اپنی اولاد کو پہناتے ہیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أبي سعيد الأعور ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19105

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19106

155 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي قال ثنا هشيم أخبرنا عمر بن أبي سلمة عن أبيه عن عائشة قالت Y لما نزل عذري من السماء جاء النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرني بذلك فقلت : بحمد الله لا بحمدك

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں: جب آسمان سے میرا عذر اترا' نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر مجھے اس کی خبر دی' پس میں نے (پہلے الفاظ) یہ کہے: اللہ کی حمد کرتی نہ کہ آپ کی۔

بذلك فقلت بحمد الله لا بحمدك ← لما نزل عذري من السماء جاء النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← هُشَيْمٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19106

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19107

156 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني ثنا أبو عوانة عن عمر بن أبي سلمة عن أبيه عن عائشة قالت Y رميت بالذي رميت به وأنا غافلة فبينما النبي صلى الله عليه و سلم عندي جالس ثم استوى قاعدا ومسح وجهه فقال : ( يا عائشة أبشري ) قلت : بحمد الله لا بحمدكم ثم قرأ علي هذه الآيات { إن الذين يرمون المحصنات الغافلات المؤمنات } الآيات

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: مجھ پر تہمت لگائی گئی جو لگائی گئی اس حال میں کہ میں بے خبر تھی'اسی دوران کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس بیٹھے ہوئےتھے' پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے' اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا'فرمایا: اے عائشہ ! تجھے خوشخبری ہو!میں نے عرضکی:آپ نہیں 'اللہ کی حمد ہے۔ پھر آپ نے میرے سامنے یہ آیات تلاوت فرمائیں: " ان الذین یرمون الیٰ آخرہٖ"۔

رُمِيتُ بِالَّذِيِ رُمِيتُ بِهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19107

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19108

157 - حدثنا أحمد بن القاسم بن مساور الجوهري ثنا خالد بن خداش ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت Y لما بلغني ما تكلموا به هممت أن آتي قليبا فأطرح نفسي فيه

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب مجھے ان لوگوں کی باتیں معلوم ہوئیں جو انہوں نے میرےبارے میں کی تھیں تو میں نے ارادہ کیا کہ کنویں میں جا کر اس میں چھلانگ لگا دوں۔

لما بلغني ما تكلموا به هممت أن آتي قليبا فأطرح نفسي فيه ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ الْجَوْهَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19108

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19109

158 - حدثنا عبد الله بن الحسن الحراني ثنا أبو شعيب ثنا عبد الله بن جعفر الرقي ثنا ابن المبارك عن مالك بن مغول عن أبي حصين عن مجاهد عن عائشة قالت Y لما قيل فذكره

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب کہا گیا ' پس اس کو ذکرکیا۔

لما قيل فذكره ← عَائِشَةَ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي حَصِينٍ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← أَبُو شُعَيْبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19109

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19110

159 - حدثنا القاسم بن عباد الخطابي ثنا محمد بن حميد الرازي ثنا سلمة بن الفضل و إبراهيم بن المختار عن محمد بن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت Y لما كان من أمر عقدي ما كان قال أهل الإفك ما قالوا فخرجت مع النبي صلى الله عليه و سلم في غزوة أخرى فسقط أيضا عقدي حتى حبس التماسه الناس واطلع الفجر فلقيت من أبي بكر ما شاء الله وقال لي : يا بنية في سفر تكونين عناء وبلاء وليس مع الناس ماء فأنزل الله الرخصة بالتيمم فقال أبو بكر أما والله يا بنية إنك لما علمت مباركة

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: جب میرے ہار والا معاملہ تھا اور بہتان باندھنے والوں نے کہا تھا جو کہا۔ پس مٰں ایک دوسرے غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلی تو میرا ہار گر گیا ' حتیٰ کہ اسے تلاش کرنے کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا اور فجر طلوع ہو گئی۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مجھے تکلیف پہنچی جو اللہ کی مرضی تھی اور مجھے فرمایا: اے میری بیٹی ! سفر کی حالت میں تو نے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے جبکہ لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں ہے' تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی رخصت نازل فرمائی۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: قسم بخدا! اے میری بیٹی ! جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے' تو برکت والی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سلمة بن الفضل و إبراهيم بن المختار ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ← الْقَاسِمُ بْنُ عُبَادٍ الْخَطَّابِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19110

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19111

160 - حدثنا محمد بن عيسى بن شيبة المصري قال ثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأموي قال ثنا أبي عن ابن إسحاق عن يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عن عائشة قالت Y دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم عليا و أسامة فاستشارهما فأما أسامة فقال خيرا وقال أهلك ولا نعلم إلا خيرا وهذا الباطل والكذب وأما علي فقال : إن النساء لكثير وإنك لقادر أن تستخرج وتسأل الجارية فإنها ستصدق وذكر حديث الإفك

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلا کر مشورہ فرمایا' حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو عرض کی کہ بھلائی ہے' اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل کے حوالے سے ہم تو بھلائی ہی جانتے ہیں ' یہ باطل اور سر تاپا جھوٹ ہے' لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: بے شک عورتیں کوئی کم نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وسائل ہیں کہ اصل بات نکال سکیں اور ان کی لونڈی سے پوچھ لیں' ممکن ہے کہ وہ صحیح بات بتا دے۔ اور حدیث افک کو بیان کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19111

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19112

161 - حدثنا محمد بن علي الصائغ ثنا سعيد بن منصور ثنا سويد بن عبد العزيز ثنا حصين عن أبي وائل عن مسروق أن أم رومان حدثتهم قالت Y بينا أنا قاعدة عند عائشة إذ جاءت امرأة من الأنصار فقالت : فعل الله بفلان وفلان وفعل فقالت عائشة : وما هو ؟ قالت : كذا وكذا قالت : فسمعه رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قالت : نعم قالت : و أبو بكر ؟ قالت : نعم قالت : فخرت عائشة مغشيا عليها فما أفاقت إلا وعليها حمى بنافض فطرح عليها الثياب فجاء النبي صلى الله عليه و سلم وهي مضطجعة فقال : ( ما شأنها ؟ ) قالوا : أخذتها الحمى بنافض قال : ( فلعله في حديث حدثت ) فقعدت عائشة فقالت : والله لئن حلفت لا تصدقوني ولئن اعتذرت لا تعذروني وإنما مثل ومثلكم مثل يعقوب وبنيه { والله المستعان على ما تصفون } فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزل عذرها فقالت : بحمد الله لا بحمدك أو قالت : بحمد الله لا بحمد أحد

حضرت ام رومان فرماتی ہیں: اسی دوران کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بیٹھی ہوئی تھی ' جب ایک انصاری عورت نے آ کر عرض کی: اللہ تعالیٰ فلاں اور فلاں آدمی پر لعنت کرے! پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ یہ بات ہے۔ فرمایا: کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سن لیا ہے؟ اس نے عرض کی: ہاں ! فرمایا : (میرے والد گرامی) حضرت ابو بکر نے بھی سنا ہے؟ عرض کی: ہاں ۔ فرماتی ہیں: یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر غشی طاری ہو گئی اسی حال میں نکلیں' پس آپ کو افاقہ ہونے کے ساتھ ہی بخار ہو گیا ' پس آپ نے کپڑا ڈال دیا گیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اس حال میں کہ حضرت عائشہ لیٹی ہوئی تھیں۔ فرمایا: انہیں کیا ہے؟ عرض کی: بخار ہے۔ فرمایا: شاید اسی بات کی وجہ سے جو انہیں بتائی گئی ہے۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُٹھ کر بیٹھ گئیں۔ عرض کی: قسم بخدا! اگر میں حلف دوں تو تم لوگ میری تصدیق نہ کرو گے اور اگر میں عذر پیش کروں تو مجھے معذور نہ سمجھو گے' بس میری اور تمہاری مثال حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کی ہے: " جو بات تم لوگ کہہ رہے ہو' اس کے خلاف اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی جا سکتی ہے"۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلے تو ان کا عذر (آسمان سے) نازل ہو گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: تیری نہیں ' اللہ کی حمد ہے۔ یا کہا : اللہ کی حمد ہے' کسی اور فردِ بشر کی نہیں ۔

مَسْرُوقٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← حُصَيْنٍ ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19112

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19113

162 - حدثنا سلمة بن إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل حدثني أبي عن أبيه عن جده عن سلمة بن كهيل عن الحسن العربي عن ابن عباس Y أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا سافر سافر ببعض نسائه ويقسم بينهم فسافر بعائشة بنت أبي بكر وكان لها هودج وكان الهودج له رجال يحملونه ويضعونه فعرس رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] وأصحابه وخرجت عائشة للحاجة فتباعدت فلم يعلم بها فاستيقظ النبي صلى الله عليه و سلم والناس قد ارتحلوا وجاء الذين يحملون الهودج فحملوه ولا يعلمون إلا أنها فيه فساروا وأقبلت عائشة فوجدتهم قد ارتحلوا فجلست مكانها فاستيقظ رجل من الأنصار يقال له صفوان بن المعطل وكان لا يقرب النساء فتقرب منها وكان معه بعير له فلما رآها حملها وقد كان يراها قبل الحجاب وجعل يقود بها البعير حتى أتوا الناس والنبي صلى الله عليه و سلم ومعه عائشة وأكثروا القول فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فشق عليه حتى اعتزلها واستشار فيها زيد بن ثابت وغيره فقال : يا رسول الله دعها لعل الله أن يحدث لك فيها فقال علي بن أبي طالب : النساء كثير فحمل النبي صلى الله عليه و سلم عليها وخرجت عائشة ليلة تمشي في نساء فعثرت أم مسطح فقالت : تعس مسطح فقالت عائشة : بئس ما قلت تقولين هذا الرجل من أصحاب رسول الله ؟ فقالت : إنك لا تدرين ما يقولون وأخبرتها الخبر فسقطت عائشة مغشيا عليها ثم نزل القرآن بعذرها في سورة النور { إن الذين جاؤوا بالإفك عصبة منكم } حتى بلغ { والذي تولى كبره منهم له عذاب عظيم } ونزل { ولا يأتل أولو الفضل منكم } إلى قوله { والله غفور رحيم } وكان أبو بكر يعطي مسطحا ويبره ويصله وكان ممن أكثر على عائشة فحلف أبو بكر أن لا يعطيه شيئا فنزلت هذه الآية { ألا تحبون أن يغفر الله لكم } فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن يأتيها ويبشرها فجاء أبو بكر فأخبرها بعذرها وبما أنزل الله فقالت : لا بحمدك ولا بحمد صاحبك

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں میں سے ایک کو ساتھ لے جاتے ' (پہلے) ان کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے ۔ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ بنت ابو بکر کو سفر پر لے گئے ' ان کے لئے ایک ھودج (کجاوہ) تھا اور ہودج کو اُٹھانے اور رکھنے کے لئے چند آدمی مقرر تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے رات گزاری اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔ کچھ دور چلی گئیں اور کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوں ہی جاگے تو لوگ کوچ کر چکے تھے' پس ہودج کو اُٹھانے والے آئے۔ پس انہوں نے ہودج کو اُٹھا یا لیکن انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس میں ہیں (یا نہیں کیونکہ آپ ہلکی پھلکی تھیں)۔ پس وہ چلے گئے تو اس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آئیں' دیکھا تو وہ جا چکے ہیں۔ پس وہ اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔ پس ایک انصاری آدمی جو اس وقت جاگا۔ اس کا نام حضرت صفوان بن معطل تھا' وہ عورتوں کے قریب نہ ہوا کرتا تھا' پس وہ قریب ہوا' اس کے پاس اونٹ تھا۔ پس جب اس نے آپ کو دیکھا تو سوار کیا' جبکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے اس نے آپ کو دیکھا ہوا تھا(اس لیے پہچان لیا اورا پنے اوپر انتہائی ادب کی کیفیت طاری کر لی اور ) اونٹ کی مہار پکڑ کر چل پڑا حتیٰ کہ دونوں لوگوں کے پاس پہنچے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں' لوگوں نے بہت باتیں کیں۔ پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گراں گزری۔ یہاں تک کہ احتیاطاً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جدا کر دیا۔ ان کے بارے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت وغیرہ سے مشورہ کیا۔ عرض کی: اے اللہ کے رسول ! انہیں چھوڑ دیں ' ممکن ہے کہ ان میں تمہارے لیے کوئی بہتری پیدا کر دے۔ پس حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: عورتوں کی کثرت ہے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر محمول کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رات کے وقت باہر نکلیں' عورتوں میں چل رہی تھیں' حضرت ام مسطح کا پاؤں پھسل گیا تو اس نے بے ساختہ کہا: مسطح ہلاک ہو! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تو نے برا کلمہ کہا' تو یہ بات ایک صحابیٔ رسول کے بارے کہہ رہی ہے؟ اس نے جواب دیا: لوگ جو باتیں کر رہے ہیں' آپ کو معلوم نہیں ہیں۔ اور انہیں (یعنی حضرت عائشہ کو) ساری بات بتا دی۔ یہ سنتے ہی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا غش کھا کر ان پر گر پڑیں' پھر ان کے بارے میں قرآن کی سورۃ النور میں عذر نازل ہوا۔ " ان الذین۔۔۔ الیٰ قولہٖ ۔۔۔ والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عظیم۔ " اور یہ آیت نازل ہوئی: " ولا یاتل اولو ا الفضل منکم ۔۔ الی قولہٖ ۔۔۔۔ واللہ غفور رحیم "۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ' مسطح پر نوازش کرتے' نیکی کا سلوک اور صلہ رحمی کرتے' جبکہ وہ ان میں شامل تھا جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خلاف زیادہ باتیں کیں۔ پس حضرت ابو بکر نے اس کو کچھ نہ دینے کا حلف اٹھا لیا۔ پس یہ آیت نازل ہوئی: " الا تحبون ان یغفر اللہ لکم" پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان (یعنی حضرت ابو بکر ) کو حکم دیا کہ ان(یعنی حضرت عائشہ ) کے پاس جا کر بشارت دیں۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آ کر انہیں عذر کی خبر دی اور جو اللہ کا قرآن نازل ہوا ۔ پس انہوں نے کہا: نہ آپ کا شکریہ اور نہ آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا شکریہ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الحسن العربي ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← سلمة بن إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19113

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19114

163 - حدثنا محمد بن إدريس بن عاصم الحمال ثنا إبراهيم بن صالح بن حرب ثنا إسماعيل بن يحيى التيمي ثنا أبو معشر المديني عن محمد بن قيس عن أبي اليسر الأنصاري Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لعائشة : يا عائشة قد أنزل الله عذرك ) فقالت : بحمد الله ولا بحمدك فخرج رسول الله من عند عائشة فبعث إلى عبد الله بن أبي فضربه حدين وبعث إلى مسطح و حمنة فضربهم

حضرت ابو یسر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےلئے فرمایا: اے عائشہ ! اللہ نے تیرا عذر نازل فرما دیا ہے۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کا شکر ہے' آپ کا نہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس سے نکلے تو عبداللہ بن ابی کی طرف آدمی بھیجا اور اسے وہ حدیں لگائیں اور مسطح اور حمنہ کی طرف بھی پیغام بھیج کر انہیں کوڑے مارے۔

أبي اليسر الأنصاري ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أبو معشر المديني ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ ← إبراهيم بن صالح بن حرب ← محمد بن إدريس بن عاصم الحمال

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19114

chevron_left Previous
1…353637…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter