المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19091
140 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا عبد الله بن يوسف ثنا عبد الله بن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال سمعت عطاء بن أبي مسلم الخراساني يحدث عن الزهري عن عروة بن الزبير عن عائشة ( ح ) وحدثنا أحمد بن شعيب أبو عبد الرحمن النسائي أنا إسحاق بن راهويه أنا كلثوم بن محمد بن أبي سدرة ثنا عطاء الخراساني عن ابن شهاب عن علقمة بن وقاص و عروة بن الزبير عن عائشة ( ح ) وحدثنا عبد العزيز بن سليمان الحرملي الانطاكي ثنا يعقوب بن كعب الحلبي ثنا كلثوم بن محمد بن أبي سدرة عن عطاء الخراساني عن محمد بن مسلم الزهري عن عروة بن الزبير و عبيد الله بن عبد الله و سعيد بن المسيب و علقمة بن وقاص عن عائشة قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرج إلى سفر أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه قالت : فأقرع بيننا في غزوة غزاها فخرج سهمي فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وذلك بعدما أنزل الحجاب فأنا أحمل في هودج وأنزل فيه حتى إذا قفل رسول الله صلى الله عليه و سلم ودنا من المدينة آذن بالرحيل فقمت حين أذن بالرحيل فمشيت حتى جاوزت الجيش لقضاء حاجتي فلمست صدري فإذا عقد لي من أظفار قد انقطع فرجعت ألتمسه وحبسني ابتغاؤه وأقبل الرهط الذين كانوا يحملون هودجي فرحلوه على بعيري وهم يحسبون أني فيه وكن النساء إذ ذاك خفافا لم يهتبلن وإنما كنا نأكل العلقة من الطعام وكنت جارية حديثة السن فلم يستنكر القوم ثقل الهودج حين رحلوه على بعيري فساروا فجئت المنزل وليس به منهم داع ولا مجيب فيممت منزلي الذي كنت فيه وظننت أنهم سيرجعون في طلبي قالت : فبينما أنا قاعدة إذ غلبتني عيني فنمت وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش فأدلج فأصبح في المنزل فرأى سواد إنسان نائم فعرفني وقد كان رآني قبل أن ينزل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه فخمرت بجلبابي وجهي والله ما كلمته ولا سمعت منه كلمة غير استرجاعه حتى أناخ بعيره فركبته فأتينا الناس في نحرالظهيرة فهلك من هلك وكان الذي تولى كبره منهم عبد الله بن أبي بن سلول قالت : فسرنا حتى قدمنا المدينة فاشتكيت شهرا لا أشعر بما قالوا وهو يريبني من رسول الله صلى الله عليه و سلم أني لا أعرف منه اللطف الذي كنت أرى منه إنما يدخل علي فيقول : كيف تيكم ؟ ) ولا يزيد على ذلك حتى خرجت قبل المناصع وخرجت معي أم مسطح وكنا لا نخرج إلا ليلا إلى ليل وكنا نتأذى بالكنف أن نتخذها قريبا من بيوتنا وأمرنا أمر العرب الأول فلما انصرفنا عثرت أم مسطح في مرطها أو بمرطها فقالت : تعس مسطح فقلت لها : بئس ما قلت أتسبين رجلا شهد بدرا ؟ قالت : فما علمت ما قال ؟ قلت : وما قال ؟ فأخبرتني بقول أهل الإفك فزادني مرضا على ما كان بي قالت : وكانت أم مسطح بنت صخر بن عامر خالة أبو بكر الصديق وكان ابنها مسطح بن أثاثة بن عباد بن المطلب بن عبد مناف قالت عائشة : فبكيت ليلتين ويوما حتى ظننت أن البكاء فالق كبدي قالت : فلما استلبث رسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي دعا أسامة بن زيد و علي بن أبي طالب يستشيرهما في فراق أهله فقال أسامة : يا رسول الله أهلك وما علمنا إلا خيرا وقال علي : لم يضيق الله عليك والنساء كثير سواها وإن تسأل الجارية تصدقك فدعا رسول الله بريرة فقال : ( يا بريرة هل رأيت من عائشة شيئا تكرهينه ؟ ) قالت : لا والذي بعثك بالحق ما رأيت منها أمرا أغمصه عليها أكثر من أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتدخل الداجن فتأكله قالت : وقد كانت امرأة أبي أيوب قالت لأبي أيوب : أما سمعت ما يتحدث الناس به فحدثته بقول أهل الإفك فقال : سبحانك ما يكون لنا أن نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل قد بلغني أذاه في أهلي والله ماعلمت عليها إلا خيرا ولقد ذكروا رجلا صالحا ما كان يدخل على أهلي إلا معي فقام سعد بن معاذ فقال : أنا أعذرك منه يا رسول الله إن كان من الأوس ضربنا عنقه وإن كان من إخواننا الخزرج أمرتنا ففعلنا فيه أمرك فقام سعد بن عبادة وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكن احتملته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمرو الله ولا تقدر على قتله فقام أسيد بن حضير وهو ابن عم سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمرو الله ليقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين فتثاور الحيان حتى هموا أن يقتتلوا فلم يزل رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] حتى حجز بينهم قالت : فدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم علي وعندي أبواي وكان امرأة من الأنصار دخلت علي فهي تساعدني قالت : فجلس ولم يجلس عندي منذ قيل ما قيل فقال : ( أما بعد يا عائشة فإنه قد بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بشيء فاستغفري الله وتوبي إليه ) قالت : فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب رسول الله فيما قال فقال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله فقلت لأمي : أجيبي رسول الله فيما قال قالت فقالت أمي وما أدري ما أقول لرسول الله قالت : وكنت جارية حديثة السن لم أكن أقرأ كثيرا من القرآن فقلت : والله لئن اعترفت لكم بأمر والله يعلم أني منه بريئة لتصدقونني ولئن قلت إني بريئة لا تصدقوني والله لا أجد لي ولكم مثلا إلا ما قال أبو يوسف { فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون } قلت : ثم تحولت والله يعلم أني بريئة ولشأني كان أصغر في نفسي من أن ينزل في قرآن قالت : ولكني كنت أرجو أن يري الله رسوله في منامه رؤيا يبرئني فيها قالت : فوالله ما رام رسول الله مجلسه ولا خرج أحد من أهل البيت حتى أخذته البرحاء قالت : وكان إذا أوحي إليه أخذته البرحاء حتى أنه ليتحدر منه مثل الجمان من العرق في اليوم الشاتي قالت : فسري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين سري عنه فكان أول كلمة تكلم بها قال : ( أما الله فقد برأك يا عائشة ) فقالت لي أمي : قومي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : والله لا أقوم إليه ولا أحمد على ذلك إلا الله فأنزل الله جل ذكره { إن الذين جاؤوا بالإفك عصبة منكم } إلى قوله { والله سميع عليم } وكان أبو بكر ينفق على مسطح لفاقته وقرابته فما تكلم بما تكلم به قال : والله لا أنفق عليه شيئا أبدا فأنزل الله عز و جل { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة } إلى قوله { ألا تحبون أن يغفر الله لكم } فقال أبو بكر : بلى أحب أن يغفر الله لي فرجع إلى مسطح مثل ما كان ينفق عليه وسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم زينب بنت جحش قالت : وكانت هي التي تساميني من أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فسألها رسول الله صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع فقالت : أحمي سمعي وبصري ما رأيت عليها شيئا يريبني وكانت أخت زينب حمنة تحاربني فهلكت فيمن هلك
حضرت امام محمد بن مسلم زہری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے حضرات عروہ بن زبیر، عبید اللہ بن زیاد، سعید بن مسیّب اور علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا اِرادہ فرماتے تو اپنی اَزوارج مطہرات کے درمیان قرعہ اَندازی کرتے۔ ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اُسی کو سفر پر ساتھ لے جاتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک غزوہ (بنی مصطلق) جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلی ۔ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ پس مجھے اتارا جاتا اور سوار کیا جاتا اس حال میں کہ میں اپنے ہودج میں ہوتی ۔ پس ہم چلے یہاں تک کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے تو (واپس آتے ہوئے) ہم قافلہ کی صورت میں مدینہ شریف کے قریب ہوئے تو رات کے وقت کوچ کا بگل بجا تو جوں ہی بگل بجا تو میں قضائے حاجت کے لئے اٹھی۔ پس جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے کجاوے کی طرف آئی ، اچانک میری نگاہ پڑی تو میرا یمنی نگینوں سے بنا ہارٹوٹ کر گر گیا تھا۔ میں اپنے ہار کی تلاش میں اُس کی طرف واپس آئی۔ کجاوہ اٹھانے والا گروہ آیا اور انہوں نے کجاوہ اٹھا کر اُس اونٹ پر رکھا ، جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی ۔ انہوں نے خیال کیا کہ میں اُس میں موجود ہوں کیونکہ اُس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں۔ وہ زیادہ موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں۔ ہم بقدرِ کفایت کھانا کھایا کرتی تھیں۔ پس اُس گروہ نے ہورج کے ہلکا ہونے کو محسوس تک نہ کیا، میں تو پھر بھی کم عمر تھی ۔ انہوں نے کجاوہ اٹھایا اور چل دیئے لشکر کے کوچ کر جانے کے بعد مجھے میرا ہار مل گیا۔ پس میں اُن لوگوں کی جگہ پر آئی ، جبکہ وہاں نہ کوئی پکارنے والا اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا۔ پس میں نے اُسی جگہ کا ارادہ کیا، جہاں پر (پہلے) میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ضرور میری تلاش میں واپس آئیں گے۔ اسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ پس میں سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے ہوا کرتے تھے ۔ پس انہوں نے رات کو سفر کیا اور صبح ہوتے ہی وہ میری اُس جگہ کے پاس تھے، ( جہاں میں سوئی ہوئی تھی ) پس انہوں نے سوئے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا تو وہ میری طرف آئے اور مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا، کیونکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا، جب انہوں نے مجھے پہچانا تو پڑھا: ’’اِنَّا لِلَّہِ وَإِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ ۔ ‘‘جس سے مجھے جاگ آئی۔ پس میں نے جلدی جلدی اپنے چہرے پر بڑا کپڑا ڈالا ۔ انہوں نے میرے ساتھ ایک بات بھی نہ کی اور میں نے اُن کے منہ سے کلمۂ استرجاع کے علاوہ کوئی بات نہ سنی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ اس کے گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھا تو میں سوار ہوئی۔ انہوں نے سواری کی مہار پکڑی اور مجھے لیکر چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس آئے ، اس کے بعد کہ وہ پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ پس ہلاک ہوا ، جو ہلاک ہوا اور جس آدمی نے سب سے زیادہ بہتان کی بات کو ہوا دی ، وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پس ہم مدینے آئے ۔ جوں ہی ہم مدینے پہنچے تو میں بیمار ہو گئی اور مسلسل ایک ماہ تک بیمار رہی جبکہ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں حصہ لیتے رہے، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی خبر تک نہ ہوئی ۔ البتہ ایک بات مجھے کھٹک رہی تھی کہ میری بیماری کے دوران جو لطف و عنایت مجھ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے فرمایا کرتے تھے ، وہ مفقود تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزاج پرسی کیلئے تشریف لایا کرتے تو صرف اتنا دریافت کرتے کہ آپ کا کیا حال ہے؟ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے۔ اس سے مجھے شک گزرتا تاہم مجھے اس شر انگیز پرو پیگنڈے کی خبر تک نہ تھی۔ یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے کچھ اِفاقہ ہوا تو میں باہر گئی اور میرے ساتھ حضرت امّ مسطح نکلیں ۔ ہم باہر کھلی جگہ گئیں ، وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہیں تھیں۔ ہم صرف رات رات ہی نکلا کرتی تھیں۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے کا رواج نہ تھا اور ہم عرب کے دستور کے مطابق جنگل ہی میں جایا کرتی تھیں۔ اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے ہمیں تکلیف ہوا کرتی تھی۔ پس میں اور امِّ مسطح گئیں۔ پس میں اور ام مسطح (ہم ) فارغ ہونے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں کہ چادر میں میں ام مسطح کا پاؤں الجھا جس سے وہ گر گئیں۔ کہا: ’’مسطح ہلاک ہو۔ ‘‘میں نے اس سے کہا : تو نے کتنا برا کلمہ کہا تو بدری صحابی کو گالی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کی بندی! کیا آپ نے نہیں سنا، جو اُس نے کہا۔ میں نے کہا: اُس نے کیا کہا؟ فرماتی ہیں: انہوں نے مجھے بہتان باندھنے والوں کی بات بتائی۔ میری بیماری میں اِضافہ ہو گیا۔ (ام مسطح بنت صخر بن عامر حضرت ابو بکر کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن مطلب بن عبد مناف تھا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں؛ میں دو رات اور ایک دن میں روتی رہی یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پس جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت اُسامہ اور حضرت علی بن ابو طالب کو اپنے گھر والوں کی جدائی کے حوالے سے مشورہ کرنے کیلئے بلایا۔ حضرت اُسامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کی گھر والی ہیں۔ ہم تو بھلائی ہی جانتے ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی اور ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو اُن کی خادمہ سے دریافت کر لیں۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے شک میں ڈالنے والی کوئی چیز دیکھی ہے ؟ حضرت بریرہ نے عرض کی قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن پر کوئی بات نہیں دیکھی، جسے میں عیب سمجھوں، اس سے زیادہ کہ وہ کم عمری کی وجہ سے سو جاتی ہیں اور گھر والوں کا آٹا گوندھا رہ جاتا ہے اور بکری آکر اُسے کھا جاتی ہے۔ فرماتی ہیں؟ حضرت ابوایوب کی بیوی نے حضرت ابوایوب سے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا جو لوگ باتیں کر رہے ہیں؟ پس انہوں نے بہتان باندھنے والوں کی بات انہیں بتائی تو انہوں نے کہا: ’’سبحانك مایكون لنا ان نتكلم بھٰذا سبحانك ھٰذا بھتان عظیم ۔“ (اے اللہ ! تو پاک ہے ہمیں ایسی جھوٹی بات کو زبان پر لانا بھی زیب نہیں دیتا۔ اے اللہ ! تو پاک ہے۔ یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ )پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے ۔ اور فرمایا: اے گروہِ مسلماناں ! اُس شخص کے بارے میں مجھے کون معذور رکھتا ہے، جس کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے جس آدمی کا ذکر کیا، میں اس کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا، وہ میرے ساتھ تھا۔ فرماتی ہیں: پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں اُس کے حوالے سے آپ سے معذرت خواہ ہوں اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو جو آپ کا حکم ہوگا، ہم اُس کی تعمیل کریں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے۔ وہ اس سے پہلے تو نیک آدمی تھے، لیکن اُن کی خاندانی عصبیت بیدار ہو گئی تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: تو نے جھوٹ بولا۔ تیری عمر کی قسم ! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی اُسے قتل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ (اسی دوران ) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا ، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کا ارادہ کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا غصہ ٹھنڈا کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس آئے اسحال میں کہ میرے والدین میرے پاس تھے اور ایک انصاری عورت میرے پاس آئی اور وہ (بھی رونے میں ) میری مدد کر رہی تھی۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ جب سے یہ بات کہی گئی جو کہی گئی ، اُس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ( حمد و ثناء یا کلمۂ شہادت ) کے بعد اے عائشہ! کیونکہ مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بے قصور ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب تیری برأت فرما دے گا اور (خدانخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ سے توبہ کر لیں ۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں ۔ فرماتی ہیں: انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات (ایک طرف سے ) سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے ۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں، اللہ جانتا ہے، جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ بخدا! اب میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال دوں ، جنہوں نے کہا تھا: ” فصبر جمیل واللہ المستعان على ما تصفون ۔‘‘(لہٰذا صبر ہی اچھا ہے اور میں اس معاملے میں جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مد مانگتا ہوں۔ )فرماتی ہیں: پھر میں منہ پھیر لیا۔ بخدا! اللہ جانتا ہے کہ میں بے قصور ہوں، لیکن میری شان اس سے چھوٹی ہے کہ میرے بارے میں قرآن کا نُزول ہو، لیکن میں امید کیا کرتی تھی ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور میری برأت فرمائے گا، لیکن مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے وحی نازل فرمائے گا، جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھتی تھی کہ وہ میرے بارے ایسا کلام فرمائے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی، لیکن مجھے اِس بات کی ضرور امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دکھائے گا کہ اُس نے میری برأت فرمادی ہے۔ فرماتی ہیں: بخدا ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جانے کا )اِرادہ نہ کیا اور نہ میرے گھر والوں میں سے کسی نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ وحی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ۔ سردی کے موسم میں بھی پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی اور پہلی بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ، وہ یہ تھی: اللہ تعالیٰ نے تیری برأت فرمادی ہے۔ اے عائشہ! میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکر یہ ادا کرو۔ میں نے کہا؛ بخدا! میں اُن کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے پہلے اللہ کا شکر ادا کروں گی اور اللہ تعالی نے اس کا ذکرہ ان دس آیات میں فرمایا : ’’ان الذی جاء وا بالافك .. ... اللہ تعالیٰ کے اس قول تک واللہ سمیع علیم ‘‘اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا! میں مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ کہا ہے حالانکہ اس سے پہلے آپ اس پر اُس کے فاقہ اور قریبی رشتہ داری کی وجہ سے خرچ کیا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’و لایاتل الٰى قولہٖ غفور رحیم ۔‘‘( اس کے بعد ) حضرت ابو بکر رضی اللہ ہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں بخدا ! یقیناً میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے۔ پس آپ نے دوبارہ مسطح پر خرچ کرنا شروع کر دیا جس طرح پہلے خرچ کرتے تھے اور فرمایا: بخدا! میں اُن پر خرچ کرنا کبھی نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملے کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی پوچھا تھا۔ فرمایا: اے زینب ! آپ نے کیا جانا؟ یا فرمایا: کیا دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! میری سمع و بصر محفوظ رہی۔ بخدا! مجھے ان کے حوالے سے بھلائی ہی معلوم ہے۔ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ محترمہ تھیں، جو مجھ پر بلند رہنا چاہتی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو اُن کے ورع کی وجہ سے محفوظ رکھا۔ فرماتی ہیں: حالانکہ ان کی بہن حمنہ اُن سے جھگڑتی رہی اور ہلاکت کا شکار ہوئی جس طرح بہتان باندھنے والے دوسرے لوگ ہلاک ہوئے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19091
