Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب 8 · حديث 19079

128 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا موسى بن عبد الله السلفي ثنا عمر بن سعيد الأبح عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن عن أبي بكر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال Y ( [ أحد منكم ] رأى رؤيا ؟ ) فقالت عائشة : يا رسول الله رأيت ثلاثة أقمار هوين في حجرتي فقال لها : ( إن صدقت رؤياك دفن في بيتك أراه قال أفضل أهل الجنة ) فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو أفضل أقمارها ثم قبض أبو بكر ثم قبض عمر فدفنوا في بيتها

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یارسول اللہ ! میں نے دیکھا ہے کہ تین چاند میرے حجرے میں گرے ہیں۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا خواب سچ ہے تو تمہارے گھر میں دفن ہوں گے ‘یا وہ جنت کے افضل ترین لوگ دفن ہوں گے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ تمام چاندوں سے افضل تھے ‘پھر حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا وصال ہوا تو انہیں بھی ان کے گھر میں دفن کیا گیا۔

أَبِي بَكْرٍ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، ← موسى بن عبد الله السلفي ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19079

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب قصة اليتيم وأنه نزل بسبب عائشة · حديث 19080

129 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن مالك عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة قالت Y خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في بعض أسفاره حتى إذا كنا بالبيداء أو بذات الجيش انقطع عقدي فأقام النبي صلى الله عليه و سلم على التماسه وأقام الناس معه وليس معهم ماء فأتى الناس إلى أبي بكر فقالوا : ما نرى ما صنعت عائشة أقامت بالنبي صلى الله عليه و سلم وبالناس وليس معهم ماء فعاتبني وقال لي ما شاء الله أن يقول وجعل يطعن بيده في خاصرتي فلا يمنعني من التحرك إلا مكان رسول الله صلى الله عليه و سلم على فخذي فنام حتى أصبح على غير وضوء فأنزل الله آية التيمم فقال أسيد بن حضير : ما هي بأول بركتكم يا آل أبي بكر فبعثنا البعير الذي كنت عليه فوجدنا العقد تحته

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہم ایک سفر پر نکلے حتٰی کہ جب بیداء کے مقام پر تھے یا ذات الجیش پر کہ میرا ہار ٹوٹ گیا ‘پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کی خاطر قیام کیا ‘لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قیام کیا جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا۔ پس لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عائشہ نے کیا کیا ‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ لوگوں کو بھی روک دیا ہے جبکہ ان کے پاس پانی بھی نہیں ہے۔ پس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے عتاب فرمایا اور مجھے وہ کچھ کہا جو اللہ نے چاہا کہ وہ کہیں‘میرے پہلو میں کچو کے دینے لگے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری ران پر تھے اس لیے میں نے کوئی حرکت نہ کی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے حتی کہ صبح ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ نے تمیّم والی آیت نازل کی‘پس حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آلِ ابو بکر ! یہ (اسلام اور اہلِ اسلام پر ) تمہاری پہلی برکت نہیں‘پس ہم نے وہ اونٹ اُٹھایا جس پر میں تھی تو ہم نے دیکھا کہ ہار اس کے نیچے پڑا تھا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19080

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب قصة اليتيم وأنه نزل بسبب عائشة · حديث 19081

130 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن معمر عن هشام بن عروة عن أبيه [ أو غيره ] قال Y سقط عقد عائشة فأرسل النبي صلى الله عليه و سلم نفرا يبتغونه فأدركهم الصبح وليس معهم [ ماء فصلوا بغير طهور فشكوا ذلك إلى النبي صلى الله عليه و سلم ] فنزل التيمم [ قال معمر : وأخبرني أيوب قال : مر أبو بكر بعائشة فقال : حبست الناس وعنيتهم قال معمر : وقال هشام عن أبيه وقاله أيوب أيضا : ] فلما نزل التيمم سر [ بذلك ] أبو بكر وقال : ما علمتك لمباركة ما نزل بك أمر تكرهينه إلا جعل الله للمسلمين فيه خيرا

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد گرامی سے ‘یا ان پنے کے علاوہ راوی فرماتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار گر گیا‘پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گروہ اسے تلاش کرنے کیلئے بھیجا‘پس انہیں صبح ہو گئی جبکہ ان کے پاس پانی نہیں تھا‘پس انہوں نے بغیر طہارت کے نماز پڑھی‘اس بات کی شکایت اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی تو آیت تمیّم نازل ہوئی۔ حضرت معمر فرماتے ہیں: مجھے حضرت ایوب نے بتایا‘فرمایا: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ‘حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے گزرے ‘فرمایا: تُو نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور انہیں تھکا دیا ہے۔ حضرت معمر نے فرمایا: حضرت ہشام نے اپنے والد سے روایت کر کے کہا: اور حضرت ایوب بھی فرماتے ہیں: پس جب آیتِ تمیّم نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس سے انتہائی خوش ہوئے اور فرمایا: میں نے آپ کو مبارک جانا ہے ‘جوں ہی تجھے کوئی نا پسندیدہ معاملہ پیش آیا تو اللہ تعالی نے اس میں خیر رکھ دی۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19081

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب قصة اليتيم وأنه نزل بسبب عائشة · حديث 19082

131 - حدثنا يوسف القاضي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا حميد بن الأسود عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة Y أنها استعارت قلادة من أسماء فسقطت من عنقها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم فأرسل رجالا يبتغونها فابتغوها فوجدوا فحضرت الصلاة فصلوا بغير طهور ثم رجعوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا ذلك له فأنزل الله الرخصة فقال أسيد بن حضير : جزاك الله خيرا فوالله ما نزل بك أمر تكرهينه إلا جعل الله لك وللمؤمنين خيرا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریۃً ہارلیا‘پس وہ ان کی گردن سے گر پڑا ‘انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا‘پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کیلئے کچھ آدمی بھیجے‘پس انہوں نے تلاش کیا تو پا لیا‘ پس نماز کا وقت ہو گیا‘پس انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی‘پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آکر اس کا ذکر کیا تو اللہ نے رخصت نازل فرمائی‘پس حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ آپ کو جزائے خیر دے ! قسم ہے آپ کو نا پسندیدہ معاملہ پیش آنے کی دیر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کیلئے اور مؤمنوں کیلئے بھلائی کا سامان کر دیا۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19082

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ باب · حديث 19083

132 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا إسماعيل بن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة Y أن نساء النبي صلى الله عليه و سلم كن حزبين حزب فيه عائشة و حفصة و صفية و سودة وحزب فيه أم سلمة وسائر أزواج النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے دو گردہ تھے ‘ایک گروہ میں حضرت عائشہ ‘حفصہ ‘صفیہ ‘تھیں‘اور ایک گروہ میں حضرت اُم سلمہ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باقی ساری ازواج مبارک تھیں ۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19083

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19084

133 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال أخبرني سعيد بن المسيب و عروة بن الزبير و علقمة بن وقاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم Y حين قال لها أهل الإفك ما قالوا قال : فبرأها الله وكلهم حدثني طائفة من حديثها وبعضهم كان أرعى لحديثها من بعض وأثبت اقتصاصا وقد وعيت عن كل واحد منهم الحديث الذي حدثني وبعض حديثهم يصدق بعضا ذكروا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يخرج إلى سفر أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها رسول الله صلى الله عليه و سلم معه قالت عائشة : فأقرع رسول الله صلى الله عليه و سلم بيننا في غزوة غزاها فخرج فيها سهمي فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ما أنزل الله علينا الحجاب فأنا أحمل في هودجي وأنزل منه فسرنا حتى إذا فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم قفل ودنونا من المدينة آذن ليلة بالرحيل فقمت حين آذنوا بالرحيل فمشيت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني أقبلت إلى الرحل فلمست نحري فإذا عقدي من جزع ظفار قد انقطع فرجعت فالتمست عقدي فحبسني ابتغاؤه وأقبل الرهط الذين كانوا يرحلون بي فحملوا هودجي فرفعوه على بعيري الذي كنت أركب وهم يحسبون أنني فيه قالت : وكان النساء إذ ذاك خفافا لم يهبلهن ولم فشهن اللحم إنما يأكلن العلقة من الطعام فلم يستنكر القوم ثقل الهودج حين رفعوه ورحلوه وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الجمل وساروا به ووجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منازلهم وليس بها داع ولا مجيب فتأممت منزلي الذي كنت فيه وظننت أن القوم سيفقدوني ويرجعون إلي فبينا أنا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت حتى أصبحت وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني قد عرس من وراء الجيش فأدلج فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فأتاني فعرفني حين رآني وقد كان يراني قبل أن يضرب علي الحجاب فما استيقظت إلا باسترجاعه حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي ووالله ما كلمني كلمة غير استرجاعه حتى أناخ راحلته فوطئ على يدها فركبتها فانطلق يقود بي الراحلة حتى أتينا الجيش بعدما نزلوا [ موغرين ] في نحر الظهيرة فهلك من هلك في شأني وكان الذي تولى كبره عبد الله بن أبي بن سلول فقدمت المدينة واشتكيت حين قدمتها شهرا والناس يخوضون في قول أهل الإفك ولا أشعر بشيء من ذلك وهو يريبني في وجعي أن أعرف من رسول الله اللطف الذي كنت أرى منه حين أشتكي إنما كان يدخل رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يقول : ( كيف تيكم ؟ ) فذلك يريبني ولا أشعر بالشر حتى خرجت بعدما نقهت وخرجت مع أم مسطح قبل المناصع وهو متبرزنا لا نخرج إلا من ليل إلى ليل وذلك قبل أن تتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وأمرنا أمر العرب الأول في التبرز وكنا نتأذى بالكنف أن نتخدها عند بيوتنا فانطلقت أنا و أم مسطح وهي بنت أبي رهم بن المطلب بن عبد مناف و أمها بنت صخر بن عامر خالة أبي بكر الصديق وابنها مسطح بن أثاثة بن عباد بن المطلب فأقبلت أنا و بنت أبي رهم قبل بيتي حين فرغنا من شأننا فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت لها : بئس ما قلت تسبين رجلا شهد بدرا فقالت : أي هنتاه أو لم تسمعي ما قال ؟ قلت : وما [ ذا ] قال ؟ قالت : فأخبرتني بقول أهل الإفك فازددت مرضا إلى مرضي فلما رجعت إلى بيتي دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم قال : ( كيف تيكم ؟ ) قلت له : أتأذن لي أن آتي أبوي ؟ ) قالت : وأنا حينئذ أريد أن أتيقن الخبر من قبلهما فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت فقلت لأمي : يا أمه ما تحدث الناس ؟ فقالت : أي بنية هوني عليك فوالله لقل ما كانت امرأة قط وضيئة عند رجل يحبها ولها ضرائر إلا أكثرن عليها فقلت : سبحان الله أوقد تحدث الناس بهذا ؟ قالت : نعم قالت : فمكثت تلك الليلة حتى أصبحت لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم ثم أصبحت أبكي فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استلبث الوحي يستشيرهما في فراق أهله قالت : فأما أسامة فأشار على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذي يعلم من براءة أهله وبالذي يعلم في نفسه لهم من الود فقال : يا رسول الله هم أهلك ولا نعلم إلا خيرا وأما علي [ بن أبي طالب ] فقال : لم يضيق الله عليك والنساء سواها كثير وأن تسأل الجارية تصدقك قالت : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال : ( أي بريرة هل رأيت من شيء يريبك من أمر عائشة ؟ ) فقالت له بريرة : والذي بعثك بالحق ان رأيت عليها أمرا قط أغمصه عليها أكثر من أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتأتي الداجن فتأكله قالت : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم فاستعذر من عبد الله بن أبي بن سلول قالت : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر : ( يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل قد بلغني أذاه في أهل بيتي فوالله ما علمت على أهلي إلا خيرا ولقد ذكروا رجلا ما علمت عليه إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا معي ) فقام سعد بن معاذ الأنصاري فقال : [ لقد ] أعذرك منه يا رسول الله إن كان من الأوس ضربت عنقه وإن كان من إخواننا من الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك فقام سعد بن عبادة وهو سيد الخزرج وكان رجلا صالحا ولكن حملته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمر والله لا تقتله ولا تقدر على قتله فقام أسيد بن حضير وهو ابن عم سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمرو الله لنقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين قالت : فثار الحيان الأوس والخزرج حتى هموا أن يقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم على المنبر فلم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يخفضهم حتى سكتوا وسكت فمكثت يومي لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم وأبواي يبكيان حتى ظننت أن البكاء فالق كبدي قالت : فبينما هما جالسان عندي وأنا أبكي استأذنت علي امرأة من الأنصار فأذنت لها فجلست تبكي معي فبينا نحن على ذلك دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم جلس قالت : ولم يجلس عندي منذ قيل في ما قيل ولقد لبث شهرا لا يوحى إليه في شأني شيء قالت : فتشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جلس ثم قال : ( أما بعد يا عائشة فإنه بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنب ثم تاب تاب الله عليه ) فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب عني رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال فقال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم [ قالت : فقلت ] وأنا جارية حديثة السن لا أقرأ من القرآن كثيرا : إني والله قد عرفت أنكم قد سمعتم بهذا الأمر حتى استقر في أنفسكم وصدقتم ولئن قلت لكم إني منه بريئة والله يعلم أني بريئة لا تصدقوني بذلك ولئن اعترفت لكم بأمر والله يعلم أنه بريئة لتصدقونني والله ما أجد لي ولكم مثلا إلا كما قال أبو يوسف { فصبر جميل } الآية قالت : ثم تحولت فاضطجعت على فراشي وأنا والله أعلم أني حينئذ بريئة وأن الله مبرئي ببراءتي ولكن والله ما كنت أظن أن ينزل في شأني وحي يتلى ولشأني كان أحقر في نفسي من أن يتكلم الله في بأمر يتلى ولكن كنت أرجو أن يرى رسول الله صلى الله عليه و سلم في النوم رؤيا يبرئني الله بها قالت : فوالله ما رام رسول الله صلى الله عليه و سلم مجلسه ولا خرج من البيت أحد حتى أنزل الله على نبيه فأخذه ما كان يأخذه من البرحاء عند الوحي حتى أنه يتحدر منه مثل الجمان في اليوم لشاتي من ثقل الوحي الذي أنزل عليه قالت : فلما سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يضحك فكان أول كلمة تكلم بها أن قال : ( أبشري يا عائشة أما والله فقد برأك الله ) فقالت لي أمي : قومي إليه فقلت : والله لا أقوم إليه ولا أحمد إلا الله هو الذي أنزل براءتي قالت : فأنزل الله { إن الذين جاؤوا بالإفك } عشر آيات فأنزل الله هذه الآيات براءتي قالت : فقال أبو بكر وكان ينفق على مسطح لقرابته وفقره : والله لا أنفق عليه شيئا أبدا بعد الذي قال لعائشة فأنزل الله { ولا يأتل أولو الفضل منكم } الآية فقال أبو بكر : والله إني لأحب أن يغفر الله لي فرجع إلى مسطح النفقة التي كان ينفق عليه وقال : والله لا أنزعها منه أبدا قالت عائشة : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم سأل زينب بنت جحش زوج النبي صلى الله عليه و سلم : ( ما علمت وما رأيت ؟ ) قالت : يا رسول الله أحمي سمعي وبصري والله ما علمت إلا خيرا قالت عائشة : وهي التي كانت تساميني من أزواج رسول الله صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع وطفقت أختها حمنة بنت جحش تحارب لها فهلكت فيمن هلك

حضرت امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں‘ حضرات سعید بن مسیب ‘عروہ بن زبیر‘علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنم نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے خبر دی جب بہتان لگانے والوں نے اُن کے بارے میں کہا ‘جو کہا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی برأت کا اعلان کیا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھے اُس حدیث کا ایک ٹکڑا سنایا‘اُن میں سے بعض حضرات حدیث کو دوسرے بعض سے زیادہ یا د ر کھنے والے ہیں اور قصہ بیان کرنے کے لحاظ سے مضبوط ہیں۔ میں نے اُن میں سے ہر ایک سے اُس حدیث ( کے حصے ) کو یاد کیا ا‘جو اُس نے میرے سامنے بیان کیا۔ اُن کی حدیث کا بعض دوسرے بعض حصے کی تصدیق کرتا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کیلئے تشریف لے جاتے تو اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے‘جس کا قرعہ نکلتا‘رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک غزوہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (بنو مصطلق ) تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی فرمائی تو میرا قرعہ نکلا ‘پس حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلی‘پس میرے ہودج میں مجھے اُٹھایا جاتا اور اُتارا جاتا۔ پس ہم چلے حتٰی کہ ہم جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( غزوہ سے ) فارغ ہوئے تو واپس ہوئے حتٰی کہ ہم مدینہ کے قریب پہنچے (ہاں پڑاؤ ڈالا ) رات کا وقت تھا کہ کوچ کا بگل بجا‘پس جب بگل بجا تو میں اُٹھ کھڑی ہوئی‘پس میں (قضائے حاجت کیلئے ) چلی حتٰی کہ میں لشکر سے باہر نکل گئی‘جب میں نے اپنا کام کر لیا تو لشکر کی طرف واپس لوٹی‘میں نے اپنے سینے پر ہاتھ لگایا تو میرا یمنی نگینوں کا ہارٹوٹ کر گر گیا تھا۔ پس (اس کو تلاش کرنے کیلئے ) میں واپس لوٹی ‘پس میں نے اپنا ہار تو تلاش کر لیا لیکن اس کی تلاش پر مجھے کافی دیر لگ گئی جبکہ اس دوران میرے ساتھ کوچ کرنے والا گروہ آیا اور اس نے میرا ہودج اُٹھایا اور اُٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا ‘جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ ان کا گمان تھا کہ میں اس میں موجو ہوں۔ فرماتی ہیں: اس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں‘لحیم شحیم نہیں ہوتی تھیں‘وہ بقدر کفایت کھانا کھایا کرتی تھیں‘اس گروہ نے جب ہودج اُٹھا کر سفر شروع کیا تو وہ اس کے بوجھ کو محسوس نہ کر سکے اور میں تو کم سن تھی ۔ پس انہوں نے اونٹ کو اُٹھایا اور اسے لے کر چل پڑے‘لشکر کے چلے جانے کے بعد مجھے میرا ہارمل گیا۔ پس میں ان کی جگہ آئی ‘نہ وہاں کوئی بلانے والا اور نہ جواب دینے والا تھا۔ پس میں نے اس جگہ جانے کا ارادہ کیا جہاں میں پہلے تھی‘میں نے گمان کیا کہ لشکر والے جب مجھے نہ پائیں گے تو ضرور واپس آئیں گے ‘اسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی تھی کہ مجھے نیند آ گئی اور میں سو گئی‘حتٰی کہ صبح ہو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی کی ذمہ داری کہ وہ رات کو لشکر کے پیچھے چلتے تھے ‘انہوں نے رات کو سفر کیا ‘پس اُنہوں نے صبح کی تو میرے پاس پہنچ چکے تھے ‘انہوں نے سوائے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا ‘وہ میرے پاس آیا اور مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے ‘جب انہوں نے مجھے پہچان لیا تو پڑھا: انا اللہ وانا الیہ راجعون! ان کی آواز سن کر میں جاگ اُٹھی ‘میں نے فورا ًاپنے منہ پر پردہ ڈالا ‘قسم بخدا! اس نے انا للہ وانا الیہ راجعون! پڑھنے کے علاوہ مجھ سے ایک کلمہ بھی نہ کہا‘اُنہوں نے اپنی سواری کو بٹھا کر اس کے گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھا‘میں اس پر سوار ہوئی اور وہ مہار پکڑ کر آگے آگے چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر تک پہنچ گئے ‘اس کے بعد کہ وہ ظہر کے وقت کے قریب انتہائی گرمی کی وجہ سے آرام کرنے کیلئے آرام کر رہے تھے۔ پس میرے بارے بات کر کے ہلاک ہوا جو ہلاک ہوا اور جس نے سب سے زیادہ اس بات کو اُچھالا وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پس میں مدینے میں آئی ‘میں بیمار ہو گئی جوں ہی مدینے پہنچی اور ایک پورا مہینہ بیمار رہی جبکہ لوگ بہتان لگانے والوں کی بات میں مشغول ہور ہے اور مجھے اس میں سے کچھ بھی محسوس تک نہ ہو سکا ‘میرے درد میں اضافے کا باعث بنا ‘وہ روّیہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے میں پہچان رہی تھی کیونکہ وہ لطف و مہربانی جو میں پہلے دیکھا کرتی تھی وہ مجھے دکھائی نہ دی ‘جب میں بیمار ہوا کرتی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بس میرے پاس آتے پھر فرماتے: تمہارا کیا حال ہے؟ اس سے مجھے شک گزرتا ‘تاہم مجھے اس شرانگیز پروپیگنڈے کی خبر تک نہ تھی حتٰی کہ میں بہت زیادہ کمزور ہوگئی‘میں ( قضائے حاجت کیلئے )نکلی ‘میں اُم مسطح کے ساتھ مدینہ سے باہر کھلی جگہ گئی ‘وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہ ہوا کرتی تھی‘ہم رات کے وقت ہی نکلا کرتی تھیں‘یہ اس وقت کی بات ہے جب ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنائے جاتے تھے اور ہم عرب کے دستور کے مطابق جنت میں ہی جایا کرتی تھیں اور اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے کو اپنے لیے تکلیف کا باعث سمجھتے تھے ۔ پس میں اور حضرت اُم مسطح چلیں‘وہ ابور ہم بن مطلب بن عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی اور حضرت ابو بکر صدیق کی خالہ تھیں اور مسطح بن اثاثہ بن عباد بن مطلب ان کا بیٹا تھا‘پس میں اور ابورہم کی بیٹی میرے گھر سے گئیں لیکن جب ہم اپنے کام سے فارغ ہوئیں (اور واپس آ رہی تھیں تو ) اُم مسطح کا پاؤں ان کی چادر میں اُلجھ گیا اور وہ گر پڑیں۔ اس نے کہا: مسطح ہلاک ہو! میں نے اُن سے کہا : تُو نے بڑا بُرا کلمہ کہا ‘تو ایک ایسے آدمی کو گالی دے رہی ہے جو بدر میں شریک ہوئے ؟ انہوں نے کہا: کیا تم نے نہیں سنا جو اُس نے کہا ؟ میں نے کہا: اُس نے کیا کہا ؟ اُنہوں نے بتایا جو بہتان لگانے والوں نے بات کی تھی‘میں پہلے بیمار تھی تو اور بیمار ہو گئی۔ پس جب میں اپنے گھر آئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے پاس آکر سلام کیا‘پھر فرمایا: تیرا کیا حال ہے؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: کیا آپ مجھے میرے والدین کے گھر جانے کی اجازت دیں گے؟ فرماتی ہیں: اس وقت میں اپنے والدین سے جا کر اس خبر کا یقین کرنا چاہتی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی ‘میں نے آکر اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی: اے ماں! لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ فرمایا : اے میری بیٹی ! غمگین مت ہو! بخدا! کم ہی کوئی عورت ایسی ہوئی ہے جو اپنے خاوند کے ہاں پاکیزہ صورت ہو اور اس کا خاوند اس کو محبوب رکھے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ میں نے کہا: سبحان اللہ ! لوگ میرے بارے میں ایسی بات کر رہے ہیں؟ اُنہوں نے کہا: ہاں ! فرماتی ہیں: میں وہ رات ٹھہری یہاں تک کہ میں نے صبح کی اور حال یہ تھا کہ نہ تو میرے آنسو تھمے اور نہ میں نے نیند کا سرمہ ڈالا ‘پھر میں نے روتے ہوئے صبح کی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابوطالب اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بلایا جب وحی آنے میں دیر ہوئی تا کہ اپنے اہل کو جدا کرنے کے حوالے سے ان سے مشورہ کریں۔ بہر حال حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہی مشورہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل کی برأت کے حوالے سے جانتے تھے اور ان کو ایمانی محبت تھی ۔ عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کے گھر والے ہیں ‘ہم تو ان کے بارے بھلائی ہی جانتے ہیں۔ لیکن حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی ‘ان کے علاوہ بھی عورتیں بہت ہیں‘اگر آپ ان کی لونڈی (حضرت بریرہ) سے پوچھیں تو وہ آپ کو سچ سچ بتائے گی ۔ فرماتی ہیں: پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو طلب فرمایا۔ ( جب وہ حاجر خدمت ہوئیں ) تو فرمایا : اے بریرہ! کیا تجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے معاملات میں سے کوئی شک میں ڈالنے والی چیز معلوم ہے؟ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن کے حوالے سے عیب والا کوئی امر نہیں دیکھا سوائے اس کے کہ اُن کی عمر چھوٹی ہے‘وہ اپنے گھر والوں کے گوندھے ہوئے آتے سے بے خبر ہو کر سو جاتی ہیں۔ پس گھر کی بکری آکر وہ گھا جاتی ہے۔ فرماتی ہیں؛ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر عبد اللہ بن ابی بن سلول کے حوالے سے عذر خواہی کی ۔ فرماتی ہیں ؛ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے گروہِ مسلماں ! اُس شخص کے بارے میں مجھے کون معذور رکھتا ہے‘جس کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے جس آدمی کا ذکر کیا‘میں اس کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا‘وہ میرے ساتھ آیا۔ پس حضرت سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ اُس سے آپ کو انصاف دلائے گا۔ اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے خزر جی بھائیوں سے ہے تو جو آپ کا حکم ہو گا ، ہم اُس پر عمل کریں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے ۔ وہ اُن دنوں خزرج قبیلہ کے سردار تھے۔ وہ اس سے پہلے نیک آدمی تھے‘لیکن اُن کو حمیت نے اُکسایا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے : تو نے جھوٹ بولا ۔ تیری عمر کی قسم ! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی اُس کے قتل پر قادر ہے۔ اسی دوران ) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چا زاد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا : اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کی طرف سے جھگڑا کر رہا ہے۔ فرماتی ہیں: قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کا ارادہ کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے تھے۔ آپ اُن کا غصہ ٹھنڈا کراتے رہے یہاں تک وہ سب خاموش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔ فرماتی ہیں: میرا وہ دن گزرا کہ میرے آنسو خشک نہ ہوئے اور نہ مجھے نیند آئی اور میرے والدین بھی روتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ اسی دوران کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میرے رونے کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اُسے آنے کی اجازت دی۔ پس وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ فرماتی ہیں: ہم اسی حال میں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور سلام کر کے بیٹھ گئے ۔ فرماتی ہیں: جب سے یہ بات کہی گئی جو کہی گئی اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے۔ ایک ماہ گزر گیا تھا‘میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلمۂ شہادت پڑھا پھر فرمایا: کلمۂ شہادت کے بعد اے عائشہ! کیونکہ مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بے قصور ہے تو اللہ تعالی عنقریب تیری برأت فرما دے گا اور (خدانخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ سے توبہ کر لیں ‘کیونکہ بندہ جب اپنے قصور کا اِعتراف کر لیتا ہے پھر تو بہ کر تا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسکی تو بہ قبول فرماتا ہے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میری طرف سے اُس کا جواب دیں، جو آپ نے فرمایا ہے۔ انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات ایک طرف سے سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں‘اللہ جانتا ہے‘جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ بخدا! اب میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال دوں ‘جنہوں نے کہا تھا:’’فصبر جمیل۔۔۔۔۔ ‘‘مکمل آیت۔ (لہذا صبر ہی اچھا ہے اور میں اس معاملے میں جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مد مانگتا ہوں)۔ فرماتی ہیں: پھر منہ پھیر کر میں اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ بخدا! اُس مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں بے قصور ہوں، لیکن مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے وحی نازل فرمائے گا‘جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھتی تھی کہ وہ میرے بارے ایسا کلام فرمائے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی ، لیکن مجھے اِس بات کی ضرور امید تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ میری برات فرما دے گا۔ فرماتی ہیں: بخدا ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( جانے کا )اِرادہ نہ کیا اور نہ میرے گھر والوں میں سے کسی نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ وحی کی سختی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوئے۔ سردی کے دن میں بھی پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگے، قرآن کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوتا تھا۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے اور پہلی بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ، وہ یہ تھی : اے عائشہ ! بشارت ہو۔ بخدا ! اللہ تعالیٰ نے تیری برأت فرمادی ہے۔ میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔ میں نے کہا؛ بخدا! میں اُن کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے پہلے اللہ کا شکر ادا کروں گی، جس نے میری برأت نازل فرمائی ہے۔ فرماتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے یہ دس آیات نازل فرمائیں: ’’اِنّ الذی جاء وا بالافك الٰی آخرہٖ‘‘ پس اللہ نے میری برأت میں یہ آیات نازل فرمائیں تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا! میں مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ کہا ہے حالانکہ اس سے پہلے آپ اس پر خرچ کیا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی:’’ولایاتل الٰى آخرہٖ ۔“ (اس کے بعد ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں بخدا! یقیناً میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے۔ پس آپ نے دوبارہ سطح پر خرچ کرنا شروع کر دیا جس طرح پہلے خرچ کیا کرتے تھے اور فرمایا: بخدا! میں اُن پر خرچ کرنا بھی نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملے کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی پوچھا تھا۔ فرمایا: اے زینب! آپ نے کیا جانا؟ یا فرمایا: کیا دیکھا ؟ انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! میں نے اپنی سمع و بصر کو اس سے محفوظ رکھا۔ بخدا! مجھے ان کے حوالے سے بھلائی ہی معلوم ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ محترمہ تھیں، جو مجھ سے برتر رہنے کی خواہش رکھتی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو ان کے ورع و پر ہیز گاری کی وجہ سے محفوظ رکھا حالانکہ ان کی بہن حمنہ اُن سے جھگڑتی رہی اور ہلاکت کا شکار ہوئی جس طرح بہتان باندھنے والے دوسرے لوگ ہلاک ہوئے ۔ حضرت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ اُن میں سے آخری بات ہے جو اس گروہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔

حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم حين ← قاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود ← سعيد بن المسيب و عروة بن الزبير و علقمة بن ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19084

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19085

134 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا عبد الله بن عمر النميري ثنا يونس بن يزيد الأيلي قال سمعت الزهري قال سمعت عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و علقمة بن وقاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم Y حين قال لها أهل الإفك ما قالوا : فبرأها الله قال : وكل حدثني طائفة من الحديث الذي حدثني عن عائشة رضي الله عنها وبعض حديثهم يصدق بعضا وإن كان بعضهم أوعى له من بعض زعموا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يخرج أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه قالت عائشة : فأقرع بيننا في غزوة غزاها فخرج فيها سهمي فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعدما أنزل الله الحجاب فأنا أنزل وأحمل في هودجي فسرنا حتى إذا فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم من غزوته تلك فدنونا من المدينة قافلين [ آذن ] ليلة بالرحيل فقمت حين آذن بالرحيل لحاجتي فلما قضيت شأني أقبلت إلى رحلي فإذا عقد لي من جزع أظفار قد انقطع فرجعت إلى عقدي نحو ابتغائه وأقبل الرهط الذين كانوا يرحلون فاحتملوا هودجي فرحلوه على بعيري الذي كنت أركب وهم يحسبون أني فيه وكان النساء إذ ذاك خفافا لم يهبلن باللحم إنما يأكلون العلقة من الطعام فلم ينكر القوم خفة الهودج وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الحمل وساروا ووجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منازلهم وليس بها داع ولا مجيب فتيممت منزلي الذي كنت فيه وظننت أنهم سيفقدونني فيرجعون إلي فبينما أنا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش فأدلج فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فأتاني فعرفني حين رآني وكان يراني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي فما كلمني كلمة ولا سمعت منه كلمة غير استرجاعه حتى أناخ راحلته فوطئ على يدها فركبتها فانطلق بي يقود الراحلة حتى أتينا الجيش بعد ما نزلوا فهلك من هلك وكان الذي تولى كبر الإفك عبد الله بن أبي بن سلول فقدمنا المدينة فاشتكيت حين قدمت شهرا والناس يفيضون في قول أصحاب الإفك لا أشعر بشيء من ذلك وهو يريبني في وجعي إني لا أعرف من رسول الله صلى الله عليه و سلم اللطف الذي كنت أرى منه حين أشتكي إنما يدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم يقول : كيف تيكم ؟ ) ثم ينصرف فذلك يريبني ولا أشعر بالشر حتى خرجت بعدما أفقت وخرجت معي أم مسطح قبل المناصع وهو متبرزنا وكنا لا نخرج إلا ليلا إلى ليل وذلك قبل أن تتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وأمرنا أمر العرب الأول في التبرز قبل الغائط وكنا نتأذى بالكنف قريبا من بيوتنا فانطلقت أنا و أم مسطح وهي بنت أبي رهم بن المطلب بن عبد مناف وأمها بنت صخر بن عامر جدة أبي بكر الصديق وابنها مسطح بن أثاثة بن المطلب فأقبلت أنا و أم مسطح قبل بيتي حين فرغنا من شأننا فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت لها بئس ما قلت تسبين رجلا قد شهد بدرا قالت : يا هنتاه أو لم تسمعي ما قال ؟ قلت : وما قال ؟ قالت : فأخبرتني بقول أهل الإفك قالت : فازددت مرضا إلى مرضي فلما رجعنا إلى بيتي دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم فسلم ثم قال : ( كيف تيكم ؟ ) قلت له : أتأذن لي أن آتي أبوي وأنا حينئذ أريد أن أستيقن الخبر من قبلهما قالت : فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئت أبوي فقلت لأمي : يا أمتاه ما يتحدث الناس ؟ فقالت : يا بنية هوني عليك فوالله لقلما كانت قط امرأة وضيئة عند من يحبها لها ضرائر إلا أكثرن عليها قالت : فقلت سبحان الله ولقد تحدث الناس بهذا فمكثت الليلة حتى أصبحت لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم قالت : ثم أصبحت أبكي فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استراث الوحي فشاورهما في فراق أهله قالت : فأما أسامة فأشار على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذي يعلم من براءة أهله وبالذي كان يعلم في نفسه لهم من الود فقال أسامة يا رسول الله : أهلك ولا نعلم إلا خيرا وأما علي فقال : يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء سواها كثير وان تسأل الخادم تصدقك قالت : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال لها : ( أي بريرة هل رأيت من شيء يريبك ؟ ) قالت بريرة : والذي بعثك بالحق ما رأيت عليها أمرا أغمصه عليها أكثر من أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتأتي الداجن فتأكله فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ فاستعذر من عبد الله بن أبي بن سلول فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو على المنبر : ( يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل بلغني أذاه في أهل بيتي ؟ فوالله ما علمت من أهلي إلا خيرا ولقد ذكروا رجلا ما علمت عليه إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا معي ) قالت : فقام سعد بن معاذ الأنصاري فقال : يا رسول الله أنا أعذرك منه إن كان من الأوس ضربت عنقه وإن كان من إخواننا الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك قالت : فقام سعد بن عبادة وهو سيد الخزرج يومئذ وكان من قبل ذلك رجلا صالحا ولكن حملته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمرو الله لا تقتله ولا تقدر على قتله فقام أسيد بن حضير وهو ابن عم سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمروالله والله ليقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين قالت : فتثاور الحيان الأوس والخزرج حتى هموا أن يقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخفضهم حتى سكتوا وسكت قالت : فمكثت يومي ذلك لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم قالت : فأصبح أبواي عندي وقد بكيت ليلتي لا أكتحل بنوم ولا يرقأ لي دمع يظنان لبكاء فالق كبدي فبينما هما جالسان عندي وأنا أبكي فاستأذنت علي امرأة من الأنصار فأذنت لها فجلست تبكي معي قالت : فبينا نحن على ذلك دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلس قالت : ولم يجلس عندي منذ قيل لي ما قيل قبلها ولقد لبث شهرا لا يوحى إليه في شيء قالت : فتشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جلس ثم قال : ( أما بعد يا عائشة فإنه قد بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه قالت : فما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب رسول الله فيما قال قالت فقال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] فقلت لأمي : أجيبي رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال فقالت : والله ما أدري ما أقول لرسول الله قالت فقلت وأنا جارية حديثة السن لا أقرأ كثيرا من القرآن : إني والله لقد علمت لقد سمعتم هذا الحديث حتى استقر في أنفسكم وصدقتم به فلئن قلت لكم إني منه بريئة والله يعلم أني منه بريئة لاتصدقوني بذلك ولئن اعترفت لكم بأمر والله يعلم أني منه بريئة لتصدقنني وإني والله ما أجد لي ولكم مثلا إلا أبا يوسف قال { فصبر جميل والله المستعان } الآية قالت : ثم تحولت فاضطجعت على فراشي قالت : وأنا والله حينئذ أعلم أني بريئة وأن الله سيبرئني ببراءتي ولكن والله ما كنت أظن أن الله ينزل في شأني وحيا يتلى ولشأني في نفسي كان أحقر من أن يتكلم الله في بأمر يتلى ولكن كنت أرجو أن يرى رسول الله صلى الله عليه و سلم في النوم رؤيا يبرئني الله بها قالت : فوالله ما رام رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] ولا خرج أحد من أهل البيت حتى أنزل الله تبارك وتعالى عليه فأخذه ما كان يأخذه من البرحاء حتى أنه ليتصدر منه مثل الجمان من العرق في اليوم الشاتي من ثقل القرآن الذي ينزل عليه قالت : فلما سري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما سري عنه وهو يضحك فكان أول كلمة تكلم بها : ( أما الله فقد برأك ) فقالت أمي : قومي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : والله لا أقوم إليه ولا أحمد إلا الله وأنزل الله جل ذكره { إن الذين جاؤوا بالإفك } العشر الآيات كلها فلما أنزل الله هذا في براءتي قال أبو بكر الصديق وكان ينفق على مسطح بن أثاثة لقرابته منه وفقره - : والله لا أنفق على مسطح شيئا بعد الذي قال لعائشة فأنزل الله { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة أن يؤتوا أولي القربى والمساكين والمهاجرين في سبيل الله وليعفوا وليصفحوا ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم } الآية قال أبو بكر : بلى والله إني أحب أن يغفر الله لي فرجع إلى مسطح النفقة التي كان ينفق عليه وقال : والله لا أنزعها عنه أبدا قالت عائشة : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسأل زينب بنت جحش زوج النبي صلى الله عليه و سلم عن أمري فقال : ( يا زينب ماذا علمت أو رأيت ؟ ) قالت : يا رسول الله أحمي سمعي وبصري والله ما علمت إلا خيرا قالت : وهي التي كانت تساميني من أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع قالت : وطفقت أختها حمنة تحارب لها فهلكت فيمن هلك من أصحاب الإفك قال الزهري : فهذا ما انتهى إلينا من خبر هؤلاء الرهط من حديث عائشة

حضرت امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛ میں نے حضرات عروہ بن زبیر، سعید بن مسیّب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے سناجب بہتان لگانے والوں نے اُن کے بارے میں کہا، جو کہا، اور اللہ تعالی نے اُن کی برأت کا اعلان کیا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھے اُس حدیث کا ایک ٹکڑا سنایا، جو اُس نے حضرت عائشہ سے روایت کیا۔ اُن کی حدیث کا بعض دوسرے بعض حصے کی تصدیق کرتا ہے اگر چہ اُن میں سے بعض حضرات حدیث کو دوسرے بعض سے زیادہ یا در رکھنے والے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا اِرادہ فرماتے تو اپنی اَزوارج مطہرات کے درمیان قرعہ اَندازی کرتے۔ ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اُسی کو سفر پر ساتھ لے جاتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک غزوہ (بنی مصطلق ) جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلی ۔ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ پس مجھے اتارا جاتا اور سوار کیا جاتا اس حال میں کہ میں اپنے ہودج (کجاوہ، پالکی ) میں ہوتی ۔ پس ہم چلے یہاں تک کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے تو (واپس آتے ہوئے ) ہم قافلہ کی صورت میں مدینہ شریف کے قریب ہوئے تو رات کے وقت کوچ کا بگل بجا تو جوں ہی بگل بجا تو میں قضائے حاجت کے لئے اٹھی۔ پس جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے کجاوے کی طرف آئی ، اچانک میری نگاہ پڑی تو میرا یمنی نگینوں سے بنا ہارٹوٹ کر گر گیا تھا۔ میں اپنے ہار کی تلاش میں اُس کی طرف واپس آئی۔ کجاوہ اٹھانے والا گروہ آیا اور انہوں نے کجاوہ اٹھا کر اُس اونٹ پر رکھا ، جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے خیال کیا کہ میں اُس ان میں موجود ہوں کیونکہ اُس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں۔ وہ زیادہ موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں۔ وہ بقدرِ کفایت کھانا کھایا کرتی تھیں۔ پس اُس گروہ نے ہودج کے ہلکا ہونے کو محسوس تک نہ کیا، میں تو پھر بھی کم عمر تھی ۔ انہوں نے کجاوہ اٹھایا اور چل دیئے۔ لشکر کے کوچ کر جانے کے بعد مجھے میرا ہار مل گیا۔ پس میں اُن لوگوں کی جگہ پر آئی ، جبکہ وہاں نہ کوئی پکارنے والا اور نہ کوئی جواب ا دینے والا تھا۔ پس میں نے اُسی جگہ کا اِرادہ کیا، جہاں پر (پہلے) میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ضرور واپس آئیں گے۔ اِسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ پس میں سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے ہوا کرتے تھے۔ پس انہوں نے رات کو سفر کیا اور صبح ہوتے ہی وہ میری اُس جگہ کے پاس تھے، ( جہاں میں سوئی ہوئی تھی ) پس انہوں نے سوئے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا تو وہ میری طرف آئے اور مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا، کیونکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا، جب انہوں نے مجھے پہچانا تو پڑھا: ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔‘‘ جس سے مجھے جاگ آئی ۔ پس میں نے جلدی جلدی اپنے چہرے پر بڑا کپڑا ڈالا۔ انہوں نے میرے ساتھ ایک بات بھی نہ کی اور میں نے اُن کے منہ سے کلمۂ استرجاع کے علاوہ کوئی بات نہ سنی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ اس کے گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھا تو میں سوار ہوئی۔ انہوں نے سواری کی مہار پکڑی اور مجھے لیکر چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس آئے ، اس کے بعد کہ وہ پڑاؤ ڈال چکے تھے ۔ پس ہلاک ہوا ، جو ہلاک ہوا اور جس آدمی نے سب سے زیادہ بہتان کی بات کو ہوا دی ، وہ عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پس ہم مدینے آئے ۔ جوں ہی ہم مدینے پہنچے تو میں بیمار ہو گئی اور مسلسل ایک ماہ تک بیمار رہی جبکہ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں حصہ لیتے رہے، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی خبر تک نہ ہوئی۔ البتہ ایک بات مجھے کھٹک رہی تھی کہ میری بیماری کے دوران جو لطف و عنایت مجھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے فرمایا کرتے تھے ، وہ مفقود تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزاج پرسی کیلئے تشریف لایا کرتے تو صرف اتنا دریافت کرتے کہ آپ کا کیا حال ہے؟ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے۔ اس سے مجھے شک گزرتا تاہم مجھے اس شر انگیز پرو پیگنڈے کی خبر تک نہ تھی ۔ یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے کچھ اِفاقہ ہوا تو میں باہر گئی اور میرے ساتھ حضرت امّ مسطح نکلیں ۔ ہم باہر کھلی جگہ گئیں ، وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہیں تھیں ۔ ہم صرف رات رات ہی نکلا کرتی تھیں۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے کا رواج نہ تھا اور ہم عرب کے دستور کے مطابق جنگل ہی میں جایا کرتی تھیں ۔ اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے ہمیں تکلیف ہوا کرتی تھی ۔ پس میں اور امِّ مسطح گئیں ۔ (وہ ابور ہم بن مطلب بن عبد مناف کی بیٹی تھیں اور ان کی ماں، بنت صخر بن عامر ، حضرت ابو بکر کی دادی (یا نانی ) تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اُثاثہ بن مطلب تھے ) پس میں اور ام مسطح (ہم ) فارغ ہونے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں کہ چادر میں امّ مسطح کا پاؤں اُلجھا جس سے وہ گر گئیں۔ کہا: ’’مسطح بلاک ہو۔‘‘ میں نے اس سے کہا: تو نے کتنا برا کلمہ کہا تو بدری صحابی کو گالی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کی بندی! کیا آپ نے نہیں سنا، جو اُس نے کہا۔ میں نے کہا: اُس نے کیا کہا؟ فرماتی ہیں: انہوں نے مجھے بہتان باندھنے والوں کی بات بتائی۔ فرماتی ہیں: میری بیماری میں اِضافہ ہو گیا۔ پس جب ہم گھر واپس آ گئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا پھر کہا: تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی : کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جاؤں؟ اُس وقت میرا اِرادہ یہ تھا کہ میں اُن سے اس بات کی تصدیق کروں گی۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ پس میں اپنے والدین کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : اے امی جان ! لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے میری بیٹی !غمگین نہ ہو۔ بخدا! کم ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی عورت پاکیزہ صورت اور اپنے خاوند کی پیاری ہو اور اُس کی سوکنیں بھی ہوں اور اُس کے خلاف باتیں نہ کی گئی ہوں۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا: سبحان اللہ ! لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں۔ پس میں نے وہ رات گزاری میرے آنسو نہیں تھے۔ نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ فرماتی ہیں: میں نے صبح کی تو رو رہی تھی۔ پس جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہما کو بلا کر اپنے گھر والوں کی جدائی کے حوالے سے مشورہ کیا۔ فرماتی ہیں: جہاں تک تعلق ہے حضرت اُسامہ کا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُسی بات کا اِشارہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی برأت کو جانتے تھے اور وہی کو اپنے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت رکھتے تھے ۔ پس حضرت اُسامہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کی گھر والی ہیں۔ ہم تو بھلائی ہی جانتے ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں فرمائی اور ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو اُن کی خادمہ سے دریافت کر لیں۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے شک میں ڈالنے والی کوئی چیز دیکھی ہے؟ حضرت بریرہ نے عرض کی: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن پر کوئی بات نہیں دیکھی، جسے میں عیب سمجھوں، اس سے زیادہ کہ وہ کم عمری کی وجہ سے سو جاتی ہیں اور گھر والوں کا آٹا گوندھا رہ جاتا ہے اور بکری آکر اُسے کھا جاتی ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کھڑے ہوئے ۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معذور جانا۔ منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے گروہِ مسلماناں ! اُس شخص کے بارے میں مجھے کون معذور رکھتا ہے، جس کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے جس آدمی کا ذکر کیا، میں اس کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا، وہ میرے ساتھ تھا۔ فرماتی ہیں: پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں اُس کے حوالے سے آپ سے معذرت خواہ ہوں اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن ماردوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو جو آپ کا حکم ہو گا ، ہم اُس پر عمل کریں گے۔ فرماتی ہیں: حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے ۔ وہ اُن دنوں بنو خزرج کے سردار تھے۔ وہ اس حوالے سے نیک آدمی تھے ، لیکن اُن کی عصبیت بیدار ہو گئی تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: تو نے جھوٹ بولا ۔ تیری عمر کی قسم ! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی اُسے قتل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ (اس دوران ) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے۔ فرماتی ہیں: قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی یہاں تک کہ اُنہوں نے لڑائی کا ارادہ کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا غصہ ٹھنڈا کیا یہاں تک وہ سب خاموش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ فرماتی ہیں: میرا وہ دن بھی گزرا کہ میرے آنسو خشک نہ ہوئے اور نہ مجھے نیند آئی ۔ فرماتی ہیں: میرے والدین صبح کے وقت میرے پاس آئے جبکہ میں نے ساری رات رو کر گزاری نہ میں سوئی اور نہ میرے آنسو تھمے۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ اسی دوران کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میرے رونے کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اُسے آنے کی اجازت دی۔ پس وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ فرماتی ہیں: ہم اسی حال میں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر بیٹھ گئے ۔ فرماتی ہیں: جب سے یہ بات کہی گئی جو کہی گئی اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے ۔ ایک ماہ گزر گیا تھا، میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھے تو آپ نے کلمۂ شہادت پڑھا پھر فرمایا : کلمۂ شہادت کے بعد اے عائشہ! کیونکہ مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بے قصور ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب تیری برکت فرما دے گا اور (خدا نخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ سے توبہ کر لیں، کیونکہ بندہ جب اپنے قصور کا اِعتراف کر لیتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اُسکی تو بہ قبول فرماتا ہے۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ فرماتی ہیں: انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں ۔ انہوں نے کہا۔ مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں ۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات (ایک طرف سے ) سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے ۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں، اللہ جانتا ہے، جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ بخدا! اب میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال دوں، جنہوں نے کہا تھا:’’فصبر جمیل واللہ المستعان على ما تصفون ۔ “ ( لہٰذا صبر ہی اچھا ہے اور میں اس معاملے میں جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مد مانگتا ہوں۔) فرماتی ہیں: پھر میں منہ پھیر کر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ فرماتی ہیں: بخدا! اُس مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں بے قصور ہوں اور یقینا اللہ تعالیٰ ضرور میری برأت فرمائے گا، لیکن مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالی میرے بارے وحی نازل فرمائے گا، جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھتی تھی کہ وہ میرے بارے ایسا کلام فرمائے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی لیکن مجھے اس بات کی ضرور امید تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ میری برأت فرمادے گا۔ فرماتی ہیں : بخدا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( جانے کا )اِرادہ نہ کیا اور نہ میرے گھر والوں میں سے کسی نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ وحی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ سردی کے موسم میں بھی پینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے، قرآن کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے اور پہلی بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ، وہ یہ تھی اللہ تعالیٰ نے تیری برأت فرما دی ہے۔ میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکر یہ ادا کرو ۔ میں نے کہا؛ بخدا! میں اُن کا شکر یہ ادا کرنے کی بجائے پہلے اللہ کا شکر ادا کروں گی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر ہ ان دس آیات میں فرمایا: ’’ان الذی جاء وا بالافك الٰى آخرہٖ ‘‘ پس جب میری برأت میں یہ وحی نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا! میں مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ کہا ہے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان پر خرچ کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ولایاتلِ۔۔۔۔۔ الٰى قولہٖ۔۔۔۔۔ غفور رحیم ۔‘‘ (اس کے بعد ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں بخدا ! یقیناً میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے۔ پس آپ نے دوبارہ مسطح پر خرچ کرنا شروع کر دیا جس طرح پہلے خرچ کرتے تھے اور فرمایا: بخدا! میں اُن پر خرچ کرنا بھی نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملے کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی پوچھا تھا۔ فرمایا: اے زینب ! آپ نے کیا جانا؟ یا فرمایا: کیا دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول! میری سمع و بصر اس سے محفوظ رہی۔ بخدا! مجھے ان کے حوالے سے بھلائی ہی معلوم ہے۔ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ محترمہ تھیں، جو مجھ سے بلند و بالا رہنے کی خواہش مند تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو اُن کے ورع کی وجہ سے محفوظ رکھا۔ فرماتی ہیں: حالانکہ ان کی بہن حمنہ اُن سے جھگڑتی رہی اور ہلاکت کا شکار ہوئی جس طرح بہتان باندھنے والے دوسرے لوگ ہلاک ہوئے ۔ حضرت امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ اُن میں سے آخری بات ہے جو حضرت عائشہ کی حدیث کے حوالے سے اس گروہ سے ہم تک پہنچی ہیں ۔

طَائِفَةً مِنْ الْحَدِيثِ الَّذِي ← وَکُلٌّ ← فَبَرَّأَهَا اللَّهُ ← لها أهل الإفك ما ← حديث عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم حين ← قاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ← عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و علقمة بن ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأَيْلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19085

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19086

135 - حدثنا أبو يزيد يوسف بن يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا أبو الربيع الزهراني قالا ثنا فليح بن سيلمان عن الزهري عن عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و علقمة بن وقاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم كلهم حدثني طائفة من حديثها وبعضهم أوعى من بعض وأثبت اقتصاصا وقد وعيت عن كل رجل منهم الحديث الذي حدثني وبعض حديثهم يصدق بعضا زعموا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يخرج سفرا أقرع بين أزواجه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه قالت : فأقرع بيننا في غزاة غزاها فخرج سهمي فخرجت معه بعدما أنزل الله الحجاب فأنا أحمل في هودج وأنزل فيه حتى إذا فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم من غزوته تلك وقفل ودنونا من المدينة آذن ليلة بالرحيل فقمت حين أذنوا بالرحيل فمشيت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني أقبلت إلى الرحل فالتمست صدري فإذا عقد لي من جزع أظفار قد انقطع فرجعت فالتمست عقدي فحبسني ابتغاؤه فأقبل الذين يرحلون بي فحملوا هودجي فرحلوه على بعيري الذي كنت أركبه وهم يحسبون أني فيه وكان النساء إذ ذاك خفافا لم يثقلن ولم يغشهن اللحم وإنما يأكلن العلقة من الطعام فاحتملوه وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الجمل وساروا فوجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منزلهم وليس فيه أحد فأممت منزلي الذي كنت فيه فظننت أنهم سيفقدوني فيرجعون إلي فبينما أنا جالسة في منزلي غلبتني عيناي فكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فأتاني وكان يراني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين أناخ راحلته فوطئ يدها فركبتها فانطلق يقود بي الراحلة حتى أتينا الجيش بعدما نزلوا معرسين في نحر الظهيرة فهلك من هلك وكان الذي تولى كبر الإفك عبد الله بن أبي بن سلول فقدمت المدينة فاشتكيت بها شهرا والناس يفيضون في قول أصحاب الإفك لا أشعر بشيء من ذلك ويريبني في وجعي أني لا أعرف من رسول الله صلى الله عليه و سلم اللطف الذي كنت أراه منه حين أمرض إنما يدخل فيسلم ثم يقول : ( كيف تيكم ؟ ) فذلك يريبني فلا أشعر حتى نقهت فخرجت أنا و أم مسطح إلى قبل المناصع متبرزنا لا نخرج إلى من ليل إلى ليل وذلك قبل أن تتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وأمرنا أمر العرب الأول في البرية أو في التبرز فأقبلت أنا و أم مسطح بنت أبي رهم نمشي فعثرت في مرطها ؟ فقالت : تعس مسطح فقلت لها : بئس ما قلت أتسبين رجلا شهد بدرا ؟ فقالت : يا هنتاه ألم تسمعي ما قالوا ؟ قالت : وما قالوا ؟ فأخبرتني بقول أهل الإفك فازددت مرضا إلى مرضي فلما رجعت إلى بيتي ودخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( كيف تيكم ؟ ) فقلت : ائذن لي أن آتي أبوي قالت : وأنا حينئذ أريد أن أستيقن الخبر من قبلهما قالت : فأذن لي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتيت أبوي فقلت لأمي : ما يتحدث به الناس ؟ قالت : يا بنية هوني على نفسك الشأن فوالله لقلما كانت امرأة قط وضيئة عند رجل يحبها ولها ضرائر إلا أكثرن عليها فقلت : سبحان الله وقد تحدث الناس بهذا ؟ قالت : فبت تلك الليلة حتى أصبحت لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم حتى أصبحت فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استلبث الوحي يستشيرهما في فراق أهله قالت : فأما أسامة فأشار على رسول الله صلى الله عليه و سلم بالذي يعلم من براءة أهله وبالذي يعلم في نفسه من الود لهم فقال أسامة : أهلك يا رسول الله ولا نعلم إلا خيرا وأما علي فقال : يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء سواها كثير وسل الجارية تصدقك قالت : فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال لها : ( هل رأيت منها شيئايريبك ؟ ) فقالت بريرة : لا والذي بعثك بالحق ما رأيت منها أمرا أغمصه عليها أكثر من أنها جارية حديثة السن تنام عن العجين حتى تأتي الداجن فتأكله قالت : فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم من يومه فاستعذر من عبد الله بن أبي بن سلول قالت : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( من يعذرني من رجل بلغني أذاه في أهلي فوالله قالها ثلاثا ما علمت على أهلي إلا خيرا وقد ذكروا رجلا ما علمت عليه إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا معي ) قالت : فقام سعد بن معاذ فقال : أنا والله يا رسول الله أعذرك منه إن كان من الأوس ضربنا عنقه وإن كان من إخواننا من الخزرج أمرتنا ففعلنا فيه أمرك فقام سعد بن عبادة وكان سيد الخزرج وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكنه احتملته الحمية فقال : كذبت لعمرو الله لا تقتله ولا تقدر على ذلك فقال أسيد بن حضير : كذبت لعمرو الله ليقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين فثار الحيان الأوس والخزرج حتى هموا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم على المنبر فنزل يخفضهم حتى سكتوا وسكت وبكيت يومي لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم وأصبح عندي أبواي وقد بكيت يومي وليلتي حتى أظن أن البكاء فالق عيني قالت : فبينما هما جالسان عندي وأنا أبكي إذ استأذنت امرأة من الأنصار فأذنت لها فجلست تبكي معي فبينا نحن كذلك إذ دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم فجلس ولم يجلس عندي منذ قيل ما قيل قبلها وقد مكث شهرا لا يوحى إليه في شأني فتشهد ثم قال : ( أما بعد يا عائشة بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله وتوبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنب ثم تاب تاب الله عليه ) فما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة فقلت لأبي أجب عني رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال قال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت لأمي فقالت مثل ذلك فقلت وأنا جارية حديثة السن لا أقرأ كثيرا من القرآن : والله لقد علمت أنكم قد سمعتم ما تحدث به وقر في أنفسكم فصدقتم به ولئن قلت إني بريئة والله يعلم أني بريئة لا تصدقونني بذلك ولئن اعترفت لكم بأمر يعلم الله أني منه بريئة لتصدقنني والله ما أجد لي ولكم مثلا إلا أبا يوسف إذ قال { فصبر جميل } الآية قالت : ثم تحولت على فراشي وأنا أرجو أن يبرئني الله ببراءتي ولكن والله ما ظننت أن ينزل في شأني وحي يتلى ولأنا أحقر في نفسي من أن يتكلم بالقرآن في أمري ولكن كنت أرجو أن يرى رسول الله صلى الله عليه و سلم رؤيا تبرئني قالت : فوالله ما رام من مجلسه ولا خرج أحد من البيت حتى أنزل عليه فأخذه ما كان يأخذه من البرحاء حتى أنه ليتحدر منه مثل الجمان من العرق في يوم شات قالت : فسري عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يضحك فكان أول كلمة تكلم بها أن قال : ( يا عائشة احمدي الله فقد برأك الله ) فقالت لي أمي : قومي إلى رسول الله فقلت : لا والله لا أقوم إليه ولا أحمد إلا الله وأنزل الله { إن الذين جاؤوا بالإفك } الآيات كلها فلما أنزل الله هذا في براءتي قال أبو بكر الصديق وكان ينفق على مسطح بن أثاثة لقرابته منه : والله لا أنفق على مسطح شيئا أبدا بعدما قال لعائشة فأنزل الله هذه الآية { ولا يأتل أولو الفضل } إلى آخر الآية قال أبو بكر : بلى إني أحب أن يغفر الله لي فرجع إلى مسطح الذي كان يجري عليه قالت : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم سأل زينب بنت جحش عن أمري فقال : ( يا زينب ما علمت وما رأيت ؟ ) فقالت : أحمي سمعي وبصري والله ما علمت عليها إلا خيرا قالت عائشة : وهي التي كانت تساميني فعصمها الله بالورع

حضرت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرات عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیّب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے سناجب بہتان لگانے والوں نے اُن کے بارے میں کہا، جو کہا، اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی برأت کا اعلان کیا۔ اِن میں سے ہر ایک نے مجھے اُس حدیث کا ایک ٹکڑا سنایا، جو اُس نے حضرت عائشہ سے روایت کیا۔ اُن میں سے بعض حضرات حدیث کو دوسرے بعض سے زیادہ یاد رکھنے والے اور قصہ بیان کرنے کے لحاظ سے زیادہ مضبوط ہیں اور میں نے ان میں ہر ایک سے اس حدیث کو یاد کیا جسے میں نے روایت کیا ۔ اُن کی حدیث کا بعض دوسرے بعض حصے کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی از وارج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اپسی کو سفر پر ساتھ لے جاتے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک غزوہ (بنی مصطلق ) جو آپ نے فرمایا، اس میں آپ نے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلی ۔ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ پس مجھے اتارا جاتا اور سوار کیا جاتا ۔ یہاں تک کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور واپس آتے ہوئے، ہم مدینہ شریف کے قریب ہوئے ۔ رات کے وقت کوچ کا بگل بجا تو جوں ہی بگل بجا تو میں قضائے حاجت کے لئے اٹھی۔ پس جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے کجاوے کی طرف آئی، اچانک میری نگاہ پڑی تو میرا یمنی نگینوں سے بنا ہار ٹوٹ کر گر گیا تھا۔ میں اپنے ہار کی تلاش میں اُس کی طرف واپس آئی ۔ کجاوہ اٹھانے والا گروہ آیا اور انہوں نے کجاوہ اٹھا کر اُس اونٹ پر رکھا، جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ انہوں نے خیال کیا کہ میں اُس میں موجود ہوں کیونکہ اُس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں ۔ وہ زیادہ موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں۔ وہ بقدر کفایت کھانا کھایا کرتی تھیں۔ پس اُس گروہ نے ہودج کے ہلکا ہونے کو محسوس تک نہ کیا ، میں تو پھر بھی کم عمر تھی۔ انہوں نے کجاوہ اٹھایا اور چل دیئے۔ لشکر کے کوچ کر جانے کے بعد مجھے میرا ہا رمل گیا۔ پس میں اُن لوگوں کی جگہ پر آئی، جبکہ وہاں کوئی نہ تھا۔ پس میں نے اُسی جگہ کا ارادہ کیا، جہاں پر (پہلے) میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ضرور واپس آئیں گے۔ اِسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ پس میں سو گئی ۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے ہوا کرتے تھے۔ پس انہوں نے رات کو سفر کیا اور صبح ہوتے ہی وہ میری اُس جگہ کے پاس تھے، ( جہاں میں سوئی ہوئی تھی ) پس انہوں نے سوئے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا تو وہ میری طرف آئے اور پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔ میں نے اُن کے منہ سے کلمۂ استرجاع سنا تو جاگ اٹھی۔ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ اس کے گھٹنے پر اپنا پاؤں رکھا تو میں سوار ہوئی۔ انہوں نے سواری کی مہار پکڑی اور مجھے لیکر چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس آئے ، اس کے بعد کہ وہ وقت ظہر کے قریب ستانے کیلئے پڑاؤ ڈال چکے تھے ۔ پس ہلاک ہوا ، جو ہلاک ہوا اور جس آدمی نے سب سے زیادہ بہتان کی بات کو ہوا دی ، وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پس ہم مدینے آئے ۔ جوں ہی ہم مدینے پہنچے تو میں بیمار ہوگئی اور مسلسل ایک ماہ تک بیمار رہی جبکہ کچھ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں حصہ لیتے رہے، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی خبر تک نہ ہوئی البتہ ایک بات مجھے کھٹک رہی تھی کہ میری بیماری کے دوران جو لطف و عنایت مجھ پر پہلے فرمایا کرتے تھے ، وہ مفقود تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزاج پرسی کیلئے تشریف لایا کرتے تو صرف اتنا دریافت کرتے کہ آپ کا کیا حال ہے؟ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے۔ اس سے مجھے شک گزرتا تاہم مجھے اس شر انگیز پرو پیگنڈے کی خبر تک نہ تھی ۔ یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے کچھ افاقہ ہوا تو میں باہر گئی اور میرے ساتھ حضرت ام مسطح نکلیں ۔ ہم باہر کھلی جگہ گئیں ، وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہیں تھیں اور ہم عرب کے دستور کے مطابق جنگل ہی میں جایا کرتی تھیں۔ پس میں اور امّ مسطح بنت رھم گئیں ۔ ہم چل رہی تھیں کہ چادر میں ام سطح کا پاؤں الجھا جس سے وہ گر گئیں ۔ کہا: مسطح بلاک ہو۔ میں نے اس سے کہا: تو نے کتنا برا کلمہ کہا تو بدری صحابی کو گالی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کی بندی! کیا آپ نے نہیں سنا، جو لوگوں نے کہا۔ میں نے پوچھا: لوگوں نے کیا کہا ؟ انہوں نے مجھے بہتان باندھنے والوں کی بات بتائی۔ میری بیماری میں اضافہ ہو گیا۔ پس جب میں گھر واپس آگئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی ، کہا: تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی: کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جاؤں؟ اُس وقت میرا ارادہ یہ تھا کہ میں اُن سے اس کبر کی تصدیق کروں گی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ پس میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : اے اپنی امی جان! لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے میری بیٹی غمگین نہ ہو۔ بخدا! کم ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی عورت پاکیزہ صورت اور اپنے خاوند کی پیاری ہو اور اُس کی سوکنیں بھی ہوں اور اُس کے خلاف باتیں نہ کی گئی ہوں۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: سبحان اللہ ! لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں۔ پس میں نے وہ رات گزاری میرے آنسو نہیں تھے ۔ نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ یہاں تک کہ میں نے صبح کی۔ پس جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اُسامہ کو بلا کر اپنے گھر والوں کی جدائی کے حوالے سے مشورہ کیا۔ جہاں تک تعلق ہے حضرت اُسامہ کا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی بات کا مشورہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی برأت کو جانتے تھے اور وہی اپنے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت رکھتے تھے ۔ پس حضرت اسامہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کی گھر والی ہیں۔ ہم تو بھلائی ہی جانتے ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالی نے آپ پر تنگی نہیں کی اور ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو اُن کی خادمہ سے دریافت کر لیں۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے شک میں ڈالنے والی کوئی چیز دیکھی ہے؟ حضرت بریرہ نے عرض کی قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن پر کوئی بات نہیں دیکھی، جسے میں عیب سمجھوں، اس سے زیادہ کہ وہ کم عمری کی وجہ سے سو جاتی ہیں اور گھر والوں کا آٹا گوندھا رہ جاتا ہے اور بکری آکر اُسے کھا جاتی ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس دن کھڑے ہوئے۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول کو آپ ایسی کیا کہ تم نے معذور جانا۔ منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے گروہ مسلماناں ! اُس شخص کے بارے میں مجھے کون معذور رکھتا ہے، جس کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے جس آدمی کا ذکر کیا، میں اس کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا، وہ میرے ساتھ تھا۔ فرماتی ہیں : پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں اُس کے حوالے سے آپ سے معذرت خواہ ہوں اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے خزرجی اں بھائیوں سے ہے تو جو آپ کا حکم ہوگا ، ہم اُس کی تعمیل کریں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے۔ وہ اُن دنوں بنو خزرج کے سردار تھے۔ وہ اس سے پہلے تو نیک آدمی تھے ، لیکن اُن کی خاندانی عصبیت کا جذبہ بیدار ہو گیا تو حضرت سعد بن معاذ سے کہنے لگے :تو نے جھوٹ بولا۔ تیری عمر کی قسم ! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ! گا ہی اُسے قتل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ (اسی دوران ) حضرت اُسید بن حضیر نے کہا: اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کے بارے میں جھگڑا کرتا ہے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کا ارادہ کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر سے اُتر کر اُن کا غصہ ٹھنڈا کیا یہاں تک وہ سب خاموش ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ میرا وہ دن بھی گزرا کہ میرے آنسو خشک نہ ہوئے اور نہ مجھے نیند آئی۔ میرے والدین صبح کے وقت میرے پاس آئے جبکہ میرے شب و روز رونے میں گزر رہے تھے ۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ رونا میری آنکھیں پھوڑ دے گا۔ اس دوران کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میرے رونے کا سلسلہ جاری تھا کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اُسے انے کی اجازت دی۔ پس وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ فرماتی ہیں: ہم اسی حال میں تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر بیٹھ گئے ۔ جب سے یہ بات کہی گئی جو کہی گئی اس وقت سے کبھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے ۔ ایک ماہ گزر گیا تھا، میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلمۂ شہادت پڑھا پھر فرمایا: کلمۂ شہادت کے بعد اے عائشہ! مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بری ہے تو اللہ تعالی عنقریب تیری برأت فرما دے گا اور (خدا نخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ سے توبہ کر لیں، کیونکہ بندہ جب اپنے قصور کا اعتراف کر لیتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسکی تو بہ قبول فرماتا ہے۔ جب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں ۔ فرماتی ہیں: انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ و سے یہی بات عرض کی۔ انہوں نے بھی میرے والد گرامی کی طرح جواب دیا۔ میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات (ایک طرف سے ) سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے ۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں، اللہ جانتا ہے، جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ بخدا! اب میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال دوں ، جنہوں نے کہا تھا: ’’صبر جمیل الٰی آخرہٖ ۔‘‘ ( صبر ہی اچھا ہے ۔ ) فرماتی ہیں: پھر میں منہ پھیر کر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔ فرماتی ہیں: بخدا! اُس مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں بے قصور ہوں اور یقینا اللہ تعالٰی ضرور میری برأت فرمائے گا، لیکن مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالی میرے بارے وحی نازل فرمائے گا، جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھتی تھی کہ وہ میرے بارے ایسا کلام فرمائے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی، لیکن مجھے اِس بات کی ضرور امید تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ میری برأت فرما دے گا۔ فرماتی ہیں: بخدا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( جانے کا )اِرادہ نہ کیا اور نہ میرے گھر والوں میں سے کسی نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ یہاں تک کہ اللہ نے آپ پر وحی نازل فرمائی۔ وحی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ۔ سردی کے موسم میں بھی پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے، قرآن کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے اور پہلی بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ، وہ یہ تھی :اے عائشہ! اللہ کا شکر بجا لا ! اللہ تعالیٰ نے تیری برأت فرمادی ہے۔ میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکر یہ ادا کرو ۔ میں نے کہا ؟ بخدا! میں اُن کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے پہلے اللہ کا شکریہ ادا کروں گی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر ان دس آیات میں فرمایا : ’’ان الذی جاء وا بالافك الٰى آخرہٖ‘‘پس جب میری برأت میں یہ وحی نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا! میں مسطح پر کچھ کرچ نہیں کروں گا اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ کے بارے میں یہ کہا ہے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان پر خرچ کیا کرتے تھے تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ولایاتل۔۔۔۔۔ الٰی آخرہٖ۔‘‘(اس کے بعد ) حضرت ابو بکر نے کہا: کیوں نہیں بخدا! یقیناً میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے۔ پس آپ نے دوبارہ مسطح پر خرچ کرنا شروع کر دیا جس طرح پہلے خرچ کرتے تھے اور فرمایا : بخدا! میں اُن پر خرچ کرنا کبھی نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملے کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی پوچھا تھا۔ فرمایا: اے زینب! آپ نے کیا جانا یا فرمایا: کیا دیکھا۔ انہوں نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول ! میری سمع و بصر اس سے محفوظ رہی۔ بخدا! مجھے ان کے حوالے سے بھلائی ہی معلوم ہے ۔ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ محترمہ تھیں، جو مجھ سے برتر ہو کر رہنا چاہتی تھیں ، لیکن اللہ تعالی نے اُن کو اُن کے ورع کی وجہ سے محفوظ رکھا۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19086

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19087

136 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا أبو الربيع الزهراني قالا ثنا فليح بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة و عبد الله بن الزبير Y مثله

حضرت عائشہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اس کی مثل حدیث روایت ہے۔

عائشة و عبد الله بن الزبير مثله ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19087

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19088

137 - حدثنا أبو يزيد قال : ثنا حجاج الأزرق ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا أبو الربيع قالا ثنا فليح بن سليمان عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن القاسم بن محمد Y مثله

حضرت قاسم بن محمد سے اسی کی مثل حدیث روایت ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، مِثْلَهُ ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عبد الله بن أحمد بن حنبل و محمد بن عبد الله الحضرمي ← حجاج الأزرق ← أَبُو يَزِيدَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19088

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19089

138 - حدثنا علي بن المبارك الصنعاني ثنا زيد بن المبارك ثنا محمد بن ثور عن ابن جريج قال وقال ابن شهاب عن عروة و عبيد الله بن عدي و علقمة بن وقاص يزيد بعضهم على بعض عن عائشة قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها سافر بها فغزا غزوة خرج فيها سهمي فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم غزاته ودنونا من المدينة آذن ليلة بالرحيل فخرجت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني رجعت إلى منزلي فلمست عقدا لي من جزع أظفار فإذا هو قد انقطع فرجعت وحبسني ابتغاؤه فجاء النفر الذين كانوا يرحلون بي هودجي فرحلوه على جملي وهم يحسبون أني فيه والنساء حينئذ خفاف لم يهبلن اللحم فاستمر الجيش وجئت منازلهم وليس بها منهم داع ولا مجيب فتيممت منزلي وعلمت أن سيفقدوني فينظروني فبينا أنا جالسة غلبتني عيني وكان صفوان بن المعطل عرس من وراء الجيش فرأى سواد إنسان نائم فتيممني فلما رآني استرجع وقد كان يدخل علي قبل أن يضرب علي الحجاب ففزعت باسترجاعه فخمرت وجهي فما تكلم غيرها وما تكلمني حتى أناخ راحلته فوطئ على ذراعها فركبت فجئنا الجيش نحر الظهيرة مغاولين وقد هلك من هلك فقدمت المدينة فمرضت شهرا لا أشعر بالذي قال أهل الإفك وأنا يريبني من النبي صلى الله عليه و سلم أني لا أرى منه اللطف الذي كنت أرى منه إذا مرضت إنما يقوم قائما فيقول : ( كيف تيكم ؟ ) حتى إذا نقهت تبرزت أنا و أم مسطح إلى المناصع وهو متبرزنا وأمرنا أمر العرب الأول إنما نأكل العلقة من الطعام ويتبرزن ليلا إلى ليل فلما قضينا شأننا رجعت إلى منزلي فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت : بئس ما قلت سببت رجلا صالحا قد شهد بدرا فقالت أي هنتاه أوما تدرين ما قالوا ؟ قلت : وما قالوا فأخبرتني الخبر فانتظرت النبي صلى الله عليه و سلم ليأتي فاستأذنته إلى أبوي فاستيقن الخبر من قبلهما فجئت بيتهما فوجدت أبي يصلي قلت : يا أمه ما قالوا ؟ قالت : أي بنية إنه قل ما كانت امراة حسناء عند رجل يحبها لها ضرائر إلا أكثرن عليها قالت : أولقد قالوا ذلك ؟ فانصرف أبي يصلي فوالله لوددت أني كنت حيضه فكنت لا يكتحل عيني بنوم ولا يرقأ لي دمع وعلا رسول الله صلى الله عليه و سلم المنبر فقال : ( ما بال رجال قد بلغني أذاهم في أهلي ولقد ذكروا رجلا صالحا قد شهد بدرا ما دخل على أهلي قط إلا وأنا حاضر ولا سافرت من سفر قط إلا وإنه لمعي ) فقام سعد بن معاذ فقال : أنا لك منه يا رسول الله إن كان من الأوس ضربنا عنقه وإن كان من بني الحارث بن الخزرج آتيناك به موثقا فقام سعد بن عبادة فقال : كذبت والله لا تقتله ولا تستطيع قتله فقام أسيد بن حضير بن سماك فقال : كذبت والله ليقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين فتثاور الحيان الأوس والخزرج فنزل النبي صلى الله عليه و سلم فلم يزل يسكتهم ويخفضهم حتى سكتوا قال ابن جريج : قال مولى ابن عباس : قال بعضهم لبعض موعدا لكم الحرة فلبسوا السلاح وخرجوا إليها فأتاهم النبي صلى الله عليه و سلم فلم يزل يتلو عليهم هذه الآية { واذكروا نعمة الله عليكم } حتى تنقضي يرددها عليهم حتى اعتنق بعضهم بعضا وحتى أن لهم لخنانا ثم انصرفوا قد اصطلحوا واستلبث رسول الله صلى الله عليه و سلم الوحي فدعا عليا و أسامة بن زيد فاستشارهما في فراق أهله فأما علي فقال : لم يضيق الله عليك والنساء كثير وإن تسأل الجارية يريد بريرة تصدقك وأما أسامة فأشار بالذي يعلم في نفسه من الوجد بأهله وبما يعلم من براءتهم فدعا بريرة فقال : ( هل رأيت على هذه الجارية من شيء تغمصينه عليها ؟ ) فقالت : لا والذي بعثك إلا أنها جارية حديثة السن ترقد حتى تأكل الداجن عجينها أو خميرها قالت عائشة : فمكثت يومين وليلتين لا تكتحل عيني بنوم ولا يرقأ لي دمع وأصبح أبواي عندي يظنان أن البكاء فالق كبدي فاستأذنت امرأة من الأنصار فأذنت لها فجلست فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم فجلس مني مجلسا لم يجلسه مني منذ قيل لي ما قيل فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : ( أما بعد يا عائش فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فتوبي منه واعترفي به فإن المرء إذا تاب من ذنبه واعترف به غفر له قالت : فلما قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم مقالته قلص دمعي حتى ما أحس منه قطرة قلت : يا أبه أجب رسول الله فقال : ما أدري ما أجيبه قلت : يا أمي أجيبي رسول الله قالت : ما أدري ما أجيبه قالت : وأنا جارية حديثة السن لا أقرأ من القرآن كثيرا فقلت : والله لقد سمعتم من هذا شيئا استقر في أنفسكم فلئن قلت أنا منه بريئة والله يعلم أني بريئة لا تصدقونني ولئن اعترفت بذنب أنا منه بريئة لتصدقونني ألا فإنما مثلي ومثلكم كأبي يوسف اختلس مني اسمه { فصبر جميل والله المستعان } ثم وليت وجهي نحو الجدار ونفسي أحقر عندي من أن ينزل في قرآن يتلى ولكني قد رجوت أن يري الله رسوله رؤيا في المنام فما تفرق أهل المجلس حتى أخذت رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] البرحاء التي كانت تأخذه عند الوحي حتى أنه ليتحدر منه مثل الجمان من العرق فاستغشى ثوبه قال أبو بكر : فجعلت أنظر إلى رسول الله فأخشى أن يأتي من السماء ما لا مرد له وأنظر إلى وجه عائشة فإذا هو مفيق فيطعمني في ذلك منها فإنما أنظر ههنا وههنا فنزع رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] عنه الثوب وهو يمسح جبهته من العرق وهو يقول : ( أبشري يا عائش أما الله فقد برأك ) فقلت بحمد الله وذمكم فقالت أمي : قومي فقبلي رأس رسول الله فقلت : لا والله لا أفعل ولا أحمد إلا الله وكان مما يبغى عليه أن قالت : والله ما أستحيي من الأنصارية أن تقول لي ما قال

حضرت ابن شہاب (امام زہری) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں‘انہوں نے حضرات عروہ ، عبید اللہ بن عدی اور علقمہ بن وقاص رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے میں روایت کیا۔ ان میں سے بعض کی حدیث، دوسرے بعض حضرات سے زیادہ ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا اِرادہ فرماتے تو اپنی اَزوارج مطہرات کے درمیان قرعہ اَندازی کرتے ۔ ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اُسی کو سفر پر ساتھ لے جاتے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک غزوہ (بنی مصطلق ) جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے تو (واپس آتے ہوئے ) ہم مدینہ شریف کے قریب ہوئے تو رات کے وقت کوچ کا بگل بجا تو جوں ہی بگل بجا تو میں قضائے حاجت کے لئے اٹھی۔ پس جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے کجاوے کی طرف آئی ، اچانک میری نگاہ پڑی تو میرا یمنی نگینوں سے بنا ہارٹوٹ کر گر گیا تھا۔ میں اپنے ہار کی تلاش میں اُس کی طرف واپس آئی۔ کجاوہ اٹھانے والا گروہ آیا اور اُنہوں نے کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھا ، اُنہوں نے خیال کیا کہ میں اُس میں موجود ہوں کیونکہ اُس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں ۔ وہ زیادہ موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں ۔ لشکر گزر گیا۔ پس میں اُن لوگوں کی جگہ پر آئی ، جبکہ وہاں نہ کوئی پکارنے والا اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا۔ پس میں نے اُس جگہ کا اِرادہ کیا، ( جہاں پر پہلے میں تھی) اور یہ جانا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ضرور غور کریں گے۔ اِسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ پس میں سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے ہوا کرتے تھے ۔ پس انہوں نے سوئے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا تو وہ میری طرف آنے کا ارادہ کیا اور مجھے دیکھتے ہی پڑھا:’’اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔‘‘ ( جس سے مجھے جاگ آئی۔ )جبکہ وہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے بھی میرے پاس آیا کرتے تھے ۔ پس میں اُن کے کلمۂ استرجاع پڑھنے سے گھبر اُٹھی۔ میں نے جلدی جلدی اپنے چہرے پر بڑا کپڑا ڈالا۔ انہوں نے کلمۂ استرجاع کے علاوہ کوئی بات نہ کی اور نہ مجھ سے کوئی بات کی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ اس کے گھٹنے پر اپنا پاؤں رکھا تو میں سوار ہوئی۔ یہاں تک کہ ہم جلدی چلتے ہوئے لشکر کے پاس آئے ۔ اور جو ہلاک ہوا ، وہ ہلاک ہوا۔ پس ہم مدینے آئے۔ جوں ہی ہم مدینے پہنچے تو میں بیمار ہو گئی اور مسلسل ایک ماہ تک بیمار رہی جبکہ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں حصہ لیتے رہے، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی خبر تک نہ ہوئی ۔ البتہ ایک بات مجھے کھٹک رہی تھی کہ میری بیماری کے دوران جو لطف و عنایت مجھ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے فرمایا کرتے تھے ، وہ مفقود تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزاج پرسی کیلئے تشریف لایا کرتے تو کھڑے ہو کر صرف اتنا دریافت کرتے کہ آپ کا کیا حال ہے؟ یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے کچھ اِفاقہ ہوا تو میں باہر گئی اور میرے ساتھ حضرت امّ مسطح نکلیں ۔ ہم باہر کھلی جگہ گئیں ، وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہیں تھیں ۔ اور ہم عرب کے دستور کے مطابق کیا کرتی تھیں ۔ ہم بقدر کفایت کھانا کھایا کرتی ہیں۔ پس ہم فارغ ہونے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں کہ چادر میں امّ مسطح کا پاؤں الجھا جس سے وہ گر گئیں۔ کہا: ’’مسطح ہلاک ہو ۔ ‘‘میں نے اس سے کہا: تو نے کتنا برا کلمہ کہا تو ایک نیک آدمی بدری صحابی کو گالی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کی بندی! کیا آپ کو معلوم نہیں، جو اُنہوں نے کہا۔ میں نے کہا: انہوں نے کیا کہا ؟ انہوں نے مجھے (بہتان باندھنے والوں کی ) بات بتائی۔ پس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری کی منتظر ہوئی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ) میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت مانگی تا کہ میں اُن سے اس بات کی تصدیق کروں۔ پس میں اپنے والدین کے گھر آئی تو میں نے اپنے والد گرامی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ میں نے عرض کی: اے امی جان ! لوگوں نے کیا کہا ہے؟ فرمایا: اے میری بیٹی ! غمگین نہ ہو ۔ بخدا! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کوئی عورت پاکیز و صورت اور اپنے خاوند کی پیاری ہو اور اُس کی سوکنیں بھی ہوں اور اُس کے خلاف باتیں نہ کی گئی ہوں۔ فرمایا: کیا وہ یہی باتیں کرتے ؟ پس میرے والد گرامی نے نماز پڑھ کر لوٹے قسم بخدا! میں نے خواہش کی کہ میں حیضہ (حیض کا خون صاف کرنے والا کپڑا) ہوتی۔ پس میں نے اپنی آنکھوں میں نیند کا سرمہ نہ ڈالا اور نہ میرے آنسو رکے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر پر آ کر ارشاد فرمایا: لوگوں کو کیا ہوا ہے، جن کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ (بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا ۔) لوگوں نے جس نیک آدمی کا ذکر کیا، وہ بدری صحابی ہیں۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا، میں وہاں موجود تھا اور نہ کبھی میں نے کوئی سفر کیا مگر وہ ضرور میرے ساتھ تھا۔ پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں اُس کے حوالے سے آپ کے لئے کافی ہوں۔ اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ بنو حارث بن خزرج قبیلے سے ہے تو ہم اُسے جکڑ کر آپ کے پاس لے آئیں گے۔ پس حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: تو نے جھوٹ بولا ۔ اللہ کی قسم! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی اُسے قتل نہیں کر سکتا ہے۔ (اسی دوران ) حضرت اُسید بن حضیر بن سماک رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہا: اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منبر سے نیچے اترے اور مسلسل اُن کو خاموش کراتے رہے اور اُن کا غصہ ٹھنڈا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے ۔ حضرت ابن جریج فرماتے ہیں: مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہم نے فرمایا: انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تمہارے (اور ہمارے )لیے مقام حَرّہ کا وعدہ ہوا۔ پس انہوں نے ہتھیار پہن لیے اور اُس مقام کی طرف نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن کے پاس آئے۔ آپ نے یہ آیت تلاوت کرنا شروع کی : ’’و اذکروا نعمۃ اللہ علیکم ۔“ یہاں تک کہ آیت ختم ہوئی ۔ آپ بار بار یہ آیت ان پر دھراتے رہے ایسا نہ ہو کہ وہ ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں۔ اور نزولِ وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اُسامہ کو بلا کر اپنے گھر والوں کی جدائی کے حوالے سے مشورہ کیا۔ جہاں تک تعلق ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی اور ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو اُن کی خادمہ سے دریافت کر لیں۔ لیکن حضرت اُسامہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُسی بات کا اشارہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی برأت کو جانتے تھے اور وہی کو اپنے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت رکھتے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے شک میں ڈالنے والی کوئی چیز دیکھی ہے؟ حضرت بریرہ نے عرض کی قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن پر کوئی بات نہیں دیکھی، جسے میں عیب سمجھوں، اس سے زیادہ کہ وہ کم عمری کی وجہ سے سو جاتی ہیں اور گھر والوں کا آٹا گوندھا رہ جاتا ہے اور بکری آ کر اُسے کھا جاتی ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: میرے دو دن اور دو راتیں گزریں کہ میرے آنسو خشک نہ ہوئے اور نہ مجھے نیند آئی۔ میرے والدین صبح کے وقت میرے پاس آئے جبکہ میں نے ساری رات رو کر گزاری نہ میں سوئی اور نہ میرے آنسو تھمے۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پس ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اُسے آنے کی اجازت دی۔ پس وہ بیٹھ گئی۔ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر بیٹھ گئے۔ (فرماتی ہیں: )جب سے یہ بات کہی گئی، اس کے بعد سے پہلے کبھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمد وثنا کی پھر فرمایا: حمد وثنا کے بعد اے عائشہ ! کیونکہ مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بے قصور ہے تو اللہ تعالی عنقریب تیری برأت فرما دے گا اور ( خدا نخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے توبہ کرلیں اور اپنے قصور کا اعتراف کر لیں ، کیونکہ آدمی جب اپنے قصور سے تو بہ کرتا ہے اور اس کا اِعتراف کر لیتا ہے پھر اسے بخش دیا جاتا ہے۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ فرماتی ہیں: انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں ۔ فرماتی ہیں: میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات (ایک طرف سے ) سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے ۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں، اللہ جانتا ہے، جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ آگاہ رہیں ! اب میری مثال اور آپ کی مثال، حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی ہے، جن کا نام میرے ذہن سے اتر گیا ( جنہوں نے کہا تھا : ) ’’فصبر جمیل و اللہ المستعان الٰى آخرہٖ ‘‘(لہذا صبر ہی اچھا ہے اور میں اس معاملے میں جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مد مانگتا ہوں ۔ )پھر میں نے اپنا منہ دیوار کی طرف پھیرا جبکہ میں اپنی ذات کو اس سے کم تر سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے قرآن نازل فرمائے گا، جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی لیکن مجھے اِس بات کی ضرور امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں دکھائے گا۔ مجلس والے ابھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوئے تھے۔ وحی کی سختی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ۔ آپ سے پینے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگے۔ پس آپ نے اپنے آپ کو کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ آسمان سے ایسا حکم آئے جو ردّ نہ ہو سکے گا اور میں حضرت عائشہ کے چہرے کی طرف بھی دیکھ رہا تھا کہ اس میں پریشانی سے اِفاقہ تھا۔ پس اس میں حضرت عائشہ کے حوالے سے وہ مجھے تسلی دیتا تھا۔ کبھی میں اِس طرف دیکھتا اور کبھی اُس طرف نگاہ ڈالتا۔ اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا ہٹایا اس حال میں کہ آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے : اے عائشہ ! آپ کو بشارت ہو، بہر حال اللہ تعالیٰ نے تیری برأت کا اعلان فرما دیا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے اور آپ کی ذمہ داری کی مہربانی۔ پس میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو! اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کو بوسہ دو۔میں نے کہا؛ بخدا! میں ایسا نہیں کروں گی ، میں تو صرف اللہ کا شکر ادا کروں گی۔ اور وہ بات اُن کے مخالف باتوں میں سے تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا نے کہا : بخدا! مجھے جھجھک نہیں ہے، انصاری عورت کی وجہ سے کہ آپ مجھے وہ بتائیں جو اللہ نے فرمائی۔

عَائِشَةَ ← عروة و عبيد الله بن عدي و علقمة بن وقاص يزيد بعضهم على بعض ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ ← زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19089

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ قصة الإفك وما أنزل الله من براءتها · حديث 19090

139 - حدثنا أحمد بن محمد الشافعي ثنا أبي إبراهيم بن محمد الشافعي عن مسلم بن خالد الزنجي عن محمد بن عبد الله بن أبي عتيق عن ابن شهاب قال حدثني عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و علقمة بن وقاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن عائشة حين قال لها أهل الإفك ما قالوا فبرأها الله وكل حدثني طائفة من الحديث الذي حدثني عن عائشة وبعض حديثهم يصدق بعضا وإن كان بعضهم أوعى لحديثها من بعض ذكروا أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد أن يخرج إلى سفر أقرع بين أزواجه فأيتهن خرج سهمها خرج بها معه قالت عائشة : فأقرع بيننا في غزوة غزاها فخرج فيها سهمي فخرجت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بعدما أنزل الحجاب فأنا أحمل في هودجي وأنزل فيه فسرنا حتى إذا فرغ رسول الله صلى الله عليه و سلم من غزوته تلك وقفل ودنونا من المدينة آذن ليلة بالرحيل فقمت حين أذن بالرحيل فمشيت حتى جاوزت الجيش فلما قضيت شأني وأقبلت إلى رحلي فإذا عقد لي من جزع أظفار قد انقطع فرجعت في التماس عقدي فحبسني ابتغاؤه وأقبل الرهط الذين كانوا يرحلونني فاحتملوا هودجي على بعيري الذي كنت أركب وهم يحسبون أني فيه وكنا إذ ذاك خفافا لم يهبلنا اللحم إنما تأكل إحدانا العلقة من الطعام فلم يستنكر القوم خفة الهودج حين رفعوه وكنت جارية حديثة السن فبعثوا الجمل وساروا ووجدت عقدي بعدما استمر الجيش فجئت منزلهم وليس به داع ولا مجيب فتيممت منزلي الذي كنت فيه وظننت أنهم سيفقدوني ويرجعون إلي فبينا أنا جالسة في منزلي غلبتني عيني فنمت وكان صفوان بن المعطل السلمي من وراء الجيش فأدلج فأصبح عند منزلي فرأى سواد إنسان نائم فعرفني حين رآني وكان يراني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين عرفني فخمرت وجهي بجلبابي فوالله ما كلمني كلاما ولا سمعت منه كلمة حتى أناخ راحلته فوطئ على يدها فركبتها فانطلق يقود بي الراحلة حتى أتى الجيش بعدما نزلوا موغرين في نحر الظهيرة فهلك من هلك من أهل الإفك وكان الذي تولى كبر الإثم عبد الله بن أبي بن سلول فقدمنا المدينة فاشتكيت حين قدمنا المدينة شهرا والناس يفيضون في قول أهل الإفك ولا أشعر بشيء من ذلك وهو يريبني في وجعي أني لم أعرف من رسول الله اللطف الذي كنت أرى منه حين أشتكي إنما يدخل علي فيقول : ( كيف تيكم ؟ ) ثم ينصرف فذلك يريبني ولا أشعر بالشر حتى خرجنا بعدما نقهت أنا و أم مسطح قبل المناصع وهو متبرزنا وكنا لا نخرج إلا ليلا إلى ليل وذلك قبل أن تتخذ الكنف قريبا من بيوتنا وأمرنا أمر العرب الأول في التبرز قبل الغائط وكنا نتأذى بالكنف أن نتخذها عند بيوتنا فانطلقت أنا و أم مسطح قبل بيتي حين فرغنا من شأننا فعثرت أم مسطح في مرطها فقالت : تعس مسطح فقلت : بئس ما قلت أتسبين رجلا قد شهد بدرا ؟ قالت : أي هنتاه أولم تسمعي ما قال ؟ قلت : وما قال ؟ فأخبرتني بقول أهل الإفك فازددت مرضا على مرضي فلما رجعت إلى بيتي ودخل علي رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] فقال : ( كيف تيكم ؟ ) قلت : أتأذن لي إلى أبوي ؟ قالت : وأنا حينئذ أريد أن أستيقن الخبر من قبلهما فأذن لي فجئت أمي و أبي فقلت : يا أمتاه ما يتحدث الناس ؟ قالت : يا بنية هوني عليك فوالله لقل ما رأيت امرأة وضيئة عند رجل يحبها لها ضرائر إلا أكثرن عليها فقلت : سبحان الله ولقد تحدث الناس بذلك ؟ قالت : فبكيت تلك الليلة حتى أصبحت لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم قالت : ثم أصبحت أبكي ودعا رسول الله صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و أسامة بن زيد حين استلبث الوحي يستشيرهما في فراق أهله فأما أسامة فأشار على رسول الله [ صلى الله عليه و سلم ] بالذي يعلم من براءة أهله والذي في نفسه لهم من الود فقال أسامة : يا رسول الله أهلك ولا نعلم إلا خيرا وأما علي بن أبي طالب فقال : يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء سواها كثير وأن تسأل الجارية تصدقك فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم بريرة فقال لها : ( يا بريرة هل رأيت من شيء يريبك ؟ ) قالت بريرة : لا والذي بعثك بالحق إن رأيت عليها قط أمرا أغمصه عليها أكثر من أنها جارية حديثة السن تنام عن عجين أهلها فتأتي الداجن فتأكله فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ فاستعذر من عبد الله بن أبي قالت : فقال وهو على المنبر : ( يا معشر المسلمين من يعذرني من رجل قد بلغني أذاه في أهل بيتي فوالله ما علمت في أهل بيتي إلا خيرا ولقد ذكروا رجلا ما علمت عليه إلا خيرا وما كان يدخل على أهلي إلا معي فقام سعد بن معاذ فقال : يا رسول الله أنا أعذرك منه إن كان من الأوس ضربت عنقه وإن كان من إخواننا من الخزرج أمرتنا ففعلنا أمرك فقام سعد بن عبادة وهو سيد الخزرج وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكن أخذته الحمية فقال لسعد بن معاذ : كذبت لعمرو الله لا تقتله ولا تقدر على قتله فقام أسيد بن حضير وهو ابن عم سعد بن معاذ فقال لسعد بن عبادة : كذبت لعمروالله ليقتلنه فإنك منافق تجادل عن المنافقين قالت : فثار الحيان الأوس والخزرج حتى هموا أن يقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه و سلم قائم على المنبر فلم يزل يخفضهم حتى سكتوا وسكت قالت : ومكثت يومي ذلك لا يرقأ لي دمع ولا أكتحل بنوم وأبواي عندي وقد مكثت ليلتين ويوم لا أكتحل بنوم ولا يرقأ لي دمع أظن أن البكاء فالق كبدي فبينما هما جالسان عندي وأنا أبكي استأذنت علي امرأة من الأنصار فأذنت لها فجعلت تبكي معي فبينما نحن على ذلك دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم وجلس قالت : ولم يجلس عندي منذ قيل ما قيل قبلها ولقد لبث شهرا لا يوحى إليه في شأني قالت : فتشهد رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جلس ثم قال : ( أما بعد يا عائشة فإنه بلغني عنك كذا وكذا فإن كنت بريئة فسيبرئك الله وإن كنت ألممت بذنب فاستغفري الله ثم توبي إليه فإن العبد إذا اعترف بذنب ثم تاب إلى الله تاب الله عليه قالت : فلما قضى مقالته قلص دمعي ما أحس منه قطرة فقلت لأبي : أجب رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما قال قال : والله ما أدري ما أقول لرسول الله فقلت لأمي : أجيبي رسول الله قالت : والله ما أدري ما أقول لرسول الله فقلت وأنا جارية حديثة السن لا أقرأ كثيرا من القرآن : إنكم والله لقد سمعتم بهذا الحديث حتى استقر في أنفسكم وصدقتم به فلئن قلت لكم إني بريئة والله يعلم أني بريئة لا تصدقونني بذلك ولئن اعترفت بأمر والله يعلم أني بريئة لتصدقنني والله ما أجد لي ولكم مثلا إلا أبا يوسف قال : { فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون } ثم تحولت واضطجعت على فراشي قالت : وأنا حينئذ أعلم أني بريئة وإن الله مبرئي ببراءتي ولكن والله ما كنت أظن أن الله عز و جل ينزل في شأني وحيا يتلى لشأني في نفسي كان أحقر من أن يتكلم الله في بأمر يتلى ولكن كنت أرجو أن يري الله رسوله في النوم رؤيا يبرئني بها قالت : فوالله ما رام رسول الله صلى الله عليه و سلم من مجلسه ولا خرج أحد من أهل البيت حتى أنزل الله عليه فأخذه ما كان يأخذه من البرحاء حتى أنه ليتحدر منه مثل الجمان من العرق في اليوم الشاتي من ثقل القرآن الذي ينزل عليه فلما سري عن رسول الله سري عنه وهو يضحك وكان أول كلمة تكلم بها أن قال : ( يا عائشة أما الله فقد برأك ) فقالت أمي : قومي إليه فقلت : والله لا أقوم إليه ولا أحمد إلا الله فأنزل الله { إن الذين جاؤوا بالإفك عصبة منكم } العشر الآيات كلها فلما أنزل الله هذا في براءتي قال أبو بكر : وكان ينفق على مسطح لقرابته منه وفقره لا أنفق عليه شيئا أبدا للذي قال لعائشة فأنزل الله { ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة } الآية قال أبو بكر : بلى والله إني لأحب أن يغفر الله لي فرجع إلى مسطح بالنفقة التي كان ينفق عليه فقال : والله لا أنزعها منه أبدا فقالت عائشة : وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم سأل زينب بنت جحش عن أمري فقال : ( يا زينب ماذا علمت أو رأيت ؟ ) قالت زينب : أحمي سمعي وبصري والله ماعلمت إلا خيرا وهي التي كانت تساميني من أزواج النبي صلى الله عليه و سلم فعصمها الله بالورع وطفقت أختها حمنة تحارب لها فهلكت فيمن هلك من أصحاب الإفك قال ابن شهاب : فهذا ما انتهى إلينا من حديث هؤلاء الرهط

حضرت ابن شہاب رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں؛میں نے حضرات عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیّب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے سناجب بہتان لگانے والوں نے اُن کے بارے میں کہا، جو کہا ، اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی برأت کا اعلان کیا۔ ان میں سے ہر ایک نے مجھے اُس حدیث کا ایک ٹکڑا سنایا، جو اُس نے حضرت عائشہ سے روایت کیا۔ اُن کی حدیث کا بعض دوسرے بعض حصے کی تصدیق کرتا ہے اگر چہ اُن میں سے بعض حضرات حدیث کو دوسرے بعض سے زیادہ یادرکھنے والے ہیں۔ اُنہوں نے ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی سفر پر جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی اَز وارج مطہرات کے درمیان قرعہ اَندازی کرتے۔ ان میں سے جس کا قرعہ نکلتا، اُسی کو سفر پر ساتھ لے جاتے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک غزوہ (بنی مصطلق) جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا۔ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلی ۔ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ پس مجھے اتارا جاتا اور سوار کیا جاتا اس حال میں کہ میں اپنے ہودج میں ہوتی ۔ پس ہم چلے یہاں تک کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اس غزوہ سے فارغ ہوئے تو (واپس آتے ہوئے ) ہم قافلہ کی صورت میں مدینہ شریف کے قریب ہوئے تو رات کے وقت کوچ کا بگل بجا تو جوں ہی بگل بجا تو میں قضائے حاجت کے لئے اٹھی۔ پس جب میں قضائے حاجت سے فارغ ہوئی تو اپنے کجاوے کی طرف آئی، اچانک میری نگاہ پڑی تو میرا یمنی نگینوں سے بنا ہار ٹوٹ کر گر گیا تھا۔ میں اپنے ہار کی تلاش میں اُس کی طرف واپس آئی ۔ کجاوہ اٹھانے والا گروہ آیا اور انہوں نے سجادہ اٹھا کر اُس اونٹ پر رکھا، جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔ اُنہوں نے خیال کیا کہ میں اُس میں موجود ہوں کیونکہ اُس وقت عورتیں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں۔ وہ زیادہ موٹی تازی نہیں ہوتی تھیں۔ ہم میں سے کوئی عورت بقدرِ کفایت کھانا کھایا کرتی تھی۔ پس اُس گروہ نے ہودج کے ہلکا ہونے کو محسوس تک نہ کیا ، میں تو پھر بھی کم عمر تھی۔ انہوں نے کجاوہ اٹھایا اور چل دیے ۔ لشکر کے کوچ کر جانے کے بعد مجھے میرا ہار مل گیا۔ پس میں اُن لوگوں کی جگہ پر آئی، جبکہ وہاں نہ کوئی پکارنے والا اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا۔ پس میں نے اُسی جگہ کا اِرادہ کیا، جہاں پر (پہلے) میں تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ مجھے نہیں پائیں گے تو ضرور واپس آئیں گے۔ اسی دوران کہ میں اپنی جگہ بیٹھی ہوئی تھی کہ مجھ پر نیند کا غلبہ ہوا۔ پس میں سوگئی ۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی لشکر کے پیچھے ہوا کرتے تھے۔ پس انہوں نے رات کو سفر کیا اور صبح ہوتے ہی وہ میری اُس جگہ کے پاس تھے، ( جہاں میں سوئی ہوئی تھی ) پس انہوں نے سوئے ہوئے ایک انسان کا سایہ دیکھا تو وہ میری طرف آئے اور مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا، کیونکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا ہوا تھا، جب انہوں نے مجھے پہچانا تو پڑھا:’’ اِنَّا لِلَّہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔‘‘ جس سے مجھے جاگ آئی۔ پس میں نے جلدی جلدی اپنے چہرے پر بڑا کپڑا ڈالا۔ انہوں نے میرے ساتھ ایک بات بھی نہ کی اور میں نے اُن کے منہ سے کلمۂ استرجاع کے علاوہ کوئی بات نہ سنی یہاں تک کہ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھا دیا۔ اس کے گھٹنوں پر اپنا پاؤں رکھا تو میں سوار ہوئی۔ انہوں نے سواری کی مہار پکڑی اور مجھے لیکر چل پڑے یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس آئے ، اس کے بعد کہ وہ دو پہر کے قریب آرام کرنے کیلیے پڑاؤ ڈال چکے تھے ۔ پس بہتان باندھنے والوں میں سے ہلاک ہوا ، جو ہلاک ہوا اور جس آدمی نے سب سے زیادہ بہتان کی بات کو ہوا دی ، وہ عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ پس ہم مدینے آئے ۔ جوں ہی ہم مدینے پہنچے تو میں بیمار ہو گئی اور مسلسل ایک ماہ تک بیمار رہی جبکہ لوگ بہتان باندھنے والوں کی بات میں حصہ لیتے رہے، لیکن مجھے ان میں سے کسی کی خبر تک نہ ہوئی۔ البتہ ایک بات مجھے کھٹک رہی تھی کہ میری بیماری کے دوران جو لطف و عنایت مجھ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے فرمایا کرتے تھے ، وہ مفقود تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مزاج پرسی کیلئے تشریف لایا کرتے تو صرف اتنا دریافت کرتے کہ آپ کا کیا حال ہے؟ پھر آپ واپس تشریف لے جاتے ۔ اس سے مجھے شک گزرتا تاہم مجھے اس شر انگیز پرو پیگنڈے کی خبر تک نہ تھی۔ یہاں تک کہ جب مجھے بیماری سے کچھ اِفاقہ ہوا تو میں باہر گئی اور میرے ساتھ حضرت امّ مسطح نکلیں۔ ہم باہر کھلی جگہ گئیں ، وہی ہمارے پاخانہ کرنے کی جگہیں تھیں ۔ ہم صرف رات رات ہی نکلا کرتی تھیں۔ یہ اس سے پہلے کی بات ہے جب ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء بنانے کا رواج نہ تھا اور ہم عرب کے دستور کے مطابق جنگل ہی میں جایا کرتی تھیں۔ اپنے گھروں کے پاس بیت الخلاء بنانے سے ہمیں تکلیف ہوا کرتی تھی ۔ پس میں اور امّ مسطح گئیں ۔ پس میں اور ام سطح (ہم ) فارغ ہونے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں کہ چادر میں میں ام مسطح کا پاؤں الجھا جس سے وہ گر گئیں ۔ کہا: ’’مسطح بلاک ہو ۔ ‘‘میں نے اس سے کہا: تو : نے کتنا برا کلمہ کہا تو بدری صحابی کو گالی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کی بندی! کیا آپ نے نہیں سنا، جو اُس نے کہا۔ میں نے کہا: اُس نے کیا کہا ؟ انہوں نے مجھے بہتان باندھنے والوں کی بات بتائی۔ فرماتی ہیں: میری بیماری میں اِضافہ ہو گیا۔ پس جب ہم گھر واپس آگئیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کیا پھر کہا: تیرا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی : کیا آپ کی مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنے والدین کے پاس چلی جاؤں؟ اُس وقت میرا اِرادہ یہ تھا کہ میں اُن سے اس بات کا یقین کروں گی ۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے والدین کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ پس میں اپنے والدین کی خدمت میں حاضر ہوئی تو میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی: اے امی جان! لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ فرمایا: اے میری بیٹی ! غمگین نہ ہو ۔ بخدا ! کم ہی کبھی ایسا ہوا ہے کہ کوئی عورت پاکیزہ صورت اور اپنے خاوند کی پیاری ہو اور اُس کی سوکنیں بھی ہوں اور اُس کے خلاف باتیں نہ کی گئی ہوں۔ فرماتی ہیں: میں نے کہا: سبحان اللہ ! لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں۔ پس میں نے وہ رات گزاری میرے آنسو نہیں تھے۔ نیند کا نام و نشان تک نہ تھا۔ فرماتی ہیں: میں نے صبح کی تو رو رہی تھی۔ پس جب نزول وحی میں تاخیر ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب اور حضرت اُسامہ کو بلا کر اپنے گھر والوں کی جدائی کے حوالے سے مشورہ کیا۔ فرماتی ہیں: جہاں تک تعلق ہے حضرت اُسامہ کا تو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُسی بات کا اِشارہ دیا جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں کی برأت کو جانتے تھے اور وہی کو اپنے دل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت رکھتے تھے ۔ پس حضرت اُسامہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کی گھر والی ہیں۔ ہم تو بھلائی ہی جانتے ہیں، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر تنگی نہیں کی اور ان کے علاوہ عورتیں بہت ہیں۔ اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو اُن کی خادمہ سے دریافت کر لیں۔ فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلا کر فرمایا: اے بریرہ! کیا تو نے شک میں ڈالنے والی کوئی چیز دیکھی ہے؟ حضرت بریرہ نے عرض کی قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اُن پر کوئی بات نہیں دیکھی، جسے میں عیب سمجھوں، اس سے زیادہ کہ وہ کم عمری کی وجہ سے سو جاتی ہیں اور گھر والوں کا آٹا گوندھا رہ جاتا ہے اور بکری آکر اُسے کھا جاتی ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس دن کھڑے ہوئے۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معذور جانا ۔ منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے گروهِ مسلماناں ! اُس شخص کے بارے میں مجھے کون معذور رکھتا ہے، جس کی اذیت رسانی میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھ تک پہنچی ہے۔ بخدا! میں اپنے اہل کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ لوگوں نے جس آدمی کا ذکر کیا، میں اس کے لئے خیر کے بغیر کچھ نہیں جانتا۔ وہ میرے گھر والوں کے پاس جب بھی آیا، وہ میرے ساتھ تھا۔ پس حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُٹھ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں اُس کے حوالے سے آپ سے معذرت خواہ ہوں اگر اُس کا تعلق اوس قبیلہ سے ہے تو میں اُس کی گردن مار دوں گا اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے سے ہے تو جو آپ کا حکم ہو گا، ہم اُسکی تعمیل کریں گے۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوئے ۔ وہ اُن دنوں بنو خزرج کے سردار تھے۔ وہ اس حوالے سے نیک آدمی تھے، لیکن اُن کی خاندانی عصبیت بیدار ہوگئی تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے : تو نے جھوٹ بولا۔ تیری عمر کی قسم ! تو اُسے قتل نہیں کرے گا اور نہ ہی اُسے قتل کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ (اسی دوران) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم ! تو نے جھوٹ کہا ، وہ ضرور اُسے قتل کرے گا کیونکہ تو منافق ہے تو منافقین کی طرف سے جھگڑا کرتا ہے۔ قریب تھا کہ اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان لڑائی چھڑ جاتی یہاں تک کہ انہوں نے لڑائی کا ارادہ کر لیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا غصہ ٹھنڈا کیا اس حال میں کہ آپ منبر پر تھے ۔ آپ مسلسل تنبیہ کرتے رہے یہاں تک وہ سب خاموش ہوئے اور آپ نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔ فرماتی ہیں: میرا وہ دن بھی گزرا کہ میرے آنسو خشک نہ ہوئے اور نہ مجھے نیند آئی۔ فرماتی ہیں: میرے والدین صبح کے وقت میرے پاس آئے جبکہ میں نے دو رات اور ایک رو کر گزاری نہ میں سوئی اور نہ میرے آنسو تھے۔ انہیں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ اسی دوران کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رورہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے میرے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو میں نے اُسے آنے کی اجازت دی۔ پس وہ بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ فرماتی ہیں: ہم اسی حالت پر تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لا کر بیٹھ گئے ۔ فرماتی ہیں: جب سے یہ بات کہی گئی جو کہی گئی اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی (اس طرح) نہ بیٹھے تھے۔ ایک ماہ گزر گیا تھا، میرے بارے میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیٹھے تو آپ نے کلمۂ شہادت پڑھا پھر فرمایا: کلمۂ شہادت کے بعد اے عائشہ! کیونکہ مجھے آپ کے بارے میں ایسی ایسی بات پہنچی ہے۔ پس اگر تو بے قصور ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب تیری برأت فرما دے گا اور (خدانخواستہ) آپ سے کوئی قصور ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کریں اور اللہ سے توبہ کرلیں، کیونکہ بندہ جب اپنے قصور کا اِعتراف کر لیتا ہے پھر تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسکی توبہ قبول فرماتا ہے۔ فرماتی ہیں۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بات مکمل کی تو میرے آنسو یکدم خشک ہو گئے یہاں تک کہ میں نے ایک قطرہ بھی محسوس نہ کیا۔ میں نے اپنے والد گرامی سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں ۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کی : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا جواب دیں۔ انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کہوں۔ میں نے عرض کی: حالانکہ اُس وقت میری عمر بھی چھوٹی تھی اور میں نے قرآن کا زیادہ حصہ بھی نہیں پڑھا تھا۔ قسم بخدا! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ لوگوں نے یہ بات (ایک طرف سے ) سنی یہاں تک کہ وہ تمہارے دلوں میں جم گئی اور آپ لوگ اس کی تصدیق پر مجبور ہو گئے ۔ پس اب اگر میں یہ کہوں کہ میں اس سے بری ہوں ۔ اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں تو آپ لوگ اس بات میں میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں تمہارے لیے ایک ایسی چیز کا اعتراف کروں، اللہ جانتا ہے، جس سے میں بری ہوں تو آپ ضرور میری بات مان لیں گے۔ بخدا! اب میرے لیے اس کے بغیر کوئی چارۂ کار نہیں کہ میں آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ کی مثال دوں ، جنہوں نے کہا تھا:’’فصبر جمیل واللہ المستعان على ما تصفون ۔‘‘(لہٰذا صبر ہی اچھا ہے اور میں اس معاملے میں جو تم بیان کرتے ہو اللہ ہی سے مد مانگتا ہوں۔ )پھر میں منہ پھیر کر اپنے بستر پر لیٹ گئی ۔ فرماتی ہیں: بخدا! اُس مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں بے قصور ہوں اور یقینا ًاللہ تعالیٰ ضرور میری برأت فرمائے گا، لیکن مجھے یہ خیال نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے وحی نازل فرمائے گا، جو ہمیشہ تلاوت کی جائے گی۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہ سمجھتی تھی کہ وہ میرے بارے ایسا کلام فرمائے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی ،لیکن مجھے اِس بات کی ضرور امید تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خواب میں دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ میری برأت فرما دے گا۔ فرماتی ہیں : بخدا! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ( جانے کا )اِرادہ نہ کیا اور نہ میرے گھر والوں میں سے کسی نے گھر سے نکلنے کا ارادہ کیا کہ یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل فرمائی۔ وحی کی سختی کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔ سردی کے دن میں بھی پیسنے کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے ، قرآن کے بوجھ کی وجہ سے جو آپ پر نازل ہوتا تھا۔ فرماتی ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ہنس رہے تھے اور پہلی بات جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی، وہ یہ تھی اللہ تعالی نے تیری برأت فرمادی ہے۔ میری ماں نے مجھے کہا: اُٹھو! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکر یہ ادا کرو۔ میں نے کہا؛ بخدا! میں اُن کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے پہلے اللہ کا شکر یہ ادا کروں گی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکرہ ان دس آیات میں فرمایا:’’ان الذی جاء وا بالافك الٰى آخرہٖ۔‘‘پس جب میری برأت میں یہ وحی نازل ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بخدا ! میں مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس کے بعد کہ اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ کہا ہے حالانکہ اس سے پہلے آپ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے ان پر خرچ کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’ولیاتل الٰى قولہٖ غفور رحیم ۔‘‘ (اس کے بعد ) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں بخدا! یقیناً میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری : مغفرت فرمائے ۔ پس آپ نے دوبارہ مسطح پر خرچ کرنا شروع کر دیا جس طرح پہلے خرچ کرتے تھے اور فرمایا: بخدا! میں اُن پر خرچ کرنا کبھی نہ چھوڑوں گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے معاملے کے بارے میں حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی پوچھا تھا۔ فرمایا: اے زینب! آپ نے کیا جانا ؟ یا فرمایا: کیا دیکھا؟ انہوں نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! میری سمع و بصر محفوظ رہی۔ بخدا! مجھے ان کے حوالے سے بھلائی ہی معلوم ہے۔ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواج مطہرات میں سے یہی وہ زوجہ محترمہ تھیں، جو مجھ پر بلند ہونے کی کوشش کرتی تھیں، لیکن اللہ تعالٰی نے اُن کو اُن کے ورع کی وجہ سے محفوظ رکھا۔ فرماتی ہیں: حالانکہ ان کی بہن حمنہ اُن سے جھگڑتی رہی اور ہلاکت کا شکار ہوئی جس طرح بہتان باندھنے والے دوسرے لوگ ہلاک ہوئے۔ حضرت امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ اُن میں سے آخری بات ہے جو اس گروہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔

طَائِفَةً مِنْ الْحَدِيثِ الَّذِي ← فَبَرَّأَهَا اللَّهُ وَكُلٌّ ← لها أهل الإفك ما ← عائشة حين ← قاص و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ← عروة بن الزبير و سعيد بن المسيب و علقمة بن ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، ← أَبِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الشَّافِعِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19090

chevron_left Previous
1…333435…89
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter