المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ علي بن الحسين عن ميمونة · حديث 20002
1052 - حدثنا سعيد بن عبد الرحمن التستري ثنا يحيى بن سليمان بن نضلة المديني ثنا عمي محمد بن نضلة عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده قال حدثتني ميمونة بنت الحارث Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بات عندها في ليلتها ثم قام يتوضأ للصلاة فسمعته يقول في متوضئه ( لبيك لبيك لبيك ) ثلاثا ( ونصرت ونصرت ) ثلاثا قالت : فلما خرج قلت : يا رسول الله بأبي أنت سمعتك تقول في متوضئك [ لبيك لبيك ثلاثا ( نصرت نصرت ) ثلاثا كأنك ] تكلم إنسانا فهل كان معك أحد ؟ قال : ( هذا راجز بني كعب يستصرخني و [ ي ] زعم أن قريشا أعانت عليهم بني بكر ) ثم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم وأمر عائشة أن تجهزه ولا تعلم أحدا قالت : فدخل عليها أبوها فقال : يا بنية ما هذا الجهاز ؟ قالت : والله ما أدري قال : ما هذا بزمان غزو بني الأصفر فأين يريد [ رسول الله صلى الله عليه و سلم ] قالت : لا علم لي قالت : فأقمنا ثلاثا ثم صلى الصبح بالناس فسمعت الراجز ينشده : ( يا رب إني ناشد محمدا ... خلف أبينا وأبيه الأتلدا ) ( إنا ولدناك فكنت ولدا ... ثمة أسلمنا فلم تنزغ يدا ) ( إن قريشا أخلفوك الموعد ... ونقضوا ميثاقك المؤكدا ) ( وزعمت أن لست تدعو أحدا ... فانصر هداك الله نصرا ألبدا ) ( وادع عباد الله يأتوا مددا ... فيهم رسول الله قد تجردا ) ( أبيض مثل البدر ينحي صعدا ... لو سيم خسفا وجهه تربدا ) فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم نصرت ثلاثا أو لبيك لبيك ثلاثا ثم خرج النبي صلى الله عليه و سلم فما كان بالروحاء نظر إلى سحاب منصب فقال : ( إن هذا السحاب لينتصب بنصر بني كعب ) فقام إليه رجل من بني نصر بن عدي [ بن عمرو أخو بني كعب بن عمرو فقال : يا رسول الله ونصر بني عدي ؟ ] فقال [ رسول الله صلى الله عليه و سلم ] : ( ترب خدك وهل عدي إلا كعب و كعب إلا عدي ؟ ) فاستشهد ذلك الرجل في ذاك السفر ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( اللهم عم عليهم خبرنا حتى نأخذهم بغتة ) ثم خرج حتى نزل مرو وكان أبو سفيان و حكيم بن حزام و بديل بن ورقاء قد خرجوا تلك الليلة فأشرفوا على مرو فنظر أبو سفيان إلى النيران فقال : يا بديل لقد أمسكت بنو كعب أهله فقال : حاشتها إليك الحرب ثم هبطوا فأخذتهم مزينة وكانت عليهم الحراسة تلك الليلة فسألوهم أن يذهبوا بهم إلى العباس بن عبد المطلب فذهبوا بهم فسأله أبو سفيان أن يستأمن له رسول الله صلى الله عليه و سلم فخرج بهم العباس إلى النبي صلى الله عليه و سلم ثم خرج بهم فقال أبو سفيان : إنا نريد أن نذهب فقال : اسفروا فقام رسول الله صلى الله عليه و سلم يتوضأ فابتدر المسلمون وضوءه ينضحونه في وجوههم قال أبو سفيان : يا أبا الفضل لقد أصبح ملك ابن أخيك عظيما فقال : إنه ليس بملك ولكنها النبوة وفي ذلك يرغبون
حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باری میں ایک رات ان کے پاس گزاری پھر اُٹھے تاکہ نماز کے لئے وضو کریں۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو والی جگہ کہتے ہوئے سنا: لبیک (میں حاضر ہوں) لبیک (میں حاضر ہوں) لبیک (میں حاضر ہوں) تین بار کہا۔ تیری مدد کی گئی، تیری مدد کی گئی ، تیری مدد کی گئی۔ تین بار۔ فرماتی ہیں: جب آپ (وضو خانے سے) نکلے تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میرا باپ آپ پر قربان ہو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو والی جگہ کہتے ہوئے سنا: لبیک (میں حاضر ہوں) تین بار کہا۔ تیری مدد کی گئی، تیری مدد کی گئی، تیری مدد کی گئی۔ تین بار کہا۔ گویا آپ کس آدمی سے بات کر رہے تھے ( حالانکہ بظاہر وہاں کوئی آدمی نہ تھا۔ ) کیا کوئی آپ کے ساتھ تھا؟ فرمایا: یہ بنو کعب قبیلے کا راجز ہے جو مجھے پکار رہا ہے اور اس کا گمان ہے کہ قریش نے ان کے خلاف بنو بکر قبیلے کی مدد کی ہے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے جانے لگے اور حضرت عائشہ کو حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سامان تیا ر کر دیں اور کسی کو بتائیں نہیں۔ فرماتی ہیں: ان کے والد گرامی ان کے پاس آئے۔ فرمایا: اے بیٹی! یہ تیاری کیسی ہے؟ عرض کی : بخدا! مجھے معلوم نہیں۔ فرمایا : یہ بنو اصفر قبیلہ سے جنگ کرنے کا موسم تو نہیں ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کہاں کا ارادہ ہے؟ عرض کی: مجھے علم نہیں۔ (حضرت میمونہ) فرماتی ہیں: پس ہم تین دن ٹھہرے پھر آپ ن لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو میں نے راجز سنا، وہ یہ شعر پڑھ رہا تھا : اے میرے رب ! میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے والد اور ان کے پرانے والد کے معاہدے کا واسطہ دینے والا ہوں' بے شک ہم نے آپ کو جنا ہے۔ پس آپ بچے تھے وہاں ہم اسلام لائے۔ پس آپ نے ہاتھ نہیں کھینچا یعنی ہم پر احسان کیا' بے شک قریش نے آپ سے کیے ہوئے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور انہوں نے آپ سے کیا گیا پختہ وعدہ توڑ دیا' اور ان کا گمان ہے کہ آپ کسی کو بلانے والے نہیں ہیں۔ آپ مدد فرمائیں ! اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو مدد کرنے کی توفیق دے' آپ اللہ کے پوشیدہ بندوں کو حکم دیں کہ وہ (ہماری) مدد کو آئیں ۔ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکتا ہیں' چودھویں کے چاند کی طرح وہ سفید ترین (خوبصورت) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کو بڑھتے ہیں (ہمیشہ بلندیوں کی طرف ترقی کرتے ہیں۔ ) اگر آپ کے چہرے کے رخساروں کو چھپا دیا جائے تو ہر چیز مٹیالے (راکھ کے رنگ والی) ہو جائے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تیری مدد کی گئی" تین بار ۔ یا " میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں" فرمایا: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے۔ پس جب روحاء کے مقام پر تھے تو سحاب (بادل) کو کھڑے دیکھا تو فرمایا: بے شک یہ بادل بنو کعب کی مدد کے لیے کھڑا ہے۔ پس آپ کے پاس آکر بنو نضر بن عدی بن عمرو کا ایک آدمی اور بنو کعب بن عمرو کا ایک فرد کھڑے ہوئے ۔ کہا: اے اللہ کے رسول ! کیا بنو عدی کی مدد کی گئی؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے گال رنگ جائیں۔ کیا عدی، کعب اور کعب، عدی نہیں ہیں۔ اس سفر میں اس آدمی نے دلیل طلب کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ ! ان کو بھی ہماری خبر بتا دے یہاں تک کہ ہم ان کو اچانک پکڑیں پھر وہاں سے نکل کر مرو کے مقام پر پڑاؤ ڈالا جبکہ ابو سفیان ، حکیم بن حزام اور بُدیل بن ورقاء اسی رات گھر سے نکل پڑے تھے۔ انہوں نے مرو کے مقام پر جھانکا تو ابو سفیان نے آگ دیکھی۔ اس نے کہا: اے بُدیل ! یقیناً بنو کعب نے اپنے اہل کو روک لیا ہے۔ اس نے کہا: تیری طرف جنگ آ رہی ہے۔ پھر وہ اترے تو مزینہ نے انہیں پکڑ لیا جبکہ اس رات ان پر پہرہ تھا۔ پس انہوں نے کہا کہ انہیں حضرت عباس بن عبدالمطلب کے پاس لے جاؤ۔ پس وہ انہیں لے گئے تو ابو سفیان نے اس سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے امن مانگا ہے۔ تو حضرت عباس ان کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے۔ پھر ان کو لے کر نکلے تو ابو سفیان نے کہا: ہم بھی جانا چاہتے ہیں۔ کہا:چلو! پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کرنے کے لیے اٹھے تو مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وضو کا پانی لینے کے لیے جلدی کی اور اسے اپنے چہروں پر ملنے لگے۔ تو ابو سفیان نے کہا: اے ابو الفضل ! تیرے بھتیجے کا ملک بڑا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا: یہ ملک نہیں۔ یہ نبوت ہے اور لوگ اسی سے محبت کرتے ہیں۔
حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ: ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عمِّي محمدُ بنُ نضلةَ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ الْمَدِينِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20002
