المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ نساء لم يسمين عن أم سلمة · حديث 19966
1016 - حدثنا أحمد بن داود المكي ثنا محمد بن إسماعيل بن عون النيلي ثنا الحارث بن معاوية بن الحارث عن جده أبي أمه أنه كان يقول Y إن عندي لحديثا لو أردت أن آكل به الدنيا لأكلتها ولكن لا يسألني الله عن حديث أرفعه إلى السلطان قال أبي فقلت : ما هو ؟ فقال : لما خرج زيد أتيت خالتي الغد فقلت لها يا أمه قد خرج زيد فقالت : المسكين يقتل كما قتل أباؤه فقلت لها : إنه خرج معه ذوو الحجى فقالت : كنت عند أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم فتذاكروا الخلافة فقالت أم سلمة : كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم فتذاكروا الخلافة بعده فقالوا : ولد فاطمة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( لن يصلوا إليها أبدا ولكنها في ولد عمي صنو أبي حتى يسلموها إلى الدجال )
حضرت حارث بن معاویہ بن حارث اپنے نانا سے روایت کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک حدیث ہے اگر میں ارادہ کروں کہ اس کے بدلے دنیا کھاؤں تو کھا سکتا ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ مجھے ایسی حدیث کے بارے میں سوال نہیں کرے گا، جسے میں بادشاہ کے پاس لے کر جاؤں گا۔ میرے باپ فرماتے ہیں: میں نے کہا:وہ کیا ہے؟ کہا: جب حضرت زید نکلے تو دوسرے دن صبح میں اپنی خالہ کے گھر گیا۔ میں نے ان سے کہا: اے ماں! زید گھر سے باہر چلا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: مسکین اپنے اباء کی طرح قتل ہو جائے گا۔ میں نے ان سے کہا: ذووالحجمی بھی ان کے ساتھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زوجہ محترمہ کے پاس تھی تو لوگوں نے خلافت کا تذکرہ کیا۔ حضرت ام سلمہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھی تو لوگوں نے وہاں آپ کے بعد خلافت کا تذکرہ کیا تو کہا: حضرت فاطمہ کی اولاد سے ہو گا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہر گز اس تک نہ پہنچ سکیں گے بلکہ میرے باپ کی نشانی میرے چچا (حضرت عباس) کی اولاد میں ہو گی یہاں تک کہ وہ اسے دجال کے حوالے کریں گے۔
جَدِّهِ أَبِي أُمهِ ← الحارث بن معاوية بن الحارث ← محمد بن إسماعيل بن عون النيلي ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19966
