المعجم الکبیر للطبرانی · باب الياء ‹ مجاهد عن أم سلمة · حديث 19882
932 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا عبيد الله بن موسى عن شيبان عن منصور عن مجاهد أن أم سلمة قالت Y يا رسول الله إن هشام بن المغيرة كان يطعم الطعام ويقري الضيف ويصل الرحم ويفك العاني فلو أدركك أسلم فهل له في ذلك أجر ؟ قال : ( إنه عمك كان يعطي للدنيا وذكرها وجمالها وما قال يوما قط اغفر لي يوم الدين )
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! بے شک ہشام بن مغیرہ کھانا کھلایا کرتا تھا'مہمان نوازی کرتا ' صلہ رحمی کرتا اور غلاموں کو آزاد کرتا' پس اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پاتا تو ایمان لاتا' کیا اس میں اس کے لیے کوئی اجر ہے؟ فرمایا: کیونکہ تیرا چچا دنیا' اس کے ذکر( شہرت) اور اس کے جمال و رونق کے لیے عطا کیا کرتا تھا' ایک دن بھی اس نے کبھی نہیں کہا تھا: (اللہ ) مجھے قیامت کے دن بخش دینا۔
مُجَاهِدٍ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 19882
