المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8987
8970 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا سعيد بن منصور ثنا مروان بن معاوية ثنا الحسن بن عمرو الفقيمي عن يحيى بن هاني المرادي عن الحارث بن قيس قال قال لي عبد الله بن مسعود Y يا حار بن قيس أليس يسرك أن تسكن وسط الجنة ؟ قلت : بلى قال : فالزم جماعة الناس
حضرت ثابت بن قطبہ مزنی سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں ایسا خطبہ دیا کہ اس سے قبل کبھی اس طرح کا خطبہ نہ دیا تھا اور نہ اس کے بعد دیا۔ فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈروا تمہارے اوپر اطاعت لازم ہے اور جماعت کے ساتھ مل کر رہنا کیونکہ یہ دونوں چیزیں اللہ کی وہ رسی ہیں جس کا اس نے حکم دیا ‘ بے شک اطاعت اور جماعت میں جس چیز کوتم نا پسند کرتے ہو ‘ وہ بہتر ہے اس سے جو تم جدائی میں پسند کرتے ہو۔ اللہ نے دنیا میں ہر مخلوق کی ایک انتہا بنائی ہے جس پر وہ ختم ہو جائے گی پھر وہ قیات تک کم ہوتی رہے گی‘ خبردار! اسلام کی بنیادیں مضبوط ہوگئی ہیں ۔ قریب ہے وہ کم ہو اور قیامت کی طرف پیچھے جانے لگے ‘ اس کی نشانی یہ ہے کہ رحمی رشتے کٹ جائیں گے ‘ فاقہ عام ہو گا حتی کہ امیر آدمی کو بھی فقر کا ڈر ہو گا ‘ حتی ٰکہ فقیر اپنے اوپر مہربانی کرنے والے کو نہ پائے گا حتی ٰکہ سائل دو جمعہ تک کھڑا ہو گا لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی شی نہ رکھی جائے گی۔ اسی حال میں لوگ ہوں گے کہ گائے کی آواز کی طرح زمین آواز لگائے گی ‘ ہر قوم گمان کرے گی کہ وہ ان کی ساخت کی وجہ سے بولی ہے پھر رجوع ہوگا ۔ دوسری بار وہ آواز نکالے گی اپنے جگر کے ٹکڑوں سے ۔ پس آپ سے عرض کی گئی: اس کے جگر کے ٹکڑے کیا ہیں؟ فرمایا: سونے اور چاندی کے ان کنگنوں کی مثل ۔ اس دن کے بعد کوئی آدمی سونے چاندی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا قیامت تک اور اس کے مال کا صدقہ بھی قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔
لي عبد الله بن مسعود يا حار بن قيس أليس يسرك ← الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ← يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ الْمُرَادِيِّ ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8987
