المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8901
8884 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن مالك بن الحارث عن عبد الله بن ربيعة قال Y كنا جلوسا عند عبد الله فذكر القوم رجلا فذكروا من خلقه فقال عبد الله : أرأيتم لو قطعتم راسه أكنتم تستطيعون أن تعيدوه ؟ قالوا : لا قال : فيده ؟ قالوا : لا قال فرجله ؟ قالوا : لا قال : فإنكم لن تستطيعوا أن تغيروا خلقه حتى تغيروا خلقه إن النطفة لتستقر في الرحم أربعين ليلة ثم تنحدر دما ثم تكون علقة ثم تكون مضغة ثم يبعث إليه الملك فيكتب رزقه وخلقه وشقي أو سعيد
حضرت عبداللہ بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ‘ تو قوم نے ایک آدمی کا ذکر کیا اور اس کے اخلاق بیان کیے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم اسکا سرکاٹ کر اسے دوبارہ درست کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں! آپ نے فرمایا: اس کا ہاتھ؟ فرمایا: جی نہیں! آپ نے فرمایا: اس کا پاؤں؟ انہوں نے کہا: جی نہیں! فرمایا: بے شک نطفہ ‘ رحم میں چالیس رات قرار پذیر رہتا ہے پھرخون بن جاتا ہے ‘ پھر لوتھڑا پھر گوشت کا ٹکڑا ‘ پھر اس کی طرف فرشتہ بھیجا جاتا ہے ‘ وہ اس کا رزق ‘ اس کے اخلاق اور اس کا بد بخت یا خوش بخت ہونا لکھ لیتا ہے ‘ تم اس کے اخلاق نہیں بدل سکتے یہاں تک کہ اس کی تخلیق بدل دو ۔
لَا۔ ← فَرِجْلُهُ؟ ← لَا۔ ← فَيَدُهُ؟ ← لَا۔ ← عَبْدُ اللهِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ؟ ← الْقَوْمَ رَجُلًا فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ، ← كنا جلوسا عند عبد الله ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبِيعَةَ ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8901
