Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8817

8800 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا المسعودي عن القاسم قال قال عبد الله Y ثلاث أحلف عليهن والرابعة لو حلفت عليها رجوت أن لا آثم ولبررت أن لا يجعل الله ذا سهم في السلام كمن لا سهم له ولا يتولى الله عبد مسلم فيوليه سواه يوم القيامة ولا يحب رجل قوما إلا بعثه الله معهم وأسهم الإسلام ثلاثة : الصلاة والزكاة والصيام والرابعة لو حلفت عليها لرجوت أن لا آثم لا يستر الله على عبد في الدنيا إلا ستر الله عليه في الآخرة

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں: میں اور ایک آدمی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ‘ ہم نے دیکھا کہ وہ کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں اور ان کی جھونپڑی میں دو آدمی بیٹھے ہیں‘ پس جب انہوں نے سلام پھیرا تو ان دونوں نے ایک آیت کے بارے سوال کیا ‘ پس آپ نے ان میں سے ایک کیلئے کہا: تجھے کس نے پڑھایا ہے؟ اس نے جواب دیا: عمر نے! آپ نے دوسرے سے فرمایا: تجھے کس نے پڑھایا ہے؟ اس نے جواب دیا: ابوحکیم نے ! اس نے کہا: ابوعمرہ نے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اسی طرح پڑھ جس طرح عمر نے تجھے پڑھایا ہے ‘ پھر رونا شروع کر دیا یوں روئے کہ آپ کے آنسوؤں سے سنگریزے تر ہو گئے ‘ پھر فرمایا: بے شک عمر‘ اسلام کیلئے مضبوط قلعہ تھے ‘ اسلام میں جو داخل ہوتے وہ نکلتے نہ تھے ‘ پس جب عمر کوشہید کیا گیا تو قلعہ اسلام گر گیا۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8817

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8818

8801 - حدثنا يوسف القاضي ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن الحكم عن زيد بن وهب قال Y ذهبت أنا ورجل إلى عبد الله فإذا هو قائم يصلي وقد اكتنفه رجلان فلما سلم سألاه عن آية فقالا لأحدهما : من أقرأك ؟ قال : عمر فقال للآخر : من أقرأك ؟ قال : أبو حكيم قال أو أبو عمرة فقال : اقرأ كما أقرأك عمر ثم بكى حتى بل الحصا دموعه ثم قال : إن عمر رضي الله عنه كان للاسلام حصنا وحصينا يدخلون في الإسلام ولا يخرجون فلما أصيب عمر انثلم الحصن

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں: قرآن کی ایک آیت میں دو آدمی جھگڑ پڑے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ‘ پس ان میں سے ایک نے کہا: مجھے ابوعمرہ نے پڑھایا ہے ‘ دوسرے نے کہا: مجھے حضرت عمر نے پڑھایا ‘ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اس حال میں کہ آپ کھڑے تھے ‘ آپ نے اپنی آنکھیں پونچھ کر سنگریزوں میں اپنا ہاتھ جھاڑا ‘ پھر فرمایا: یقینا ًیہ سیلحین کے راستے سے بھی زیادہ واضح ہے ۔ پھر فرمایا: اس کو پڑھ جس طرح عمر نے تجھے پڑھایا ‘ بے شک جس دن حضرت عمر شہید ہوئے ‘ اس دن مسلمانوں کے جس گھر میں غم نہیں آیا وہ اہل سوء سے ہے ‘ حضرت عمر ہم میں سے زیادہ متقی اور کتاب کے ہم سے زیادہ قاری تھے ۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8818

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8819

8802 - حدثنا بشر بن موسى ثنا خلاد بن يحيى ثنا مسعر بن كدام عن عبد الملك بن ميسرة عن زيد بن وهب قال Y تمارى رجلان في آية من القرآن فأتيا عبد الله بن مسعود فقال أحدهما أقرأنيها أبو عمرة وقال الآخر : أقرأنيها عمر فلما ذكر عمر بكى عبد الله وهو قائم ومسح عينيه ونفض يده في الحصا ثم قال : لهي أبين من طريق السيلحين ثم قال : أقرها كما أقرأكها عمر إن أهل بيت من المسلمين لم يدخلهم حزن على عمر يوم أصيب لأهل سوء عمر كان أتقانا وأقرأنا لكتاب الله

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں: ایک آیت شریفہ میں دو آدمیوں کا جھگڑا ہو گیا‘ پس ہم اسی حال پر تھے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے سسرال کی جانب سے آ رہے تھے ‘ پس وہ دونوں آ دمی کھڑے ہو گئے اور میں بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ پس ان دونوں نے عرض کی: ایک آیت میں ہمارا تنازعہ ہے ‘ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک سے فرمایا: پڑھ! اس نے پڑھا تو فرمایا: تجھے یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا: ابوعمرہ معقل بن مقرن نے ۔ پھر دوسرے سے فرمایا: تو پڑھ! پس اس نے پڑھا تو فرمایا: تجھے یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ عرض کی: حضرت عمر نے ۔ پس آپ رو پڑے (عمر کا نام سن کر ) یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ آپ نے اپنے آنسو اپنی ہتھیلی پر لیے اور فرمایا: اسی طرح! پس میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے آنسوؤں کا اثر سنگریزوں میں دیکھا۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا گمان ہے کہ جس دن حضرت عمر شہید ہوئے ‘ مسلمانوں کے ہرگھر میں نمی تھی مگر بڑے عقیدے کے لوگوں کے گھر ‘ بے شک حضرت عمر ہم سے بڑے عالم اور اللہ کی کتاب کے بڑے قاری تھے اور اللہ کے دین کے بڑے فقیہ ‘ اور تو اس کو پڑھ جس طرح تجھے حضرت عمر نے پڑھایا ‘ قسم بخدا! سيلحین کے راستے سے یہ زیادہ واضح ہے۔

الآخر أقرأنيها عمر فلما ← أحدهما أقرأنيها أبو عمرة ← تمارى رجلان في آية من القرآن فأتيا عبد الله بن مسعود ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8819

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8820

8803 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن عبد الملك بن عمير عن زيد بن وهب قال Y تنازع رجلان في آية فيينما نحن كذلك إذا أقبل عبد الله من قبل أختانه فقاما إليه وقمت إليه معهما فقالا : إنا تنازعنا في آية فقال عبد الله لأحدهما : اقرأ فقرأ فقال : من أقرأكها ؟ فقال : أبو عمرة معقل بن مقرن ثم قال للآخرة : اقرأه فقرأ فقال : من أقرأكها ؟ فقال : عمر فجاءتا عيناه بأربعة فبكى حتى رأيته أخذ من دموعه بكفه فقال به هكذا فرأيت اثرين في الحصا من دموع عبد الله ثم قال عبد الله : ما أظن أهل بيت من المسلمين لم يدخل عليهم حزن عمر يوم أصيب إلا بيت سوء إن عمر كان أعلمنا بالله وأقرأنا لكتاب الله وأفقهنا لدين الله اقرأها كما أقرأها عمر فو الله لهي أبين من طريق السيلحين

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دو مرد آئے ‘ ہم بھی وہاں موجود تھے ‘ ایک نے کہا: اے ابوعبدالرحمنٰ! ہم یہ آیت کیسے پڑھیں؟ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کے سامنے آیت پڑھی تو اس آدمی نے عرض کی : ابوحکیم نے تو مجھے ایسے ایسے پڑھائی ہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ دوسرے نے پڑھی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تجھے کس نے پڑھائی ہے؟ اس نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ۔ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسی طرح پڑھے جس طرح تجھے حضرت عمر نے پڑھائی ہے ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روئے یہاں تک کہ میں نے ان کے آنسوؤں کو کنکریوں پر گرتے دیکھا‘ پھر فرمایا: بے شک عمر مضبوط قلعہ تھے جس میں لوگ داخل ہوتے لیکن نکلتے نہ تھے ‘ قلعہ گرادیا گیا ‘ لوگ نکلتے ہیں اب داخل نہیں ہوتے ۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8820

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8821

8804 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن الأعمش عن زيد بن وهب قال Y أتى عبد الله رجلان وكنا عنده فقال : يا أبا عبد الرحمن كيف نقرأ هذه الآية ؟ فقرأها عليه عبد الله فقال الرجل : فإن أبا حكيم أقرأنيها كذا وكذا قال : وقرأ الآخر فقال عبد الله : من أقرأكها ؟ فقال : عمر فقال عبد الله : اقرأ كما أقرأك عمر ثم بكى عبد الله حتى رأيت دموعه تحدر في الحصا ثم قال : إن عمر كان حصنا حصينا على الإسلام يدخل الناس فيه ولا يخرجون وإن الحصن أصبح قد انثلم فالناس يخرجون منه ولا يدخلون

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں: ہم حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نماز پڑھ رہے تھے ‘ پس ہم نے ان کے نماز سے فارغ ہونے تک انتظار کیا‘ پس ان کے پاس دو آدمی آئے ‘ ایک آیت میں جن کا اختلاف تھا‘ پس ان میں سے ایک نے پڑھی تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے اچھے پڑھا! تجھے کس نے پڑھایا ؟ اس نے کہا: ابوحکیم مزنی نے ۔ دوسرے سے پڑھنے کا مطالبہ کیا‘ فرمایا: تجھے کس نے پڑھایا ؟ اس نے کہا: مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پڑھایا۔ پس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رو پڑے حتی ٰکہ آپ کے آنسوؤں سے سنگریزے تر ہو گئے ‘ پھر فرمایا: پڑھ جیسے حضرت عمر نے تجھے پڑھایا ہے ۔ پھر اپنے ہاتھ کو زور سے گھمایا ‘ پھر کہا: بے شک عمر اسلام کیلئے مضبوط قلعہ تھے جس کے حوالے سے لوگ ( اسلام میں ) داخل ہوتے ‘ نکلتے نہ تھے ‘ پس جب حضرت عمر شہید ہوئے تو قلعہ گر گیا‘ پس لوگ نکلتے ہیں داخل نہیں ہوتے ۔

عُمَرَ، ← عبد الله من أقرأكها ← وقرأ الآخر ← الرجل فإن أبا حكيم أقرأنيها كذا وكذا ← يا أبا عبد الرحمن كيف نقرأ هذه الآية فقرأها عليه عبد الله ← أتى عبد الله رجلان وكنا عنده ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8821

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8822

8805 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم عن عبد الرزاق عن ابن عيينة عن الاعمش عن زيد بن وهب قال Y أتينا ابن مسعود فوجدناه يصلي فانتظرناه حتى فانتظرناه حتى فرغ من صلاته فجاءه رجلان قد اختلفا في آية فقرأه أحدهما فقال عبد الله : أحسنت من أقراك ؟ قال : اقرأني أبو حكيم المزني واستقرأ الآخر فقال : من أقرأك ؟ فقال أقرأني عمر بن الخطاب فبكى عبد الله حتى خضبت دموعه الحصا ثم قال : اقرأ كما أقرأك عمر ثم دور دارة بيده ثم قال : إن عمر كان حصنا حصينا للاسلام يدخل الناس منه ولا يخرجون منه فلما مات عمر انثلم الحصن فالناس يخرجون منه ولا يدخلون

حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک عمر کا اسلام فتح‘ ان کی ہجرت ‘ نصرت اور ان کی خلافت ‘ رحمت تھی ‘ قسم بخدا! ہمیں طاقت نہ ہوتی کہ ہم کعبہ کے پاس نماز پڑھیں یہاں تک کہ حضرت عمر اسلام لائے ۔

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8822

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8823

8806 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا المسعودي عن القاسم قال قال عبد الله Y إن إسلام عمر كان فتحا وإن هجرته كانت نصرا وإن إمارته كانت رحمة والله ما استطعنا أن نصلي عند الكعبة ظاهرين حتى أسلم عمر

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک حضرت عمر بن خطاب اسلام کیلئے مضبوط قلعہ تھے جس کے حوالے سے لوگ (اسلام میں ) داخل ہوتے ‘ نکلتے نہ تھے ‘ پس جب حضرت عمر شہید ہوئے تو قلعہ گر گیا‘ پس لوگ نکلتے ہیں داخل نہیں ہوتے ‘ جب آپ راستے پر چلتے تھے تو ہم آپ کو آسان پاتے تھے ‘ جب بھی نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے گا تو ان میں حضرت عمر ‘ سرفہرست ہوں گے آپ زیادتی اور کمی میں فاصلہ کرنے والے تھے ‘ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کی خدمت کرتے ہوئے مرتا۔

الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8823

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8824

8807 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة و حماد قالا سمعتهم يقولون سمعها يقولان كان ابن يقول Y إن عمر بن الخطاب كان حصنا حصينا للإسلام يدخل في الاسلام ولا يخرج منه فلما مات عمر انثلم من الحصن ثلمة فهو يخرج من ولا يدخل فيه وكان إذا سلك طريقا وجدناه سهلا فإذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر كان فصل ما بين الزيادة والنقصان والله لوددت أني أخدم مثله حتى أموت

حضرت شقیق سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :قسم بخدا! میرا گمان ہے کہ اگر میزان کے ایک پلڑے میں عمر کا علم رکھا جائے اور دوسرے میں سارے زندوں کا تو عمر کا علم بھاری ہو گا۔ حضرت سلیمان نے کہا: پس میں نے ان سے اس کا ذکر کیا تو فرمایا: عبداللہ نے اس سے زیادہ فضیلت والی بات کی ہے۔فرمایا: میرا گمان ہے کہ عمرعلم کے دس حصوں میں سے نو حصے لے کر چلے گئے ۔

سمعتهم يقولون سمعها يقولان كان ابن ← قتادة و حماد ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8824

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8825

8808 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا الأعمش عن شقيق قال قال عبد الله Y والله إني لأحسب علم عمر لو وضع في كفة الميزان ووضع سائر أحياء أهل الأرض في كفة الميزان لرجح عليه علم عمر رضي الله عنه قال سليمان : فذكرته فقال : لقد قال عبد الله أفضل من ذلك قال : إني لأظن عمر قد ذهب بتسعة أعشار العلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کو میزان کے ایک پلڑے میں اور تمام زمین کے رہنے والوں کے علم کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو حضرت عمر کا علم ان سے زیادہ ہو گا ۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں: حضرت اعمش نے فرمایا: میں نے اس کو ناپسند کیا ‘ میں ابراہیم کے پاس آیا‘ میں نے اس کا ذکر کیا‘ فرمایا: تو اس کو ناپسند کیوں کرتا ہے ‘ اللہ کی قسم ! حضرت عبداللہ اس سے افضل ہیں‘ فرمایا: میرا خیال ہے کہ جس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وصال ہوا تو نو حصے علم چلا گیا۔

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8825

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8826

8809 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا وكيع عن الأعمش عن أبي وائل قال قال عبد الله Y لو أن علم عمر وضع في كفة ميزان ووضع علم أهل الأرض في كفة لرجح علمه بعلمهم قال وكيع قال الأعمش : فأنكرت ذلك فأتيت إبراهيم فذكرته له فقال : وما أنكرت من ذلك فو الله لقد قال عبد الله أفضل من ذلك قال : إني لأحسب تسعة أعشار العلم ذهب يوم ذهب عمر رضي الله عنه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ساتھ نو حصے علم چلا گیا ‘ میرا خیال ہے کہ اگر حضرت عمر کا علم ایک پلڑے میں اور آپ کے بعد کے دوسروں کا علم دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا علم زیادہ ہو گیا۔

عَبْدُ اللهِ لَوْ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8826

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 4 · حديث 8827

8810 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا منصور قال قال عبد الله Y إني لأحسب عمر قد رفع معه يوم مات تسعة أعشار العلم وإني لأحسب علم عمر لو وضع في كفة الميزان وعلم من بعده لرجح عليه علم عمر رضي الله عنه

حضرت ابن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن زید نے فرمایا: اے ابوعبدالرحمن ٰ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ‘ آپ کہاں ہیں؟ فرمایا: آپ جنت میں ہیں۔ آپ سے عرض کی گئی: حضرت ابوبکر کا وصال ہوا ہے ‘ وہ کہاں ہیں؟ فرمایا: اسی جگہ ہیں جہاں ہم کو بھلائی ملتی ہے۔ آپ سے عرض کی گئی: حضرت عمر کا وصال ہوا ‘ وہ کہاں ہیں؟ فرمایا: جب نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو حضرت عمر کے ذکر سے ابتداء کر ۔

مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8827

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8828

8811 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن عبد الكريم الجزري عن أبي عبيدة عن ابن مسعود Y أن سعيد بن زيد قال : يا أبا عبد الرحمن قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فأين هو ؟ قال : في الجنة هو توفي أبو بكر فأين هو ؟ قال ذاك الأواه عند كل خير يبغى قال : توفي عمر فأين هو ؟ فإذا ذكر الصالحون فحي هلا بعمر

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نیک لوگوں کا ذکر کیا جائے تو حضرت عمر کے ذکر سے ابتداء کی جائے گی ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8828

chevron_left Previous
1…434445…123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter