Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عمر بن أبي سلمة · حديث 8322

8306 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي ثنا النضر ابن اسماعيل أبو المغيرة القاص ثنا إسماعيل بن مسلم عن الحسن عن عمر بن أبي سلمة قال Y أقعدني رسول الله صلى الله عليه و سلم معه على طعام فقال لي : سم وكل بيمينك وكل مما يليك

حضرت عمر بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں تین باتوں سے منع کرتا ہوں اور تین کا حکم دیتا ہوں ‘ تم اللہ کے ساتھ کسی شی کو شریک نہ ٹھہراؤ ‘ اللہ کی اطاعت کرو قیامت آنے تک ‘ حکمرانوں کو نصیحت کرو ‘ جو اللہ کے حکم کے متعلق حکم دیتے ہیں اور تم کو قیل و قال سے منع کرتا ہوں اور زیادہ سوال کرنے سے اور مال ضائع کرنے سے ۔

لي سم وكل بيمينك وكل مما يليك ← أقعدني رسول الله صلى الله عليه و سلم معه على طعام ← عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← الْحَسَنِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← النضر ابن اسماعيل أبو المغيرة القاص ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8322

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 764 - عمر بن مالك الأنصاري كان ينزل مصر · حديث 8323

8307 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا شعيب بن يحيى التجيبي عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب عن لهيعة بن عقبة أنه سمع عمر بن مالك الأنصاري قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : آمركم بثلاث وانهاكم عن ثلاث آمركم أن لا تشركوا بالله شيئا وأن تعتصموا بالطاعة جميعا حتى يأتيكم أمر الله وأنتم على ذلك وأن تناصحوا ولاة الأمر من الذين يأمرونكم بأمر الله وأنهى عن قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال

حضرت نوفل بن مساحق فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی ‘ یہ عامل تھے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا ‘ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی پتھر لیے اور اس کے ساتھ مارا ‘ ایک پتھر ان کی پیشانی پر لگا اور یہ زخمی ہو گئے ‘ پس خون ان کی داڑھی پر بہہ گیا‘ پس گویا وہ نادم ہوئے اور کہا: اپنی داڑھی سے خون پونچھ لو! اس نے عرض کی: اے امیرالمؤمنین! یہ چیز آپ کو پریشان نہ کرے !قسم بخدا! جب میری بے عزتی‘ اس ہستی سے ہوئی جس نے مجھے حکمران بنایا ‘ اس سے زیادہ سخت یہ ہے کہ آپ کی بے حرمتی مجھ سے ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس سے خوش کر دیا اور اپنی بھلائی میں اضافہ کیا۔

عمر بن مالك الأنصاري ← لهيعة بن عقبة أنه ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← شعيب بن يحيى التجيبي ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8323

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عثمان 765 - عثمان بن حنيف الأنصاري من أخباره · حديث 8324

8308 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري حدثني نوفل بن مساحق قال Y بينا عثمان بن حنيف يكلم عمر بن الخطاب رضي الله عنه وكان عاملا له فأغضبه فأخذ عمر بن الخطاب رضي الله عنه قبضة من البطحاء فرجمه بها فأصاب حجر منها جبينه فشجه فسال الدم على لحيته فكأنه ندم فقال : امسح الدم عن لحيتك فقال : لا يهولنك هذا يا أمير المؤمنين فو الله لما انتهكت ممن وليتني أمره أشد مما انتهكت مني قال : فكأنه أعجب عمر ذلك منه وزاده خيرا

حضرت امام زہری فرماتے ہیں: حضرت عثمان بن حنیف نے حضرت امیر معاویہ پر سلام کیا اور کہا: اے امیر! آپ پر سلام ہو! جبکہ ان کے پاس شامیوں کا ایک گروہ موجود تھا ‘ تو انہوں نے کہا: یہ منافق کون ہے جس نے امیرالمؤمنین کے سلام میں کمی کی ہے؟ پس حضرت عثمان نے حضرت معاویہ سے کہا: بے شک ان لوگوں نے مجھ پر کسی چیز کا عیب لگایا ہے ‘ آپ اس کو جانتے ہیں لیکن ( یاد رکھو! ) میں نے ابوبکر ‘ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو اسی طرح سلام کیا ‘ لیکن جب سے فتنہ برپا ہوا شام والے کہتے ہیں: قسم بخدا! ضرور ہم اپنے دین کو پہچانتے ہیں اور ہم اپنے خلیفہ کے سلام میں کمی نہیں کرتے اور یقینا تمہارے حوالے سے اے مدینہ والو! میرا خیال ہے کہ تم عامل صدقہ کو امیر کہتے ہو۔

نَوْفَلُ بْنُ مُسَاحِقٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8324

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ من اسمه عثمان 765 - عثمان بن حنيف الأنصاري من أخباره · حديث 8325

8309 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري قال Y سلم عثمان بن حنيف على معاوية رحمه الله فقال : السلام عليك أيها الأمير وعنده رهط من أهل الشام فقالوا : من هذا المنافق الذي قصر في تحية أمير المؤمنين ؟ فقال عثمان لمعاوية : إن هؤلاء قد عابوا علي شيئا أنت أعلم به أما إني قد حييت بها أبا بكر و عمر و عثمان رحمهم الله فقال معاوية : إني لأخاله قد كان بعض الذي يقول ولكن أهل الشام حين وقعت الفتنة قالوا : والله لنعرفن ديننا ولا نقصر تحية خليفتنا وإني لأخالكم يا أهل المدينة تقولون لعامل الصدقة أمير

حضرت ہانی فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں حج کیا ‘ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ‘ ایک آدمی بیان کر رہا تھا‘ اس نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دن نماز پڑھ رہے تھے تو ایک آدمی آیا ‘ اس نے اس ستون کے پیچھے نماز پڑھی ‘ اس نے جلدی نماز پڑھی‘ پھر نکلا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ اس حالت پر مرتا تو اس دین نے اسے کوئی فائدہ نہیں دینا تھا۔ وہ آدمی جو مختصر اور مکمل نماز پڑھتا تھا ‘ میں نے اس آدمی کے متعلق پوچھا تو مجھے کہا گیا: وہ حضرت عثمان بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔

الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8325

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن حنيف · حديث 8326

8310 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا ابن لهيعة ثنا الحارث بن يزيد عن البراء بن عثمان الأنصاري عن هانئ بن معاوية الصدفي في حديثه قال هانئ : Y حججنا في زمان عثمان بن عفان رضي الله عنه فجلست في مجلس في مسجد النبي صلى الله عليه و سلم فإذا رجل يحدثهم قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما فأقبل رجل فصلى إلى هذا العمود فعجل قبل أن يتم صلاته ثم خرج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن هذا لو مات لمات وليس هو من الدين على شيء إن الرجل ليخفف ويتمها فسألت عن هذا الرجل ؟ فقيل لي : عثمان بن حنيف الأنصاري

حضرت عمہ عثمان بن حنیف فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کسی کام کیلئے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا جایا کرتا تھالیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کسی مصروفیت کی وجہ سے اس کی طرف متوجہ نہیں کرتے تھے اور نہ ہی اس کے کام میں نظر فرماتے تھے ‘ پس وہ آدمی حضرت ابن حنیف سے ملا اور ان کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کیا۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: وضو کیلئے پانی لے آ ! اس کے بعد وضو کر پھر مسجد میں جا کر دو رکعت نماز نفل ادا کر ۔ پھر یہ دعا کر : اللهم اني اسألك الى ٰآخرہ ‘‘ اور ساتھ اپنے کام کا ذکر کر اور چلا جا ‘ حتی ٰکہ میں بھی تیرے ساتھ چلوں گا ۔ پس اس آدمی نے جا کر وہی کام کیا جو انہوں نے فرمایا تھا‘ پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا تو ادھر سے دربان آیا ‘‘ وہ اس آدمی کے ہاتھ سے پکڑ کر اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا ‘ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ قالین پر بٹھا کر فرمایا: تیرا کام کیا ہے؟ پس اس نے اپنا کام بتایا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کام کو کر دیا۔ پھر اس سے کہا: تو نے اب تک اپنا کام مجھے بتایا کیوں نہیں؟ اورفرمایا: جو بھی تیرا کام ہو تو مجھے بتایا کر۔ پھر وہ آدمی آپ کے پاس سے نکل کر حضرت عثمان بن حنیف سے ملا ‘ ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے ! وہ میرے کام کو نہ دیکھتے اور نہ ہی میری طرف متوجہ ہوتے یہاں تک کہ آپ نے میری سفارش کی ۔ حضرت عثمان بن حنیف نے فرمایا: قسم بخدا! میں نے ان سے (آپ کی ) کوئی سفارش نہیں کی ( میں نے تو نسخہ بتایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ تھی ) کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نابینا آیا تو اس نے شکایت کی کہ میں نابینا ہوں (آنکھیں چاہیئں) ‘ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: صبر کر لو!(تمہارے لیے بہتر ہوگا ) اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کوئی میری انگلی پکڑنے والا نہیں اور مجھے بڑی مشکل ہے ‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی لا کر وضو کر پھر دو رکعت پڑھ پھر یہ دعا کر ۔ حضرت ابن حنیف نے فرمایا قسم بخدا! ہم جدانہیں ہوئے اور نہ ہی کوئی لمبی بات کی یہاں تک کہ وہ آدمی ہمارے پاس آیا‘ گویا وہ کبھی نا بینا تھا ہی نہیں۔

هانئ بن معاوية الصدفي في حديثه ← الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8326

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن حنيف · حديث 8327

8311 - حدثنا طاهر بن عيسى بن قيرس المصري المقرئ ثنا أصبغ بن الفرج ثنا ابن وهب عن أبي سعيد المكي عن روح بن القاسم عن أبي جعفر الخطمي المدني عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن عمه عثمان بن حنيف Y أن رجلا كان يختلف إلى عثمان بن عفان رضي الله عنه في حاجة له فكان عثمان لا يلتفت إليه ولا ينظر في حاجته فلقي ابن حنيف فشكى ذلك إليه فقال له عثمان بن حنيف : ائت الميضأة فتوضأ ثم ائت المسجد فصل فيه ركعتين ثم قل : اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبينا محمد صلى الله عليه و سلم نبي الرحمة يا محمد إني أتوجه بك إلى ربي فتقضى لي حاجتي وتذكر حاجتك وروح حتى أروح معك فانطلق الرجل فصنع ما قال له ثم أتى باب عثمان بن عفان رضي الله عنه فجاء البواب حتى أخذ بيده فأدخله على عثمان بن عفان رضي الله عنه فأجلسه معه على الطنفسة فقال : حاجتك فذكر حاجته وقاضاها له ثم قال له : ما ذكرت حاجتك حتى كان الساعة وقال : ما كانت لك من حاجة فأذكرها ثم إن الرجل خرج من عنده فلقي عثمان بن حنيف فقال له : جزاك الله خيرا ما كان ينظر في حاجتي ولا يلتفت إلي حتى كلمته في فقال عثمان بن حنيف : والله ما كلمته ولكني شهدت رسول الله صلى الله عليه و سلم وأتاه ضرير فشكى إليه ذهاب بصره فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : فتبصر فقال : يا رسول الله ليس لي قائد وقد شق علي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ائت الميضأة فتوضأ ثم صل ركعتين ثم ادع بهذه الدعوات قال ابن حنيف : فو الله ما تفرقنا وطال بن الحديث عن دخل علينا الرجل كأن لم يكن به ضر قط

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کرتے ہیں ۔

عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← طاهر بن عيسى بن قيرس المصري المقرئ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8327

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن حنيف · حديث 8328

8311 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا عثمان بن عمر بن فارس ثنا شعبة عن أبي جعفر الخطمي عن أبي أمامة بن سهل بن حنيف عن 4 عمه عثمان بن حنيف عن النبي صلى الله عليه و سلم Y نحوه

حضرت عثمان بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آنے سے پہلے لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے اور بلاعمل تصدیق کرنے اور قبلہ بیت المقدس کی طرف بلاتے تھے ‘ جب ہماری طرف ہجرت کی تو وراثت والی آیت نازل ہوئی ‘ مدینہ نے مکہ کو منسوخ کر دیا اور اس میں قول ( و تصدیق بلاعمل ) کو بھی اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم والی آیت نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کو منسوخ کر دیا تو ایمان قول وعمل والا ہو گیا۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← عمه عثمان بن حنيف ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← شُعْبَةُ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8328

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ ما أسند عثمان بن حنيف · حديث 8329

8312 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن إدريس الرازي ثنا عبد الله بن محمد بن داود بن أبي أمامة بن سهل بن حنيف حدثني سعد بن عمران بن هند بن سهل بن حنيف عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن عثمان بن سهل بن حنيف عن أبيه عن جده عثمان بن سهل بن حنيف يقول Y كان رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل أن يقدم من مكة يدعو الناس إلى الإيمان بالله وتصديقا به قولا بلا عمل والقبلة إلى بيت المقدس فلما هاجر إلينا نزلت الفرائض ونسخت المدينة مكة والقول فيها ونسخ البيت الحرام بيت المقدس فصار الإيمان قولا وعملا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بغیر شادی کے رہنے کو رد کر دیا‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے ( یہ عثمان کا قول ہے)۔

جَدِّهِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ، ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← سعد بن عمران بن هند بن سهل بن حنيف ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ← محمد بن إدريس الرازي ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8329

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 766 - عثمان بن مظعون الجمحي يكنى أبا السائب بدري توفي على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم سنة اثنتين من الهجرة نسبة عثمان بن مظعون عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح ابن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب وكان من مهاجرة الحبشة وقدم مكة قبل · حديث 8330

8313 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري قال وأخبرني سعيد بن المسيب قال سمعت سعد بن أبي وقاص يقول Y لقد رد رسول الله صلى الله عليه و سلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو أحله لا ختصينا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے بغیر شادی کے رہنے کا ارادہ کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کر دیا ‘ حضرت سعد کا قول ہے : اس کی اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے ۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8330

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 766 - عثمان بن مظعون الجمحي يكنى أبا السائب بدري توفي على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم سنة اثنتين من الهجرة نسبة عثمان بن مظعون عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح ابن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب وكان من مهاجرة الحبشة وقدم مكة قبل · حديث 8331

8314 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب حدثني يونس عن ابن شهاب Y أن سعيد بن المسيب حدثه أن سعد بن أبي وقاص أخبره أن يتبتل فنهاه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال سعد : فلو أجاز ذلك لا ختصينا

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بغیر شادی کے رہنے کو رد کر دیا ‘ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیتے تو ہم اپنے آپ کو خصی کر لیتے ۔

سعد فلو أجاز ذلك لا ختصينا ← أن يتبتل فنهاه رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8331

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 766 - عثمان بن مظعون الجمحي يكنى أبا السائب بدري توفي على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم سنة اثنتين من الهجرة نسبة عثمان بن مظعون عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح ابن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب وكان من مهاجرة الحبشة وقدم مكة قبل · حديث 8332

8315 - حدثنا يوسف القاضي ثنا محمد بن أبي بكر المقدمي ثنا وهب بن جرير حدثني أبي Y قال سمعت النعمان بن راشد يحدث عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن سعد بن أبي وقاص قال : رد رسول الله صلى الله عليه و سلم على عثمان بن مظعون التبتل ولو أجاز له التبتل لاختصينا

حضرت عروہ فرماتے ہیں: ان لوگوں کے نام جنہوں نے حضرت جعفر اور ان کے ساتھیوں کے نکلنے سے پہلے پہلی مرتبہ حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ ان کے نام یہ ہیں: عثمان بن مظعون ‘ عثمان بن عفان ‘ آپ کے ساتھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ بھی تھیں‘ عبداللہ بن مسعود ‘ عبدالرحمن بن عوف ‘ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ ان کی بیوی سہلہ بنت سہیل بن عمر و‘ حبشہ کی سرزمین پر ہی حضرت محمد بن ابوحذیفہ پیدا ہوئے ‘ زبیر بن عوام ‘ بنوعبدالدار کے فرد مصعب بن عمیر ‘ عامر بن ربیعہ ‘ ابوسلمہ بن عبدالاسد اور ان کی بیوی ام سلمہ ‘ ابوسبرہ بن ابورھم اور ان کے ساتھ ام کلثوم بنت سہل بن عمرو اور سہل بن بیضاء۔ راوی کا بیان ہے: پھر حضرت جعفر بن ابوطالب سے پہلے یہ سارے جو پہلی بار گئے تھے لوٹ آئے ‘ جب اللہ تعالی ٰنے سورت نازل کی جس میں ذکر ہے: ”اور ستارے کی قسم جب وہ طلوع ہو ‘‘ ۔ مشرکین قریش نے کہا: اگر یہ آدمی ہمارے معبودوں کا ذکر بھلائی کے ساتھ کرے تو ہم اس کا اور اس کے ساتھیوں کا اقرار کر لیتے ہیں کیونکہ یہ کسی کا ذکر نہیں کرتے ‘ ان میں سے جنہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں میں ان کے دین کی مخالفت کی ‘ اسی طرح وہ ہمارے معبودوں کاسب و شتم اور برائی کے ساتھ کرتے ہیں ‘ پس جب اللہ تعالی ٰنے یہ سورت نازل کی جس میں ذکر ہے : ”قسم ہے نجم کی ‘‘ اور پڑھا: ’’ اے مشرکو! کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا اور ایک اور تیسرے منات کو ‘‘ ۔اس وقت شیطان نے مداخلت کی : طاغوتوں کے ذکر سے (یہ روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچی ‘ معتبر مفسرین نے اسے درست نہیں مانا، بہر حال ترجمہ کیا جا رہا ہے ) اس کے بعد (شیطان نے) کہا: بے شک ان کی سفارش کی امید کی جاتی ہے ‘ یہ شیطان کے جملے اور فتنہ تھا‘ پس یہ دونوں جملے ہر مشرک کے دل میں پڑے ‘ اور انہوں نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پہلے اور قوم کے دین کی طرف رجون کر لیا ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورت کے آخر پہ پہنچے جس میں نجم کا ذکر ہے (یعنی سورہ نجم ) تو سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ موجود مسلمانوں اور مشرکوں سب نے سجدہ کیا سوائے ولید بن مغیرہ کے ‘ وہ بوڑھا تھا۔ پس اس نے اپنی تھیلی پہ خاک لگا کر اس پر سجدہ کرلیا۔ پس دونوں فریقوں نے اس پہ بڑا تعجب کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کی وجہ سے سارے سجدے میں اکٹھے ہو گئے ہیں ‘ بہر حال بغیر ایمان ویقین کے مشرکین کے سجدہ کرنے پر مسلمانوں کو حیرانی ہوئی جبکہ مسلمانوں نے وہ جملے نہ سنے جو شیطان نے مشرکوں کی زبان پر جاری کیے تھے لیکن مشرکوں کے دل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے مطمئن ہو گئے ‘ جب انہوں نے وہ چیز سنی جو شیطان نے ان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امید بنا کر پیش کی اور ان لوگوں سے شیطان نے ہی یہ بات کی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سجدہ میں پڑھا ہے۔ پس انہوں نے اپنے معبودوں کی تعظیم میں سجدہ کیا۔ پس یہ بات لوگوں میں عام ہوگئی حالانکہ اس کا اظہار کرنے والا فقط شیطان تھا یہاں تک کہ حبشہ تک پہنچ گئی۔ پس جب حضرت عثمان بن مظعون ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود اور ان کے مکی ساتھیوں نے سنی ‘ مکہ والوں کے حوالے سے کہ لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے ‘ اور ان کو ولید بن مغیرہ کے ہاتھوں پر مٹی اٹھا کر سجدہ کرنے کا پتہ بھی چلا تو انہوں نے واپس آنے میں جلدی کی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ چیز بڑی گراں گزری‘پس جب شام ہوئی تو حضرت جبریل علیہ السلام ‘ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور شکایت کی ۔ پس حضرت جبریل علیہ السلام نے پڑھنے کو کہا تو آپ نے پڑھا‘ پس جب آپ اس تک پہنچے تو جبریل نے ان سے برات کا اظہار کر لیا اور بولے: ان دو جملوں سے خدا کی پناہ! میرے رب نے ان کو نازل نہیں کیا اور نہ تیرے رب نے مجھے حکم دیا۔ پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دیکھی تو آپ کو گراں گزری ۔ فرمایا: کیا میں نے شیطان کا کہا مانا ہے اور اس کی کلام کی ہے اور اللہ کے معاملہ میں وہ میرے ساتھ شریک ہو گیا ہے ‘ پس مٹا دی اللہ نے وہ چیز جو شیطان نے ڈالی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں : ’’ اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ نبی مگر جب اس نے پڑھا تو شیطان نے اس کے پڑھنے میں ڈال دیا تو اللہ اسے مٹا دیتا ہے جو شیطان ڈالتا ہے ‘ پھر اللہ اپنی آیتوں کو پکا کر دیتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے تا کہ اللہ اس کو جو شیطان ڈالتا رہا ہے ان لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بے شک ظلم کر نے والے ضرور دور کے جھگڑے میں ہیں ‘‘ ۔ پس جب اللہ تعالی ٰنے سجع شیطان اور اس کے فتنہ سے برأت کا اظہار فرمایا تو مشرکین دوبارہ گمراہی اور دشمنی کی طرف لوٹ گئے اور جب یہ بات حبشہ والوں کو پہنچی تو وہ مکہ کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ پس اب وہ واپس نہیں لوٹ سکتے تھے۔ سخت آزمائش ‘ بھوک اور خوف کی وجہ سے کہ وہ مکہ میں داخل ہوئے تو ان کو پکڑ لیا جائے ۔ پس ان میں سے کوئی آ دی مکہ میں داخل نہ ہوا ‘ البتہ مضافات میں اتر گئے جبکہ حضرت عثمان بن مظعون کو ولید بن مغیرہ نے پناہ دی۔ پس جب حضرت عثمان بن مظعون نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو آزمائش میں مبتلا دیکھا اور یہ دیکھا کہ ان میں سے ایک گروہ کو آگ اور کوڑوں سے تکالیف میں ڈالا گیا ہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عافیت میں ہیں ‘ انہیں کوئی آزمائش نہیں آئی تو انہوں نے اس پر غور وفکر کیا ۔ پس انہوں نے عافیت والی زندگی پر آزمائش والی زندگی کو پسند کیا اور کہا: بہر حال جو اللہ کے عہد اور ذمہ میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ میں ہے جس نے اپنے اہل اسلام دوستوں اور اسلام میں داخل ہونے والوں کیلئے پسند کیا ہے کہ وہ خوف میں ہوں اور مفتی اور مصیبت میں مبتلا ہوں تو انہوں نے ولید بن مغیرہ کی طرف جانے کا ارادہ فرمایا اس سے جا کر کہا: اے چچا کے بیٹے ! تو نے مجھے پناہ دی اور خوبصورت پناہ دی۔ میں پسند کرتا ہوں کہ تو مجھے اپنے قریبی رشتہ داروں کے پاس جانے دے! جب میں ان کے درمیان ہوں گا تو تو مجھ سے بری ہوگا۔ ولید نے اس سے کہا: اے میرے بھائی کے بیٹے !ممکن ہے کوئی تجھے تکلیف دے ‘ تجھے گالی نکالے جبکہ تو میرے ذمہ میں ہے ‘ کیا تو ان کے پاس جانا چاہتا ہے جو مجھ سے زیادہ تیرا دفاع کر سکتے ہیں‘ پس کیا میں تجھے ان چیزوں کی طرف سے کافی نہیں ہوں ۔ کہنے لگے : نہیں ! قسم بخدا! کوئی ایسا نہیں ہے ‘ مجھے اور جو چیز مجھے کسی سے پیش آئے ۔ پس جب حضرت عثمان نے ولید کے بری ہونے کے علاوہ ہر صورت سے انکار کر دیا تو ولید انہیں مسجد میں لے کر گیا ‘ جبکہ قریش وہاں اکٹھے ہوکر بیٹھے تھے اور لبید بن ربیعہ شاعر شعر کہہ رہا تھا تو ولید ‘ عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر قریشیوں کے سامنے لایا اور کہا: بے شک یہ آدمی مجھ پر غالب آ گیا اور اس نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں اس کو پناہ دینے سے اپنی برات کا اظہار کر دوں ‘ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں اس سے بری ہوں ۔ پس وہ دونوں قوم کے ساتھ بیٹھ گئے اور لبید نے شعر کہنا شروع کر دیئے ۔ پس اس نے کہا: ( بحر کامل) ”خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ‘‘ ۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا۔ پھر لبید نے شعر کومکمل کیا: ’’ اور ہر نعمت کرنے والا لازمی طور پر ختم ہونےوالا ہے ‘‘ ۔ کہا: تو نے جھوٹ بولا ‘ پس قوم پر خاموشی طاری ہو گئی لیکن وہ بات نہ سمجھ سکے کہ اس نے یہ کہنے سے کیا ارادہ کیا ہے ‘ پھر اس نے یہ شعر دوسری بار کہے اور اس کے ساتھ حکم دیا۔ پس جب اس نے پہلا جملہ کہا تو آپ نے اس کی تصدیق کی اور جب اس نے دوسرا جملہ کہا تو اس کی تکذیب کی لیکن جب اس نے کہا: ہرشی فنا ہونے والی ہے تو آپ نے اس کی تصدیق کی ‘ اور جب اس نے کہا: ہر نعمت کرنے والا ‘ جانے والا ہے تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی تکذیب کی ۔ (اور کہا کہ ) بے شک جنتیوں کی نعمتیں ختم ہونے والی نہیں ہیں ۔ یہ بات کہنے کے وقت قریشیوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس نے حضرت عثمان بن مظعون کی آنکھ پرطمانچہ مارا تو وہ اسی وقت سیاہ ہوگئی ۔ ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھیوں نے کہا : تحقیق تو روکنے والے ‘ روکے گئے ذمہ میں تھا تو تو اس حالت کی طرف نکلا جبکہ تو اس سے بے پرواہ تھا جس سے تو ملا ہے ‘ پھر سارے ہنس پڑے تو حضرت نے کہا: میں محتاج تھا اس صورت کی طرف تمہاری طرف سے جس سے میں ملا ہوں اور میری وہ آنکھ جس پر طمانچہ نہیں لگا ‘ محتاج ہے اس آنکھ کی جس پر طمانچہ لگا ہے ‘ تمہاری طرف سے یہ رویہ مجھے پسند ہے۔ ولید نے آپ سے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں دوبارہ تمہیں پناہ دوں ۔ آپ نے فرمایا تمہاری پناہ کی مجھے کوئی ضرورت نہیں۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8332

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ 766 - عثمان بن مظعون الجمحي يكنى أبا السائب بدري توفي على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم سنة اثنتين من الهجرة نسبة عثمان بن مظعون عثمان بن مظعون بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح ابن عمرو بن هصيص بن كعب يكنى أبا السائب وكان من مهاجرة الحبشة وقدم مكة قبل · حديث 8333

8316 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن ليهعة عن أبي الأسود عن عروة قال Y وتسمية الذين خرجوا إلى أرض الحبشة للمرة الأولى قبل خروج جعفر وأصحابه : عثمان بن مظعون و عثمان بن عفان ومعه امرأته رقية بنت رسول الله صلى الله عليه و سلم و عبد الله بن مسعود و عبد الرحمن بن عوف و أبو حذيفة بن عتبة بن ربيعة ومعه امرأته سهلة بن سهيل بن عمرو وولدت له بأرض الحبشة محمد بن أبي حذيفة و الزبير بن العوام و مصعب بن عمير أخو بني عبد الدار و عامر بن ربيعة و أبو سلمة بن عبد الأسد و امرأته أم سلمة و أبو سبرة بن أبي رهم ومعه أم كلثوم بنت سهيل بن عمرو و سهيل بن بيضاء قال : ثم رجع هؤلاء الذين ذهبوا المرة الأولى قبل جعفر بن أبي طالب و أصحابه حين أنزل الله عز و جل السورة التي يذكر فيها { والنجم إذا هوى } وقال المشركون من قريش : لو كان هذا الرجل يذكر آلهتنا بخير أقررناه وأصحابه فإنه لا يذكر أحدا ممن خالف دينه من اليهود والنصارى بمثل الذي يذكر به آلهتنا من الشتم والشر فلما أنزل الله عز و جل السورة التي يذكر فيها والنجم وقرأ ( أفرأيتم اللات والعزىومناة الثالثة الأخرى ) القى الشيطان فيها عند ذلك ذكر الطواغيت فقال : وإنهن لمن الغرانيق العلى وإن شفاعتهم لترتجى ) وذلك من سجع الشيطان وفتنته فوقعت هاتان الكلمتان في قلب كل مشرك وذلت بها ألسنتهم واستبشروا بها وقالوا : إن محمدا صلى الله عليه و سلم قد رجع إلى دينه الأول ودين قومه فلما بلغ رسول الله صلى الله عليه و سلم آخر السورة التي فيها النجم سجد وسجد معه كل من حضر من مسلم ومشرك غير أن الوليد بن المغيرة كان رجلا كبيرا فرفع على كفه ترابا فسجد عليه فعجب الفريقان كلاهما من جماعتهم في السجود لسجود رسول الله صلى الله عليه و سلم فأما المسلمون فعجبوا من سجود المشركين على غير إيمان ولا يقين ولم يكن المسلمون سمعوا الذي ألقى الشيطان على ألسنة المشركين وأما المشركون فاطمأنت أنفسهم إلى النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه لما سمعوا الذي ألقى الشيطان في أمنية النبي صلى الله عليه و سلم وحدثهم الشيطان أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد قرأها في السجدة فسجدوا لتعظيم آلهتهم ففشت تلك الكلمة في الناس وأظهرها الشيطان حتى بلغت الحبشة فلما سمع عثمان بن مظعون و عبد الله بن مسعود ومن كان معهم من أهل مكة أن الناس قد أسلموا وصلوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وبلغهم سجود الوليد بن المغيرة على التراب على كفيه أقبلوا سراعا وكبر ذلك على رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما أمسى أتاه جبريل عليه السلام فشكا إليه فأمره فقرأ عليه فلما بلغها تبرأ منها جبريل عليه السلام وقال : معاذ الله من هاتين ما أنزلهما ربي ولا أمرني بهما ربك فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم شق عليه وقال : أطعت الشيطان وتكلمت بكلامه وشركني في أمر الله فنسخ الله عز و جل ما ألقى الشيطان و أنزل عليه وما أرسلنا من قبلك من رسول ولا نبي إلا إذا تمنى ألقى الشيطان في أمنيته فينسخ الله ما يلقي الشيطان ثم يحكم الله آياته والله عليم حكيم ليجعل ما يلقي الشيطان فتنة للذين في قلوبهم مرض والقاسية قلوبهم وإن الظالمين لفي شقاق بعيد فلما برأه الله من سجع الشيطان وفتنته انقلب المشركون بضلالهم وعدواتهم وبلغ المسلمين ممن كان بأرض الحبشة وقد شارفوا مكة فلم يستطيعوا الرجوع من شدة البلاء الذي أصابهم والجوع والخوف خافوا أن يدخلوا مكة فيبطش بهم فلم يدخل رجل منهم إلا بجوار وأجار الوليد بن المغيرة عثمان بن مظعون فلما أبصر عثمان بن مظعون الذي لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه من البلاء وعذبت طائفة منهم بالنار وبالسياط و عثمان معافى لا يعرض له رجع إلى نفسه فاستحب البلاء على العافية وقال : أما من كان في عهد الله وذمته وذمة رسوله الذي اختار لأوليائه من أهل الاسلام ومن دخل فيه فهو خائف مبتلى بالشدة والكرب عمد إلى الوليد بن المغيرة فقال : يا ابن عم قد أجرتني فأحسنت جواري وإني أحب أن تخرجني إلى عشيرتك فتبرأ مني بين أظهرهم فقال له الوليد : ابن أخي لعل أحد آذاك وشتمك وأنت في ذمتي فأنت تريد من هو أمنع لك مني فأكفيك ذلك قال : لا والله ما بي ذلك وما اعترض لي من أحد فلما أبى عثمان إلا أن يتبرأ منه الوليد أخرجه إلى المسجد وقريش فيه كأحفل ما كانوا و لبيد بن ربيعة الشاعر ينشدهم فأخذ الوليد بيد عثمان فأتى به قريشا فقال : إن هذا غلبني وحملني على أن أبرأ إليه من جواري أشهدكم أني منه بريء فجلسا مع القوم وأخذ لبيد ينشدهم فقال : ( ألا كل شيء ما خلال الله باطل ) فقال عثمان : صدقت ثم إن لبيد أنشدهم تمام البيت ( وكل نعيم لا محالة زائل ) فقال : كذبت فاسكت القوم ولم يدروا ما أراد بكلمته ثم أعادها الثانية وأمر بذلك فلما قالها قال مثل كلمته الأولى والآخرة صدقة مرة وكذبه مرة وإنما يصدقه إذا ذكر كل شيء يفني وإذا قال : كل نعيم ذاهب كذبه عند ذلك إن نعيم أهل الجنة لا يزول نزع عند ذلك رجل من قريش فلطم عين عثمان بن مظعون فاخضرت مكانها فقال الوليد بن المغيرة وأصحابه : قد كنت في ذمة مانعة ممنوعة فخرجت منها إلىهذا وكنت عما لقيت غنيا ثم ضحكوا فقال عثمان : بل كنت إلى هذا الذي لقيت منكم فقيرا وعيني التي لم تلطم إلى مثل هذا الذي لقيت صاحبتها فقيرة لي فيمن هو أحب إلي منكم أسوة فقال له الوليد : إن شئت أجرتك الثانية فقال : لا أرب لي في جوارك

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں: جب حضرت عثمان بن مظعون کا وصال ہوا تو ان کی بیوی نے کہا: آپ کو جنت مبارک ہو! ( آپ وہاں پرسکون سے رہیں ) ‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف غصے کی نظر سے دیکھا۔ فرمایا: تجھے کیا معلوم؟ اس نے عرض کی: آپ کے شاہسوار اور آپ کے صحابی تھے (ابھی جنتی نہ ہوں گے )۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم بخدا! میں اٹکل پچو (اندازے اور اپنی عقل) سے نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہوگا۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے آپ کی یہ بات صحابہ کرام پر گراں گزری کیونکہ وہ ان پر فضیلت رکھنے والے تھے۔ پس جب حضرت رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو فرمایا: ہمارے پہلے جانے والوں یعنی حضرت عثمان بن مظعون سے مل جاؤ ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابن ليهعة ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8333

chevron_left Previous
12345…123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter