Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8484

8467 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة و محمد بن عبد الله الحضرمي قالا ثنا هناد بن السري ثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال Y أمرني رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أقرأ عليه وهو على المنبر فقرأت عليه سورة النساء حتى إذا بلغت { فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا } غمزني رسول الله صلى الله عليه و سلم فنظرت إليه وعيناه تدمعان تدمعان

حضرت ابوعبیدہ روایت فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کو مارا ‘ تو کوئی کام نہ کیا ۔ کہا: کیا وہ جو کل جروائے تھے؟ جواب دیا : وہ وہاں تھے ‘ انہوں نے اپنی تلوار اٹھائی اور اسے ماری یہاں تک کہ اسے قتل کردیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← محمد بن عثمان بن أبي شيبة و محمد بن عبد الله الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8484

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8485

8468 - حدثنا أحمد بن عمرو القطراني ثنا محمد بن الطفيل النخعي ثنا شريك عن ابي إسحاق عن أبي عبيدة Y أن عبد الله ضرب أبا جهل فلم يصنع شيئا قال : رويعيا بالامس ؟ قال : هوذاك فاخذ سيفه فضربه حتى قتله

حضرت ابواسحاق ‘ حضرت ابوعبیدہ سے اور وہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘ فرماتے ہیں: بدر کے دن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ‘ میں نے عرض کی : بے شک میں نے ابو جہل کوقتل کر دیا ہے ‘ قسم اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! تو نے قتل کر دیا ہے؟ میں نے عرض کی قسم اس اللہ کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! میں نے اسے قتل کیا ہے۔ پس آپ بہت خوش ہوئے ‘ فرمایا: چلو! مجھے دکھاؤ۔ پس میں آپ کے ساتھ چلاحتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔ فرمایا: شکر اس خدا کا جس نے تجھے (اے ابوجہل!) رسوا کیا ‘ یہ اس امت کا فرعون تھا ‘ اسے گھسیٹ کر کنویں کی طرف لاؤ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں: پہلے میں نے ا سے اپنی تلوار سے مارا لیکن اس نے اس میں کوئی اثر نہ دکھایا تو میں نے اس کی تلوار پکڑ کر اس کو اس کی تلوار سے مارا یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال غنیمت کے طور پر اس کی تلوار دی ۔

هوذاك فاخذ سيفه فضربه حتى قتله ← رويعيا بالامس ← أبي عبيدة أن عبد الله ضرب أبا جهل فلم يصنع شيئا ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الطُّفَيْلِ النَّخَعِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8485

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8486

8469 - حدينا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى الحماني ثنا شريك عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم يوم بدر فقلت : إني قد قتلت أبا جهل قال : الله الذي لا إله غيره لأنت قتلته ؟ قلت : الله الذي لا إله غيره لأنا قتلته فاستخفه الفرح فقال : مر أرنيه فانطلقت به حتى وقفت به على رأسه فقال : الحمد لله الذي أخزاك هذا فرعون هذه الأمة جروه إلى القليب قال : وقد كنت ضربته بسيفي فلم يحك فيه فاخذت سيفه فضربته به حتى قتلته فنفلني رسول الله صلى الله عليه و سلم سيفه

حضرت ابوعبیدہ ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ‘ فرماتے ہیں: میں ابوجہل تک پہنچا اس حال میں کہ وہ گرا ہوا تھا ‘ اس پر اس کی ڈھال تھی اور اس کے پاس عمد ہ قسم کی تلوار بھی تھی جبکہ میرے پاس ردی قسم کی تلوار تھی‘ پس میں نے اپنی تلوار سے اس کے سر پر مارنا شروع کیا اور ساتھ ہی میں نے یاد کیا کہ مکہ میں یہ میرے سر پر مارتا تھا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ کمزور پڑ گیا ( جس میں تلوارتھی ) میں نے اس کی تلوار پکڑ لی تو اس نے سر اٹھایا ‘ کہا: کیا تو مکہ میں ہما را چرواہا نہ تھا ؟ میں نے اسے قتل کیا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ‘ میں نے عرض کی : میں نے ابوجہل کوقتل کر دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے دشمن کو جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ پس آپ نے تین بار مجھے سے حلف لیا ‘ پھر میرے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف گئے اور ان کے خلاف دعا کی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← يحيى الحماني ← حدينا الحسين بن إسحاق التستري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8486

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8487

8470 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني محمد بن أبي المقدمي ثنا عثام بن علي عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله قال Y انتهيت إلى أبي جهل وهو صريع وعليه بيضته ومعه سيف جيد ومعي سيف رديء فجعلت أنقف رأسه بسيفي وأذكر نفقا كان ينفق رأسي بمكة حتى ضعفت يده فأخذت سيفه فرفع رأسه فقال : على من كانت الدبرة لنا أو علينا ألست رويعينا بمكة ؟ فقتلته ثم أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : قتلت أبا جهل فقال : الله الذي لا إله إلا هو ؟ فاستحلفني ثلاث مرات ثم قام معي اليهم فدعا عليهم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں : جب مشرکین کو بدر کے دن اللہ نے شکست دی تو میں گزرا ‘ اچانک ابوجہل گرا ہوا تھا ‘ اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! اے ابو جہل! آخر اللہ نے رسوا کر ہی دیا۔ فرماتے ہیں : اس وقت مجھے کوئی ڈر نہیں لگا ۔ اس نے کہا: اس آدمی سے دور ہو جا! جس کو اس کی قوم نے مار دیا ہے۔ پس میں نے اس کو اپنی تلوار ماری جو ز یادہ لمبی نہ تھی لیکن کوئی فائدہ مجھے نہیں ہوا یہاں تک کہ اس کے ہاتھ سے اس کی تلوار گر گئی ‘ میں نے وہ پکڑ کر اسے مارا حتی ٰکہ وہ ٹھنڈا ہو گیا‘ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا یہاں تک کہ میں آپ کے پاس آیا میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ نے ابوجہل کوقتل کر دیا ہے۔ فرمایا: اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! میں نے عرض کی : اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں! میں نے اس کو قتل کر دیا ہے ۔ فرمایا: کیسے؟ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ساری بات کی جیسے ہوئی تھی اور میں نے کیسے اس کو پایا۔فرمایا: اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں؟ میں نے عرض کی: اللہ کی قسم ! جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں‘ میں نے اسے قتل کیا‘ پس آپ نے اللہ اکبر کہا ‘ پھر کہا: شکر ہے اللہ کا جس نے اپنا وعدہ سچا کر کے دکھایا اور اپنے بندہ کی مدد کی‘ پھر آپ چلے یہاں تک کہ اس کے پاس آئے ‘ پھر فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← محمد بن أبي المقدمي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8487

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8488

8471 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا أبو كريب ثنا إبراهيم بن يوسف عن أبيه عن أبي إسحاق حدثني أو عبيدة عن عبد الله قال Y لما هزم الله المشركين يوم بدر مررت فإذا أبو جهل صريع قد ضربت رجله فقلت : يا عدو الله يا أبا جهل قد أخزى الله الآخر قال : ولا أهابه عند ذلك قال : أبعد عن رجل قتله قومه فضربته بسيف لي غير طائل فلم يغن عني شيئا حتى سقط سيفه من يده فأخذته فضربته حتى برد ثم جئت رسول الله صلى الله عليه و سلم اشتد لأن آتي أسرع خلق الله شدا حتى جئته فقلت يا رسول الله قد قتل الله أبا جهل قال : الله الذي لا إله إلا هو ؟ فقلت : الله الذي لا إله الا هو لقد قتله ؟ قال : كيف ؟ فقصصت عليه كيف كان الحديث ؟ وكيف وجدته ؟ قال : الله الذي لا إله الا هو ؟ [ قال ] : قلت : الله الذي لا إله الا هو لقد قتلته فكبر ثم قال الحمد لله الذي صدق وعده ونصر عبده ثم انطلق حتى آتاه ثم قال : هذا فرعون هذه الأمة

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا‘ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ابوجہل کو قتل کر دیا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ‘ اپنے بندہ کی مدد کی اور اپنے دین کو عزت دی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أو عبيدة ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8488

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8489

8472 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ( ح ) وحدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد قالا ثنا أمية بن خالد ثنا شعبة عن ابي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله قال Y اتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله إن الله تعالى قد قتل ابا جهل قال : الحمد لله الذي صدق وعده ونصر عبده واعز دينه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوجہل کا سر لے کر آیا۔ میں نے عرض کی: یہ ابوجہل کا سر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے؟ اس طرح قسم اٹھائی میں نے عرض کی: اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں‘ یہ ابوجہل کا سر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ← مُسَدَّدٌ ← وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8489

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8490

8473 - حدثنا محمد بن محمد التمار البصري ثنا محمد بن عبد الرحمن العنبري ثنا عبد الرحمن بن مهدي ثنا سفيان عن ابي إسحاق عن أبي عبيدة عن عبد الله قال Y أتيت النبي صلى الله عليه و سلم برأس ابي جهل فقلت : هذا رأس ابي جهل قال : الله الذي لا إله غيره ؟ وهكذا كانت يمينه فقلت : والله الذي لا اله غيره أن هذا رأس أبي جهل فقال : هذا فرعون هذه الأمة

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں: بدر کے دن میں نے ابوجہل کو گرا ہوا پایا تو میں نے اسے مخاطب کر کے کہا: اے اللہ کے دشمن! اللہ نے تجھے رسوا کیا۔ اس نے جواب دیا: اس چیز کے ساتھ مجھے اللہ نے رسوا کیا کہ تم نے ایک آدمی کو قتل کر دیا۔ میرے پاس میری تلوار تھی ‘ میں نے اسے مارنا شروع کیا لیکن وہ اس پر اثر نہیں کر رہی تھی ‘ اس کے پاس عمدہ تلوارتھی ‘ میں نے اس کے ہاتھ پر ضرب لگائی تو تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی‘ پس میں نے وہ تلوار پکڑ لی ‘ پھر میں نے اس کے سر سے خول اتارا اور اس کی گردن مار دی۔ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( واقعی )؟ میں نے عرض کی : قسم اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ فرمایا: چلو! یقین کرو میں چلا ‘ میں پرندے کی مانند دوڑ رہا تھا پھر میں لوٹا اور پرندے کی طرف دوڑ رہا تھا اور ہنس رہا تھا تو میں نے آپ کو بتایا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو! مجھے دکھاؤ۔ میں آپ کے ساتھ چل کر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا ‘ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے تو فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا ۔ اسی طرح اس حدیث کو حضرت زید بن انیسہ نے روایت کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے ‘ انہوں نے عمر بن میمون سے روایت کیا اور ابو وکیع نے ان کی متابعت کی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8490

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8491

8474 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا أبو المعافى محمد بن وهب بن ابي كريمة الحراني ثنا محمد بن ابي تملة عن ابي عبد الرحيم عن زيد بن ابي أنيسة عن ابي اسحاق عن عمرو بن ميمون عن ابن مسعود قال Y أدركت أبا جهل يوم بدر صريعا فقلت : أي عدو الله قد أخزاك الله قال : وبما اخزاني الله من رجل قتلتموه ومعي سيف لي فجعلت أضربه ولا يحيك فيه ومعه سيف له جيد فضربت يده فوقع السيف من يده فأخذته ثم كشفت المغفر عن رأسه فضربت عنقه ثم اتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فاخبرته فقال : الله الذي لا إله إلا هو ؟ قلت : الله الذي لا اله الا هو قال : انطلق فاستثبت فانطلقت فأنا اسعى مثل الطائر ثم رجعت وأنا أسعى مثل الطائر اضحك فاخبرته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : فانطلق فأرني فانطلقت معه فاريته فلما وقف عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : هذا فرعون هذه الأمة هكذا رواه زيد بن أبي أنيسة عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون و تابعه أبو وكيع

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بدر کے دن میں ابوجہل کے پاس اس حال میں آیا کہ وہ گرا ہوا تھا ‘ میں نے اسے اپنی تلوار سے مارا جو کند تلوار میر یپاس تھی تو اس کی تلوار اسکے ہاتھ سے گر پڑی ‘ میں نے اس کی تلوار پکڑ کر اسے قتل کر دیا ‘ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں گرمی کے دن میں آیا ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے ابوجہل کو مار دیا ہے ۔فرمایا: اللہ کی قسم! ( واقعی )؟ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم! ( جی ہاں!) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے تین بار حلف لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چلو! مجھے دکھاؤ۔ میں اس کی طرف چلا ‘ پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← محمد بن ابي تملة ← أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8491

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8492

8475 - حدثنا محمد بن داود التوزي البصري ثنا محمود بن غيلان ثنا أبو داود ثنا أبو وكيع عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله قال Y أتيت على أبي جهل يوم بدر وهو صريع فضربته بسيف كان معي كليل فبدر سيفه من يده فأخذته فقتلته ثم أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم حار كأنما أقل من الأرض فقلت : يا رسول الله ألم تر أن الله قتل أبا جهل قال : الله ؟ قلت آلله حتى حلفني ثلاثا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : انطلق فأرينه فانطلقت إليه فلما نظر إليه قال : هذا كان فرعون هذه الأمة

حضرت عبدالرحمن ٰبن عبداللہ بن مسعود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں‘ فرمایا: مجھے ابوجہل کی طرف بدر کے دن بھیجا گیا جبکہ مجھے بٹھایا گیا تھا ‘ میں نے اس کی تلوار پکڑ کر اسی کے ساتھ اس کا سر مار دیا۔ اس نے کہا: تو مکہ میں ہمارا چرواہا تھا۔ پس میں نے اس کی تلوار سے اس کو مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ‘ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے ابوجہل کو قتل کر دیا ہے ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود عقیل نامی ایک قیدی نے کہا: تو نے جھوٹ بولا ‘ تو نے اسے قتل نہیں کیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: بلکہ تو بہت جھوٹا اور گناہ گار ہے ‘ اے اللہ کے دشمن ! تحقیق قسم بخدا! میں نے اسے قتل کیا ہے ۔ اس نے کہا: اسکی نشانی ؟ میں نے کہا: اس کی ران میں ایک دائرہ تھا جیسے اونٹ کا دائرہ ہوتا ہے ‘ اس نے کہا: تو نے سچ کہا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبُو وَكِيعٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← محمد بن داود التوزي البصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8492

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8493

8476 - حدثنا أحمد بن زهير التستري ثنا محمد بن منصور الطوسي ثنا شبابة بن سوار ثنا أبو بكر الهذلي ثنا أبو المليح ثنا عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود عن أبيه قال Y دفعت يوم بدر إلى أبي جهل وقد أقعدت فأخذت سيفه فضربت به رأسه فقال : رويعينا بمكة فضربته بسيفه حتى برد ثم أتيت النبي فقلت : يا رسول الله قتلت أبا جهل فقال عقيل وهو أسير عند النبي صلى الله عليه و سلم : كذبت ما قتلته قال قلت بل أنت الكذاب الأثم يا عدو الله قد والله قتلته قال فما علامته ؟ قلت بفخذه حلقة كحلقة الجمل الملحق قال صدقت

حضرت زید بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ فرماتے ہیں: ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ آئے تو قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ بیٹھنے والوں کے برابر لگتے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہنسی آ گئی جب ان کو دیکھا۔ راوی کا بیان ہے پس وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے باتیں کرنے لگے ‘ دونوں ایک دوسرے سے ہنس رہے تھے جبکہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے تھے ‘ پھر واپس ہوئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے آنکھوں سے اوجھل ہونے تک ان کے پیچھے دیکھتے رہے ‘ فرمایا: فقہ سے بھرا ہوا تھیلا ہے۔

رويعينا بمكة فضربته بسيفه حتى برد ثم أتيت النبي فقلت ← دفعت يوم بدر إلى أبي جهل وقد أقعدت فأخذت سيفه فضربت به رأسه ← أَبِيهِ ← عبد الرحمن ابن عبد الله بن مسعود ← أَبُو الْمَلِيحِ ← أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، ← شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8493

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8494

8477 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي حدثني معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن الأعمش عن زيد بن وهب قال Y إنا لجلوس عند عمر إذ جاء عبد الله يكاد الجلوس يوازنه في قصره فضحك عمر حين رآه قال : فجعل يكلم عمر ويضاحكه وهو قائم عليه ثم ولى فأتبعه عمر بصره حتى توارى فقال : كنيف مليء فقها

حضرت حارثہ بن مضرب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوفہ والوں کی طرف خط لکھا: میں حضرت عمار کو امیر اور استاد اور وزیر بنا کر بھیج رہا ہوں ‘ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے نجباء میں سے ہیں ‘ بدر و احد میں شریک ہونے والے ہیں‘ دونوں کی اقتداء کر و‘ دونوں کی بات سنو ‘ میں تم کو اپنے اوپر عبداللہ کے ساتھ تر جیح دے رہا ہوں۔

لجلوس عند عمر ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8494

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 7 · حديث 8495

8478 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال Y كتب عمر إلى أهل الكوفة : إني قد بعثت عمارا أميرا و عبد الله بن مسعود معلما ووزيرا وهما من النجباء من أصحاب محمد صلى الله عليه و سلم من اهل بدر واحد فاقتدوا بهما واسمعوا من قولهما وقد آثرتكم بعبد الله على نفسي

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا کے دو بیٹوں کے متعلق وراثت کا مسئلہ آیا ‘ ان میں سے ایک اخیافی بھائی تھا‘ انہوں نے کہا: عبداللہ بن مسعود نے اس کو سب مال دیا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ابن مسعود پر رحم کرے! اگر چہ وہ فقیہ ہو ‘ لیکن اخیانی بھائی کو حصہ دینا تھا ماں کی طرف سے ‘ پھر میں تو ان دونوں کے درمیان مال تقسیم کرتا۔

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8495

chevron_left Previous
1…161718…123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter