المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8433
8416 - حدثنا عبيد العجلي ثنا أبو كريب ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال Y سئل عبد الله ما الذي كنت دعوت به ليلة قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم : سل تعطه ؟ قال : اللهم إني أسألك إيمانا لا يرتد ونعيما لا ينفد ومرافقة نبيك محمد صلى الله عليه و سلم في أعلى درجة الخلد
حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے درمیان میں آئے اس حالت میں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے ‘ آپ نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور آرام سے پڑھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ قرآن کو تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل کیا گیا ہے تو ابن ام عبد کی قرات کے مطابق پڑھے ‘ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ‘ پھر دعا مانگنے لگے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: مانگوتمہیں عطا کیا جائے گا ‘ مانگوتمہیں عطا کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ کیا مانگ رہے تھے؟ فرمایا: میں یہ دعا مانگ رہا تھا: ’’ اللهم اني اسألك الى آخرہ ‘‘ ۔ حضرت عمر ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے کے لیے آئے ‘ تو حضرت ابوبکر کو دیکھا کہ وہ آپ کو خوشخبری دینے کیلئے پہلے آئے ہوئے ہیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔
لك رسول الله صلى الله عليه و سلم سل تعطه ← سئل عبد الله ما الذي كنت دعوت به ليلة ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عُبَيْدٌ الْعِجْلِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8433
