Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8433

8416 - حدثنا عبيد العجلي ثنا أبو كريب ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال Y سئل عبد الله ما الذي كنت دعوت به ليلة قال لك رسول الله صلى الله عليه و سلم : سل تعطه ؟ قال : اللهم إني أسألك إيمانا لا يرتد ونعيما لا ينفد ومرافقة نبيك محمد صلى الله عليه و سلم في أعلى درجة الخلد

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘ حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے درمیان میں آئے اس حالت میں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے ‘ آپ نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور آرام سے پڑھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ قرآن کو تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل کیا گیا ہے تو ابن ام عبد کی قرات کے مطابق پڑھے ‘ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیٹھے ‘ پھر دعا مانگنے لگے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: مانگوتمہیں عطا کیا جائے گا ‘ مانگوتمہیں عطا کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: آپ کیا مانگ رہے تھے؟ فرمایا: میں یہ دعا مانگ رہا تھا: ’’ اللهم اني اسألك الى آخرہ ‘‘ ۔ حضرت عمر ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دینے کے لیے آئے ‘ تو حضرت ابوبکر کو دیکھا کہ وہ آپ کو خوشخبری دینے کیلئے پہلے آئے ہوئے ہیں‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابوبکر نیکیوں میں سبقت کرتے ہیں۔

لك رسول الله صلى الله عليه و سلم سل تعطه ← سئل عبد الله ما الذي كنت دعوت به ليلة ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عُبَيْدٌ الْعِجْلِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8433

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8434

8417 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا عاصم بن أبي النجود عن زر عن عبد الله Y أن النبي صلى الله عليه و سلم أتاه بين أبي بكر و عمر و عبد الله يصلي وافتتح النساء فسجلها فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يقرأ القرآن غضا كما أنزل فليقرأ قراءة ابن أم عبد ثم قعد ثم سأل فعجل النبي صلى الله عليه و سلم يقول : سل تعطه سل تعطه فقال فيما سأل : اللهم أني أسألك إيمانا لا يرتد ونعيما لا ينفد ومرافقة نبيك صلى الله عليه و سلم في جنة الخلد فأتى عمر عبد الله بن مسعود يبشره فوجد أبا بكر رضي الله عنه خارجا وقد سبقه فقال : إن فعلت لقد كنت سباقا بالخيرات

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ مسجد میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو یہ دعا کر رہے تھے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہا نکلے ‘ جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قریب ہوئے تو آپ کی دعا سنی ‘ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم نہیں تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہوکر فر مایا: وہ کیا دعا تھی جو تم مانگ رہے تھے؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کی حمد اور بزرگی بیان کی‘ پھر یہ دعا کی: اے اللہ! تو ہی معبود ہے ‘ تیرا وعدہ حق ہے ‘ تیری ملاقات حق ہے ‘ جنت حق ہے ‘ دوزخ حق ہے ‘ تیرے رسول حق ہیں ‘ تیرے نبی حق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8434

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8435

8418 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا سعيد بن أبي الربيع السمان ثنا سعيد بن سلمة بن أبي الحسام ثنا شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن عون بن عبد الله بن عتبة عن سعيد بن المسيب عن ابن مسعود Y أنه بينما هو يقرأ في المسجد مر نبي الله صلى الله عليه و سلم وهو يدعو خرج النبي صلى الله عليه و سلم و أبو بكر و عمر رضي عنهما فلما حاذا به يسمع دعاءه وهو لا يعرفه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سل تعطه فرجع أبو بكر رضي الله عنه إلى ابن مسعود فقال : الدعاء الذي دعوت به ما هو ؟ قال : حمدت الله ومجدته ثم قال : اللهم لا إله إلا أنت وعدك حق ولقاؤك حق والجنة حق والنار حق ورسلك حق والنبيون حق ومحمد صلى الله عليه و سلم حق

حضرت عون بن عبداللہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں ‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دعا کر رہے تھے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نکلے ‘ جب حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے برابر قریب ہوئے تو آپ کی دعاسنی ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پہچان نہیں رہے تھے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ تم مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ہوکر فرمایا: وہ کیا دعا تھی جو تم مانگ رہے تھے؟ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اللہ کی حمد اور بزرگی بیان کی ‘ پھر یہ دعا کی : اے اللہ! تو ہی معبود ہے ‘ تیرا وعدہ حق ہے ‘ تیری ملاقات حق ہے ‘ تیری کتاب حق ہے ‘ نبی سچے ہیں ‘ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں ‘ جنت حق ہے ‘ دوزخ حق ہے ‘ تیرے رسول حق ہیں۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ ← سعيد بن أبي الربيع السمان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8435

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8436

8419 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ثنا عبد العزيز بن محمد عن شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن عون بن عبد الله بن عتبة عن أبيه قال Y بينما ابن مسعود في المسجد يدعو بدعاء مر به النبي صلى الله عليه و سلم و أبو بكر فلما حاذى به رسول الله صلى الله عليه و سلم سمع دعاءه ورسول الله صلى الله عليه و سلم لا يعرفه فقال : من هذا سل تعطه فرجع أبو بكر إلى عبد الله فقال : الدعاء الذي كنت تدعو به ؟ قال : حمدت الله ومجدته ثم قلت : اللهم لا إله إلا أنت وعدك الحق ولقاؤك حق وكتابك حق والنبيون حق ومحمد صلى الله عليه و سلم حق والجنة حق والنار حق ورسلك حق

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس نے عرض کی : میں ایسے آدمی کے پاس سے آیا ہوں جو قر آن زبانی سکھا تا ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یشان ہوئے ‘ فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! دیکھ! تو کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے ‘ اس نے کہا کہ میں سچی بات کر رہا ہوں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کون ہے؟ اس نے عرض کی : وہ عبداللہ بن مسعود ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں کسی کو نہیں جانتا جو اس کا ان سے زیادہ حقدار ہو۔ میں تجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے حدیث سناتا ہوں: ہم نے ایک رات ‘ ایک گھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں سے کسی کام کے بارے تھی ‘ پھر ہم اس حال میں نکلے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور ابوبکر کے درمیان چل رہے تھے ‘ جب میں مسجد میں پہنچا تو وہاں ایک آدمی قرات کر رہا تھا‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غور سے سننے لگے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے دیر کر دی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ خاموش! فرماتے ہیں: اس نے قرآت کر کے رکوع کیا ‘ سجدہ کیا اور قعدہ ادا کیا پھر دعا و استغفار کر نے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ! عطا کیا جائے گا ‘ پھر فرمایا: جس آدمی کو پسند ہو کہ وہ تر و تازہ قرآن پڑھے جیسے نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے کی طرح قرآت کرے ۔ پس میں اور میرا دوست جان گئے کہ یہ آ دمی عبداللہ ہے ۔ جب میں نے صبح کی تو میں ان کو بشارت دینے گیا۔ فرماتے ہیں: ابوبکر پہلے پہنچ چکے تھے ۔ میں نے جس اچھے کام کی طرف سبقت کرنے کا ارادہ کیا تو ابوبکر مجھ پر سبقت لے گئے۔

أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8436

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8437

8420 - حدثنا علي بن عبد العزيز و بشر بن موسى قالا ثنا أبو نعيم ثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال Y جاء رجل إلى عمر رضي الله عنه فقال : إني جئتك من عند رجل يملي المصاحف عن ظهر قلب قال : ففزع عمر فقال : ويحك أنظر ما تقول ؟ وغضب فقال : ما جئتك إلا بالحق قال : من هو ؟ قال : عبد الله بن مسعود قال : ما أعلم أحدا أحق بذلك منه وسأحدثك عن عبد الله إنا سمرنا ليلة في بيت عند أبي بكر رضي الله عنه في بعض ما يكون من حاجة النبي صلى الله عليه و سلم ثم خرجنا ورسول الله صلى الله عليه و سلم يمشي بيني وبين أبي بكر فلما انتهيت إلى المسجد إذا رجل يقرأ فقام النبي صلى الله عليه و سلم يستمع إليه فقلت : يا رسول الله أعتمت فغمزني بيده أسكت قال : فقرأ وركع وسجد وجلس يدعو ويستغفر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : سل تعطه ثم قال : من سره أن يقرأ القرآن رطبا كما أنزل فليقرأ قراءة ابن أم عبد فعلمت أنا وصاحبي أنه عبد الله فلما أصبحت غدوت إليه لأبشره فقال : سبقك بها أبو بكر و ما سابقته إلى خير إلا سبقتني إليه

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ قرآن تر و تازہ پڑھے جس طرح نازل کیا گیا تو وہ ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق پڑھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِذَلِكَ مِنْهُ، وَسَأُحَدِّثُكَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَنْ هُوَ ← مَا جِئْتُكَ إِلَّا بِالْحَقِّ، ← ويحك أنظر ما تقول وغضب ← ففزع عمر ← ظهر قلب ← إني جئتك من عند رجل يملي المصاحف ← جَاءَ رَجُلٌ إلَى عُمَرَ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن عبد العزيز و بشر بن موسى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8437

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8438

8421 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو عبيد القاسم بن سلام ثنا مصعب بن المقدام ثنا سفيان عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عمر رضي الله عنه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من سره أن يقرأ القرآن غضا فليقرأه على قراءة ابن أم عبد

حضرت قیس بن مروان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ اس نے عرض کی: میں ایسے آدمی کے پاس سے آیا ہوں جو قر آن زبانی سکھاتا ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ پریشان ہوئے ‘ فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہو! دیکھ! تو کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے ‘ اس نے کہا کہ میں سچی بات کر رہا ہوں ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ کون ہے؟ اس نے عرض کی: وہ عبداللہ بن مسعود ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی کو نہیں جانتا جو اس کا ان سے زیادہ حقدار ہو۔ میں تجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے حدیث سناتا ہوں: ہم نے ایک رات ایک گھر میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں میں سے کسی کام کے بارے تھی‘ پھر ہم اس حال میں نکلے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور ابوبکر کے درمیان چل رہے تھے ‘ جب میں مسجد میں پہنچا تو وہاں ایک آدمی قرآت کر رہا تھا‘ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غور سے سننے لگے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے دیر کر دی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا کہ خاموش! فرماتے ہیں: اس نے قرآت کر کے رکوع کیا ‘ سجدہ کیا اور قعدہ ادا کیا پھر دعا و استغفار کر نے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگ! عطا کیا جائے گا ‘ پھر فرمایا: جس آدمی کو پسند ہو کہ وہ تروتازہ قرآن پڑھے جیسے نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے کی طرح قرآت کرے۔ پس میں اور میرا دوست جان گئے کہ یہ آدمی عبداللہ ہے۔ جب میں نے صبح کی تو میں ان کو بشارت دینے گیا۔ فرماتے ہیں: ابوبکر پہلےپہنچ چکے تھے۔ میں نے جس اچھے کام کی طرف سبقت کرنے کا ارادہ کیا تو ابوبکر مجھ پر سبقت لے گئے ۔

عُمَرَ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8438

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8439

8422 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة وعن خيثمة بن عبد الرحمن عن قيس بن مروان قالا Y أتى رجل عمر فقال : يا أمير المؤمنين قد تركت بالعراق رجلا يملي المصاحف عن ظهر قلب فغضب عمر رضي الله عنه حتى أحمر وجهه فقال له عمر : أعلم ما تقوله ؟ مرارا فقال : ما أنبئك إلا بحق فقال عمر رضي الله عنه : من هو ؟ قال : ابن أم عبد قال : فسكن حتى ذهب عنه الغضب ثم قال : ما أصبح على ظهر الأرض أحد أحق بذلك منه وسأحدثكم عن ذلك إن رسول الله صلى الله عليه و سلم سمر في بيت أبي بكر رضي الله عنه ذات ليلة لبعض حاجة حتى أعتم ثم رجع بيني وبين أبي بكر حتى انتهيت إلى المسجد إذا رجل من المهاجرين يصلي فقام يستمع لقراءته ما أدري أنا وصاحبي من هو ؟ قال : فلما قام ساعة قلت : يا رسول الله رجل من المهاجرين يصلي لو رجعت وقد أعتمت قال : فغمزني وجعل النبي صلى الله عليه و سلم يستمع لقراءته قال : فركع وسجد ثم قعد يدعو فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يقول : سل تعطه سل تعطه ولا أدري أنا وصاحبي من هو ؟ حتى سمعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من سره أن يقرأ القرآن غضا كما أنزل فليقرأ كما يقرأ ابن أم عبد قال : فذلك حين علمت أنا وصاحبي من هو ؟ قال : فغدوت إلى عبد الله لأبشره فقال : قد سبقك أبو بكر و أيم الله ما سابقت أبا بكر إلا خير إلا سبقني

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں نے خوشخبری دی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ قرآن اسی طرح پڑھے جس طرح نازل کیا گیا ہے تو وہ ابن مسعود کی قرآت کے مطابق پڑھے۔

ذَلِكَ ← ما أصبح على ظهر الأرض أحد أحق بذلك منه وسأحدثكم ← فسكن حتى ذهب عنه الغضب ثم ← ابن أم عبد ← عمر من هو ← ما أنبئك إلا بحق ← له عمر أعلم ما تقوله مرارا ← ظهر قلب فغضب عمر حتى أحمر وجهه ← يا أمير المؤمنين قد تركت بالعراق رجلا يملي المصاحف ← أَتَى رَجُلٌ عُمَرَ ← قيس بن مروان ← خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8439

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8440

8423 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا فرات بن محبوب ثنا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود Y أن أبا بكر و عمر رضي الله عنهما بشراه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من سره أن يقرأ القرآن كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن مسعود

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘ میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ نماز میں قرآت کر رہے تھے ‘ آپ ان کی قرات سننے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رکوع کیا اور سجدہ کیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو پسند ہے کہ قرآن اسی طرح پڑھے جس طرح نازل کیا گیا ہے تو وہ ابن ام عبد کی قرات کے مطابق پڑھے ۔ میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس خوشخبری دینے کے لیے آ یا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ‘ جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا یا انہوں نے میری آواز سنی تو کہا: آپ کیسے ہیں؟ میں نے عرض کی: میں وہ بشارت دینے آیا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ فرمایا: ابوبکر تجھ سے پہلے آ گئے ۔ میں نے کہا: اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو وہ بھلے کاموں میں سبقت لے جانے والے ہیں ‘ ہم دونوں نے جس اچھے کام کی طرف سبقت کی ‘ حضرت ابوبکر نے وہ کام مجھ سے پہلے کیا۔

عبد الله بن مسعود أن أبا بكر و عمر بشراه ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← فُرَاتُ بْنُ مَحْبُوبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8440

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8441

8424 - حدثنا محمد بن إبراهيم بن بكير الطيالسي ثنا عبيد بن عائشة ثنا عبد الواحد بن زياد ثنا الحسن بن عبيد الله ثنا إبراهيم بن يزيد النخعي عن علقمة بن قيس عن القرثع عن قيس أو ابن قيس عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال Y مر رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا معه و أبو بكر على ابن مسعود وهو يقرأ فقام يستمع قراءته ثم ركع عبد الله وسجد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سره أن يقرأ القرآن كما أنزل فليقرا من ابن أم عبد قال فأدلجت إلى ابن مسعود لأبشره بما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما ضربت الباب سمع صوتي فقال : ما جاء بك ؟ فقلت : جئت أبشرك بما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سبقك أبو بكر قلت : إن يفعل فإنه سابق بالخيرات ما استبقنا إلى خير قط إلا سبقني إليه أبو بكر

حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ‘ اس نے عرض کی : اے امیرالمؤمنین! میں نے مسجد میں ایک آدمی چھوڑا جو قرآن زبانی لکھواتا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے یہاں تک کہ آپ کی رگیں پھول گئیں‘ پھر فرمایا: کون ہے؟ اس نے عرض کی : عبداللہ بن مسعود! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ان سے زیادہ کون اس کا حق دار ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کو پسند ہو کہ قرآن اسی طرح پڑھے جس طرح نازل کیا گیا تو وہ ام عبد کے بیٹے کی قرآت کے مطابق پڑھے ۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← قيس أو ابن قيس ← الْقَرْثَعِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَائِشَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بُكَيْرٍ الطَّيَالِسِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8441

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 8442

8425 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا زكريا بن يحيى زحمويه ثنا علي بن هاشم ثنا حبيب بن حسان عن زيد بن وهب قال Y جاء رجل إلى عمر بن الخطاب فقال : يا أمير المؤمنين تركت بالكوفة رجلا يملى المصاحف عن ظهر قلبه فغضبه عمر حتى انتفخ وجهه ثم قال : من هو ؟ قال : عبد الله بن مسعود فقال : لله أبوك ومن احق بذلك منه ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من سره أن يقرأ القرآن غضا كما أنزل فليقرأه على قراءة ابن أم عبد

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو اور عمار کی ہدایت کو پکڑو اور عبداللہ بن مسعود کے وعدہ کو تھام لو ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← لله أبوك ومن احق بذلك منه ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَنْ هُوَ ← ظهر قلبه فغضبه عمر حتى انتفخ وجهه ثم ← يا أمير المؤمنين تركت بالكوفة رجلا يملى المصاحف ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← حَبِيبُ بْنُ حَسَّانَ، ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8442

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 2 · حديث 8443

8426 - حدثنا الحسن بن العباس الرازي ثنا سهل بن عثمان ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن يحيى بن سلمة بن كهيل عن أبيه ( ح ) وحدثنا سلمة بن إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل حدثني أبي عن أبيه عن جده عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء عن عبد الله قال Y قال النبي صلى الله عليه و سلم : اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر و عمر و اهدوا هدي عمار وتمسكوا بعهد عبد الله بن مسعود

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا ‘ جب آپ نے قرآن کھولا تو مسجد بدر والے صحابہ سے بھری ہوئی تھی‘ آپ نے فرمایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جانتے ہیں کہ قرآن کے احکامات کو کون جانتا ہے۔ حضرت شقیق نے فرمایا: میں نے دیکھا جو آپ نے فرمایا ‘ اس سے آپ نے جھجک محسوس کی ‘ آپ نے فرمایا: میں ان سے بہتر نہیں ہوں‘ اگر کسی آدمی کے متعلق مجھے علم ہو کہ وہ مجھ سے قرآن کا زیادہ علم رکھتا ہے تو میں اونٹ پر سوار ہوکر اس کے پاس جاؤں گا۔ حضرت شقیق فرماتے ہیں: جب حضرت عبداللہ اپنے خطبہ سے فارغ ہوئے تو میں ان حلقوں میں بیٹھا تا کہ سنوں جو وہ کہتے ہیں ‘ میں نے اس پر کسی سے کوئی بری بات نہیں سنی ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← وحدثنا سلمة بن إبراهيم بن إسماعيل بن يحيى بن سلمة بن كهيل ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8443

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 8444

8427 - حدثنا محمد بن النضر الازدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة ثنا سليمان عن شقيق قال Y خطبنا عبد الله حين شقت المصاحف و المسجد ممتلئ من أهل بدر فقال : لقد علم أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أني أعلمهم بكتاب الله قال شقيق : ثم رأيت إنه استحيى مما قال فقال : وما أنا بخيرهم ولو أعلم رجلا اعلم بكتاب الله مني تبلغه الابل لأتيته قال شقيق : فما فرغ عبد الله من خطبته قعدت في الحلق لأسمع ما يقولون فما سمعت أحدا منكرا على ذلك

حضرت فرماتے ہیں کہ جب مصاحف کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حکم دیا جو حکم دیا ‘ حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے ‘ اللہ کی حمد کی پھر فرمایا: اے لوگو! اللہ عز وجل فرماتا ہے: جو چھپائے گا وہ قیامت کے دن چھپائی ہوئی چیز لائے گا ‘ خبردار! جو مجھے حکم دیتا ہے کہ ‘ تم زید بن ثابت کی قرات پر پڑھو تو تم اس کی قرآت کے مطابق مصاحف کو چھپانے والی ہو ‘ وہ ذات جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ‘ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے ستر سورتیں یاد کی ہیں حالانکہ زید بن ثابت کی دو مینڈھیاں تھیں‘ آپ بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے ‘ وہ ذات جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ‘ اگر مجھے علم ہو کہ مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کا علم رکھتا ہے تو میں اس کے پاس ضرور جاؤں۔

شَقِيقٍ، ← سُلَیْمَانَ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8444

chevron_left Previous
1…121314…123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter