Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9773

9755 - حدثنا يوسف القاضي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء عن عبد الله قال Y الصور كهيئة القرن ينفخ فيه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں کےساتھ مل جل کر رہو ‘جو وہ پسند کر یں اس کی وجہ سے ان کے ساتھ مقابلہ کرو اور ر ہا تمہارا دین تو تم اس کی گفتگو ( ہر ایک سے ) نہ کرو۔

الصور كهيئة القرن ينفخ فيه ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9773

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9774

9756 - حدثنا يوسف القاضي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء قال قال عبد الله Y خالطوا الناس وزائلوهم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی کے پاس مال تھا ‘اس نے کبھی نیکی نہیں کی تھی ‘جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ‘پھر میرے ذرے ہوا میں اُڑادینا ‘اس کے ساتھ اسی طرح کیا گیا ‘اللہ عز وجل نے اس کے اعضاءکو جمع کیا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے اُبھارا تھا ؟ اس نے عرض کی : تیرے خوف کی وجہ سے ۔ پس اسے اللہ کی رحمت مل گئی ۔

عبد الله خالطوا الناس وزائلوهم ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9774

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9775

9757 - حدثنا يوسف القاضي ثنا حفص بن عمر الحوضي ثنا شعبة عن حبيب بن أبي ثابت عن عبد الله بن باباه عن ابن مسعود قال Y خالطوا الناس وصافوهم مما يشتهون ودينكم فلا تكلمنه

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب سے کوئی شی نہ مانگو کیونکہ وہ ہرگز تم کو ہدیہ نہیں دیں گے ‘اُنہوں نے اپنے آپ کو گمراہ کیا ‘ہوسکتا ہے تم سے سچ بولیں‘ تم ان کو جھٹلاؤ ‘یا وہ جھوٹ بولیں تو تم ان کی تصدیق کرو۔

خالطوا الناس وصافوهم مما يشتهون ودينكم فلا تكلمنه ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9775

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9776

9758 - حدثنا يوسف القاضي ثنا مرو بن مرزوق أنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء عن عبد الله Y أن رجلا كان له مال لم يعمل فيه خير قط فلما نزل به الموت قال لأهله : إذا أنامت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في الريح ففعل ذلك به فجمعه الله فقال : ما حملك على ما صنعت ؟ قال : من أجل مخافتك فنالته رحمة الله

حضرت ابوز عراء فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے شفاعت کا ذکر کیا‘ فرمایا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار میں سے چوتھے بن کر کھڑے ہوں گے۔حضرت شعبہ فرماتے ہیں: یہ بات میں نے صرف اس میں سنی ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← مرو بن مرزوق ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9776

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9777

9759 - حدثنا يوسف القاضي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء قال قال عبد الله Y لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم لن يهدوكم وقد أضلوا أنفسهم إما يحدثونكم بصدق فتكذبونهم أو بباطل فتصدقونهم

حضرت ابوزعراء فرماتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے ‘ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا‘ ایک گروہ جھاڑیاں اُگنے کی جگہ اپنے آباء کی زمین میں چلا جائے گا‘ ایک گروہ اس دریائے فرات کا کنارہ اختیار کر لے گا تو وہ ان سے قتال کرے گا اور یہ اُس سے قتال کر یں گے حتی ٰکہ مؤمن شام کے غربی کنارے میں جمع ہو گئیں گے‘ پس وہ دجال کی طرف ایک ہراول دستہ بھیجیں گے جس میں بھورے اور چتکبرے گھوڑے پر ایک شاہسوار ہوگا‘ پس وہ لوگ قتل کیے جائیں گے‘ ان میں سے کوئی بھی مؤمنوں کی طرح واپس نہیں لوٹے گا۔ راوی کا بیان ہے: یہ حدیث مجھے حضرت ابوصادق نے بیان کی‘ اُنہوں نے ربیعہ بن ناجد سے اور اُنہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ فرمایا: فرش أشقر ( بھورے رنگ کا گھوڑا)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا: اہل کتاب کا گمان ہے کہ حضرت مسیح اُتر کر اسے قتل کر یں گے‘ اہل کتاب کو اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے نہیں سنا‘ پھر یا جوج ماجوج نکلیں گے‘ وہ زمین میں گھس کر فساد بر پا کر یں گے۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:’’وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے‘‘ اُتریں گے پھر گٹھلی میں پیدا ہونے والے اس سفید کیڑے کی مانند‘ اللہ اس پر ایک جانور بھیجے گا‘ وہ ان کے کانوں اور نتھنوں میں داخل ہو جائیں گے ‘پس وہ مر جائیں گے‘ پس ان کی بد بو سے زمین بھر جائے گی۔فرمایا: زمین اللہ کی بارگاہ میں عرض کرے گی تو اللہ تعالیٰ پانی نازل فرما کر ‘زمین کو ان سے پاک کر دے گا پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں خنکی اور ٹھنڈک ہو گی پس وہ روئے زمین پر کوئی مؤمن نہیں چھوڑے گی یہاں تک کہ اس ہوا سے‘ مؤمن مر جائیں گے۔ پھر لوگوں میں سے بدترین (بہت سے بُرے لوگ) رہ جائیں گے جن پر قیامت کی گھڑی آئے گی۔پھر ایک فرشتہ صور لے کر آسمان و زمین کے درمیان کھڑا ہو گا تو وہ اس میں پھونک مارے گا۔ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی مخلوق مر جائے گی مگر جس کو تیرا رب چاہے گا (بچا لےگا)۔ پھر دونفخوں کے درمیان جو اللہ چاہے گا‘ وہ ہوگا ۔فرمایا: بنی آدم میں سے ہر مخلوق کی کوئی نہ کوئی شی زمین میں ہوگی پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی بھیجے گا جس کو مردوں کی منی کی طرح ٹپکائے گا‘ پس اس پانی سے ان کے جسم اور گوشت اُگیں گے۔ جیسے سدی ( آبی گزرگاہ‘ ڈیم) سے زمین نکلتی ہے ‘پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:’’اللہ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو بھیجتی ہے تو وہ بادلوں کو اُٹھاتی ہیں‘‘ ۔ پس ہم اسے مردہ زمین کی طرف لے جاتے ہیں‘ پس زمین کی موت کے بعد اس کے ذریعے زمین کو زندہ کرتے ہیں‘ اسی طرح دوبارہ اُٹھنا ہوگا ۔ پھر ایک فرشتہ صور لے کر آسمان وزمین کے درمیان کھڑا ہو جائے گا۔ پس اس میں پھونکے گا تو ہر نفس (روح) اپنے جسم کی طرف چل کر اس میں داخل ہو جائے گی ۔ پس وہ کھڑے ہو جائیں گے‘ وہ ایک آدمی کے زندہ ہونے کی طرح زندہ ہوں گے۔ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے‘ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کیلئے تمثیل بنائے گا اور ان سے ملاقات کرے گا‘ پس مخلوق میں سے کوئی شی نہ ہوگی جواللہ کو چھوڑ کر کسی چیز کی عبادت کرتی تھی مگر وہ چیز اس کے لیے بلند ہو کر سامنے آئے گی جس کی وہ پیروی کرتا تھا۔ یہود سے مل کر پوچھے گا : تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: حضرت عزیر علیہ السلام کی! فرمائےگا: کیا پانی تمہیں اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! پس ان کو سُراب کی شکل میں جہنم دکھائےگا۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی:’’اور ہم اس دن جہنم کو کافروں کے بالکل سامنے لے آئیں گے‘‘۔ پھر نصاریٰ سے مل کر فرمائےگا:تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی! فرمائے گا:کیا تمہیں سراب اچھا لگتا ہے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں! پس ان کو سراب کی صورت میں جہنم دکھائے گا اور اسی طرح (سوال وجواب) ہر اس سے ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر کسی شی کی عبادت کرتا تھا پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: ”ہاں انہیں ذرا روکو‘ ان سے پوچھنا ہے‘‘۔ یہاں تک کہ مسلمان گزریں گے تو ان سے ملاقات کر کے فرمائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ عرض کریں گے: ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ پس ایک یا دو بار زور دے کر ان سے پوچھےگا:کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ عرض کر یں گے: اللہ پاک کی! جب وہ ہمیں اپنا سراپا دکھائے گا تو ہم ضرور اسے پہچان لیں گے۔ پس اس وقت پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا تو ہر مؤمن مسلمان اللہ کو سجدہ کرتے ہوئےگر جائے گا‘ لیکن منافق باقی رہ جائیں گے‘ ان کی پیٹھیں ایک حالت پر ہوں گی‘ گویا ان میں لوہے کی سلاخیں ہیں ۔ پس وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! پس رب فرمائے گا: تم لوگوں کو سجدہ کی طرف دعوت دی جاتی تھی اس حال میں کہ تم تندرست تھے ( تو تم سجدہ نہ کرتے تھے ) پھر پل صراط کو حکم ہوگا تو وہ جہنم کے اوپر ڈال دی جائے گی‘ پس لوگ گروہ در گروہ اپنے اعمال کے مطابق گزریں گے۔ان میں سے پہلے بجلی چمکنے کی طرح ‘پھر ہوا گزرنے کی طرح ‘پھر پرندے کے گزرنے کی دیر میں‘ پھر تیز چلنے والے چو پاؤں کی مانند ۔ پھر فرمایا: پھر اسی طرح یہاں تک کہ ایک آدمی دوڑتا ہوا آئے گا حتیٰ کہ ایک آدمی پیدل چلنے والے کی طرح آئے گایہاں تک کہ ان میں سے جو آ خری آدمی ہو گا وہ اپنے پیٹ کے بل آئے گا۔ پس وہ کہےگا: اے میرے رب! تُو نے مجھے لانے میں دیر کر دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے عمل نے مجھے لانے میں دیر کر دی۔ پھر اللہ تعالیٰ اذنِ شفاعت عطا فرمائےگا‘ پس سب سے پہلے قیامت کے دن حضرت جبریل علیہ السلام سفارش کر یں گے‘ پھر ابراہیم‘ پھر حضرت موسیٰ پھر حضرت عیسی ٰعلیہم السلام ۔ حضرت سلمہ نے فرمایا: پھر چوتھے نمبر پر تمہارے نبی کھڑے ہوں گے‘ جس بارے آپ سفارش کر دیں گے اس میں کسی اور کی سفارش کی ضرورت نہ ہوگی‘ وہ مقام ِمحمود ہے (جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فائز ہوں گے) جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں ( قیامت کے دن شفاعت کی) ایسی جگہ کھڑا کرے گا ( جہاں سب آ پ کی نعتیں پڑھیں گے)‘‘ ۔ ہر نفس اپنے جنت و دوزخ والے دونوں گھر دیکھے گا پس کہا جائے گا :اگر تم نے عمل کیا ہوتا جبکہ وہ حسرت کا دن ہو گا‘ فرمایا: پس دوزخی اپنا جنت والا گھر دیکھیں گے تو اُن سے کہا جائے گا:اگر تم نے عمل کیا ہوتا (تو تمہیں یہ گھرملتا) اور جنتی اپنا دوزخ والا گھر دیکھیں گے‘ اللہ فرمائےگا:اگر تم پراللہ احسان نہ فرماتا( تو تمہارا یہ گھر ہونا تھا)۔ پھر فرشتے شفاعت کریں گے‘نبی‘ شہید‘ نیک لوگ اور خالص مؤمن کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ان کی سفارش قبول فرمائےگا۔پھر فرمائےگا: میں سب رحم فرمانے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہوں۔پس وہ اپنی رحمت کے صدقے‘ دوزخ سے لوگ نکالےگا جن کی تعداد ان سے زیادہ ہوگی جو وہ تمام مخلوق سے نکالے گایہاں تک کہ دوزخ میں نہیں رہے گا‘ وہ بھی جس میں تھوڑی سی بھی خیر ہو گی۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: "فرما دیجئے ! اے کا فرو! تمہیں کون سی چیز دوزخ میں لے گئی‘‘۔ اور اپنے ہاتھ کو باندھا‘ وہ کہیں گے: ”ہم نمازیوں میں سے نہ تھے اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور ہم باطل سوچ والوں کے ساتھ شریک ہوا کرتے تھے اور ہم جزاء کے دن کو جھٹلاتے تھے‘‘ ۔ چار انگلیوں کو اکٹھا کیا۔ اور حضرت سفیان کا قول ہے: اپنے ہاتھ کے ساتھ‘ اور ملا یا چار انگلیوں کو اور اس کا طریقہ ابونعیم نے بیان کیا۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ان کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ ان میں سے کسی میں کوئی خیر ہے؟ پس جب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ دوزخ سے (اب) کسی کو نہ نکالے گا تو دوزخیوں کے چہروں اور رنگوں کو بدل دے گا‘ پس مؤمنین میں سے ایک آدمی آ کر سفارش کرے گا تو اس سے فرمائے گا: جو کسی ایک کو بھی پہچانتا ہے‘ اسے اجازت ہے ‘وہ اسے دوزخ سے نکال لائے ۔ پس ایک آدمی آئے گا‘ تو نظر ٹکائےگا‘ کسی کو بھی نہیں پہچان پائےگا‘ پس ایک آدمی اس آدمی کو آواز دے کر کہےگا:اے فلاں!(نام لے کر) میں فلاں(نام بتا کر)ہوں۔ وہ کہےگا:میں تجھے نہیں پہچانتا۔پس وہ کہیں گے:’’اے ہمارے رب ! ہمیں اس سے نکال پس اگر ہم نے دوبارہ وہ کام کیے تو ہم ظالم ہیں ۔ اللہ فرمائے گا: اس میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ پس جب یہ فرمائےگا تو ان کو ڈھا نک دیا جائے گا تو ان میں سے کوئی فردبشرنہیں نکل سکے گا۔

عَبْدُ اللهِ لاَ تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ ← أَبِي الزَّعْرَاءِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9777

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9778

9760 - حدثنا يوسف القاضي ثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن سلمة بن كهيل قال سمعت أبا الزعراء عن عبد الله Y أنه ذكر الشفاعة قال فيقوم نبيكم صلى الله عليه و سلم رابع أربعة قال شعبة : لم أسمع هذا إلا في هذا الحديث

حضرت ابوزعراءسےمروی ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ ایمان والوں کی ایک قوم کو عذاب دے گا‘ پس وہ ان کو سفارش کرنے والوں کی سفارش سے نکالے گا۔ پھر فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کو سفارشیوں کی سفارش نفع نہ دے گی۔

شعبة لم أسمع هذا إلا في هذا الحديث ← فيقوم نبيكم صلى الله عليه و سلم رابع أربعة ← الشَّفَاعَةُ. ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ ← أبا الزعراء ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ الْقَاضِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9778

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9780

9762 - حدثنا عبيد العجلي ثنا أبو كريب ثنا عبد الحميد الحماني عن مسعر بن كدام و أبي حنيفة عن سلمة بن كهيل عن أبي الزعراء أن عبد الله قال Y يعذب الله عز و جل قوما من أهل الإيمان فيخرجهم بشفاعة الشافعين ثم قال : هؤلاء الذين لا تنفعهم شفاعة الشافعين

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) لوگ ‘رب العالمین کے لیے چالیس سال اس طرح کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھیں او پر لگی ہوں گی ‘فیصلہ کی گھڑی ختم ہونے کا انتظار کرتے ہوں گے ‘اس سخت مصیبت کے سبب ان کا پسینہ بہہ رہا ہو گا‘ پھر اللہ تعالیٰ (اپنی شان کے مطابق ) نزولِ اجلال فرمائےگا‘ اُمتیں گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گی یا انگلیوں کے کناروں پر کھڑی ہو جائیں گی ۔ نداء آئےگی:اے لوگو! کیا تم اپنے رب سے راضی نہیں ہو جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں اپنی عبادت کا خحم دیا‘ پھر تم نے اس سے منہ پھیر لیا اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کی کہ وہ تمہارے اور ان کے درمیان معاملہ کھلا چھوڑ دے جن سے تم نے دوستی کی‘ جس سے بھی ( دنیا میں ) ہر آدمی دوستی کرتا تھا۔ ایک نداء دینے والا نداء کرے گا: جو آ دمی جس چیز سے محبت کرتا تھا‘ وہ اسی کے ساتھ ہو جائے ۔ فرمایا: جو پتھر سے دوستی کرتا تھا(عبادت کرتا تھا) یا لکڑی یا جانور سے‘ وہ اس کی طرف چلا جائے گا۔ پھر اس کے بعد حضرت زید بن ابوانیسہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی ہے۔

أَبِي الزَّعْرَاءِ ،أَنَّ عَبْدَ اللهِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← مسعر بن كدام و أبي حنيفة ← عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عُبَيْدٌ الْعِجْلِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9780

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9781

9763 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو غسان ثنا عبد السلام بن حرب عن أبي خالد الدالاني عن المنهال بن عمرو عن أبي عبيدة عن مسروق عن عبد الله بن مسعود ( ح ) وحدثنا محمد بن النضر الأزدي و عبد الله بن أحمد بن حنبل و الحضرمي قالوا ثنا إسماعيل بن عبيد بن أبي كريمة الحراني ثنا محمد بن سلمة الحراني عن أبي عبد الرحيم عن زيد بن أبي أنيسة عن المنهال بن عمرو عن أبي عبيدة عن مسروق بن الأجدع ثنا عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم قال Y يجمع الله الأولين والآخرين لميقات يوم معلوم قياما أربعين سنة شاخصة أبصارهم إلى السماء ينتظرون فصل القضاء قال : وينزل الله عز و جل في ظلل من الغمام من العرش إلى الكرسي ثم ينادي مناد أيها الناس ألم ترضوا من ربكم الذي خلقكم ورزقكم وأمركم أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئا أن يولي كل ناس أنكم ما كانوا يتولون ويعبدون في الدين أليس ذلك عدلا من ربكم ؟ قالوا : بلى قال : فلينطلق كل قوم إلى ما كانوا يعبدون في الدنيا قال : فينطلقون ويمثل لهم أشياء ما كانوا يعبدون فمنهم من ينطلق إلى الشمس ومنهم من ينطلق إلى القمر وإلى الأوثان من الحجارة وأشباه ما كانوا يعبدون قال : ويمثل لمن كان يعبد عيسى شيطان عيسى ويمثل لمن كان يعبد عزيزا شيطان عزيز ويبقى محمد صلى الله عليه و سلم وأمته قال : فيتمثل الرب عز و جل فيأتيهم فيقول : ما لكم لا تنطلقون كما انطلق الناس قال : فيقولون إن لنا للا لها ما رأيناه بعد فيقول : هل تعرفونه إن رأيتموه ؟ فيقولون : إن بيننا وبينه علامة إذا رأيناها عرفناها قال : فيقول ما هي ؟ فيقولون : يكشف عن ساقه قال : فعند ذلك يكشف عن ساق فيخر كل من كان بظهره طبق ويبقى قوم ظهروهم كصياصي البقر يريدون السجود فلا يستطعيون وقد كان يدعون إلى السجود وهم سالمون ثم يقول : ارفعوا رؤوسكم فيرفعون رؤوسهم فيعطيهم نورهم على قدر أعمالهم فمنهم من يعطى نوره مثل الجبل العظيم يسعى بين يديه ومنهم من يعطى نوره أصغر من ذلك ومنهم من يعطى نورا مثل النخلة بيمينه ومنهم من يعطى نورا أصغر من ذلك حتى يكون رجلا يعطى نوره على إبهام قدمه يضيء مرة ويفيء مرة فإذا أضاء قدم قدمه فمشى وإذا طفئ قام قال : والرب وعز و جل أمامهم حتى يمر في النار فيبقى أثره كحد السيف دحض مزلة قال : ويقول : مروا فيمرون على قدر نورهم منهم من يمر كطرف العين ومنهم من يمر كالبرق ومنهم من يمر كالسحاب ومنهم من يمر كانقضاض الكوكب ومنهم من يمر كالريح ومنهم من يمر كشد الفرس ومنهم من يمر كشد الرجل حتى يمر الذي اعطى نوره على أبهم قدميه يحبو على وجههه ويديه ورجليه تخر وتعلق رجل ويصيب جوانبه النار فلا يزال كذلك حتى يخلص فإذا خلص وقف عليها ثم قال : الحمد لله لقد أعطاني الله مالم يعط أحدا أن أنجاني منها بعد إذا رأيتها قال : فينطلق به إلى غدير عند باب الجنة فيغتسل فيعود إليه ريح أهل الجنة وأولوانهم فيرى ما في الجنة من خلال الباب فيقول : رب ادخلني الجنة فيقول الله له أتسأل الجنة وقد نجيتك من النار فيقول : رب اجعل بيني وبينها حجابا لا أسمع حسيسها قال : فيدخل الجنة قال : فيرى أو يرفع له منزلا أمام ذلك كأنما هو فيه إليه حلم فيقول : رب أعطني ذلك المنزل فيقول له : فلعلك إن أعطيتكه تسأل غيره فيقول : فلعلك إن أعطيتكه تسأله غير فيقول : لا وعزتك لا أسالك غيره واي منزل يكون أحسن منه ؟ قال : ويرى أو يرفع له أمام ذلك منزل آخر كأنما هو إليه حلم فيقول : اعطني ذلك المنزل فيقول الله جل جلاله : فلعلك إن اعطيتكه تسأل غيره قال : لا وعزتك لا أسأل غيره وأي منزل يكون أحسن منه ؟ قال : فيعطاه فينزله ثم يسكت فيقول الله عز و جل : ما لك لا تسأل ؟ فيقول : رب لقد سالتك حتى استحييك وأقسمت لك حتى استحييك فيقول الله تعالى : ألم ترض أن أعطيك مثل الدنيا منذ خلقتها إلى يوم أفنيتها وعشرة أضعافها ؟ فيقول : اتستهزئ بي وأنت رب العزة ؟ فيضحك الرب عز و جل من قوله قال : فرأيت عبد الله بن مسعود إذا بلغ هذا المكان من هذا الحديث ضحك فقال له رجل : يا أبا عبد الرحمن قد سمعتك تحدث هذا الحديث مرارا كلما بلغت هذا المكان ضحكت فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يحدث هذا الحديث مرارا كلما بلغ هذا المكان من هذا الحديث ضحك حتى تبدو أضراسه قال : فيقول : الرب عز و جل ولكني على ذلك قادر سل فيقول ألحقني بالناس فيقول الحق الناس قال : فينطلق يرمل في الجنة حتى إذا دنا من الناس رفع له قصر من درة فيخر ساجدا فيقال له : ارفع رأسك مالك ؟ فيقول : رأيت ربي أو تراءى لي ربي فيقال له إنما هو منزل من منازلك قال : ثم يلقى رجلا فيتهيا للسجود له فيقال له : مه مالك ؟ فيقول : رأيت أنك ملك من الملائكة فيقول : إنما أنا خازن من خزانك عبد من عبيدك تحت يدي ألف قهرمان على مثل ما أنا عليه قال : فينطلق أمامة حتى يفتح له القصر قال : وهو في درة مجوفة سقائفها وأبوابها وأغلاقها ومفاتيحها منها تستقبله جوهرة خضراء مبطنة بحمراء كل جوهرة تقضي إلى جوهرة على غير لون الأخرى في كل جوهرة سرر وأزواج ووصائف أدناهن حوراء وعيناء عليها سبعون حلة يرى مخ ساقها من وراء حللها كبدها مرآته وكبده مرآتها إذا أعرض عنها إعراضة إزدادت في عينه سبعين ضعفا عما كانتن قبل ذلك وإذا أعرضت عنه إعراضة ازداد في عينها سبعين ضعفا عما كانت قبل ذلك فيقول لها : والله لقد ازددت في عيني سبعين ضعفا وتقول له وأنت والله لقد ازددت في عيني سبعين ضعفا فيقال له : أشرف قال : فيشرف فيقال له : ملكك مسيرة عام ينفذه بصره قال : فقال عمر : ألا تسمع ما يحدثنا ابن أم عبد يا كعب عن أدنى أهل الجنة منزلا فكيف أعلاهم ؟ فقال كعب : يا أمير المؤمنين ما لا عين رأت ولا أذن سمعت إن الله عزوجل جهل دارا فجعل فيها ما شاءمن الازواج والثمرات والاشربة ثم أطبقها ثم لم يرها أحد من خلقه لا جبريل ولا غيره من الملائكة ثم قرأ كعب { فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون } قال : وخلق دون ذلك جنتين وزينهما بما شاء وأراهما من شاء من خلقه ثم قال : من كان كتابه في عليين نزل تلك الدار التي لم يرها أحد حتى إن الرجل من أهل عليين ليخرج فيسير في ملكه فما تبقى خيمة من خيم الجنة إلا دخلها من ضوء وجهه فيستبشرون بريحه فيقولون : واها لهذا الريح هذا رجل من أهل عليين قد خرج يسير في ملكه فقال : ويحك يا كعب إن هذه القلوب قد استرسلت واقبضها فقال كعب : والذي نفسي بيده إن لجهنم يوم القيامة لزفرة ما من ملك مقرب ولا نبي مرسل إلا ليخر لركبتيه حتى إن إبراهيم خليل الله ليقول : رب نفسي نفسي حتى لو كان لك عمل سبعين نبيا إلى عملك لظننت أنك لا تنجو واللفظ لحديث زيد بن أبي أنيسة

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک رات ہم حدیثیں پڑھ رہے تھے یہاں تک کہ ہم پر نیند طاری کر دی گئی‘ پس جب ہم نے صبح کی تو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا: میرے اوپر انبیاء اپنی اُمتوں کے متبعین سمیت پیش کیے گئے تو کسی نبی علیہ السلام کی اُمت کا بڑا گروہ اس کے ساتھ تھا اور کسی نبی علیہ السلام کے ساتھ کوئی ایک آدمی بھی نہ تھا ( کیونکہ بعض نبی صرف اپنے نفس کی اصلاح کیلئے بھی دنیا پہ آئے ہیں)۔ قومِ لوط کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں یوں آگاہ فرمایا: ’’ کیا تم میں سے کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں ہے‘‘ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ‘بنی اسرائیل میں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزرے ۔ میں نے عرض کی : اے میرے رب! میری امت کہاں ہے؟ فرمایا: اپنی دائیں طرف دیکھیں‘ ( جب میں نے دیکھا )تو مکہ کے پہاڑوں کی طرح پہاڑ ہیں جو لوگوں کے چہروں سے ڈھکے ہوئے ہیں۔فرمایا: اے محمد! راضی ہو؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب!راضی ہوں ۔ فرمایا: (اب ) بائیں طرف نظر کرو! پس میں نے ملاحظہ کیا تو زمین کا کنارہ لوگوں کے چہروں سے ڈھکا ہوا ہے۔فرمایا: اےمحمد ! راضی ہو! میں نے عرض کی: اے میرے رب! راضی ہوں ۔ فرمایا: ان سب کے ساتھ ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔ ( یہ بات سن کر ) حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر یں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اس کو اُن میں سے بنا دے! پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا‘ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر یں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے! فرمایا: عکاشی تم پرسبقت لے گئے۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم پر میرے ماں باپ قربان! اگر تم سے ہو سکے اُن ستر سے ہونا تو ان سے ہو جانا‘ پس اگر تم عاجز ہو اور تمہارے عمل کو تاہ ہوں تو پہاڑ والوں سے ہونا۔ پس اگر تم عاجز ہو اور تمہارے عمل کو تاہ ہوں تو کنارے والوں سے ہونا کیونکہ میں نے کئی لوگوں کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے اُمید ہے کہ میرے اُمتی تمام جنت والوں کا چوتھائی حصہ ہوں گے‘ تو قوم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ پھر فرمایا: بے شک مجھے اُمید ہے کہ وہ جنتیوں کا ایک حصہ ہوں گے تو قوم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ‘پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ” اولین میں بڑا گروہ اورآخرین میں سے تھوڑے‘‘۔ پس لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے مذاکرہ کیا کہ وہ ستر ہزارکون ہیں؟ بعض لوگوں نے کہا: وہ گروہ جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اسلام پر ہی ان کی موت آئی یہاں تک کہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اُٹھائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو غلط قسم کے تعویذ گنڈے نہیں کرتے ‘نہ بُری فال پکڑتے ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرنے والے ہیں۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ ← محمد بن النضر الأزدي و عبد الله بن أحمد بن حنبل و الحضرمي ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ ← عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ← أبو غسان، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9781

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 3 · حديث 9782

9764 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقري ثنا ورقاء بن عمر ثنا أبو طيبة عن كرز بن وبرة عن نعيم بن أبي هند عن أبي عبيدة بن عبد الله بن مسعود عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y يقوم الناس لرب العالمين أربعين سنة شاخصة أبصارهم ينظرون فصل القضاء حتى يلتهمهم العرق من شدة الكرب ثم ينزل الله عز و جل ويجثو الأمم وينادي : أيها الناس ألا ترضون من ربكم الذي خلقكم وأمركم بعبادته ثم توليتم عنه وكفرتم نعمته أن يخلى بينكم وبين ما توليتم يتولى كل إنسان ما تولى فينادي مناد : من كان يتولى شيئا فليلزمه قال : فينطلق من كان تولى حجرا أو عودا أو دابة ثم ذكر نحو حديث زيد بن أبي أنيسة

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کثیر باتیں ہوئیں‘ پھر صبح ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے‘ تو آپ نے فرمایا: میرے اوپر انبیاء اپنی اُمتوں کے متبعین سمیت پیش کیے گئے تو کسی نبی علیہ السلام کی اُمت کا بڑا گروہ اس کے ساتھ تھا اور کسی نبی علیہ السلام کے ساتھ کوئی ایک آدمی بھی نہ تھا ( کیونکہ بعض نبی صرف اپنے نفس کی اصلاح کیلئے بھی دنیا پہ آئے ہیں)۔ قومِ لوط کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں یوں آگاہ فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی بھی عقلمند آدمی نہیں ہے‘‘یہاں تک کہ حضرت موسیٰ بن عمران ‘بنی اسرائیل میں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزرے۔ میں نے عرض کی: اے میرے رب! میری اُمت کہاں ہے؟ فرمایا: اپنی دائیں طرف دیکھیں‘ ( جب میں نے دیکھا )تو مکہ کے پہاڑوں کی طرح پہاڑ ہیں جو لوگوں کے چہروں سے ڈھکے ہوئےہیں۔فرمایا: اے محمد! راضی ہو؟ میں نے عرض کی: اے میرے رب ! راضی ہوں ۔ فرمایا: (اب ) بائیں طرف نظر کرو! پس میں نے ملاحظہ کیا تو زمین کا کنارہ لوگوں کے چہروں سے ڈھکا ہوا ہے ۔ فرمایا: اے محمد ! راضی ہو! میں نے عرض کی: اے میرے رب! راضی ہوں ۔ فرمایا: ان سب کے ساتھ ستر ہزار جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوں گے ۔ ( یہ بات سن کر ) حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ نے آ کر عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کر یں کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اس کو اُن میں سے بنا دے! پھر ایک اور آدمی کھڑا ہو ا‘ اُس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ سے دعا کر یں کہ وہ مجھے ان میں سے بنا دے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: تم پر میرے ماں باپ قربان ! اگر تم سے ہو سکے اُن ستر سے ہونا تو ان سے ہو جانا ‘پس اگر تم عاجز ہو اور تمہارے عمل کو تاہ ہوں تو پہاڑ والوں سے ہونا ۔ پس اگر تم عاجز ہو اور تمہارے عمل کوتاہ ہوں تو کنارے والوں سے ہونا کیونکہ میں نے کئی لوگوں کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا دیکھا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے اُمید ہے کہ میرے اُمتی تمام جنت والوں کا چوتھائی حصہ ہوں گے‘ تو قوم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا ۔ پھر فرمایا: بے شک مجھے اُمید ہے کہ وہ جنتیوں کا ایک حصہ ہوں گے تو قوم نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا یا ‘پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’اولین میں بڑا گروہ اور آخرین میں سے تھوڑے‘‘۔ پس لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے سے مذاکرہ کیا کہ وہ ستر ہزار کون ہیں؟ بعض لوگوں نے کہا: وہ گروہ جو اسلام میں پیدا ہوئےاور اسلام پر ہی ان کی موت آئی یہاں تک کہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں اُٹھائی گئی تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو غلط قسم کے تعویذ گنڈے نہیں کرتے ‘نہ بُری فال پڑتے ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کر نے والے ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← كُرْزِ بْنِ وَبَرَةَ ← أَبُو طيبة ← وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9782

chevron_left Previous
1…120121122123
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter