المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 1 · حديث 9516
9499 - حدثنا محمد بن النضر الأزدي ثنا معاوية بن عمرو ثنا زائدة عن منصور عن إبراهيم قال Y كان عبد الله يصلي معهم إذا أخروها قليلا ويرى أنهم يتحملون إثم ذلك
حضرت قاسم بن عبدالرحمٰن فرماتے ہیں: ولید بن عقبہ نے نماز مؤخر کر دی ‘پس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا کہ وہ نماز کی تثویب کرے پھر آپ آگے ہوئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔تو ولید نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ نے کیا کیا؟ کیا وقت کے حکمران نے کوئی نیا کام کیا ہے یا آپ نے بدعت نکالی ہے؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے اور نہ ہی اللہ نے اور نہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کوئی اس طرح کا حکم دیا ہے کہ ہم اپنی نماز کی ادائیگی کیلئے خواہ مخواہ آپ کے منتظر رہیں (جب ہم میں نماز پڑھانے کی قابلیت ہے ) حالانکہ آپ اپنے کام میں مشغول ہیں۔
إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9516
