المعجم الکبیر للطبرانی · باب الطاء ‹ من اسمه طفيل 756 - طفيل بن سخبرة الدوسي أخو عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم لأمها · حديث 8230
8214 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا أبو الوليد الطيالسي ثنا شعبة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش عن الطفيل بن سخبرة ( ح ) وحدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش عن الطفيل بن سخبرة أخي عائشة لأمها قال Y رأيت فيما يرى النائم كأني مررت برهط من اليهود فقلت : من أنتم ؟ فقالوا : نحن اليهود فقلت : إنكم لأنتم القوم لولا أنكم تقولون : عزير ابن الله قالوا : وأنتم القوم لولا أنكم تقولون : ما شاء الله وشاء محمد ثم مررت برهط من النصارى فقلت : إنكم لأنتم القوم لولا أنكم تقولون : المسيح ابن الله فقالوا : وأنتم القوم لولا أنكم تقولون : ما شاء الله وشاء محمد فلما أصبحت أخبرت بها ناسا ثم أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته بها فقال : هل أخبرت بها أحدا ؟ قلت : نعم فلما صلى الظهر قام خطيبا فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : إن طفيلا رأى رؤيا أخبر بها من أخبر منكم وإنكم كنتم تقولون كلمة كان يمنعني الحياء منكم أن أنهاكم عنه فلا تقولوا ما شاء الله وشاء محمد
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی سے ‘ ان کی ماں کیلئے روایت ہے جو بنودوس قبیلہ سے تھیں: میں نے خواب میں دیکھا‘ گویا میں یہودیوں کے گروہ کے پاس سے گزرا ہوں ‘ پس میں نے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہودی ہیں ۔ میں نے کہا: تم ہی وہ قوم ہو ‘ کیوں نہیں! تم تو کہتے ہو کہ حضرت عزیر علیہ السلام ‘ اللہ کے بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! تم ہی وہ قوم ہو جو کہتے ہو: جو اللہ نے چاہا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا؟ پھر میں عیسائیوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرا ‘ میں نے کہا: کیوں نہیں ! تم ہی وہ قوم ہو جو کہتے ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام ‘ اللہ کے بیٹے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: اور تم وہ قوم ہو ‘ کیوں نہیں! تم کہتے ہو جو چاہا اللہ نے اور چاہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ پس جب صبح ہوئی تو میں نے کچھ لوگوں کو بتایا‘ پھر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بتایا ‘ فرمایا: کیا تو نے کسی اور کو بھی بتایا ہے؟ میں نے عرض کی: جی – ہاں! پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھ لی تو کھڑے ہوئے اور خطبہ دینے لگے‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد وثناء کی ‘ پھر فرمایا: بے شک طفیل نے ایک خواب دیکھا ہے ‘ اس نے وہ خواب تم میں سے بعض کو بتایا بھی ہے اور تم لوگ ایک کلمہ کہا کرتے ہو جو تمہارے سامنے کہنا مجھے ممنوع ہے ‘ حیاء کے سبب میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ‘ پس جب تم کہوتو یوں کہو: اکیلا اللہ نے جو چاہا!
الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي ← الطفيل بن سَخْبرةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8230
