المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حمزة بن عبد المطلب بن عبد مناف عم رسول الله صلى الله عليه و سلم و أم حمزة هالة بنت أهيب بن عبد مناف بن زهرة شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ويكنى أبا عمارة ويقال أبو يعلى باب من اسمه حمزة · حديث 2927
2926 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا إبراهيم بن يعقوب الجوزجاني ثنا عبيد بن عقيل ثنا جرير بن حازم عن محمد بن إسحاق Y عن يعقوب بن عتبة بن المغيرة بن الأخنس بن شريق حليف بني زهرة أن أبا جهل اعترض لرسول الله صلى الله عليه و سلم بالصفا فآذاه وكان حمزة رضي الله عنه صاحب قنص وصيد وكان يومئذ في قنصه فلما رجع قالت له امرأته وكانت قد رأت ما صنع أبو جهل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا عمارة لو رأيت ما صنع تعني أبا جهل بابن أخيك ؟ فغضب حمزة ومضى كما هو قبل أن يدخل بيته وهو معلق قوسه في عنقه حتى دخل المسجد فوجد أبا جهل في مجلس من مجالس قريش فلم يكلمه حتى علا رأسه بقوسه فشجه فقام رجال من قريش إلى حمزة يمسكونه عنه فقال حمزة : ديني دين محمد أشهد أنه رسول الله فوالله لا أنثني عن ذلك فامنعوني من ذلك إن كنتم صادقين فلما أسلم حمزة عز به رسول الله صلى الله عليه و سلم والمسلمون وثبت لهم بعض أمرهم وهابته قريش وعلموا أن حمزة رضي الله عنه سيمنعه
حضرت یعقوب بن عتبہ بن مغیرہ بن اخنس بن شریق بنی زہرہ کے حلیف سے روایت ہے کہ ابو جہل صفا کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے ہوا، آپ کو تکلیف دی ، حضرت حمزہ طاقت ور شکار کرنے والے تھے، اس دن آپ شکار کر رہے تھے ، جب واپس آئے تو آپ کی بیوی نے کہا: اے ابو عمار ! آپ نے دیکھا کہ ابو جہل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اگر آپ دیکھتے تو ابو جہل کو کیاکہتے ؟ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غصہ آیا، واپس آئے اپنے گھرانےسے ملے ، تلوار اپنی گردن میں لٹکائی ہوئی تھی، مسجد میں داخل ہوئے ، ابوجہل کو قریش کی مجلس میں پایا ، بغیر گفتگو کیے اس کے سر پر کمان ماری، اس کو زخمی کیا۔ قریش میں سے کچھ لوگ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روکنے کے لیے اُٹھے ، حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میرا دین ، دین محمد ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ کی قسم!میں پیچھے نہیں ہٹوں گا، مجھے روکو اگرتم سچے ہو۔ جب حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے تو آپ کے اسلام لانے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کو اور عزت مل گئی ، ان کے لیے بعض کام مقرر کیے۔ قریش ڈرگئے اور جان لیا کہ حضرت حمزہ اس کو روکیں گے ۔
مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2927
