Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2815

2814 - حدثنا أحمد بن رشدين المصري ثنا عمرو بن خالد الحراني حدثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير Y عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت : دخل الحسين بن علي رضي الله عنه على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يوحى إليه فنزا على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو منكب ولعب على ظهره فقال جبريل لرسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبه يا محمد ؟ قال : يا جبريل وما لي لا أحب ابني قال : فإن أمتك ستقتله من بعدك فمد جبريل عليه السلام يده فأتاه بتربة بيضاء فقال في هذه الأرض يقتل ابنك هذا يا محمد واسمها الطف فلما ذهب جبريل عليه السلام من عند رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم والتربة في يده تبكي فقال : يا عائشة إن جبريل عليه السلام أخبرني أن الحسين ابني مقتول في أرض الطف وإن أمتي ستفتتن بعدي ثم خرج إلى أصحابه فيهم علي و أبو بكر و عمر و حذيفة و عمار و أبو ذر رضي الله عنهم وهو يبكي فقالوا : ما يبكيك يا رسول الله ؟ فقال : أخبرني جبريل أن ابني الحسين يقتل بعدي بأرض الطف وجاءني بهذه التربة وأخبرني أنا فيها مضجعه

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، اُس وقت آپ پر وحی اُتررہی تھی ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھے پر سوار ہوئے اور آپ کی پشت پر کھیلنے لگے، حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے جبرئیل ! یہ میرالخت جگر ہے ، میں اس سے محبت کیوں نہ کروں؟ آپ نے فرمایا: آپ کے بعد آپ کی اُمت اسے قتل کرے گی۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گھمایااور سفید مٹی لائے اور عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس جگہ آپ کے لخت جگر کو شہید کیا جائے گا ، اس کا نام الطف ہے ۔ جب حضرت جبرئیل ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے ، مٹی آپ کے ہاتھ میں تھی اور آپ رو رہے تھے ۔ فرمایا: اے عائشہ! حضرت جبرئیل علیہ السلام نے مجھے بتایا ہے کہ حسین کو طف کی زمین میں شہید کیا جائے گااور میری اُمت عنقریب میرے بعد اسے شہید کرے گی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف نکلے ، ان صحابہ میں حضرت علی، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت حذیفہ، حضرت عمار اور حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہما تھے ، آپ رورہے تھے ۔ ان حضرات نےعرض کی: یار سول اللہ ! آپ کیوں رورہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: مجھے حضرت جبرئیل نے بتایا کہ میرے لخت جگر حسین کو میرے بعد سر زمین الطف میں شہید کیا جائے گا، میرے پاس مٹی لائی گئی اور مجھے بتایا گیا کہ اس میں لٹایا جائے گا۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2815

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2816

2815 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا الحسين بن حريث ثنا الفضل بن موسى عن عبد الله بن سعيد عن أبيه Y عن عائشة أن الحسين بن علي دخل على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : : يا عائشة ألاأعجبك لقد دخل علي ملك آنفا ما دخل علي قط فقال : إن ابني هذا مقتول وقال : إن شئت أريتك تربة يقتل فيها فتناول الملك بيده فأراني تربة حمراء

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! کیا تم تعجب نہیں کرتی ہو کہ ابھی میرے پاس ایک فرشتہ آیا جو میرے پاس کبھی نہیں آیا ، اُس نے عرض کی : میرے اس لخت جگر کو شہید کیا جائے گا اور عرض کی کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس جگہ کی مٹی دکھادوں جس جگہ ان کو شہید کیا جائے گا، اس فرشتے نے اپنے ہاتھ سےمٹی لی، پھر آپ نے مجھے سرخ مٹی دکھائی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2816

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2817

2816 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا هدبة ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد Y عن علي بن الحسين قال قال لي الحسين بن علي قبل قتله بيوم : إن بني إسرائيل كان لهم ملك وذكر الحديث

حضرت علی بن حسین فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ایک دن شہادت سے پہلے فرمایا: بنی اسرائیل کے ہاں فرشتہ تھا ، اس کے بعد حدیث ذکر کی۔

لِيَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ: ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2817

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2818

2817 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني عباد بن زياد الأسدي ثنا عمرو بن ثابت عن الأعمش عن أبي وائل شقيق بن سلمة Y عن أم سلمة قالت : كان الحسن و الحسين رضي الله عنهما يلعبان بين يدي النبي صلى الله عليه و سلم في بيتي فنزل جبريل عليه السلام فقال : يا محمد إن أمتك تقتل ابنك هذا من بعدك فأومأ بيده إلى الحسين فبكى رسول الله صلى الله عليه و سلم وضمه إلى صدره ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وديعة عندك هذه التربة فشمها رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : ويح كرب وبلاء قالت : وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أم سلمة إذا تحولت هذه التربة دما فاعلمي أن ابني قد قتل قال : فجعلتها أم سلمة في قارورة ثم جعلت تنظر إليها كل يوم وتقول : إن يوما تحولين دما ليوم عظيم

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں میرے گھر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے کھیل رہے تھے ، حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی اُمت آپ کے بعد آپ کے لخت جگر کو شہید کرے گی۔ آپنے ہاتھ سے حضرت امام حسین کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روپڑے ، انہیں اپنے سینے سے لگایا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی مٹی آپ کے پاس ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مٹی کو سونگھا ، فرمایا: کر بلا کے لیے ہلاکت ! حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اُم سلمہ ! جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے تو جان لینا کہ میرے لخت جگر کو شہید کیا گیا ہے ۔ حضرت اُم سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے اسے بوتل میں رکھا، پھر میں اس کو روز دیکھتی اور کہتی: بے شک ایک دن یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے گی، وہ عظیم دن ہوگا۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ← الْاَعْمَشِ ← عمرو بن ثابت ← عباد بن زياد الأسدي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2818

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2819

2818 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا أبو خليفة الفضل بن الحباب ثنا أبو الوليد الطيالسي قالا ثنا عبد الحميد بن بهرام Y عن شهر بن حوشب قال : سمعت أم سلمة حين جاء نعي الحسين بن علي رضي الله عنه لعنت أهل العراق وقالت : قتلوه قتلهم الله عز و جل غروه وذلوه لعنهم الله

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا : جس دن آپ کے پاس حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی شہادت کی خبر آئی ، آپ نے فرمایا: عراق والوں پر اللہ کی لعنت ہوا ور فرمایا: انہوں نے آپ کو شہید کیا ، اللہ ان کو ہلاک کرے اور ان کو دھوکہ دیا اور ان کو ذلت کا شکار کیا، اللہ کی ان پر لعنت ہو۔

أُمَّ سَلَمَةَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← اَبُوْ خَلِیْفَۃَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2819

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2820

2819 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني ثنا سليمان بن بلال عن كثير بن زيد عن المطلب بن عبد الله بن حنطب Y عن أم سلمة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم جالسا ذات يوم في بيتي فقال : لا يدخل علي أحد فانتظرت فدخل الحسين رضي الله عنه فسمعت نشيج رسول الله صلى الله عليه و سلم يبكي فاطلعت فإذا حسين في حجره والنبي صلى الله عليه و سلم يمسح جبينه وهو يبكي فقلت : والله ما علمت حين دخل فقال : إن جبريل عليه السلام كان معنا في البيت فقال : تحبه ؟ قلت : أما من الدنيا فنعم قال : إن أمتك ستقتل هذا بأرض يقال لها كربلاء فتناول جبريل عليه السلام من تربتها فأراها النبي صلى الله عليه و سلم فلما أحيط بحبسين حين قتل قال : ما اسم هذه الأرض ؟ قالوا : كربلاء قال : صدق الله ورسوله أرض كرب وبلاء

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن میرے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے فرمایا: میرے پاس کسی کو نہ آنے دینا، میں انتظار میں تھی کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما داخل ہوئے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رونے کی آواز سنی، میں نے جھانکا تو میری نظر پڑی ، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گود میں تھے ، آپ ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیررہے تھے اور رورہے تھے ، میں نے عرض کی: اللہ کی قسم ! جس دن یہ داخل ہوئے مجھے علم نہیں تھا ۔ آپ نے فرمایا: حضرت جبرئیل گھر میں ہمارے پاس تھے، حضرت جبرئیل نے عرض کی: آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ میں نے کہا: دنیا میں سب سے زیادہ اس سے محبت کرتا ہوں، حضرت جبرئیل نے عرض کی:آپ کی اُمت عنقریب اس سرزمین پر شہید کرے گی جسے کر بلا کہا جاتا ہے ۔ حضرت جبرئیل نے مٹی پکڑی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھائی ، جب حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گھیرا گیا جب آپ کو شہید کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اس زمین کا کیا نام ہے ؟ اُنہوں نے کہا: کر بلا! آپ نے فرمایا: اللہ اور اُس کے رسول نے سچ کہاہے ، یہ کرب و بلا ء کی زمین ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2820

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2821

2820 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر ثنا عيسى بن يونس ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا يعلى بن عبيد قالا ثنا موسى بن صالح الجهني عن صالح بن اربد Y عن أم سلمة رضي الله عنها قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : اجلسي بالباب ولا يلجن علي أحد فقمت بالباب إذ جاء الحسين رضي الله عنه فذهبت أتناوله فسبقني الغلام فدخل على جده فقلت : يا نبي الله جعلني الله فداك أمرتني أن لا يلج عليك أحد وإن ابنك جاء فذهبت أتناوله فسبقني فلما طال ذلك تطلعت من الباب فوجدتك تقلب بكفيك شيئا ودموعك تسيل والصبي على بطنك قال : نعم أتاني جبريل فأخبرني أن أمتي يقتلونه وأتاني بالتربة التي يقتل عليها فهي التي أقلب بكفي

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے دروازے پر بیٹھ جا اور میرے پاس کسی کو نہ آنے دینا۔ میں دروازے پر کھڑی ہوئی ، اچانک امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ، میں آپ کو پکڑنے کے لیے گئی تو آپ مجھ سے آگے نکل گئے ، آپ اپنے نانا کے پاس آئے ۔ میں نے عرض کی: یار سول اللہ ! مجھے اللہ آپ پر فدا کرے! مجھے آپ نے حکم دیا تھا کہ کوئی داخل نہ ہو، یہ آپ کا لخت جگر آیا ہے ، میں اس کو پکڑنے لگی تو یہ مجھ سے آگے نکل گیا ۔ جب تھوڑی دیر گزری تو میں نے دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ میں کسی شے کو پلٹ رہے ہیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور امام حسین آپ کے پیٹ پر ہیں ۔ آپ نے فرمایا: جی ہاں! میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور مجھے بتایاکہ میری اُمت اسے قتل کرے گی اور میرے پاس اس جگہ کی مٹی بھی لائے جس جگہ شہید کیا جائے گا، میں اس مٹی کو اپنے ہاتھوں پر پلٹ رہاہوں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← صالح بن اربد ← موسى بن صالح الجهني ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2821

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2822

2821 - حدثنا بكر بن سهل الدمياطي ثنا جعفر بن مسافر التنيسي ثنا ابن أبي فديك ثنا موسى بن يعقوب الزمعي عن هاشم بن هاشم بن عتبة بن أبي وقاص عن عتبة بن عبد الله بن زمعة Y عن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم اضطجع ذات يوم فاستيقظ وهو خاثر النفس وفي يده تربة حمراء يقلبها فقلت : ما هذه التربة يا رسول الله ؟ فقال : أخبرني جبريل عليه السلام أن هذا يقتل بأرض العراق - للحسين - فقلت لجبريل عليه السلام أرني تربة الأرض التي يقتل بها فهذه تربتها

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن لیٹے ہوئے تھے ، آپ اُٹھے تو پریشان تھے ، آپ کے دست مبارک میں سرخ مٹی تھی جسے آپ پلٹ رہے تھے ۔ میں نے عرض کی:یار سول اللہ !یہ مٹی کیاہے ؟ آپ نے فرمایا: مجھے حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ اس عراق کی سرزمین پر حسین کو شہید کیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے جبرئیل! مجھے اس جگہ کی مٹی دکھاؤ جس جگہ انہیں شہید کیا جائے گا، تو یہ وہ مٹی ہے ۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← عتبة بن عبد الله بن زمعة ← هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2822

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2823

2822 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي ثنا حجاج بن المنهل ( ح ) Y و حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حرب قالا ثنا حماد بن سلمة عن عمار بن أبي عمار عن ابن عباس قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فيما يرى النائم بنصف النهار أشعث أغبر بيده قارورة فيها دم فقلت : بأبي أنت و أمي يا رسول الله ما هذا ؟ فقال : دم الحسين وأصحابه لم أزل ألتقطه منذ اليوم فأحصي ذلك اليوم فوجد قد قتل يومئذ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، آپ کے سر مبارک کے بال مبارک بکھرے ہوئے ہیں اور آپ کے دست مبارک میں بوتل ہے جس میں خون ہے ۔ میں نے عرض کی : میرےماں باُ آپ پر قربان ہوں! یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا: حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے ۔ میں مسلسل آج کے دن اس کو اُٹھاتا رہا ہوں ، میں نے آج کا دن شمار کیا ہے کہ آج کے دن آپ کو شہید کیا گیا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← و، ← حجاج بن المنهل ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2823

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2824

2823 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا سعد بن وهب الواسطي ثنا جعفر بن سليمان عن شبيل بن غزرة Y عن أبي حبرة قال : صبحت عليا رضي الله عنه حتى أتى الكوفة فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال : كيف أنتم إذا نزل بذرية نبيكم بين ظهرانيكم ؟ قالوا : إذا نبلى الله فيهم بلاء حسنا فقال : والذي نفسي بيده لينزلن بين ظهرانيكم ولتخرجن إليهم فلتقتلنهم ثم أقبل يقول : ( هم أوردوهم بالغرور وعردوا ... أحبو نجاة لا نجاة ولا عذر )

حضرت ابو حبر ہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کوفہ میں آیا، حضرت علی منبر پر تشریف فرماہوئے ، اللہ کی حمد و ثناءکی، پھرفرمایا: تم پروہ کیا وقت ہو گا جب تمہارے درمیان تمہارے نبی کی اولاد ہو گی؟ اُنہوں نے کہا: ہمیں اللہ اس آزمائش میں مبتلا کرے گا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تمہارے درمیان ضروراُتریں گے ، تم ان کی طرف ضرور نکلو گے ، تم ضرور بضرور ان کو قتل کروگے ۔ پھر فرمایا: ان کو دھوکہ سے لایا جائے گااور تم ان کے مقابلے سے پیچھے ہٹوگے ، نجات کو پسند کرو گے ، نہ نجات ہوگی، نہ کوئی عذر قبول ہو گا۔

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَيَنْزِلَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ وَلَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلْتَقْتُلُنَّهُمْ، ثُمَّ أَقْبَلُ ← إِذًا نُبْلِي اللَّهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا، ← كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ؟ ← صبحت عليا حتى أتى الكوفة فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم ← أَبِي حِبَرَةَ ← شبيل بن غزرة ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سعد بن وهب الواسطي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2824

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2825

2824 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا عبد الله بن الحكم بن أبي زياد و أحمد بن يحيى الصوفي قالا ثنا عبيد الله بن موسى عن إسرائيل عن أبي إسحاق عن هاني بن هاني Y عن علي رضي الله عنه قال : ليقتلن الحسين قتلا وإني لأعرف التربة التي يقتل فيها قريبا من النهرين

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : حضرت امام حسین کو ضرور شہید کیا جائے گا اور بے شک میں اُس زمین سے بھی واقف ہوں، دو دریاؤں کے قریب جس میں یہ شہید ہوں گے ۔

ليقتلن الحسين قتلا وإني لأعرف التربة التي يقتل فيها قريبا من النهرين ← عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عبد الله بن الحكم بن أبي زياد و أحمد بن يحيى الصوفي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2825

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2826

2825 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي حدثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا أبو الأعمش عن سلام أبي شرحبيل Y عن أبي هرثمة قال : كنت مع علي رضي الله عنه بنهري كربلاء فمر بشجرة تحتها بعر غزلان فأخذ منه قبضة فشمها ثم قال يحشر من هذا الظهر سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب

حضرت ابی ھر ثمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ کر بلا کے دو دریاؤں کے پاس تھا ، پس آپ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنیاں تھیں، آپ نے اُس سے ایک مٹھی بھری اور سونگھا ، پھر کہا: اس زمین سے ستر ہزار ایسے لوگ اُٹھیں گےجو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے ۔

أَبِي هَرْثَمَةَ ← سلام أبي شرحبيل ← أبو الأعمش ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2826

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter