Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2671

2670 - حدثنا محمد بن علي الصائغ المكي ثنا محمد بن بشر التنيسي ثنا الأوزاعي ثنا أبو عمار شداد قال Y قال واثلة بن الأسقع الليثي : كنت أريد عليا فلم أجد فقالت فاطمة : انطلق إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يدعوه حتى يأتي قال : فجاء رسول الله صلى الله عليه و سلم وجاء فدخلت معهما فدعا رسول الله صلى الله عليه و سلم حسنا و حسينا فأجلس كل واحد منهما على فخذه وأدنى فاطمة من حجره ثم لف عليهم ثوبه وأنا مستند ثم قال : { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا } ثم قال : هؤلاء أهلي قال واثلة : قلت يا رسول الله وأنا من أهلك ؟ قال : وأنت من أهلي قال واثلة : إنه لأرجى ما أرجوه

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملنا چاہتاتھا لیکن میری ملاقات نہ ہوسکی ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا رہی ہوں ۔ آپ کو بلاتی ہوں ،ہو آئیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور علی بھی آئے تو میں دونوں کے ساتھ داخل ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بلاؤ! ان میں سے ہر ایک کو اپنی ران پر بٹھایا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو اپنی گود کے قریب کیا اور ان سب پر کپڑا لپیٹا، میں ٹیک لگائے ہوئے تھا ، پھر فرمایا: اللہ تم گھر والوں سے پلیدی دور کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور تمہیں خوب پاک کرنا چاہتا ہے ۔ پھر فرمایا: یہ میرے گھر والے ہیں ۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یار سول اللہ ! میں آپ کے گھر والوں میں سے ہوں ؟ آپ نےفرمایا: تُو بھی میرے گھر والوں میں سے ہے ۔ حضرت واثلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : جس کی میں نے اُمید کی وہ اُمید ملی ۔

أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن بشر التنيسي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2671

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2672

2671 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلمة الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد بن جدعان Y عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يمر ببيت فاطمة رضي الله عنها ستة أشهر إذا خرج من صلاة الفجر يقول : يا أهل البيت الصلاة { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا }

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے گھر کے پاس سے چھ ماہ تک گزرتے رہے ۔ جب بھی آپ نماز فجر کے لیے نکلتے توآپ فرماتے : اے گھر والو! نماز کا وقت ہو گیا ہے ! انما یر ید اللہ الیٰ آخرہ"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلمة الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2672

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2673

2672 - حدثنا محمد بن الحسين الأنماطي ثنا سعيد بن سليمان قال سمعت منصور بن أبي الأسود يقول سمعت أبا داود يقول Y سمعت أبا الحمراء يقول : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يأتي باب فاطمة ستة أشهر فيقول : { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا }

حضرت ابو حمراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دروازے پر آتے رہے ، یہ کہتے تھے : " انما یر ید اللہ الیٰ آخرہ"۔

أَبَا الْحَمْرَاءِ ← أَبَا دَاوُد ← مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2673

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2674

2673 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا إبراهيم بن محمد بن ميمون ثنا علي بن عابس عن أبي الجحاف عن عطية عن أبي سعيد وعن الأعمش عن عطية Y عن أبي سعيد قال نزلت هذه الآية { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا } في رسول الله صلى الله عليه و سلم و علي و فاطمة و الحسن و الحسين رضي الله عنهم

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت " انما یر ید اللہ الیٰ آخرہ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت علی ، فاطمہ ، حسن و حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے متعلق نازل ہوئی ۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← أَبِي الْجَحَّافِ ← علي بن عابس ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2674

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2675

2674 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني ثنا قيس بن الربيع عن الأعمش عن عباية بن ربعي Y عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى قسم الخلق قسمين : فجعلني في خيرهما قسما فذلك قوله : { وأصحاب اليمين } { وأصحاب الشمال } فأنا من أصحاب اليمين وأنا من خير أصحاب اليمين ثم جعل القسمين بيوتا فجعلني في خيرهما بيتا فذلك قوله { فأصحاب الميمنة ما أصحاب الميمنة } { وأصحاب المشأمة ما أصحاب المشأمة } { والسابقون السابقون } فأنا من خير السابقين ثم جعل البيوت قبائل فجعلني في خيرها قبيلة فذلك قوله { شعوبا وقبائل } فأنا أتقى ولد آدم وأكرمهم على الله عز و جل ولا فخر ثم جعل القبائل بيوتا فجعلني في خيرها بيتا فذلك قوله { إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا }

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے دو قسم کی مخلوق بنائی ، مجھے ان قسم میں سے بہتر میں بنایا ہے ، اللہ عزوجل کا ارشاد :"دائیں طرف والے " " بائیں طرف والے : میں دائیں طرف والوں میں سے ہوں اور دائیں طرف والوں میں سے بہتر ہوں، پھر دو قسموں کے گھر بنائے مجھے ان دونوں گھرروں میں سے بہتر میں بنایا ہے ۔ اللہ عزوجل کا اشاد ہے : " تو دائیں طرف والے ، کیسے دائیں طرف والے اور بائیں طرف والے ، کیسے بائیں طرف والے ، جو سبقت لے گئے وہ سبقت لے گئے " میں سبقت کرنے والوں میں سے بہتر ہوں ، پھر گھروں کے قبیلے بنائے ، تو مجھےاس میں بہتر قبیلہ میں بنایا اور "تمہیں شاخیں اور قبیلے بنایا: میں اولاد آدم میں سے زیادہ متقی ہوں، اللہ کے ہاں زیادہ عزت والا ہوں، کوئی فخر نہیں ! پھر قبائل کے گھر بنائے تو مجھے اس میں بہتر گھر میں بنایا ، یہ مطلب ہے ارشاد باری تعالیٰ کا: " اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھرو الو! تم سے ہر نا پاکی دو فرمادے اور تمہیں پاک کر کے خوب سھترا کرے"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ← الْاَعْمَشِ ← قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2675

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2676

2675 - حدثنا محمد بن رزيق بن جامع المصري ثنا الهيثم بن حبيب ثنا سفيان بن عيينة عن علي بن علي المكي الهلالي Y عن أبيه قال : دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم في شكاته التي قبض فيها فإذا فاطمة رضي الله عنها عند رأسه قال : فبكت حتى ارتفع صوتها فرفع رسول الله صلى الله عليه و سلم طرفه إليها فقال : حبيبتي فاطمة ما الذي يبكيك ؟ فقالت : أخشى الضيعة من بعدك فقال : يا حبيبتي أما علمت أن الله عز و جل اطلع إلى الأرض اطلاعه فاختار منها أباك فبعث برسالته ثم اطلع اطلاعة فاختار منها بعلك وأوحى إلي أن أنكحك إياه يا فاطمة ونحن أهل بيت قد أعطانا الله سبع خصال لم يعط أحد قبلنا ولا يعطى أحد بعدنا أنا خاتم النبيين وأكرم النبيين على الله وأحب المخلوقين إلى الله عز و جل وأنا أبوك ووصيي خير الأوصياء وأحبهم إلى الله وهو بعلك وشهيدنا خير الشهداء وأحبهم إلى الله وهو عمك حمزة بن عبد المطلب وهو عم أبيك وعم بعلك ومنا من له جناحان أخضران يطير في الجنة مع الملائكة حيث يشاء وهو ابن عم أبيك وأخو بعلك ومنا سبطا هذه الأمة وهما إبناك الحسن و الحسين وهما سيدا شباب أهل الجنة وأبوهما والذي بعثني بالحق خير منهما يا فاطمة والذي بعثني بالحق إن منهما مهدي من هذه الأمة إذا صارت الدنيا هرجا ومرجا وتظاهرت الفتن وتقطعت السبل وأغار بعضهم على بعض فلا كبير يرحم صغيرا ولا صغير يوقر كبيرا فيبعث الله عز و جل عند ذلك منهما من يفتتح حصون الضلالة وقلوبا غلفا يقوم بالدين في آخر الزمان كما قمت به في أول الزمان ويملأ الدنيا عدلا كما ملئت جورا يا فاطمة لا تحزني ولا تبكي فإن الله عز و جل أرحم بك وأرأف عليك مني وذلك لمكانك مني وموضعك من قلبي وزوجك الله زوجك وهو أشرف أهل بيتك حسبا وأكرمهم منصبا وأرحمهم بالرعية وأعدلهم بالسوية وأبصرهم بالقضية وقد سألت ربي عز و جل أن تكوني أول من يلحقني من أهل بيتي قال علي رضي الله عنه : فلما قبض النبي صلى الله عليه و سلم لم تبق فاطمة رضي الله عنها بعده إلا خمسة وسبعين يوما حتى ألحقها الله به صلى الله عليه و سلم

حضرت علی بن علی مکی الہلالی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس بیماری میں آیا جس میں آپ نے وصال فرمایا، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرکے پاس تھیں ، آپ نے دعا پڑھی ، جس وقت آپ کی آواز اونچی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی طرف نگاہ اُٹھائی ، فرمایا: میری لخت جگر فاطمہ کیوں رو رہی ہیں ؟ حضرت سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی : آپ کے بعد ضائع ہونے خوف ہے ۔ آپ نے فرمایا: اے میری پیاری !کیاتمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ عزوجل نے زمین پر دیکھا ، ان میں سے تیرے باپ کو چنا، رسالت دے کر بھیجا، پھر دو سری دفعہ دیکھا تو ا ن میں سے تیرے شو ہر کو چنا اور میری طرف وحی کی اس کا تجھ سے نکاح کرنے کی ، اے فاطمہ ! ہم گھر والوں کو اللہ عزوجل نے سات خصوصیات دی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی ہیں ، نہ ہمارے بعد کسی کو دے گا، میں خاتم النبیین ہوں اور کے ہاں تمام انبیاء سے زیادہ عز والاہوں اور تمام مخلوق سے زیاد ہ محبوب ہوں، میں آپ کا والد ہوں ، میرا وصی تمام وصوں سے بہتر ہے اور اللہ کے ہاں محبوب ہیں ، وہ تیر ا شوہر ہے اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے اور کا محبوب ہے ، وہ آپ کا چچا حمزہ بن عبدالمطلب ہے (اس لحاظ سے کہ حضر امیر حمزہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رضاعی بھائی بھی تھے ) اور آپ کے والد کا چچا ہے اور تیرے شوہر کا چچا ہے اور ہم میں سے ہے جس کے دو سبز پر ہیں ، ان کو ذریعے فرشتوں کے ساتھ اُڑتا ہے جہاں چاہتا ہے اور آپ کے والد کا چچا زاد اور آپ کے شو ہر کا بھائی ہے اور ہم میں سے اس امت کے دو سبط ہیں ، وہ دونوں تیرے لخت جگر حسن و حسین ہیں ، دونوں جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ، ان دونوں کے والد وہ ہیں وہ ذات جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ! جو دونوں سے بہتر ہیں ، اے فاطمہ ! وہ ذات جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے ! اس اُمت میں ان دونوں سے مہدی ہوگا ، جب دنیا میں قتل و غارت ہو گی ، فتنے ہوں گے ، سبھی راستے ختم ہوں گے ، ایک دوسرے پر غارت کریں گے ، بڑا چھوٹے پر اور چھوٹا بڑے پر رحم نہیں کرے گا ۔ اللہ عزوجل اس وقت ان دونوں میں سے اس کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعے فتح کرے گا اور دلوں کی غفلت ختم کرے گا ، آخری زمانہ میں دین کو ایسے قائم کرے گا جس طرح میں اول زمانہ میں قائم کیا تھا ، دنیا کو انصاف سے بھرے گا جس طرح ظلم سے بھری ہوئی ہوگی، اے فاطمہ ! پریشان نہ ہو اور رو نہیں ! اللہ عزوجل آپ پر مجھ سے زیادہ رحم کرے گا اور نرمی کرے گا، اور یہ سب اس مقام و مرتبہ کی وجہ سے ہے ، جو آپ کو مجھ سے حاصل ہے اور جو تیری جگہ میرے دل میں ہے ، اللہ عزوجل نے جس بندے سے آپ کی شادی کے اسباب مہیا فرمائے ہیں ، وہ آپ کے گھروالوں میں سے حسب کے لحاظ سے بندگی والا ہے اور منصب کے لحاظ سے بڑا عزت والا ہے ، عوام پر رحم کرنے والا ہے ، برابری کرنے میں عدل کرنے والا ہے ، فیصلہ کرنے میں بڑی بصیرت رکھنے والا ، میں نے اپنے رب سے یہ چیز مانگی ہے کہ میرے گھروالوں میں سے تُو مجھ سے پہلے ملے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پچھہتر دن زندہ رہیں ، اس کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملا دیا ۔

أَبِيهِ ← علي بن علي المكي الهلالي ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْهَيْثَمِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2676

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2677

2676 - حدثنا محمد بن أحمد بن البراء ثنا عبد المنعم بن إدريس بن سنان عن أبيه عن وهب بن منبه Y عن جابر بن عبد الله و عبد الله بن عباس في قول الله عز و جل { إذا جاء نصر الله والفتح } { ورأيت الناس يدخلون في دين الله أفواجا } { فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا } قال : لما نزلت قال محمد صلى الله عليه و سلم : يا جبريل نفسي قد نعيت قال جبريل عليه السلام : الآخرة خير لك من الأولى ولسوف يعطيك ربك فترضى فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بلالا أن ينادي بالصلاة جامعة فاجتمع المهاجرون والأنصار إلى مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم صعد المنبر فحمد الله عز و جل وأثنى عليه ثم خطب خطبة وجلت منها القلوب وبكت العيون ثم قال : أيها الناس أي نبي كنت لكم ؟ فقالوا : جزاك الله من نبي خيرا فلقد كنت بنا كالأب الرحيم وكالأخ الناصح المشفق أديت رسالات الله عز و جل وأبلغتنا وحيه ودعوت إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة فجزاك الله عنا أفضل ما جازى نبيا عن أمته فقال لهم : معاشر المسلمين أنا أنشدكم بالله وبحقي عليكم من كانت له قبلي مظلمة فليقم فليقتص مني فلم يقم إليه أحد فناشدهم الثانية فلم يقم إليه أحد فناشدهم الثالثة معاشر المسلمين أنشدكم بالله وبحقي عليكم من كانت له قبلي مظلمة فليقم فليقتص مني قبل القصاص في القيامة فقام من بين المسلمين شيخ كبير يقال له عكاشة فتخطى المسلمين حتى وقف بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : فداك أبي و أمي لولا أنك ناشدتنا مرة بعد أخرى ما كنت بالذي يقدم على شيء من هذا كنت معك في غزاة فلما فتح الله عز و جل علينا ونصر نبيه صلى الله عليه و سلم وكنا في الانصراف حاذت ناقتي ناقتك فنزلت عن الناقة ودنوت منك لأقبل فخذك فرفعت القضيب فضربت خاصرتي ولا أدري أكان عمدا منك أم أردت ضرب الناقة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعيذك بجلال الله أن يتعمدك رسول الله صلى الله عليه و سلم بالضرب يا بلال انطلق إلى منزل فاطمة وائتني بالقضيب الممشوق فخرج بلال من المسجد ويده على أم رأسه وهو ينادي : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم يعطي القصاص من نفسه فقرع الباب على فاطمة فقال : يا بنت رسول الله ناوليني القضيب الممشوق فقالت فاطمة : يا بلال وما يصنع أبي بالقضيب وليس هذا يوم حج ولا يوم غزاة ؟ فقال : يا فاطمة ما أغفلك عما فيه أبوك إن رسول الله صلى الله عليه و سلم يودع الدين ويفارق الدنيا ويعطي القصاص من نفسه فقالت فاطمة رضي الله عنها : يا بلال ومن ذا الذي تطيب نفسه أن يقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ يا بلال إذن فقل للحسن و الحسين يقومان إلى هذا الرجل فيقتص منهما ولا يدعانه يقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فدخل بلال ودفع القضيب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ودفع رسول الله صلى الله عليه و سلم القضيب إلى عكاشة فلما نظر أبوبكر و عمر رضي الله عنهما إلى ذلك قاما فقالا : يا عكاشة هذان نحن بين يديك فاقتص منا ولا تقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهما النبي صلى الله عليه و سلم امض يا أبا بكر وأنت يا عمر فقد عرف الله مكانكما ومقامكما فقام علي بن أبي طالب فقال : يا عكاشة أنا في الحياة بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تطيب نفسي أن يضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم فهذا ظهري وبطني اقتص مني بيدك واجلدني مئة ولا تقتص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا علي اقعد فقد عرف الله عز و جل مقامك ونيتك وقام الحسن و الحسين رضي الله عنهما فقالا : يا عكاشة أليس تعلم أنا سبطا رسول الله ؟ فالقصاص منا كالقصاص من رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال لهما صلى الله عليه و سلم اقعدا يا قرة عيني لا نسي الله لكما هذا المقام ثم قال النبي صلى الله عليه و سلم : يا عكاشة اضرب إن كنت ضاربا فقال : يا رسول الله ضربتني وأنا حاسر عن بطني فكشف عن بطنه صلى الله عليه و سلم وصاح المسلمون بالبكاء وقالوا : أترى عكاشة ضارب رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ فلما نظر عكاشة إلى بياض بطن رسول الله صلى الله عليه و سلم كأنه القباطي لم يملك أن كب عليه وقبل بطنه وهو يقول : فداء لك أبي وأمي ومن تطيق نفسه أن تقتص منك ؟ فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : إما أن تقتص وإما أن تعفو فقال : قد عفوت عنك رجاء أن يعفو الله عني في القيامة فقال النبي صلى الله عليه و سلم : من أراد أن ينظر إلى رفيقي إلى الجنة فلينظر إلى هذا الشيخ فقام المسلمون فجعلوا يقبلون ما بين عيني عكاشة ويقولون طوباك طوباك نلت الدرجات العلى ومرافقة رسول الله صلى الله عليه و سلم فمرض رسول الله صلى الله عليه و سلم من يومه فكان مريضا ثمانية عشر يوما يعوده الناس وكان صلى الله عليه و سلم ولد يوم الاثنين وبعث يوم الاثنين وقبض يوم الاثنين فلما كان في يوم الأحد ثقل في مرضه فأذن بلال بالأذان ثم وقف بالباب فنادى : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله الصلاة رحمك الله فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت بلال فقالت فاطمة رضي الله عنها : يا بلال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم اليوم مشغول بنفسه فدخل بلال المسجد فلما أسفر الصبح قال : والله لا أقيمها أو استأذن سيدي رسول الله صلى الله عليه و سلم فرجع فقام بالباب ونادى : السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته الصلاة يرحمك الله فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت بلال فقال : ادخل يا بلال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مشغول بنفسه مر أبا بكر يصل بالناس فخرج ويده على أم رأسه وهو يقول : واغوثا بالله وانقطاع رجائه وانقطاع رجائه وانقصام ظهري ليتني لم تلدني أمي وإذ ولدتني لم أشهد من رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا اليوم ثم قال : يا أبا بكر ألا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرك أن تصلي بالناس فتقدم أبو بكر رضي الله عنه للناس وكان رجلا رقيقا فلما نظر إلى خلوة المكان من رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يتمالك أن خر مغشيا عليه وصاح المسلمون بالبكاء فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم ضجيج الناس فقال : ما هذه الضجة ؟ قالوا : ضجة المسلمين لفقدك يا رسول الله فدعا النبي صلى الله عليه و سلم علي بن أبي طالب و ابن عباس رضي الله عنهما فأتكأ عليهما فخرج إلى المسجد فصلى بالناس ركعتين خفيفتين ثم أقبل بوجهه المليح عليهم فقال : يا معشر المسلمين أستودعكم الله أنتم في رجاء الله وأمانه والله خلفتي عليكم معاشر المسلمين عليكم باتقاء الله وحفظ طاعته من بعدي فإني مفارق الدنيا هذا أول يوم من الآخرة وآخر يوم من أيام الدنيا فلما كان يوم الاثنين اشتد به الأمر وأوحى الله عز و جل إلى ملك الموت صلى الله عليه و سلم أن اهبط إلى حبيبي وصفيي محمد صلى الله عليه و سلم في أحسن صورة وارفق به في قبض روحه فهبط ملك الموت صلى الله عليه و سلم فوقف بالباب شبه أعرابي ثم قال : السلام عليكم يا أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة ومختلف الملائكة أدخل ؟ فقالت عائشة رضي الله عنها لفاطمة : أجيبي الرجل فقالت فاطمة : آجرك الله في ممشاك يا عبد الله إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مشغول بنفسه فدعا الثانية فقالت عائشة : يا فاطمة أجيبي الرجل فقالت فاطمة : آجرك الله في ممشاك يا عبد الله إن رسول الله مشغول بنفسه ثم دعا الثالثة السلام عليكم يا أهل بيت النبوة ومعدن الرسالة ومختلف الملائكة أأدخل ؟ فلا بد من الدخول فسمع رسول الله صلى الله عليه و سلم صوت ملك الموت صلى الله عليه و سلم فقال : يا فاطمة من بالباب ؟ فقالت : يا رسول الله إن رجلا بالباب يستأذن في الدخول فأجبناه مرة بعد أخرى فنادى في الثالثة صوتا اقشعر منه جلدي وارتعدت فرائصي فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم : يا فاطمة أتدرين من بالباب ؟ هذا هادم اللذات مفرق الجماعات هذا مرمل الأزواج وموتم الأولاد هذا مخرب الدور وعامر القبور هذا ملك الموت صلى الله عليه و سلم ادخل رحمك الله يا ملك الموت فدخل ملك الموت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ملك الموت جئتني زائرا أم قابضا ؟ قال : جئتك زائرا وقابضا وأمرني الله عز و جل أن لا أدخل عليك إلا بإذنك ولا أقبض روحك إلا بإذنك فإن أذنت وإلا رجعت إلى ربي عز و جل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ملك الموت أين خلفت حبيبي جبريل ؟ قال : خلفته في السماء الدنيا والملائكة يعزونه فيك فما كان بأسرع أن أتاه جبريل عليه السلام فقعد عند رأسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا جبريل هذا الرحيل من الدنيا فبشرني ما لي عند الله ؟ قال : أبشرك يا حبيب الله أني قد تركت أبواب السماء قد فتحت والملائكة قد قاموا صفوفا صفوفا بالتحية والريحان يحيون روحك يا محمد فقال : لوجه ربي الحمد وبشرني يا جبريل قال : أبشرك أن أبواب الجنان قد فتحت وأنهارها قد اطردت وأشجارها قد تدلت وحورها قد تزينت لقدوم روحك يا محمد قال : لوجه ربي الحمد فبشرني يا جبريل قال : أنت أول شافع وأول مشفع في القيامة قال : لوجه ربي الحمد قال جبريل : يا حبيبي عم تسألني ؟ قال : أسألك عن غمي وهمي من لقراء القرآن من بعدي ؟ من لصوم شهر رمضان من بعدي ؟ من لحاج بيت الله الحرام من بعدي ؟ من لأمتي المصفاة من بعدي ؟ قال : ابشر يا حبيب الله فإن الله عز و جل يقول : قد حرمت الجنة على جميع الأنبياء والأمم حتى تداخلها أنت وأمتك يا محمد قال : الآن طابت نفسي إذن يا ملك الموت فانته إلى ما أمرت فقال علي رضي الله عنه : يا رسول الله إذا أنت قبضت فمن يغسلك ؟ وفيم نكفنك ؟ ومن يصلي عليك ؟ ومن يدخل القبر ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا علي أما الغسل فاغسلني أنت و الفضل بن عباس يصب عليك الماء وجبريل عليه السلام ثالثكما فإذا أنتم فرغتم من غسلي فكفنوني في ثلاثة أثواب جدد وجبريل عليه السلام يأتيني بحنوط من الجنة فإذا أنتم وضعتموني على السرير فضعوني في المسجد واخرجوا عني فإن أول من يصلي علي الرب عز و جل من فوق عرشه ثم جبريل عليه السلام ثم ميكائيل ثم إسرافيل عليهما السلام ثم الملائكة زمرا زمرا ثم ادخلوا فقوموا صفوفا لا يتقدم علي أحد فقالت فاطمة رضي الله تعالى عنها : اليوم الفراق فمتى ألقاك ؟ فقال لها : يا بنية تلقيني يوم القيامة عند الحوض وأنا أسقي من يرد علي الحوض من أمتي قالت : فإن لم ألقك يا رسول الله ؟ قال : تلقيني عند الميزان وأنا أشفع لأمتي قالت : فإن لم ألقك يا رسول الله ؟ قال : تلقيني عند الصراط وأنا أنادي ربي سلم أمتي من النار فدنا ملك الموت صلى الله عليه و سلم يعالج قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما بلغ الروح الركبتين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوه فلما بلغ الروح السرة نادى النبي صلى الله عليه و سلم : واكرباه فقالت فاطمة عليها السلام : كربي يا أبتاه فلما بلغ الروح إلى الثندؤة نادى النبي صلى الله عليه و سلم : يا جبريل ما أشد مرارة الموت فولى جبريل عليه السلام وجهه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا جبريل كرهت النظر إلي ؟ فقال جبريل صلى الله عليه و سلم : يا حبيبي ومن تطبيق نفسه أن ينظر إليك وأنت تعالج سكرات الموت فقبض رسول الله صلى الله عليه و سلم فغسله علي بن أبي طالب و ابن عباس يصب عليه الماء وجبريل عليه السلام معهما وكفن بثلاثة أثواب جدد وحمل على سرير ثم أدخلوه المسجد ووضعوه في المسجد وخرج الناس عنه فأول من صلى عليه الرب تعالى من فوق عرشه ثم جبريل ثم ميكائيل ثم إسرافيل ثم الملائكة زمرا زمرا قال علي رضي الله عنه : لقد سمعنا في المسجد همهمة ولم نر لهم شخصا فسمعنا هاتفا يهتف ويقول : ادخلوا رحمكم الله فصلوا على نبيكم صلى الله عليه و سلم فدخلنا وقمنا صفوفا صفوفا كما أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبرنا بتكبير جبريل عليه السلام وصلينا على رسول الله صلى الله عليه و سلم بصلاة جبريل عليه السلام ما تقدم منا أحد على رسول الله صلى الله عليه و سلم ودخل القبر أبو بكر الصديق و علي بن أبي طالب و ابن عباس رضي الله عنهم ودفن رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما انصرف الناس قالت فاطمة لعلي رضي الله عنه : يا أبا الحسن دفنتم رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قالت فاطمة رضي الله عنها : كيف طابت أنفسكم أن تحثوا التراب على رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أما كان في صدوركم لرسول الله صلى الله عليه و سلم الرحمة ؟ أما كان معلم الخير ؟ قال : بلى يا فاطمة ولكن أمر الله الذي لا مرد له فجعلت تبكي وتندب وهي تقول : يا أبتاه الآن انقطع جبريل عليه السلام وكان جبريل يأتينا بالوحي من السماء

حضرت جابر بن عبد اللہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں روایت ہے : "جب اللہ تعالیٰ کی مدد آگئی اور آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور اس سے استغفار کریں ، کیونکہ وہ توبہ قبول کرنے والا ہے "۔ فرمایا: جب یہ سورت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آنے والی گھڑی آپ کے لیے پہلی گھڑی سے بہتر ہے اور آپ کا رب آپ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے ۔ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نداء کردیں کہ نماز تیار ہے ۔ پس مہاجرین اور انصار مسجد نبوی شریف میں جمع ہوگئے ، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی ، پھر ایک مختصر سا خطبہ دیا جس سے لوگوں کے دل ڈرنے لگے اور آ نکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ، پھر آپنے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے لیے کون سا نبی ہوں؟ تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے آپ کو اچھی جزا ء دے ! پس آپ ہمارے لیے مہربان باپ کی طرح اور شفقت کرنے والے مخلص بھائی کی طرح ہیں ، آپ نے اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچا نے کا مخلص حقد ادا کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی وحی کو ہم تک پہنچایا، آپ نے اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دی ، اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو اس سے افضل جزاء عطاء فرمائے ! جو اُس نے کسی نبی کو اس کی امت کی طرف سے عطافرمائی ہے ۔ پس آپ نے اُن سے فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں تمہیں اللہ اور اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا تہمارے اوپر ہے ، جس آدمی پر میری طرف سے کوئی ظلم ہواہے ، اُسے چاہیے کہ اُٹھے اور مجھ سے اس کا بدلہ لے لے ۔ راوی کا بیان ہے : کوئی آدمی بھی نہ اُٹھا تو آپ نے ان کو دوسری بار قسم دی تو بھی کوئی آدمی اُٹھ کر آپ کی طرف نہ گیا تو آپ نے تیسری مرتبہ قسم دی: اے مسلمانوں کے گروو! میری طرف سے جس پر کوئی ظلم ہوا ہے اسے چاہیے کہ وہ اُٹھے اور قیامت میں بدلہ لینے سے پہلے ابھی مجھ سے بدلہ لے لے ۔ تو مسلمانوں کے درمیان سے ایک بوڑھا آدمی اُٹھا جس کو عکاشہ کہا جاتا تھا ، اس نے مسلمانوں کے پاس لکیر کھینچنا شروع کی یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جا کھڑا ہوا اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ کیوں بار بار ہمیں قسمیں دے رہے ہیں ، میں کسی شے پر اس سے اقدام نہیں کرتا، میں ایک جنگ میں آپ کے ساتھ تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تھی اور اپنے نبی کی مدد فرمائی تھی اور ہم لوٹ رہے تھے ، میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے قریب ہوئی اور میں آپ کے قریب ہوا تاکہ آپ کی ران کو بوسہ دوں ، آپ نے ڈنڈا اُٹھایا اور میری پیٹھ پر مارا ، مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے مجھے جان بوجھ کر مارایا اونٹنی کو مارنے کا ارادہ کیا ( اور مجھے لگ گیا ) پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے جلال کی پناہ چاہتاہوں کہ اللہ کے رسول تجھے جان بوجھ کر ماریں! اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور وہی والا پتلا لمبا ڈنڈا لے کے آؤ ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد سے نکلے اور اس حال میں کہ ان کا ہاتھ ان کے سر پر تھا اور وہ بلند آواز سے نداء دے رہے تھے : یہ اللہ کے رسول ہیں جو اپنی طرف سے قصاص عطا فرمارہے ہیں ، انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول کی بیٹی ! مجھے وہی لمبا ڈنڈا عطا فرمائیں ! تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال! میرے والد گرامی ڈنڈے سے کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ نہ تو یہ حج کا دن ہے اور نہ ہی کسی جنگ کا دن ہے ؟ آپ نے عرض کی: اے فاطمہ ! آپ کے والد گرامی اس حالت میں آپ خوب جانتی ہیں بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دین کو الوداع کہہ رہے ہیں اور دنیا سے جدائی اختیار فرمارہے ہیں اور اپنی طرف سے قصاص عطا فرمانا چاہتے ہیں ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال ! وہ کون آدمی ہے جس کو پسند ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ لے ؟ اے بلال ! حسن وحسین سے کہوکہ وہ اُٹھ کر اس آدمی کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ اس سے بدلہ لے لے اور وہ اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ نہ لینے دیں ۔ تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ڈنڈآ لے کر مسجد میں داخل ہوئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ڈنڈ ا حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا ، پس جب حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس طرف نظر پڑی تو وہ دونوں کھڑے ہوگئے اور کہا: اے عکاشہ ! یہ ہم دونوں آپ کے سامنے ہیں ، تو ہم سے کہا: جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصاس نہ لے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے لیے فرمایا: اے ابوبکر ! آپ جائیں اور اے عمر ! آپ بھی جائیں ، اللہ تعالیٰ آپ دونوں کے مقام و مرتبہ کو پہچانتا ہے ، اس کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ ! میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوں ، میرا دل نہیں کرتا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرب لگے ، یہ میری پیٹھ اور پیٹ حاضر ہے ، وہ اپنے ہاتھ کے ساتھ مجھ سے قصاس لے اور مجھے سو کوڑے مار لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصاص نہ لے ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی ! آپ بیٹھ جائیں ! اللہ تعالیٰ آپ کے مقام اور نیت کو پہنچانتا ہے۔ اس کے بعد حضرت امام حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے عکاشہ ! کیا تُونہیں جانتا ہے کہ ہم دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے ہیں ؟ پس ہم سے بدلہ لینا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بدلہ لینے کی طرح ہے ۔ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو فرمایا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! بیٹھ جائیے ! اللہ تعالیٰ کو آپ کے اس مقام سے بھول نہیں ہے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عکاشہ ! اگر تونے مارنا ہے تو مارو! تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! آپ نے مجھے اس حال میں ماراکہ میرا پیٹ ننگا تھا ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا ، یہ دیکھ کر مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں اور سب نے مل کر کہا: اے عکاشہ ! کیا تُو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مارے گا! تو حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عن ہ کی نظر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیٹ کی سفید پرپڑی گویا کہ وہ سونے کی ڈلی ہے ، وہ اپنے آ پ پر قابو نہ رکھ سکے ، آپ پر جھک گئے اور آپ کے پیٹ مبارک کو بوسہ دیا اور زبان سے کہہ رہے تھے : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں ! کس اُمتی میں طاقت ہے کہ آ پ سے قصاص لے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تمہیں د و کاموں میں سے ایک کام ضرور کرنا ہوگا، یاتم ڈنڈا ماروگے یا معاف کروگے ؟ اس نے عرض کی : میں نے آپ کو معاف کیااس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے معاف فرمائے گا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کا ارادہ ہو کہ وہ جنت میں میرا رفیق دیکھے ، اسے چاہیے کہ اس بوڑھے آدمی کو دیکھ لے ۔ مسلمان اُٹھے اور حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسے دینے لگے اور زبان سے کہہ رہے تھے : آپ کو مبارک ہو ! آپ کو مبارک ہو! تُوبلند درجات پانے میں کامیاب ہو گیااور بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت حاصل کر لی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دن سے بیمار ہوئے اور اٹھارہ دن بیمار ی کی حالت میں گزر گئے ، لوگ آپ کی بیمار پرسی کرتے رہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے اور سوموار کے دن ہی بعثت ہوئی اور سوموار کے دن ہی آپ کا وصال ہوا ، پس جب ہفتے کا دن آیا تو آپ کی مرض میں اضافہ ہو گیا تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان دی پھر دروازے پر آکر کھڑے ہوئے اور نداء دینے لگے : السلام علیک یار سول اللہ ورحمتہ اللہ الصلٰوۃ رحمک اللہ ! (اے اللہ کے رسول ! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت ہو! نماز کا وقت ہوگیا ہے ، اللہ آپ پر رحم فرمائے ) ۔ پس حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اے بلال ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج اپنی جان کا خیال ہے ، تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں چلے گئے ، پس جب صبح کوب روشن ہوگئی تو حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس وقت تک اقامت نہیں پڑھوں گا جب تک اپنے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ، پس وہ لوٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آئے ، نداء دی : اے اللہ کے رسول ! آپر سلام ہو اور اس کی رحمت اور اس کی برکتیں ، نماز تیار ہے ، اللہ آپ پر حم فرمائے ۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز سنی تو فرمایا: اے بلال ! داخل ہو جا ! بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے اور ابو بکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، پس وہ اس حال میں نکلے کہ انہوں نے اپنا ہاتھ سر کی چوٹی پر رکھا ہو اتھا اور زبان سے کہہ رہے تھے : ہے اللہ کی مدد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دنیا پر رہنے کی اُمید خم ہوگئی ، اس دنیا پر رہنے کی اُمید ختم ہو گئی اور میر ی کمر ٹوٹ گئی ، کاش ! مجھے میری ماں نے نہ جنا ہوتا اور جب میری ماں نے مجھے جنا تھا تو آج کا دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر نہ ہوتا ، یعنی فوت ہوگیا ہوتا ۔ پھر کہا: اے ابو بکر ! خبر دار ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ پس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے ہوئے ، وہ نرم دل آدمی تھے جب ان کی نظر اس جگہ پر پڑی جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود ہوتے تھے تو وہ خالی تھی ، آپ اپنے آپ پر قابونہ رکھ سکے ، غش کھا کر گرپڑے ، مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کا شور سنا تو فرمایا: یہ شو ر کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا: مسلمانوں کا شور ہے ، آپ کے ان کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے اے اللہ کے رسول ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بلایا ، دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر آپ مسجد میں تشریف لے گئے ، لوگوں کو مختصر سی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھراپنا خوبصورت چہرہ اُن کی طر ف کیا اور فرمایا: اے مسلمانوں کے گروہ ! میں آ پ لوگوں کو اللہ کے سپرد کرتاہوں ، تم اللہ تعالیٰ کی اُمید اور اس کی امان میں ہو ، اللہ ہی تمہارا محافظ ہے ، اے مسلمانوں کے گروہ ! تمہارے اوپر اللہ سے ڈرنا لازم ہے اور میرے بعد اس کی اطاعت کی حفاظت بھی ضروری ہے کیونکہ میں دنیا کو چھوڑنے والاہوں ، آج آخرت کا پہلا دن ہے اور دنیا کا آخری دن ہے ۔ پس جب سوموار کا دن آیا تو آ پ کی بیماری میں اضافہ ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کی طرف وحی فرمائی کہ میرے حبیب اور میرے چنے ہوئے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جاؤ اور انتہائی خوبصورت شکل اختیار کرکے حاضری دینا اور آپ کی روح قبض کرنے میں بہت زیادہ نرمی سے کام لینا ، پس حضرت ملک الموت زمین پر اُترے ، ایک اعرابی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر آکر کھڑے ہوگئے ، پھر عرض کر نے لگے : السلام علیکم ! اے نبوت کے گھر والو! معدن رسالت اور فرشتوں کے بار بار آنے جانے کی جگہ ! کیا مجھے اندر آنے کی اجازت ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہا: آدمی کو جواب دو! تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ تجھے ہر قدم پر اجر عطا فرمائے ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے ۔ اس نے دوبارہ صدادی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: اس آدمی کو جواب دو! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اے اللہ کے بندے !اللہ تعالیٰ تجھے ہر قدم پر اجر عطا فرمائے! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جان کا خیال ہے ، تھوڑی دیر گزر نے کے بعد اس نے پھر صداد ی: کیا میں داخل ہو سکتا ہوں؟ مجھے ضرورداخل ہونا ہے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کی آواز سن لی ، فرمایا: اے فاطمہ ! دروازے پر کون ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ایک آدمی دروازے پر اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، ہم نے اسے دو مرتبہ جواب دیا ہے تو اس نے تیسری بار صدادی جس سے میری جان کانپنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ ! کیا تُوجانتی ہے دروازے پر کون ہے ؟ یہ لذتوں کو ختم کرنے والا ہے ، جماعتوں کو بکھیرنے والا ہے ، یہ عورتوں کو بیوہ کر نے والا ، بچوں کو یتیم کرنے والاہے ، یہ گھروں کو بے آباد اور قبروں کو آباد کرنے والا ہے ، یہ ملک الموت ہے ۔ فرمایا: اے ملک الموت ! اللہ آپ پر رحم کرے! داخل ہو جاؤ ۔ پس ملک الموت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بار گاہ میں آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ملک الموت ! تم صرف میری زیارت کرنے کے لیے آئے ہو یا جان قبض کرنے کے لیے ؟ اُس نے عرض کی : میں دونوں کام کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں ، مجھے اللہ تعالیٰ عنے حکم دیا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر آپ کے پاس داخل نہ ہوں اور آپ کی روح آپ کی اجازت کے بغیر نہ لوں! اگر آپ اجازت دیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں اپنے رب کے پاس لوٹ جاؤں ! تورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ملک الموت ! میرے محبوب جبرائیل علیہ السلام آپ کہاںرہ گئے ہیں ! انہوں نے عرض کی : میں نے انہیں آسمان دنیا میں چھوڑا ہے جب کہ دوسرے ملائکہ آپ کے حوالے سے ان سے تعزیت کر رہے ہیں ۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ جبرائیل علیہ السلام آگئے اور آپ کے سر کے پاس آکر بیٹھ گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل ! آج دنیا سے کوچ کا دن ہے ، مجھے خوشخبری سنائیں کہ اللہ کے پاس میرے لیے کیا اجر ہے ! حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: اے اللہ کے حبیب! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ م یں نے آسمان کے دروازے کھلے چھوڑے ہیں اور ملائکہ صف درصف کھڑے ہیں کہ وہ آپ کی روح کو سلام پیش کریں ! تو آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! اے جبرائیل ! اگلی بشارت دیجئے ! مجھے بشارت دیجئے ! تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں آپ کو بشارت دیتاہوں کہ جنتوں کے دوارزے کھلے ہیں ، اس کی نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے درختوں کے سائے قریب ہیں ، اس کی حوریں زینت اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ آپ کی روح کو خوش آمدیدکہیں، اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! مجھے اور خوشخبری سنائے ! اے جبرائیل !۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ سب سے پہلے سفارش کرنے واہیں اور سب سے پہلے آپ کی سفارش قیامت کے دن قبول کی جائے گی ۔ آپ نے فرمایا: میرے رب کے لیے حمد ہے ! حضرت جبر ائیل علیہ السلام نےعرض کی : اے میرے محبوب ! آپ مجھ سے کس چیز کا سوال کر تے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں کہتاہوں کہ جو مجھے غم ہے وہ تجھے لگ جائے ! میرے بعد قرآن کے قاریوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد رمضان شریف کا روزہ رکھنے والوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد بیت اللہ شریف کا حج کرنے والوں کے لیے کون ہوگا؟ میرے بعد میرے صوفی اُمتیوں کے لیے کون ہوگا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی : اے اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں آپ کو بشارت دیتاہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تمام انبیاء پر جنت کا داخلہ ممنوع ہوگا یہاں تک کہ آپ اور آپ کی اُمت جنت میں داخل ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب میں خوش ہوگیا ہوں ، اب اے ملک الموت ! وہ کام کرو جس کا تجھے حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! جب آپ کا وصال ہو جائے تو آپ کو غسل کون دے ؟ آپ کو کس چیز میں کفن دیا جائے ؟ آپ پر نماز جنازہ کون پڑھائے ؟ آپ کو قبر میں کون اُتارے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی ! آپ مجھے غسل دینا ،حضرت فضل بن عباس پانی ڈالے اور تمہارے ساتھ تیسرے حضرت جبرائیل ہوں گے اور جب تم مجھے غسل دے کر فارغ ہو جاؤ تو مجھے تین کپڑوں میں کفن دینا، حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے حنوط لائیں گے ، جب تم مجھے چارپائی پر رکھو تو مجھے مسجد میں رکھ دینا اور میرے پاس سے نکل جانا، کیونکہ سب سے پہلے مجھ پر میرارب اپنے عرش کے اوپر سے درود بھیجے گا پھر جبرائیل ، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر گروہ در گروہ تمام ملائکہ پھر تم داخل ہونا اور صف درصف کھڑے ہوجانا، کوئی آدمی مجھ پر آگے نہ بڑھے ۔ تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی : آج جدائی کا دن ہے ، میں آپ سے کب ملوں گی؟ آپ نے انہیں فرمایا: اے میری بیٹی ! تُو مجھ سے قیامت کے دن حوض کوثر پر ملے گی، جبکہ میں اپنی اُمت میں سے حوض پر آنے والے ہر ایک کو جام کوثر پلارہاہوں گا۔ آپ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! اگر وہاں آپ سے ملاقات نہ ہو سکی ( تو کہاں ملوں)؟ تو آُ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے میزان کے پاس ملنا جبکہ میں اپنے اُمتیوں کی سفارش کر رہاہوں گا۔ انہوں نے عرض کی: اگر وہاں آپ سے ملاقات نہ ہوسکی ؟ تو آپ نے فرمایا: تم مجھ سے پل صراط پر ملنا جبکہ میں اپنے رب سے دعا کر رہاہوں گا کہ اےمیرے رب ! میری اُ مت کو جنم سے سلامتی عطا فرما۔ ملک الموت قریب ہوئے جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض کر رہے تھے ، جب روح گھٹنوںتک پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اوہ" یعنی ٹھنڈی سانس لی ، پس جب روح ناف تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نداء دی: "واکرباہ"(موت کی سختی!) توحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کی : موت کی کرواہٹ کتنی سخت ہے ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل ! کیامیری طرف دیکھان پسند نہیں کر رہے ہو؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اے میرے محبوب ! کس کو طاقت ہے کہ اس وقت آپ کی طرف دیکھے جبکہ آپ پر سکرات کا عالم طاری ہے ؟ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا تو حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو غسل دیا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ پر پانی ڈالا جبکہ جبر ائیل علیہ السلام ان کے ساتھ تھے ، تین نئے کپڑوں کا آپ کو کفن دیا گیا ، آپ کا چار پائی پر رکھا گیا ، پھر آپ کو مسجد میں لے جا کر رکھ دیا گیا ، لوگ آپ کے پاس سے نکل گئے ، سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رب نے اپنے عرش کے اوپر سے آپ پر درود پڑھا ، پھر جبرائیل ، پھر میکائیل، پھر اسرافیل ، پھر گروہ در گر وہ تمام ملائکہ نے درود پڑھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : مسجد میں ہم نے ہلکی ہلکی آواز تو سنی لیکن کوئی آدمی نہیں دیکھا، ہمنے ھاتف غیبی کے نعرے سنے اور وہ کہہ رہے تھے : داخل ہو جاؤ! اللہ تم پر رحکم کرے اور اپنے نبی پر درود پڑھو۔ پس ہم داخل ہوئے ، صفوں کی صورت میں کھڑے ہوگئے جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا ، پس ہم نے جبرائیل کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہی اور جبرائیل علیہ السلام کی صلٰوۃ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلٰوۃ پڑھی، ہم میں سے کوئی آدمی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آگے نہیں بڑھا ، حضرت ابو بکر ، حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم قبر میں داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دن کر دیا گیا ۔ ہاں جب لوگ واپس ہوئے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: اے ابو الحسن ! کیا تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دفن کر دیا ؟ انہون نے کہا: ہاں! حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا: تمہارے دلوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مٹی ڈالنا کیسے گوارا کیا؟ کیا تمہارے دلوں میں ان کے لیے رحکم موجود نہ تھا ؟ کیا وہ بھلائی سکھانے والےنہ تھے؟ انہوں نے کہا: اے فاطمہ ! کیوں نہیں ( ساری چیزیں تھیں) لیکن اللہ کا حکم ٹالا تو نہیں جاسکتا ، آپ نے رونا شروع کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفات گنوائیں ،آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: اے میرے باپ ! اب جبرائیل کا آنا بند ہو گیا حالانکہ وہ آسمان سے وحی ل کر آیا کرتے تھے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس بن سنان ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2677

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2678

2677 - حدثنا الحسين بن محمد الحناط الرامهرمزي ثنا أحمد بن رشد بن خيثم الهلالي ثنا عمي سعيد بن خيثم ثنا مسلم الملائي عن حبة العرني و أبي البختري Y عن سلمان قال : كنا حول النبي صلى الله عليه و سلم فجاءت أم أيمن فقالت : يا رسول الله لقد ضل الحسن و الحسين قال : وذلك راد النهار يقول ارتفاع النهار فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قوموا فاطلبوا ابني قال : وأخذ كل رجل تجاه وجهه وأخذت نحو النبي صلى الله عليه و سلم فلم يزل حتى أتى سفح جبل وإذا الحسن و الحسين رضي الله عنهما ملتزق كل واحد منهما صاحبه وإذا شجاع قائم على ذنبه يخرج من فيه شه النار فأسرع إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فالتفت مخاطبا لرسول الله صلى الله عليه و سلم ثم انساب فدخل بعض الأحجرة ثم أتاهما فأفرق بينهما ومسح وجههما وقال : بأبي وأمي أنتما ما أكرمكما على الله ثم حمل أحدهما على عاتقه الأيمن والآخر على عاتقه الأيسر فقلت : طوباكما نعم المطية مطيتكم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ونعم الراكبان هما وأبوهما خير منهما

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد گھے ، حضرت اُم ایمن تشریف لائیں ، عرض کرنے لگیں : یار سول اللہ ! حسن و حسین گم ہوگئے ہیں ۔ حضرت سلمان نے فرمایا: دن کا اول حصہ تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اُٹھو! میرے بیٹوں کو تلاش کرو۔ ہر ایک آدمی نے ایک آدمی ساتھ لے کر تلاش کر نا شروع کر دیا ،میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلا، آپ تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ پہاڑکے دامن میں آئے ، وہاں حضرت امام حسن و حسین دونوں آپ میں ایک دوسرے سے چمٹ کر بیٹھے تھے ، ایک سانپ اپنی دُم پرکھڑا تھا ، اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جلدی سے آگے بڑھے ، وہ سانپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا، پھر کسی سوراخ میں داخل ہو گیا ، پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں کے پاس آئے ، دونوں کو ایک دوسرے سے الگ گیا ، دونوں کے چہروں کو صاف کیا،فرمایا: میرے ماں باپ قربان ! تم دونوں اللہ کے ہاں عزت والے ہو! پھر دونوں میں سے ایک کودائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر سوار کیا ، میں نے کہا: دونوں کے لیے خوشخبری! تم دونوں کی سواری بہت اچھی ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں ، ان دونوں کے ماں باپ دونوں افضل ہیں ۔

كنا حول النبي صلى الله عليه و سلم فجاءت أم أيمن فقالت ← سَلْمَانَ ← حبة العرني و أبي البختري ← مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، ← عمي سعيد بن خيثم ← أحمد بن رشد بن خيثم الهلالي ← الحسين بن محمد الحناط الرامهرمزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2678

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2679

2678 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا منجاب بن الحارث ثنا علي بن مسهر عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطية Y عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه و سلم : أيها الناس إني تارك فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا بعدي أمرين أحدهما أكبر من الآخر كتاب الله حبل ممدود ما بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي وإنهما لن يفترقا حتى يردا علي الحوض

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو! میں تمہیں چھوڑ کر جا رہاہوں ، تم نے اگر دونوں کو پکڑے رکھا تو میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے ، ان میں سے ایک قرآن پاک ہے یہ ایک رسی ہے جس کی لمبائی زمین و آسمان کے درمیان ہے اور میری اہل بیت ، یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدانہیں ہوں گے یہاں تک کہ دونوں مل کر میرے پاس حوض پر آئیں گے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِيَّةَ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2679

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2680

2679 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي حدثنا عبد الرحمن بن صالح ثنا صالح بن أبي الأسود عن الأعمش عن عطية Y عن أبي سعيد رفعه قال : كأني قد دعيت فأجبت فإني تارك فيكم الثقلين كتاب الله حبل ممدود بين السماء والأرض وعترتي أهل بيتي وإنهما لم يفترقا حتى يردا علي الحوض فانظروا كيف تخلفوني فيهما ؟

حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: گویا مجھے بلاواآیا تو میں نے پسند کیا کیونکہ میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ، ایک قرآن پاک ہے ، وہ ایک ایسی رسی ہے جو آسمان و زمین کے درمیان بندھی ہوئی ہے اور میری اہل بیت ، یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے حوض کوثر پر دونوں ایک ساتھ میرے پاس آئیں گے ، تم دیکھو کہ میرے بعد ان دونوں سے کیا سلوک کرتے ہو۔

أَبِي سَعِيدٍ رَفَعَهُ ← عَطِيَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، ← عبد الرحمن بن صالح ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2680

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2681

2680 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا نصر بن عبد الرحمن الوشاء ثنا زيد بن الحسن الأنماطي عن جعفر بن محمد عن أبيه Y عن جابر قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجته يوم عرفة وهوعلى ناقته القصواء فخطب فسمعته وهو يقول : أيها الناس قد تركت فيكم ما إن أخذتم به لن تضلوا كتاب الله وعترتي أهل بيتي

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن قصواء اونٹنی پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا ، آپ نے خطبہ دیا ، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں تم میں وہ چیز چھوڑ کر جا رہاہوں،اگر تم نے ان کے دامن کو پکڑے رکھا تو تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے ، وہ یہ ہیں : قرآن پاک اور میری اہل بیت۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، ← نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2681

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2682

2681 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جعفر بن حميد حدثنا عبد الله بن بكير الغنوي عن حكيم بن جبير عن أبي الطفيل Y عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لكم فرط وإنكم واردون علي الحوض عرضه ما بين صنعاء إلى بصرى فيه عدد الكواكب من قدحان الذهب والفضة فانظروا كيف تخلفوني في الثقلين فقام رجل فقال : يا رسول الله وما الثقلان ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأكبر كتاب الله سبب طرفه بيد الله وطرفه بأيديكم فتمسكوا به لن تزالوا ولا تضلوا والأصغر عترتي وإنهم لن يفترقا حتى يردا علي الحوض وسألت لهما ذاك ربي فلا تقدموهما فتهلكوا ولا تعلموهما فإنهما أعلم منكم

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا نتظار کروں گا ، تم میرے حوض پر آؤ گے ، اس کی چوڑائی صنعاء سے لے کر بصریٰ تک ہے ، اس میں سونے اور چاندی کے برتن ، ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ، تم دیکھو کہ میرے بعد ان دونوں بھاری چیزوں سے کیا سلوک کرتے ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہو ا، اُس نے عرض کی : یار سول اللہ ! وہ دونوں بھاری چیزیں کیاہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بڑی ہے وہ قرآن پاک ہے ، اس کا ایک حصہ اللہ کے قبضئہ قدرت میں ہے اور ایک تمہارے پاس ہے ، اسے مضبوطی سے پکرے رکھو، ہمیشہ ہر گز گمراہ نہیں ہوگے ، اور چھوٹی میری اولاد ہے ، دونوں جدا نہیں ہوں گے ، دونوں میرے حوض پر آئیں گے ، میں نے دونوں کے لیے اپنے رب سے مانگاہے ، دونوں سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہو جاؤئے ، ان دونوں سے سیکھو کیونکہ دونوں تم سے زیادہ علم والے ہیں ۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حكيم بن جبير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، ← جعفر بن حميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2682

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter