Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1306

1305 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني ثنا أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة Y في تسمية من قتل يوم اليمامة من الأنصار ثم من بني الحارث بن الخزرج ثابت بن قيس بن شماس

حضرت عروہ سے روایت ہے کہ انصار اور بنی حارث بن خزرج سے یمامہ کے دن جو شہید ہوئے' ان کے ناموں میں سے ایک حضرت ثابت بن قیس بن شماس کا بھی ہے۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1306

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1307

1306 - حدثنا أبو الزنباغ روح بن الفرج ثنا يحيى بن بكير Y قال : استشهد ثابت بن قيس بن شماس يومئذ سنة اثني عشرة

حضرت یحییٰ بن بکیر فرماتے ہیں کہ جس دن حضرت ثابت بن قیس بن شماس شہید کیے گئے ' ان دنوں 12 ہجری تھی۔

استشهد ثابت بن قيس بن شماس يومئذ سنة اثني عشرة ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أبو الزنباغ روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1307

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1308

1307 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشى قالا ثنا حجاج ابن المنهال ( ح ) وحدثنا محمد بن العباس المؤدب حدثنا عفان قالا ثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن أنس Y أن ثابت بن قيس جاء يوم اليمامة وقد تحنط ونشر أكفانه فقال : اللهم إني أبرأ إليك مما جاء به هؤلاء وأعتذر مما صنع هؤلاء فقتل وكانت له درع فسرقت فرآه رجل فيما يرى النائم فقال : إن درعي في قدر تحت الكانون في مكان كذا وكذا وأوصاه بوصايا فطلبوا الدرع فوجدوها وأنفذوا الوصايا

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ یمامہ کے دن آئے' آپ نے حنوط لگائی ہوئی تھی اور اپنا کفن کھولا ہوا تھا اور عرض کر رہے تھے: اے اللہ ! جو انہوں نے کہا میں اس سے بری ہوں ' جو وہ لے کر آئے ہیں' میں اس سے بری الذمہ ہوں ' آپ کی ایک زرہ تھی جو چوری ہو گئی تھی' ایک آدمی نے آپ کو خواب میں دیکھا' آپ نے فرمایا: میری زرہ چولہے کے نیچے ہنڈیا میں فلاں فلاں جگہ پڑی ہے ارو کچھ وصیتیں کیں۔ وہ زرہ تلاش کی گئی' اس کو لیا گیا اور ان کی وصیت پوری کی گئی۔

أنس أن ثابت بن قيس جاء يوم اليمامة وقد تحنط ونشر أكفانه ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ ← حجاج ابن المنهال ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1308

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1309

1308 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا قطن بن نسير ثنا جعفر بن سليمان عن ثابت عن أنس بن مالك Y قال : كان ثابت بن قيس خطيب الأنصار

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ثابت بن قیس انصار کے خطیب تھے۔

كان ثابت بن قيس خطيب الأنصار ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قَطَنُ بْنُ نَسِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1309

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1310

1309 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثنا يحيى بن معين ثنا أزهر بن سعد عن ابن عون Y قال أنبأني ثمامة بن عبد الله بن أنس عن أنس ابن مالك قال : فقد النبي صلى الله عليه و سلم ثابت بن قيس بن شماس فقال رجل : أنا أعلم خبره يا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأتاه فوجده في بيت منكب رأسه يبكي فقال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم افتقدك فقال : رفعت صوتي فوق صوت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد حبط عملي وأنا من أهل النار فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : ( ارجع إليه وأعلمه أنه ليس من أهل النار وأنه من أهل الجنة )

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس کو نہ پایا' ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں اس کے متعلق جانتا ہوں۔ وہ آدمی آیا تو اس نے آپ کو اپنے گھر میں اس حال میں پایا کہ آپ اپنا سر جھکائے رو رہے ہیں۔ اس آدمی نے عرض کی : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپکو یاد فرما رہے ہیں۔ حضرت ثابت نے عرض کی: میری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے اونچی ہو گئی ہے اور میرے اعمال ضائع ہو گئے ہیں' میں جہنم والوں میں سے ہو گیا ہوں۔ وہ آدمی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اس کے پاس جاؤ اور اسے بتاؤ کہ تو جہنمی نہیں ہے ' تو جنتی ہے۔

أَعْلَمُ خَبَرَهُ ← رَجُلٌ: ← فقد النبي صلى الله عليه و سلم ثابت بن قيس بن شماس ← أَنَسِ ابْنِ مَالِکٍ ← ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1310

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1311

1310 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا إبراهيم بن حميد الطويل ثنا صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن محمد بن ثابت عن ثابت بن قيس ابن شماس Y أن ثابتا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله قد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( لم ؟ ) قال : نهانا الله أن نحمد بما لم نفعل وإني رجل أحب الحمد ونهانا أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وأنا رجل جهير الصوت ونهانا عن الخيلاء وأنا رجل أحب الجمال فقال : ( يا ثابت أما تحب أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا ؟ ) فقتل يوم اليمامة

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ عرض کی: اللہ نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہماری تعریف کی جائے اس کام پر جو ہم نے نہیں کیا ہے' مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں اور اللہ نے غرور سے منع فرمایا ہے اور میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ثابت! کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہو اور جنت میں داخل ہو؟ وہ یمامہ کے دن شہید ہوئے۔

مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1311

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1312

1311 - حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن حمزة الدمشقي حدثني أبي عن أبيه حدثني أبو عمرو الأوزاعي عن الزهري حدثني محمد بن ثابت الأنصاري حدثني ثابت بن قيس بن شماس Y قال : قلت يا رسول الله والله لقد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( بم ؟ ) قلت نهى الله المرء أن يحمد بما لم يفعل وأجدني أحب الحمد ونهى الله عن الخيلاء وأجدني أحب الخيلاء ونهى الله أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وأنا امرؤ جهير الصوت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( ألا ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ ) قال : بلى يا رسول الله فعاش حميدا وقتل شهيدا يوم مسيلمة

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں؟ عرض کی : اللہ نے منع فرمایا ہے کہ ایسے کام پر آدمی کی تعریف کیجائے جو اس نے نہیں کیاہے اور میں اپنے آپ کو اپنی تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں' اللہ نے غرور سے منع فرمایا ہے' مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں غرور کو پسند کرتاہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ثابت ! کیا تو اس پر راضی نہیں ہیں کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہو اور جنت میں داخل ہو؟ انہوں نے عرض کی: کیوں نہیں! اے اللہ کے رسول ! پس وہ اس حال میں زندہ رہے کہ ان کی تعریف کی جاتی تھی اور وہ مسیلمہ کذاب کے دن شہید ہوئے۔

قُلْتُ ← ثابت بن قيس بن شماس ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1312

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1313

1312 - حدثنا أبو الزنباع روح بن الفرج ثنا سعيد بن عفير عن مالك بن أنس عن ابن شهاب عن إسماعيل بن محمد بن ثابت الأنصاري عن ثابت بن قيس بن شماس Y أنه قال : يا رسول الله لقد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( بم ؟ ) قال : إن الله ينهانا أن نحمد بما لم نفعل وأجدني أحب الحمد ونهانا عن الخيلاء وأنا امرؤ أحب الجمال ونهانا أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وأنا امرؤ جهير الصوت فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا ثابت بن قيس أما ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ )

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس سبب سے ؟ عرض کی: اللہ تعالیٰ نے نہی فرمائی ہے کہ اس کام پر ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہیں کیا اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں' اللہ نے غرور سے منع فرمایا مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ثابت! کیا تو اس پر راضی نہیں ہیں کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہوا ور جنت میں داخل ہو؟

ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، أَنَّهُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← أبو الزنباع روح بن الفرج

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1313

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1314

1313 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي حدثنا عبد الله بن صالح حدثني الهقل بن زياد عن معاوية بن يحيى الزهري أخبرني محمد بن ثابت الأنصاري أن ثابت بن قيس الأنصاري Y قال : يا رسول الله لقد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( لم ؟ ) قال : نهى الله المرء أن يحب أن يحمد بما لم يفعل وأجدني أحب الحمد ونهانا عن الخيلاء وأجدني أحب الجمال ونهانا أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وإني امرؤ جهير الصوت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا ثابت أما ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ ) قال : بلى يا رسول الله فعاش حميدا وقتل يوم مسيلمة

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس سبب سے ؟ عرض کی: اللہ تعالیٰ نے نہی فرمائی ہے کہ اس کام پر ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہیں کیا اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں' اللہ نے غرور سے منع فرمایا مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ثابت! کیا تو اس پر راضی نہیں ہیں کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہوا ور جنت میں داخل ہو؟

محمد بن ثابت الأنصاري أن ثابت بن قيس الأنصاري ← معاوية بن يحيى الزهري ← الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1314

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1315

1314 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا عنبسة عن يونس عن ابن شهاب أخبر إسماعيل بن ثابت أن ثابت بن قيس الأنصاري Y قال : يا رسول الله لقد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( لم ؟ ) قال : نهانا الله عز و جل عن الحمد أن نحمد بما لم نفعل وإني أحب الحمد ونهانا عن الخيلاء وأنا أحب الجمال ونهانا أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وأنا امرؤ جهير الصوت فقال النبي الله صلى الله عليه و سلم : ( يا ثابت ألا ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ ) قال : بلى يا رسول الله فعاش حميدا وقتل شهيدا يوم مسيلمة الكذاب

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس سبب سے ؟ عرض کی: اللہ تعالیٰ نے نہی فرمائی ہے کہ اس کام پر ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہیں کیا اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں' اللہ نے غرور سے منع فرمایا مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ثابت! کیا تو اس پر راضی نہیں ہیں کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہوا ور جنت میں داخل ہو؟

ابن شهاب أخبر إسماعيل بن ثابت أن ثابت بن قيس الأنصاري ← يُونُسَ ← عَنْبَسَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1315

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1316

1315 - حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مخشي ثنا عبيد الله بن سعيد بن عفير حدثني أبي حدثني خالي المغيرة بن الحسن بن راشد الهاشمي حدثني يحيى بن عبد الله بن سالم عن عبيد الله بن عمر عن الزهري عن إسماعيل ابن محمد بن ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري Y أن ثابت بن قيس قال : يا رسول الله لقد خشيت أن أكون قد هلكت قال : ( لم ؟ ) قال : يمنع الله المرء أن يحمد بما لم يفعل وأجدني أحب الحمد وينهى عن الخيلاء وأجدني أحب الجمال وينهى الله أن نرفع أصواتنا فوق صوتك وأناجهير الصوت فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا ثابت أليس ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ )

حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! میں خوف کرتا ہوں کہ میں ہلاک ہو گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس سبب سے ؟ عرض کی: اللہ تعالیٰ نے نہی فرمائی ہے کہ اس کام پر ہماری تعریف کی جائے جو ہم نے نہیں کیا اور میں اپنے آپ کو تعریف پسند کرنے والا پاتا ہوں' اللہ نے غرور سے منع فرمایا مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور اللہ عزوجل نے آپ کی آواز پر آوازیں اونچی کرنے سے منع کیا ہے' اور میں بلند آواز والا آدمی ہوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ثابت! کیا تو اس پر راضی نہیں ہیں کہ تو عزت کی زندگی گزارے اور تو شہید ہوا ور جنت میں داخل ہو؟

الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← خَالِي الْمُغِيرَةُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ رَاشِدٍ الْهَاشِمِيُّ ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُفَيْرٍ ← أحمد بن إبراهيم بن مخشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1316

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ من اسمه ثابت 141 - ثابت بن قيس بن شماس الأنصاري · حديث 1317

1316 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا زيد بن الحباب حدثنا أبو ثابت بن ثابت بن قيس بن شماس حدثني أبي ثابت بن قيس بن شماس عن أبيه Y قال : لما نزلت هذه الآية ( { لا ترفعوا أصواتكم فوق صوت النبي } ) قعد ثابت في الطريق يبكي فمر به عاصم بن عدي قال : ما يبكيك يا ثابت [ قال ] : أنا رفيع الصوت وأتخوف أن تكون هذه الآية نزلت في فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( يا بني أما ترضى أن تعيش حميدا وتقتل شهيدا وتدخل الجنة ؟ ) فقال : رضيت ببشرى الله ورسوله لا أرفع صوتي أبدا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فنزلت ( { إن الذين يغضون أصواتهم } ) الآية

حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت :"اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو' اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے" تو حضرت ثابت راستے میں بیٹھ کررونے لگے ان کے پاس سے حضرت عاصم بن عدی گزرے کہا: اے ثابت ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میری آواز اونچی ہے' میں خوف کرتا ہوں کہ یہ آیت میرے متعلق نہ نازل ہوئی ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! کیا تو خوش نہیں ہے کہ تو با عزت طریقے سے زندگی گزارے اور شہید ہو اور جنت میں داخل ہو؟ عرض کی: میں اللہ اور اس کے رسول کی خوشخبری پر راضی ہوں! میں (آئندہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہیں کرو ں گا' تو یہ آیت نازل ہوئی: "وہ لوگ جو اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں"۔

أَبِيهِ ← أَبِي ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ← أبو ثابت بن ثابت بن قيس بن شماس ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1317

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter