المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ عبيد الله بن أبي رافع عن أبيه · حديث 959
955 - حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة ثنا يحيى بن الحسن بن فرات ثنا علي بن هاشم عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع ثنا عون بن عبد الله بن أبي رافع عن أبيه عن جده أبي رافع قال Y دخلت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو نائم أو يوحى إليه وإذا حية في جانب البيت فكرهت أن أقتلها فأوقظه فاضطجعت بينه وبين الحية فإن كان شيء كان بي دونه فاستيقظ وهو يتلو هذه الآية { إنما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا } الآية قال : ( الحمد لله ) فرآني إلى جانبه فقال : ( ما أضجعك ههنا ؟ ) قلت : لمكان هذه الحية قال : ( قم إليها فاقتلها ) فقتلتها فحمد الله ثم أخذ بيدي فقال : ( يا أبا رافع سيكون بعدي قوم يقاتلون عليا حقا على الله جهادهم فمن لم يستطع جهادهم بيده فبلسانه فمن لم يستطع بلسانه فبقلبه ليس وراء ذلك شيء )
حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ، آپ آرام کررہے تھے ، یا شاید آپ پروحی نازل ہو رہی تھی ، آپ کے گھر کے ایک کونے میں سانپ تھا ، میں نے اس کو مار نا ناپسند کیا کہ کہیں آپ اُٹھ نہ جائیں ، میں آپ کے اور سانپ کے درمیان لیٹ گیا ، آپ کے اور سانپ کے درمیان میری ذات رکاوٹ تھی ، آپ جب آرام کر کے اُٹھے تو آپ یہ آیت تلاوت کر رہے تھے : "تمہارا مدد گار اللہ اور اُس کا رسول اور ایمان والے ہیں "۔ آپ نے فرمایا : تمام خوبیاں اللہ کے لیے ہیں ! آپ نے مجھے ایک طرف دیکھا تو آ پ نے فرمایا : آپ یہاں کیوں لیٹے ہیں ؟ میں نے عرض کی: اس جگہ سانپ ہے ، آپ نے فرمایا: اُٹھو! اس کو مار و! میں نے اس کو مار ا تو آپ نے اللہ کی حمد کی، پھر میرا ہاتھ پکڑ ا اور فرمایا: اے ابو رافع !عنقریب میرے بعد کچھ لوگ ہوں گے ، جو علی سے لڑیں گے اللہ کی طرف سے جہاد کرنا فرض ہوگا ، جو جہاد کرنے کی طاقت نہ رکھے وہ زبان سے کرے ، جو زبان سے بھی نہ کر سکے وہ دل سے کرے ، اس کے نیچے کوئی درجہ نہیں ہے ۔
جده أَبى رافع ← أَبِيهِ ← عون بن عبد الله بن أبي رافع ← محمد بن عبيد الله بن أبي رافع ← عَلِيِّ بْنِ هَاشِمٍ ← يحيى بن الحسن بن فرات، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ:
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 959
