المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ من اسمه حبيب حبيب بن سلمة الفهري · حديث 3534
3533 - حدثنا أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن إسحاق التستري و جعفر بن محمد الفريابي قالوا ثنا هشام بن عمار ثنا عمرو بن واقد حدثني موسى بن يسار عن مكحول Y عن جنادة بن أبي أمية قال : نزلنا دابق وعلينا أبو عبيدة بن الجراح فبلغ حبيب بن مسلمة أن بنه صاحب قبرس خرج يريد بطريق أذربيجان ومعه زمرد وياقوت ولؤلؤ وذهب وديباج في خيل فقتله وجاء بما معه فأراد أبو عبيدة أن يخمسه فقال حبيب : لا تحرمني رزقا رزقنيه الله فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم جعل السلب للقاتل فقال معاذ : يا حبيب إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إنما للمرء ما طابت به نفس إمامه
حضرت جنادہ بن ابو امیہ فرماتے ہیں کہ ہم مقام دابق میں اترے ،ہم پر امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے ،حضرت حبیب بن مسلمہ کو خبر پہنچی ک قبرس کا بادشاہ ابھی وہ آذربائیجان کے راستے میں ہے،آپ کے پاس زمرد اور یاقوت اور موتی اور سونا اور ریشم گھوڑوں پر لدا ہوا ہے۔حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اس کے پاس جو سامان تھا وہ لائے تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے خمس لینے کا ارادہ کیا ۔حضرت حبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جو ہمیں اللہ نے رزق دیا ہے اس سے محروم نہ کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاتل کے سامان کو اس کے لیے مقرر کیا جو قتل کرے۔حضرت معاذ نے کہا :اے حبیب ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہےکہ آدمی کے لیے جائز ہےکہ جو اپنے نفس کی پسند امیر کے سامنے قربان کرے۔
نَزَلْنَا دَابِقَ وَعَلَيْنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَبَلَّغَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ، ← مَكْحُولٌ ← مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أحمد بن المعلى الدمشقي و الحسين بن إسحاق التستري و جعفر بن محمد الفريابي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3534
