Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 349 - حسان بن شداد الطهوي من بني طهية · حديث 3595

3594 - حدثنا أحمد بن علي الجارودي الأصبهاني ثنا محمد بن سهل أبو سهل البصري ثنا يعقوب بن عضيدة بن عفاس بن حسان بن شداد بن شهاب بن زهير بن ربيعة بن أبي سود الطهوي حدثني أبي عضيدة عن أبيه عفاس Y عن جده حسان بن شداد أن أمه وفدت إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إني قد وفدت إليك لتدعو لبني هذا أن يجعل الله لي فيه بركة وأن يجعله كثيرا طيبا فتوضأ من فضل وضوئه ومسح وجهه وقال : اللهم بارك لها فيه واجعله كثيرا طيبا

حضرت عفاس اپنے دادا حضرت حسان بن شداد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آئیں ،عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کے پاس آئی ہوں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بیٹے کے لیے دعا کریں کہ اللہ عزوجل اس میں برکت دے اور بہت زیادہ خوشبو رکھے ،پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور چہرے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا :اے اللہ اس کو برکت دے اور بہت زیادہ خوشبو والا رکھ۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3595

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 350 - حسان بن أبي جابر السلمي · حديث 3596

3595 - حدثنا الحضرمي وثنا الحسين بن إسحاق التستري قالا ثنا داود بن رشيد ثنا بقية عن سعيد بن إبراهيم حدثني أبو يوسف قال Y سمعت حسان بن أبي جابر السلمي قال : كنت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالطائف فرأى رجالا من أصحابه قد حمروا لحاهم وصفروا لحاهم فقال : مرحبا بالمصفرين والمحمرين

حضرت حسان بن ابو جابر السلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں طائف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا ،وہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے بہت زیادہ لوگ تھے ،انہوں نے اپنی داڑھیاں سرخ اور زرد کی ہوئی تھیں ۔آپ نے فرمایا :زرد اور سرخ رنگت کرنے والوں کو خوش آمدید!

حسان بن أَبي جابر السلمى ← أَبُو يُوسُفَ، ← سعيد بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ← بَقِيَّةُ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← الْحَضْرَمِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3596

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 351 - حباب بن عمرو الأنصاري أخو أبي اليسر · حديث 3597

3596 - حدثنا علي بن سعيد الرازي ثنا محمد بن حميد ثنا سلمة بن الفضل ثنا ابن إسحاق عن الخطاب بن صالح عن أمه Y عن سلامة بنت معقل قال : كنت للحباب بن عمرو فمات ولي منه ولد فقالت امرأته : الآن تباعين في دينه فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : ومن صاحب تركة الحباب ؟ فقال : أخوه أبو اليسر كعب بن عمرو فدعاه النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا تبيعوها وأعتقوها وإذا سمعتم برقيق قد جاءني فأتوني أعوضكم ففعلوا ما اختلفوا فيما بينهم بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا : أم الولد مملوكة لولا ذلك لم يعوضهم النبي صلى الله عليه و سلم وقال بعضهم : هي حرة قد أعتقها النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت سلامہ بنت معقل فرماتی ہیں کہ میں حضرت حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی ،وہ فوت ہو گئے ،ان سے میرے ہاں ایک بچہ تھا،ان کی دوسری بیوی نے کہا:اس کو فروخت کرو ان کے قرض میں ۔میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور میں نے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا :حباب کے ترکہ کا مالک کون ہے؟ان کے بھائی ابو یسر نے کہا :کعب بن عمرو! حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بلوایا ،آپ نے فرمایا :تم اسے فروخت نہ کرو آزاد کرو،جب تم میرے ساتھی سے سنو تو میر ے پاس آنا میں تمہیں بدلہ دوں گا۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد انہوں نے ایسے کیا جو ان کے درمیان اختلاف ہوا تو انہوں نے کہا :ام ولد لونڈی ہے اگر یہ نہ ہوتا ،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کا عوض نہ دیتے ۔بعض نے کہا ؛یہ آذاد ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آذاد کیا ہے۔

سلامة بنت معقل ← أُمِّهِ2، ← الخطاب بن صالح ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← سلمۃ بن الفضل ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3597

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 352 - حباب بن المنذر الأنصاري · حديث 3598

3597 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري Y أخبرني عروة بن الزبير أن الذي قال أنا جذيلها المحكك وعذيقها المرجب حباب بن المنذر

حضرت امام زہری سے روایت ہے کہ ،مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ جس آدمی نے یہ کلام کیا وہ حضرت حباب بن منذر ہیں:میں وہ ہوں جس کی رائے سے اس طرح شفا ء حاصل کی جاتی ہے جس طرح اونٹ تنا سے کھجلا کر شفا حاصل کرتا ہے ۔

جذيلها المحكك وعذيقها المرجب حباب بن المنذر ← عروة بن الزبير أن الذي ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3598

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 353 - حباب أبو عقيل الأنصاري ويقال ابن أبي عقيل بن عبد الرحمن بن عبد الله بن ثعلبة · حديث 3599

3598 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا زيد بن الحباب حدثني خالد ين يسار عن ابن أبي عقيل Y عن أبيه أنه بات يجر الجرير على ظهره على صاعين من تمر فانقلب بأحدهما إلى أهله ينتفعون به وجاء بالآخر يتقرب به إلى الله عز و جل فأتى به إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبره فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : انثره في الصدقة فقال فيه المنافقون وسخروا منه : ما كان أغنى هذا أن يتقرب إلى الله بصاع من تمر فأنزل الله عزل وجل { الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم } إلى آخر الآيتين

حضرت ابن ابو عقیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جریر نے اپنی پشت پر کھجور کے دو صاع اٹھائے ،ایک اپنے گھر لے گئے اپنے نفع کے لیے ،دوسرا لے کر آئے اللہ عزو جل کا قرب حاصل کرنے کے لیے ۔وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں لائے اور آپ کو بتایا تو حضؤر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں فرمایا :صدقہ میں رکھ دو !منافقوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مذاق اڑایا ،ایک صاع کھجور سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے ،تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :"وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے سنتے ہیں کہ اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔"

ابن أبي عقيل ← خالد ين يسار ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3599

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 354 - حمام الأسلمي · حديث 3600

3599 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا سفيان بن وكيع ثنا أبي عن عبد الله بن المبارك عن معمر عن يحيى بن أبي كثير Y عن يزيد بن نعيم أن رجلا من أسلم يقال له عبيد بن عويمر وقع على وليدته فحملت فولدت له غلاما يقال له حمام وذلك في الجاهلية فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم عمي وكلمه في ابنه فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : تسلم ابنك ما استطعت فانطلق فأخذ ابنه فجاء به إلى النبي صلى الله عليه و سلم وجاء مولى الغلام إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فعرض عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم غلامين فقال : خذ أحدهما ودع للرجل ابنه فأخذ غلاما وترك له ابنه

حضرت یزید بن نعیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ اسلم کا ایک آدمی جس کا نام عبید بن عویمر تھا،اس نے اپنی لونڈی سے جماع کیا تو وہ حاملہ ہو گئی ،اس نے بچہ جنا جس کا نام حمام تھا،یہ زمانہ جاہلیت کی بات ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس میرے چچا آئے اور اپنے بیٹے کےمتعلق گفتگو کی ،حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں فرمایا :جیسے تم طاقت رکھتے ہو اپنے بیٹے کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ ۔وہ چلے اور اپنے بیٹے کو پکڑ ا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں لائے ،غلام کا آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو دو غلام دے کر فرمایا :ان میں سے ایک لے لیں اور آدمی کے لیے اس کا بیٹا چھوڑ دیں ۔اس نے ایک غلام پکڑ ا اور اس کے لیے اس کا بیٹا چھوڑا۔

يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3600

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 355 - حزن بن أبي وهب المخزومي · حديث 3601

3600 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا هدبة بن خالد ثنا همام عن قتادة Y عن سعيد بن المسيب أن جده أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له : ما اسمك ؟ قال : حزن فأراد أن يغير اسمه فقال ما كنت لأغير اسما سماني به أبي قال سعيد : فتلك الحزونة فينا حتى الساعة

حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ میرے دادا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آئے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :تمھار انام کیا ہے ؟عرض کی :حزن ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدلنے کا اراد ہ کیا تو (میرے دادا نے )عرض کی یہ نام میرے باپ نے رکھا ہے میں اسے تبدیل نہیں کروں گا۔حضرت سعید فرماتے ہیں :وہ تادم آخر پریشان حال میں ہی رہے۔

سعيد فتلك الحزونة فينا حتى الساعة ← ما كنت لأغير اسما سماني به أبي ← حزن فأراد أن يغير اسمه ← لَهُ: «مَا اسْمُكَ؟» ← سعيد بن المسيب أن جده أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3601

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 356 - حوط بن يزيد الأنصاري · حديث 3602

3601 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا يحيى بن عبد الحميد ثنا عبد الرحمن بن الغسيل ثنا حمزة بن أبي أسيد Y حدثني الحارث بن زياد الساعدي أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم يوم الخندق وهو يبايع الناس على الهجرة فقال : يا رسول الله بايع هذا على الهجرة قال : ومن هذا ؟ قال : ابن عمي حوط بن يزيد أو يزيد بن حوط فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا أبايعكم إن الناس يهاجرون إليكم وأنتم لا تهاجرون إليهم

حضرت حارث بن زیاد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خندق کےدن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں سے ہجرت کرنے پر بیعت لے رہےتھے ،عرض کی ،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو ہجرت پر بیعت کریں!آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :یہ کون ہے؟عرض کی :میرا چچا ذاد حوط بن یزید ،یایزید بن حوط ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :میں آپ کی بیعت نہیں کروں گا ،لو گ تو تمھاری طرف ہجرت کرکے جارہے ہیں اور تم ان کی طرف ہجرت نہیں کرو گے۔

حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيلِ ← يحيى بن عبد الحميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3602

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 357 - حميد بن ثور الهلالي · حديث 3603

3602 - حدثنا أنس بن سلم الخولاني ثنا هاشم بن القاسم الحراني ثنا يعلى بن الأشدق بن جراد Y حدثني حميد بن ثور الهلالي أنه حين أسلم أتى النبي صلى الله عليه و سلم فأنشده : ( أصبح قلبي من سليمى مقصدا ... إن خطأ منها وإن تعمدا ) ( من ساعة لم تك إلا مقعدا ... فحمل الهم كنازا جلعدا ) ( ترى الدلا في عليها مؤكدا ... دمى بسقيها خدب ما عدا ) ( إذا السراب بالفلاة اطردا ... وأبحر الماء الذي توردا ) ( تورد السيد أراد المرصدا ... ما ورق مصدر من أورد ) ( ما يشتفي منكم طبيب أبدا ... الجد فيما ينبغي وأوجدا ) ( حتى أتيت المصطفى محمدا ( صلى الله عليه و سلم ) ... [ يتلو من الله كتابا مرشدا ] )

حضرت یعلی ٰ بن اشدق بن جرار فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت حمید بن ثور الہلالی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جس وقت وہ مسلمان ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ،یہ اشعار پڑھے :میرے دل نے صبح کی سلیمی مقام سے ارادہ کیا ،خواہ اس سے خطا ہوئی یہ جان بوجھ کر کیا ،اس گھڑی جو تھوڑی دیر بیٹھنے کی مقدار تھی ،پس اس نے غم کو برداشت کیا اس حال میں کہ کھجور ذخیرہ کرنے کاوقت تھا ور وہ مضبوط تھا،گدھ اس پر آنکھیں جما کر دیکھتے ہیں ،پتلی کو پینے کے ساتھ ،اس کے سوا کاٹ دار تلوار ہے،جب دوردراز صحرا ء میں سراب ہو اور سمندر بنا دیئے ہوں اس پانی نے ،جو گھاٹ پر جانے کا راستہ تلاش کرتا ہے،اس سردر کے راستہ تلاش کرنے کی طرح جس نے گھات کی جگہ کا ارادہ کیا ہے ،ایسے ورق کےساتھ جو بار بار وارد ہونے والے آدمی سے صادر ہونے والے ہیں ،تم میں سے کوئی طبیب کھبی بھی شفاء نہیں پاسکتا ہے ، کوشش اس میں ہوتی ہے جس کا وجود ممکن ہو یا وہ موجود ہو،یہاں تک کہ تو محمد مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا ،جو راہنمائی کرنے والی کتاب کی تلاوت فرمانے والے ہیں۔

يعلى بن الأشدق بن جراد ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ، ← أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3603

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 357 - حميد بن ثور الهلالي · حديث 3604

3603 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا معاوية بن هشام عن سفيان عن عطاء بن السائب عن مالك بن الحارث عن رجل - قال الحضرمي في كتاب أبي كريب Y عن حميد قال عن رجل - فقال : استعمل النبي صلى الله عليه و سلم رجلا على سرية فلما مضى ورجع إليه قال له : كيف وجدت الإمارة ؟ فقال : كنت كبعض القوم كنت إذا ركبت ركبوا وإذا نزلت نزلوا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن صاحب السلطان على باب عنت إلا من عصم الله عز و جل فقال الرجل : والله لا أعمل لك ولا لغيرك أبدا فضحك النبي صلى الله عليه و سلم حتى بدت نواجذه

حضرت حمید ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک سریہ پر امیر مقرر کیا ،جب وہ چلا اور واپس آگیا تو اس کو کہا :تم نے امارت کیسی پائی ہے؟اس نے کہا :میں بعض لوگوں کی طرح تھا ،جب میں سوار ہوا تو وہ سوار بھی سوار ہوئے ،جب میں اتر ا تو وہ بھی اترے ۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :بادشاہ گناہ کےدروازے پر ہے سوائے اس کے جسے اللہ بچائے ،اس آدمی نے کہا :اللہ کی قسم !میں ہمیشہ کے لیے آپ اور آپ کے علاوہ کے لیے کام نہیں کروں گا۔حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں ۔

رَجُلٌ: ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3604

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 357 - حميد بن ثور الهلالي · حديث 3605

3604 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا منجاب بن الحارث ثنا شريك عن عطاء بن السائب Y عن خيثمة قال : بعث النبي صلى الله عليه و سلم رجلا على سرية فذكر نحوه

حضرت خثیمہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک سریہ پر امیر مقرر کیا ،اس کے بعد اوپر والی حدیث ذکر کی ۔

بعث النبي صلى الله عليه و سلم رجلا على سرية فذكر نحوه ← خيثمة ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← شَرِيکٍ ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3605

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 358 - حبيش بن خالد الخزاعي · حديث 3606

3605 - حدثنا علي بن عبد العزيز ( ح ) وحدثنا موسى بن هارون الحمال و علي بن سعيد الرازي و زكريا بن يحيى الساجي قالوا ثنا مكرم بن محرز بن مهدي بن عبد الرحمن بن عمرو بن خويلد بن حليف بن منقذ بن ربيعة بن منبش بن حرام بن حبشية بن كعب بن عمرو بن حارثة بن ثعلبة بن الأزد أبو القاسم الخزاعي ثم الربعي حدثني أبي محرز بن مهدي عن حزام بن هشام بن خالد عن أبيه هشام بن حبيش Y عن أبيه حبيش بن خالد صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين خرج من مكة وخرج منها مهاجرا إلى المدينة وهو و أبو بكر رضي الله عنه ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة رضي الله عنه ودليلهما الليثي عبد الله بن الأريقط مروا على خيمتي أم معبد الخزاعية وكانت برزة جلدة تحتبي بفناء القبة ثم تسقي وتطعم فسألوها لحما وتمرا ليشتروه منها فلم يصيبوا عندها شيئا من ذلك وكان القوم مرملين مسنتين فنظر رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى شاة في كسر الخيمة فقال : ما هذه الشاة يا أم معبد ؟ قالت : خلفها الجهد عن الغنم قال : فهل بها من لبن ؟ قالت : هي أجهد من ذلك قال : أتأذنين أن أحلبها قالت : بلى بأبي أنت وأمي نعم إن رأيت بها حلبا فاحلبها فدعا بها رسول الله صلى الله عليه و سلم فمسح بيده ضرعها وسمى الله عز و جل ودعا لها في شاتها فتفاحت عليه ودرت واجترت ودعا بإناء يربض الرهط فحلب فيها ثجا حتى علاه البهاء ثم سقاها حتى رويت وسقى أصحابه حتى رووا وشرب آخرهم صلى الله عليه و سلم ثم أراضوا ثم حلب فيها ثانيا بعد بدء حتى ملأ الإناء ثم غادره عندها ثم بايعها وارتحلوا عنها فقلما لبثت حتى جاء زوجها أبو معبد يسوق أعنزا عجافا يتساوكن هزلا ضحى مخهن قليل فلما رأى أبو معبد اللبن عجب وقال : من أين لك هذا اللبن يا أم معبد ؟ والشاة عازب حيال ولا حلوبة في البيت قالت : لا والله إلا أنه مر بنا رجل مبارك من حاله كذا وكذا قال : صفيه لي يا أم معبد قالت : رأيت رجلا ظاهر الوضاءة أبلج الوجه حسن الخلق لم تعبه ثحلة ولم تزر به صعلة وسيم في عينيه دعج وفي أشفاره وطف وفي صوته صهل وفي عنقه سطع وفي لحيته كثاثة أزج أقرن إن صمت فعليه الوقار وإن تكلم سماه وعلاه البهاء أجمل الناس وأبهاه من بعيد وأحلاه وأحسنه من قريب حلو المنطق فصل لا هذر ولا تزر كأن منطقه خرزات نظم يتحدرن ربع لا يأس من طول ولا تقتحمه عين من قصر غصن بين غصنين فهو أنضر الثلاثة منظرا وأحسنهم قدرا له رفقاء يحفون به إن قال أنصتوا لقوله وإن أمر تبادروا إلى أمره محفود محشود لا عابس ولا مفند قال أبو معبد : هو والله صاحب قريش الذي ذكر لنا أمره ما ذكر بمكة ولقد هممت أن أصحبه ولأفعلن إن جدت إلى ذلك سبيلا فأصبح صوت بمكة عليا يسمعون الصوت ولا يدرون من صاحبه وهو يقول : ( جزى الله رب الناس خير جزائه ... رفيقين قالا خيمتي أم معبد ) ( هما نزلاها بالهدى واهتدت به ... فقد فاز من أمسى رفيق محمد ) ( فيا لقصي ما زوى الله عنكم ... به من فعال لا تجارى وسؤدد ) ( ليهن بني كعب مكان فتاتهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد ) ( سلوا أختكم عن شاتها وإنائها ... فإنكم إن تسألوا الشاة تشهد ) ( دهاعا بشاة حائل فتحلبت ... عليه صريحا ضرة الشاة مزيد ) ( فغادرها رهنا لديها لحالب ... يرددها في مصدر ثم مورد ) فلما أن سمع حسان بن ثابت بذلك شبب يجيب الهاتف وهو يقول : ( لقد خاب قوم زال عنهم نبيهم ... وقدس من يسري إليهم ويغتدي ) ( ترحل عن قوم فضلت عقولهم ... وحل على قوم بنور مجدد ) ( هداهم به بعد الضلالة ربهم ... وأرشدهم من يتبع الحق يرشد ) ( وهل يستوي ضلال قوم تسفهوا ... عمايتهم هاد به كل مهتد ) ( وقد نزلت منه على أهل يثرب ... ركاب هدى حلت عليهم بأسعد ) ( نبي يرى ما لا يرى الناس حوله ... ويتلو كتاب الله في كل مسجد ) ( وإن قال في يوم مقالة غائب ... فتصديقها في اليوم أو في ضحى الغد ) ( ليهن أبا بكر سعادة جده ... بصحبته من يسعد الله يسعد ) ( ليهن بني كعب مكان فتاتهم ... ومقعدها للمؤمنين بمرصد ) زاد موسى بن هارون في حديثه قال وحدثناه مجاهد بن موسى عن مكرم فقال لنا : لم تعبه ثحلة ولم تزر به صقلة والصواب ثجلة وصعلة الثجلة كبر البطن والصعلة صغر الرأس يريد أنه صلى الله عليه و سلم لم يكن كبير البطن ولا صغير الرأس وقال لنا مكرم : في أشفاره عطف وفي صوته ضهل وقال لنا مجاهد عن مكرم : في أشفاره وطف في صوته صحل والصواب وطف وهو الطول والصواب صحل وهي البحة وقال لنا مكرم : لا ياس من طول والصواب لا يتشنا من طول وقال لنا مكرم : ولا عابس ولا معتد وقال لنا مجاهد عن مكرم : لا عابس ولا مفند يعني لا عابس ولا مكذب

حضرت حبیش بن خالد صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مکہ سے تشریف لے چلے اور آپ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے جارہےتھے تو آپ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ اور ان دونوں کو راستہ بتانے والے لیثی عبداللہ بن اریقط تھے ،تما م حضرات بنو خزاعہ قبیلے کی ایک عورت ابن معبد کے خیموں کے پاس سے گزرے جبکہ وہ لوگوں سے میل جول رکھنے والی ،خاندان والی تھی،وہ قبہ کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی ،پھر وہ پلاتی تھی ،کھلاتی تھی،انہوں نے اس سے گوشت اور کھجوریں پوچھیں تاکہ اس سے خریدیں لیکن ان میں سے کوئی چیز نہ پائی سب کو بھوک لگی ہوئی تھی ،رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر پڑی خیمہ کے ایک کونہ میں ایک بکری کھڑی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ام معبد ! یہ بکری کیسی ہے ؟اس نے کہا یہ ریوڑ کےساتھ نہیں جاسکتی ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کے نیچے دودھ ہے ،تو اس نے کہا یہ بہت کمزور ہے ،دودھ دینے سے عاجز ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :کیا تو اجازت دیتی ہے کہ کیا ہم اس سے دودھ نکال لیں ؟اس نے کہا :کیوں نہیں !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں ! اگر اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو بڑی خوشی سے دودھ نکال لیں ۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو منگوایا ،اس کی کھیری پر ہاتھ پھیرا اور اللہ کا نام لیا ،بکری کے لیے دعا کی ،برتن منگوایا اور اس میں دودھ دوھنا شروع کردیا یہاں تک کہ وہ بھر گیا ،پھر اس کے پا س ٹھہرے ،اس سے بیعت لے کر وہاں سے کوچ کیا ،تھوڑی دیر گزری تھی کہ اس کا خاوند ابو معبد بھی آگیا ،وہ بکریوں کا ریوڑ ہانک رہا تھا ،کئی کمزور بکریاں تھیں جن کا مغز تھوڑا تھا ،پس جب ابو معبد کی نظر دودھ پر پڑی تو وہ حیران ہوا اور کہا :اے امعبد !یہ دودھ کہاں سے آیا ہے حالانکہ بکری تو کمزور ہے ،گھر میں بھی دود ھ نہیں تھا ۔اس نے کہا :خدا کی قسم ! ہمارے پاس ایک برکت والا آدمی گزرا اس کا حال اس طرح تھا ،اس نے کہا :اے ام معبد ! اس کی صفت بیان کرو،اس نے کہا میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا جس سے روشنی ظاہر ہورہی تھی ،چہرہ خوبصورت تھا اور شکل اچھی تھی ،پیٹ بڑا نہیں تھا ،سر چھوٹا نہیں تھا ،آنکھیں موٹی موٹی چمکدار ،ہونٹ باریک اور لمبے یعنی معتدل ،اس کی آواز میں مٹھاس اور نرمی تھی،گردن لمبی پھیلی ہوئی تھی ،داڑھی بھاری تھی،بھنویں لمی ،ابرو ابھرے ہوئے اور ملے ہوئے ،اگر وہ خاموش ہوتے تو ان پر وقار نظر آتا ،اگر کلام کرتے تو چہرے پر رونق چھا جاتی ،تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت ،دور سےچمکتے ہوئے دکھائ دیتے تھے ،لہجہ میٹھا تھا ،قریب سے انتہائی حسین معلوم ہوتے تھے ،بول میٹھے تھے اور ہر بات الگ الگ کرتے ،نہ فضول کلام فرماتے ،نہ کسی پر بوجھ ہوتی ،ان کی کلام گویا کہ تسبیح میں پروئے ہوئے دانے ہیں ،انتہائی سلاست سے ادا ہوتے تھے ،درمیانہ قد تھے ،لمبا ہونے کے قریب سےبری ،آنکھ چوٹا ہونے کے قریب سے پاک ،دو ٹہنیوں کےدرمیان خوبصورت ٹہنی کی مانند ،دیکھنے کے لحاظ سے تروتازہ ،قدر کے اعتبار سے حسین و جمیل ،ان کے دوست ایسے محبت کرنے والے کہ ان کو پیار سے گھیر ے میں لے لیتے تھے ،اگر وہ محو کلام ہوتے تو ان پر خاموشی چھا جاتی ،اگر وہ حکم دیتے تو اسے پورا کرنے کے لیے ایک دوسرے سےآگے بڑھنے کی کوشش کرتے ،وہ اپنی قوم میں ایسے قابل احترام وا اطاعت تھے ،جس کی خدمت کے لیے سب تیار ہوں ،خشک مزاج منہ پر تیوری چڑھانے والے نہیں تھے ،انہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ابو معبد نے کہا :وہ قسم بخدا ! قریش کے ساتھی ہیں جن کا معاملہ ہمارے سامنے ذکر ہوا ،مکہ میں جو بھی ذکر ہوا ،تحقیق میں نے ارادہ کیا کہ اس کی صحبت اختیار کروں،میں ایسا ضرور کروںگا اگر میں ان تک پہنچنے کا راستہ پالوں ،ان کی آواز مکہ میں بلند ہو چکی ہے ،لو گ ان کی بات سنتے تو ہیں لیکن اپنے ساتھی کو دور نہیں کرسکتے ،وہ کہنے لگے:لوگوں کا رب ان کو بہترین بدلہ دے دونوں دوستوں کو ،انہوں نے ام معبد کے خیمہ میں قیلولہ کیا ،ان دونوں نے نزول اجلال فرمایا ہدایت کے ساتھ اس خیمہ میں اور صاحب خیمہ نے بھی ہدایت پائی ،پس وہ کامیاب ہوا جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رفیق کے ساتھ شام کی ،پس اے قصی قبیلہ ! اللہ تعالیٰ تمہایکاموں اور سرداری کو کبھی زوال نہ دے ،انہیں چاہیے کہ وہ بنی کعب کو رسوا کردیں بجائے ان کے جوانوں کے حالانکہ ان کے جوانوں کا ٹھکانہ بھی مومنوں کی تاڑ میں ہے،اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے حوالےسے پوچھو ،اگر تم بکری سے بھی سوال کرو گے تو وہ بھی گواہی دے گی،انہوں نے کمزور بکری کو منگوایا اور اس بکری کی کھیری سے دودھ آیا ،سب کے سامنے اور مکھن والا ،پس اس بکری کے اس کے پاس ہی دوھنے والےکے لیے باقی رکھا ،دودھ دوھنے والا اس نکلنے اور دخل ہونے کی جگہ میں روتا ہے"۔پس جب حضرت حسان بن ثابت نے اسے سنا تو انہیں جو ش آیا وہ اس غیبی آواز کا جواب دینے لگے ،فرماتے ہیں :اس بات میں کوئی شک نہیں کہا اس قوم نے گھاٹا پایا ،جس کا نبی اس کے پاس سے چلا گیا اور وہ لوگ پاکیزہ ہوئے جو رات کو یا دن کو اس کی طرف چلے،سو انہوں نے قوم سے کوچ کیا ،اس قوم کی عقلیں ماری گئیں اور انہوں نے دوسری قوم کے پاس نئے نور سے کے ساتھ ڈیرہ لگایا ،نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے ،ان کے رب نے ان کی گمراہی کے بعد انہیں ہدایت دی اور ان کی خوب راہنمائی فرمائی ،جو حق کی پیروی کرتا ہے ،اس کی راہنمائی کی جاتی ہے،اور کیا احمق اور قوم کے گمراہ لوگ ،ہر ہدایت پانے والے کو ہدایت دینے والے کے برابر ہو سکتے ہیں ،ان کی وجہ سے یثرب والوں پر ہدایت کی رکاب اتری ،پھر بے شمار سعادتوں کے ساتھ ،ان میں ڈیرے ڈال دیے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کچھ دیکھتا ہے جو لوگ اپنے اردگرد نہیں دیکھ سکتے ،اور ہر سجدہ گاہ میں اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے،اگر چہ کسی دن غائب کی بات بھی کر دیتا ہے ،جس کی تصدیق اسی دن ہو جاتی ہے یا اگلے دن ہو جاتی ہے،یعنی جو بات فرماتے ہیں وہ پوری ہو جاتی ہے،ابو بکر کی خاندانی سعادت نے ان کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت حاصل کرنے کو آسان بنا دیا ،اللہ تعالیٰ جسے چاہے سعادت عطا فرمائے ،اسے سعادت ملجاتی ہے،بنی کعب کی نوجوان عورتیں ان کو مبارکباد دیں اور ایمان والوں کے لیے ان کے بیٹھنے کا انتظار کیا جارہا ہے"۔حضرت موسی ٰ بن ہارون نے اپنی حدیث میں اضافہ فرمایا ،کہا ؛اور حضرت مکرم سے روایت کرکے مجاہد بن موسی ٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ،پس انہوں نے ہم سے کہا ؛پیٹ کا بڑا ہونا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عیب نہیں لگاتا تھا اور نہ ہی سر کا چھوٹا ہونا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عیب لگاتا تھا ۔درست لفظ "ثجلۃ "اور صعلیۃ ،ثجلہۃ ،کا معنی پیٹ کا بڑا ہونا اور "صعلتہ "کا معنی سر کا چھوٹا ہونا ،ان کی مراد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے پیٹ والے نہ تھے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر چھوٹا تھا ،اور مکرم نے ہم سے کہا :آپ کے ہونٹ لمبے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز میں گونج تھی اور رعب تھا ۔حضرت مکرم سے روایت کرکے جناب مجاہد نے ہمیں فرمایا :اصل الفاظ "فی اشفارہ وطف فی صوتہ صحل "ہیں اور "وطف "ہی درست ہے،جس کا معنی لمبا ئی ہے اور درست "صحل "ہےجس کا معنی آواز کا بھاری ہونا ۔حضرت مکرم نے ہم سے کہا :لمبا ہونے میں کوئی حرج نہیں ہےاور درست الفاظ لا یتشنا "ہیں اور مکرم نے ہمیں یہ بھی کہا :چیں بجیں ہونے والے نہ تھے ،نہ حد سے تجاوز کرنے والے تھے۔حضرت مکرم سے روایت ہے کرکے مجاہد نے ہم سے کہا :لا عابس ولا مفند"ہے یعنی نہ ماتھے تیوری چڑ ھانے والے اور نہ جھٹلانے گئے تھے۔

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3606

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter
84. Chapter
85. Chapter
86. Chapter
87. Chapter
88. Chapter
89. Chapter
90. Chapter
91. Chapter
92. Chapter
93. Chapter
94. Chapter
95. Chapter
96. Chapter
97. Chapter
98. Chapter
99. Chapter
100. Chapter
101. Chapter
102. Chapter
103. Chapter
104. Chapter
105. Chapter
106. Chapter
107. Chapter
108. Chapter
109. Chapter
110. Chapter
111. Chapter
112. Chapter
113. Chapter
114. Chapter
115. Chapter
116. Chapter
117. Chapter
118. Chapter
119. Chapter
120. Chapter
121. Chapter
122. Chapter
123. Chapter
124. Chapter
125. Chapter
126. Chapter
127. Chapter
128. Chapter
129. Chapter
130. Chapter
131. Chapter
132. Chapter
133. Chapter
134. Chapter
135. Chapter
136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
341. Chapter
342. Chapter
343. Chapter
344. Chapter
345. Chapter
346. Chapter
347. Chapter
348. Chapter
349. Chapter
350. Chapter
351. Chapter
352. Chapter
353. Chapter
354. Chapter
355. Chapter
356. Chapter
357. Chapter
358. Chapter
359. Chapter
360. Chapter
361. Chapter
362. Chapter
363. Chapter
364. Chapter
365. Chapter
366. Chapter
367. Chapter
368. Chapter
369. Chapter
370. Chapter
371. Chapter
372. Chapter
373. Chapter
374. Chapter
375. Chapter
376. Chapter
377. Chapter
378. Chapter
379. Chapter
380. Chapter
381. Chapter
382. Chapter
383. Chapter
384. Chapter
385. Chapter
386. Chapter
387. Chapter
388. Chapter
389. Chapter
390. Chapter
391. Chapter
392. Chapter
393. Chapter
394. Chapter
395. Chapter
396. Chapter
397. Chapter
398. Chapter
399. Chapter
400. Chapter
401. Chapter
402. Chapter
403. Chapter
404. Chapter
405. Chapter
406. Chapter
407. Chapter
408. Chapter
409. Chapter
410. Chapter
411. Chapter
412. Chapter
413. Chapter
414. Chapter
415. Chapter
416. Chapter
417. Chapter
418. Chapter
419. Chapter
420. Chapter
421. Chapter
422. Chapter
423. Chapter
424. Chapter
425. Chapter
426. Chapter
427. Chapter
428. Chapter
429. Chapter
430. Chapter
431. Chapter
432. Chapter
433. Chapter
434. Chapter
435. Chapter
436. Chapter
437. Chapter
438. Chapter
439. Chapter
440. Chapter
441. Chapter
442. Chapter
443. Chapter
444. Chapter
445. Chapter
446. Chapter
447. Chapter
448. Chapter
449. Chapter
450. Chapter
451. Chapter
452. Chapter
453. Chapter
454. Chapter
455. Chapter
456. Chapter
457. Chapter
458. Chapter
459. Chapter
460. Chapter
461. Chapter
462. Chapter
463. Chapter
464. Chapter
465. Chapter
466. Chapter
467. Chapter
468. Chapter
469. Chapter
470. Chapter
471. Chapter
472. Chapter
473. Chapter
474. Chapter
475. Chapter
476. Chapter
477. Chapter
478. Chapter
479. Chapter
480. Chapter
481. Chapter
482. Chapter
483. Chapter
484. Chapter
485. Chapter
486. Chapter
487. Chapter
488. Chapter
489. Chapter
490. Chapter
491. Chapter
492. Chapter
493. Chapter
494. Chapter
495. Chapter
496. Chapter
497. Chapter
498. Chapter
499. Chapter
500. Chapter
501. Chapter
502. Chapter
503. Chapter
504. Chapter
505. Chapter
506. Chapter
507. Chapter
508. Chapter
509. Chapter
510. Chapter
511. Chapter
512. Chapter
513. Chapter
514. Chapter
515. Chapter
516. Chapter
517. Chapter
518. Chapter
519. Chapter
520. Chapter
521. Chapter
522. Chapter
523. Chapter
524. Chapter
525. Chapter
526. Chapter
527. Chapter
528. Chapter
529. Chapter
530. Chapter
531. Chapter
532. Chapter
533. Chapter
534. Chapter
535. Chapter
536. Chapter
537. Chapter
538. Chapter
539. Chapter
540. Chapter
581. Chapter
582. Chapter
583. Chapter
584. Chapter
585. Chapter
586. Chapter
587. Chapter
588. Chapter
589. Chapter
590. Chapter
591. Chapter
592. Chapter
593. Chapter
594. Chapter
595. Chapter
596. Chapter
597. Chapter
598. Chapter
599. Chapter
600. Chapter
601. Chapter
602. Chapter
603. Chapter
604. Chapter
605. Chapter
606. Chapter
607. Chapter
608. Chapter
609. Chapter
610. Chapter
611. Chapter
612. Chapter
613. Chapter
614. Chapter
615. Chapter
616. Chapter
617. Chapter
618. Chapter
619. Chapter
620. Chapter
621. Chapter
622. Chapter
623. Chapter
624. Chapter
625. Chapter
626. Chapter
627. Chapter
628. Chapter
629. Chapter
630. Chapter
631. Chapter
632. Chapter
633. Chapter
634. Chapter
635. Chapter
636. Chapter
637. Chapter
638. Chapter
639. Chapter
640. Chapter
641. Chapter
642. Chapter
643. Chapter
644. Chapter
645. Chapter
646. Chapter
647. Chapter
648. Chapter
649. Chapter
650. Chapter
651. Chapter
652. Chapter
653. Chapter
654. Chapter
655. Chapter
656. Chapter
657. Chapter
658. Chapter
659. Chapter
660. Chapter
661. Chapter
662. Chapter
663. Chapter
664. Chapter
665. Chapter
666. Chapter
667. Chapter
668. Chapter
669. Chapter
670. Chapter
671. Chapter
672. Chapter
673. Chapter
674. Chapter
675. Chapter
676. Chapter
677. Chapter
678. Chapter
679. Chapter
680. Chapter
681. Chapter
682. Chapter
683. Chapter
684. Chapter
685. Chapter
686. Chapter
687. Chapter
688. Chapter
689. Chapter
690. Chapter
691. Chapter
692. Chapter
693. Chapter
694. Chapter
695. Chapter
696. Chapter
697. Chapter
698. Chapter
699. Chapter
700. Chapter
701. Chapter
702. Chapter
703. Chapter
704. Chapter
705. Chapter
706. Chapter
707. Chapter
708. Chapter
709. Chapter
710. Chapter
711. Chapter
712. Chapter
713. Chapter
714. Chapter
715. Chapter
716. Chapter