المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 348 - حسان بن ثابت الأنصاري يكنى أبا الوليد وهو حسان بن ثابت بن عمرو بن زيد بن عدي بن النجار بن ثعلبة بن عمرو بن الخزرج · حديث 3583
3582 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن عمارة بن غزية عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل فأرسل إلى ابن رواحة فقال : اهجهم فهجاهم فلم يرض فأرسل إلى كعب بن مالك ثم أرسل إلى حسان بن ثابت فلما دخل حسان قال : قد آن لكم أن ترسلوا إلى هذا الأسد الضارب بذنبه ثم دلع لسانه فجعل يحركه قال : والذي بعثك بالحق لأفرينهم فري الأديم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تعجل فإن أبا بكر أعلم قريش بأنسابها وإن لي فيهم نسبا حتى يخلص لك نسبي فأتاه حسان ثم رجع فقال : يا رسول الله قد خلص لي نسبك والذي بعثك بالحق لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين قالت عائشة : فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لحسان : إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله قالت : فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هجاهم حسان فشفى واشتفى قال حسان : ( هجوت محمدا فأجبت عنه ... وعند الله في ذاك الجزاء ) ( هجوت محمدا برا حنيفا ... رسول الله شيمته الوفاء ) ( فإن أبي ووالده وعرضي ... لعرض محمد منكم وقاء ) ( ثكلت بنيتي إن لم تروها ... تثير النقع من كتفي كداء ) ( ينازعني الأعنة مصعدات ... على أكتافها الأسل الظماء ) ( تظل جيادنا متمطرات ... تلطمهن بالخمر النساء ) ( فإن أعرضتم عنا اعتمرنا ... وكان الفتح وانكشف الغطاء ) ( وإلا فاصبروا لضراب يوم ... يعز الله فيه من يشاء ) ( وقال الله قد أرسلت عبدا ... يقول الحق ليس به خفاء ) ( وقال الله قد يسرت جندا ... هم الأنصار عرضتها اللقاء ) ( تلاقي من معد كل يوم ... سبايا أو قتالا أو هجاء ) ( فمن يهجو رسول الله منكم ... ويمدحه وينصره سواء ) ( وجبريل رسول الله فينا ... وروح القدس ليس له كفاء )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا :قریش کی مذمت بیان کرو کیونکہ یہ ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت ہے ،آپ نے ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا :ان کی برائی بیان کی ،اسی پر بس نہیں کیا ،آپ نے کعب بن مالک کی طرف بھی پیغام بھیجا ،پھر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طر ف پیغام بھیجا ،حضرت حسان بن ثابت آئے ،آپ نے فرمایا :ہمارے لیے وقت قریب آگیا ہے کہ تم شکاری شیر کی طرف تیر پھینکو ،پھر اپنی زبان کو حرکت دینا شروع کی ،فرمایا :قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ،میں ا ن کی خوب مذمت کروں گا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جلدی نہ کرو کیونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب خوب جانتے ہیں ،میرا نسب بھی انہی میں ہے یہاں تک کہ میرا نسب الگ کرلو۔پس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ،پھر لوٹ گئے ۔عرض کی :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے آپ کا نسب الگ کرلیا ہےمیں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے سے بال نکالا جاتا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنا ،آپ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ اسلام مسلسل تمھاری مدد کریں گے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے رہیں گے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ان کی مذمت کی ،سننے والوں کو مطمن کیا اور خود بھی مطمئن ہوئے ۔حضر ت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا :( اے دشمن رسول )تو نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت کی ہے اور میں نے اس کا جواب دیا ہے ،اور اس میں اللہ کے ہاں اجر ہے ،تو نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت بیان کی جو نیک بھی ہیں اور حق کی طرف جھکنے والے ہیں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت وفا کرنا ہے ،بے شک میرا باپ ،میری ماں اور میری عزت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کیلئے قربان ہے ،میں نے اپنی بیٹیوں کو گم کیا ہے ،اگر تم نے انہیں دیکھا ،وہ کندھوں سے گرد اڑاتی ہیں ،پس اگر تم نے ان سے اعراض کیا ہے ،فتح ہے اور پردوں کا اٹھنا ہے ،ورنہ تم صبر کرو اس دن کی مار کیلئے جس میں اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے بندے کو بھیجا جو حق کہتا ہے ،ظلم نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :میں نے لشکر عطا ء کیے ،وہ انصار ہیں ان کی منزل ملاقات ہے وہ ہر دن قبیلے سے جنگ کرتے ہیں ،کئی کو قیدی بناتے ہیں ،کئی کو قتل کرتے ہیں یا مذمت کرتے ہیں،تم می سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت کرتا ہے اور جو تعریف کرتا ہے اور مدد کرتا ہے کیا وہ برابر ہیں اورحضرت جبرائیل علیہ اسلام ہم میں اللہ کے قاصد ہیں اور روح القدس کا کوئی ہم پلہ نہیں ۔"
عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3583
