Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 348 - حسان بن ثابت الأنصاري يكنى أبا الوليد وهو حسان بن ثابت بن عمرو بن زيد بن عدي بن النجار بن ثعلبة بن عمرو بن الخزرج · حديث 3583

3582 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني خالد بن يزيد عن سعيد بن أبي هلال عن عمارة بن غزية عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن Y عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اهجوا قريشا فإنه أشد عليهم من رشق النبل فأرسل إلى ابن رواحة فقال : اهجهم فهجاهم فلم يرض فأرسل إلى كعب بن مالك ثم أرسل إلى حسان بن ثابت فلما دخل حسان قال : قد آن لكم أن ترسلوا إلى هذا الأسد الضارب بذنبه ثم دلع لسانه فجعل يحركه قال : والذي بعثك بالحق لأفرينهم فري الأديم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تعجل فإن أبا بكر أعلم قريش بأنسابها وإن لي فيهم نسبا حتى يخلص لك نسبي فأتاه حسان ثم رجع فقال : يا رسول الله قد خلص لي نسبك والذي بعثك بالحق لأسلنك منهم كما تسل الشعرة من العجين قالت عائشة : فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لحسان : إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله قالت : فسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : هجاهم حسان فشفى واشتفى قال حسان : ( هجوت محمدا فأجبت عنه ... وعند الله في ذاك الجزاء ) ( هجوت محمدا برا حنيفا ... رسول الله شيمته الوفاء ) ( فإن أبي ووالده وعرضي ... لعرض محمد منكم وقاء ) ( ثكلت بنيتي إن لم تروها ... تثير النقع من كتفي كداء ) ( ينازعني الأعنة مصعدات ... على أكتافها الأسل الظماء ) ( تظل جيادنا متمطرات ... تلطمهن بالخمر النساء ) ( فإن أعرضتم عنا اعتمرنا ... وكان الفتح وانكشف الغطاء ) ( وإلا فاصبروا لضراب يوم ... يعز الله فيه من يشاء ) ( وقال الله قد أرسلت عبدا ... يقول الحق ليس به خفاء ) ( وقال الله قد يسرت جندا ... هم الأنصار عرضتها اللقاء ) ( تلاقي من معد كل يوم ... سبايا أو قتالا أو هجاء ) ( فمن يهجو رسول الله منكم ... ويمدحه وينصره سواء ) ( وجبريل رسول الله فينا ... وروح القدس ليس له كفاء )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےفرمایا :قریش کی مذمت بیان کرو کیونکہ یہ ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت ہے ،آپ نے ابن رواحہ کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا :ان کی برائی بیان کی ،اسی پر بس نہیں کیا ،آپ نے کعب بن مالک کی طرف بھی پیغام بھیجا ،پھر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طر ف پیغام بھیجا ،حضرت حسان بن ثابت آئے ،آپ نے فرمایا :ہمارے لیے وقت قریب آگیا ہے کہ تم شکاری شیر کی طرف تیر پھینکو ،پھر اپنی زبان کو حرکت دینا شروع کی ،فرمایا :قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ،میں ا ن کی خوب مذمت کروں گا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جلدی نہ کرو کیونکہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ قریش کے نسب خوب جانتے ہیں ،میرا نسب بھی انہی میں ہے یہاں تک کہ میرا نسب الگ کرلو۔پس حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ،پھر لوٹ گئے ۔عرض کی :اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے آپ کا نسب الگ کرلیا ہےمیں آپ کو ان سے اس طرح نکال لوں گا جس طرح آٹے سے بال نکالا جاتا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سنا ،آپ حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ اسلام مسلسل تمھاری مدد کریں گے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے جواب دیتے رہیں گے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ان کی مذمت کی ،سننے والوں کو مطمن کیا اور خود بھی مطمئن ہوئے ۔حضر ت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا :( اے دشمن رسول )تو نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت کی ہے اور میں نے اس کا جواب دیا ہے ،اور اس میں اللہ کے ہاں اجر ہے ،تو نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت بیان کی جو نیک بھی ہیں اور حق کی طرف جھکنے والے ہیں ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت وفا کرنا ہے ،بے شک میرا باپ ،میری ماں اور میری عزت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کیلئے قربان ہے ،میں نے اپنی بیٹیوں کو گم کیا ہے ،اگر تم نے انہیں دیکھا ،وہ کندھوں سے گرد اڑاتی ہیں ،پس اگر تم نے ان سے اعراض کیا ہے ،فتح ہے اور پردوں کا اٹھنا ہے ،ورنہ تم صبر کرو اس دن کی مار کیلئے جس میں اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا عزت عطا فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے بندے کو بھیجا جو حق کہتا ہے ،ظلم نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا :میں نے لشکر عطا ء کیے ،وہ انصار ہیں ان کی منزل ملاقات ہے وہ ہر دن قبیلے سے جنگ کرتے ہیں ،کئی کو قیدی بناتے ہیں ،کئی کو قتل کرتے ہیں یا مذمت کرتے ہیں،تم می سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مذمت کرتا ہے اور جو تعریف کرتا ہے اور مدد کرتا ہے کیا وہ برابر ہیں اورحضرت جبرائیل علیہ اسلام ہم میں اللہ کے قاصد ہیں اور روح القدس کا کوئی ہم پلہ نہیں ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3583

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 348 - حسان بن ثابت الأنصاري يكنى أبا الوليد وهو حسان بن ثابت بن عمرو بن زيد بن عدي بن النجار بن ثعلبة بن عمرو بن الخزرج · حديث 3584

3583 - حدثنا علي بن عبد العزيز و محمد بن العباس و إسحاق بن أحمد الخزاعي المكي و إبراهيم بن متويه الأصبهاني قالوا ثنا الزبير بن بكار ثنا أبو غزية محمد بن موسى ثنا عبد الله بن مصعب عن هشام بن عروة عن فاطمة بنت المنذر Y عن جدتها أسماء بنت أبي بكر قالت : مر الزبير بن العوام رضي الله عنه بمجلس من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم و حسان بن ثابت ينشدهم من شعره وهم غير نشاط لما يسمعون منه فجلس الزبير معهم وقال : مالي أراكم غير أذنين لما تسمعون من شعر ابن الفريعة فلقد كان يعرض له لرسول الله صلى الله عليه و سلم فيحسن استماعه ويجزل عليه ثوابه ولا يشغل عنه بشيء فقال حسان : ( أقام على عهد النبي وهديه ... حواريه والقول بالفعل يعدل ) ( أقام على منهاجه وطريقه ... يوالي ولي الحق والحق أعدل ) ( هو الفارس المشهور والبطل الذي ... يصول إذا ما كان يوم محجل ) ( إذا كشفت عن ساقها الحرب حشها ... بأبيض سباق إلى الموت يرفل ) ( وإن امرءا كانت صفية أمه ... ومن أسد في بيتها لمؤمل )

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ان کو شعر سنا رہے تھے لیکن وہ چستی سے ان کو سن نہیں رہے تھے ۔حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس کھڑے ہو کر کہا :کیا بات ہے کہ تم ابن فریعہ کے شعرسن کر داد نہیں دے رہےہو۔تحقیق یہ اپنے شعر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے پیش کرتے تھے اور آپ ان کو بڑے اچھے طریقے سے سنتے اور اس پر انعام بھی دیتے اور کسی او ر چیز کی طرف مصروف نہیں ہوتے تھے۔توحضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وعد اور ہدایت پر قائم رہا اور اس کے ساتھی بھی جبکہ قول ،فعل کامتبادل ہوتا ہے،کیا وہ آپ کےمنہاج اور طریقے پر قائم رہے ،وہ حق کے حقدار کے والی ہوئے اور حق ہی سیدھا راستہ ہے،وہ شہرت یافتہ شاہسوار ہیں ،اور ایسے بطل جلیل ہیں جو حملہ کرتے ہیں ،جب مشکل دن ہو،جب جنگ اپنی پنڈلی ننگی کرے یعنی جنگ برپا ہو جائے،تو وہ اپنے سفید چہرہ کے ساتھ ،اس جنگ کو مزید بھڑکاتے ہیں ،وہ موت کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں ،متکبرانہ انداز میں چلتا ہے،(نوٹ :نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے :تکبر کرنے والے کے سامنے تکبر کرنا صدقہ ہے)ایک وہ آدمی جس کی ماں صاف ستھری ہو اور اس کے گھر میں شیر ہو اس سے امید رکھی جاتی ہے۔"

جدتها أسماء بنت أبي بكر ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ، ← أَبُو غَزِيَّةَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3584

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3585

3584 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري Y عن ابن المسيب أن حسان بن ثابت كان في حلقة فيهم أبو هريرة فقال له : أنشدك الله يا أبا هريرة أسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أجب عني أيدك الله بروح القدس ؟ قال : اللهم نعم

حضرت ابن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک حلقہ میں تھے ،وہاں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ،حضرت حسان نے عرض کی :اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہےکہ میری طرف سے جواب دے ،اللہ تمھاری حضرت جبریل علیہ اسلام کے ذریعہ سے مدد کرے ؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم ! جی ہاں۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3585

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3586

3585 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن الزهري Y عن ابن المسيب قال : أنشد حسان في المسجد فمر به عمر رضي الله عنه فلحظه فقال : أفي المسجد ؟ أفي المسجد ؟ فقال : والله لقد أنشدت فيه من هو خير منك فخشي أن يرميه برسول الله صلى الله عليه و سلم فأجاز وتركه

حضرت ابن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت حسان رضی اللہ عنہ مسجد میں نعت پڑھ رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے ،آپ ٹھہرے او رفرمایا :کیا آپ مسجد میں پڑھ رہے ہیں ؟حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی :میں نے آپ سے بہتر کی موجودگی میں نعت پڑھی تھی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سن کر ڈر گئے ،اجازت بھی دی اور چھوڑ دیا۔

أفي المسجد أفي المسجد ← أنشد حسان في المسجد فمر به عمر فلحظه ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3586

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3587

3586 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا القعبني و إبراهيم بن بشار الرمادي ثنا سفيان بن عيينة عن الزهري Y عن سعيد بن المسيب قال : مر عمر رضي الله عنه بحسان وهو ينشد في المسجد فلحظ إليه ثم ذكر نحوه

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے ،آپ مسجد میں نعت پڑھ رہے تھے ،آپ وہاں رکے ،پھر اس کے بعد اوپر والی حدیث ذکر کی۔

نَحْوَهُ ← مر عمر بحسان وهو ينشد في المسجد فلحظ إليه ثم ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← القعبني و إبراهيم بن بشار الرمادي ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3587

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3588

3587 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا إبراهيم بن حميد الطويل ثنا صالح بن أبي الأخضر عن الزهري عن أبي سلمة Y عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : أتى عمر على حسان بن ثابت رضي الله عنهما وهو ينشد في المسجد فقال : ههنا ؟ فقال : قد كنت أنشد فيه من هو خير منك فولى عمر رضي الله عنه خشية أن يقول رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أقبل حسان على أبي هريرة فقال : أنشدك الله أتعلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يا حسان أجب عن رسول الله اللهم أيده بروح القدس ؟ قال : نعم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پا س آئے ،آپ رضی اللہ عنہ مسجد میں نعت پڑھ رہے تھے ،او رکہا :یہاں ؟حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے آپ سے بہتر کی موجودگی میں نعت پڑھی تھی،حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات سن کر ڈر گئےاس خوف سے کہ وہ کہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام ہی نہ ذکر کردیں ،پھر حضرت حسان رضی اللہ عنہ ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ،عرض کی حضرت حسان نے عرض کی :اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہےکہ میری طرف سے جواب دے ،اللہ تمھاری حضرت جبریل علیہ اسلام کے ذریعہ سے مدد کرے ؟حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم ! جی ہاں۔

ههنا ← أَتَى عُمَرُ عَلَى حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3588

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3589

3588 - حدثنا علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي قالا ثنا حجاج بن المنهال ( ح ) وحدثنا أبو مسلم الكشي ثنا سليمان بن حرب و عمرو بن مرزوق قال حجاج و سليمان حدثنا شعبة وقال عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن عدي بن ثابت Y عن البراء أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لحسان : اهجهم أو هاجهم و جبريل معك

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا :مشرکوں کو جواب دو حضرت جبریل تمھارے ساتھ ہیں۔

الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← شعبة وقال عمرو بن مرزوق ← حجاج و سليمان ← سليمان بن حرب و عمرو بن مرزوق ← وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← علي بن عبد العزيز و أبو مسلم الكشي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3589

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3590

3589 - حدثنا القاسم بن زكريا ثنا محمد بن عبد الله بن بزيغ ثنا يزيد بن زريع ثنا شعبة عن عدي بن ثابت حدثني البراء قال Y سمعت حسان بن ثابت يقول : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم اهجهم أو هاجهم - يعني المشركين - فإن جبريل معك

حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا :مشرکوں کی مزمت کرو،حضرت جبریل تمھارے ساتھ ہیں ۔

حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيغٍ، ← الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّا

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3590

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3591

3590 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أحمد بن يونس قالا ثنا عيسى بن عبد الرحمن السلمي حدثني عدي بن ثابت Y عن البراء قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لحسان : إن روح القدس معك ما هاجيتهم يعني المشركين

حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا :جب تک تم مشرکوں کو جواب دیتے رہو گے حضرت جبریل تمھارے ساتھ ہیں۔

الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3591

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3592

3591 - حدثنا حفص بن عمر الرقي ثنا قبيضة بن عقبة ( ح ) وحدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي قالا ثنا سفيان عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن عبد الرحمن بن بهمان عن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت Y عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن زوارات القبور

حضرت عبدالرحمن ٰ بن حسان بن ثابت اپنے والد سے رویت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو قبروں پر جا کر روتی ہیں (یا جن کو قبروں کی زیارت کرکے ،آخرت یاد نہیں آتی ہے)۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← وحدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ← قبيضة بن عقبة ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3592

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3593

3592 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا أبو كريب و حسين بن عبد الأول قالا ثنا عبيد بن سعيد القرشي ثنا الثوري عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن عبد الرحمن بن بهمان عن عبد الرحمن بن حسان بن ثابت Y عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن زوارات القبور

حضرت عبدالرحمن ٰ بن حسان بن ثابت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو قبروں پر روتی ہیں۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عبيد بن سعيد القرشي ← أبو كريب و حسين بن عبد الأول ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3593

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ ما أسند حسان بن ثابت رضي الله عنه · حديث 3594

3593 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا الزبير بن بكار حدثني يحيى بن محمد يعني الجاري من أهل الجار من ساحل المدينة حدثني إسحاق بن محمد المسيبي عن عبد الرحمن بن أبي الزناد عن أبيه عن الأعرج عن عبد الرحمن بن حسان Y عن أبيه حسان بن ثابت قال : بدت لنا معشر الأنصار إلى الوالي حاجة وكان الذي طلبنا إليه أمرا صعبا فمشينا إليه برجال من قريش وغيرهم فكلموه وذكروا له وصية رسول الله صلى الله عليه و سلم بنا فذكر صعوبة الأمر فعذره القوم وخرجوا وألح عليه ابن عباس فوالله ما وجد بدا من قضاء حاجتنا فخرجنا حتى دخلنا المسجد فإذا القوم أندية قال حسان فضحكت وأنا أسمعهم إنه والله كان أولاكم بها إنها والله صبابة النبوة ووراثة أحمد صلى الله عليه و سلم وتهذيب أعراقه وانتزاع شبه طبائعه فقال القوم : اجمل يا حسان فقال ابن عباس : صدقوا فأنشأ حسان يمدح ابن عباس رضي الله عنهم فقال : ( إذا ما ابن عباس بدا لك وجهه ... رأيت له في كل مجمعة فضلا ) ( إذا قال لم يترك مقالا لقائل ... بملتقطات لا ترى بينها فضلا ) ( كفى وشفى ما في النفوس فلم يدع ... لذي أربة في القول جدا ولا هزلا ) ( سموت إلى العليا بغير مشقة ... فنلت ذراها لا جبانا ولا وغلا ) ( خلقت حليفا للمروءة والندى ... بليجا ولم تخلق كهاما ولا خبلا ) فقال الوالي : والله ما أراد بالكهام الخبل غيري والله بيني وبينه

حضرت عبدالرحمن ٰ بن حسان بن ثابت اپنے والدحضرت حسان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :اے انصار کے گروہ !حکمران سے ہمیں ایک کام تھا ،ان کی طرف سے ہم سے کوئی مشکل کا م طلب کیا گیا ،ہم قریش اور غیر قریش سے کچھ لوگ ان کی طرف گئے،انہوں نے گفتگو کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ذکر کی ،اس نے گفتگو کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ذکر کی ،اس نے مشکل کام کا ذکر کیا تو قوم نے عذر پیش کیا اور نکلے ۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس پر اصرار کیا ،اللہ کی قسم اپنی ضرورت پوری ہونے کی کوئی صورت باقی نہ رہی ،ہم نکلے اور ہم مسجد میں داخل ہوئے ،قوم کو نوں میں تھی ،حضرت حسان فرماتے ہیں :میں مسکرایا میں ان کو سن رہا تھا کہ اللہ کی قسم ! وہ اس کے زیادہ حقدار ہیں ،اللہ کی قسم !نبوت کے رشتے والے ہیں اور احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وارث ہیں ،آپ کی وراثت کی وجہ سےمہذب ہیں اور آپ کی فطرت سے فیض اخذ کیا ہے ،لوگوں نے کہا :اے حسان !مختصر بیان کرو۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :انہوں نے سچ کہا ۔حضرت حسان ،حضرت ابن عباس کی تعریف کرنے لگے:ابن عباس ہر لحاظ سے خوبصورت ہیں آپ ہر مجمع میں فضیلت والے ہیں ،کہنے والا کوئی بات نہیں چھوڑے گا کسی کہنے والے کے لیے آپ نے انکےدرمیان فضیلت نہیں دیکھی ،کافی ہوئے اور انہوں نے شفادی اس چیز سے شافی ہے جو دلوں میں تھی کسی آرزو مند کیلئے اس بات میں کوئی مشکل اور مذاق نہیں چھوڑا ،میں بغیر مشقت کے بلند یوں کی طرف گیا ،تو نے اسکی چوٹیوں کو پالیا ،نہ بزدل ہیں نہ دھوکہ کرنے والے ،آپ مروت اور سخاوت کے حلیف بنا کر پیدا کیئے گئے اور کمزور اوربےطاقت نہیں پیدا کیے گئے ۔"پس والی نے کہا؛قسم بخدا کھام اور خبل سے انہوں نے میرے علاوہ کسیکو مراد نہ لیا اور اس کے اور میرے درمیان اللہ ہے۔

أبيه حسان بن ثابت ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← إسحاق بن محمد المسيبي ← يحيى بن محمد يعني الجاري من أهل الجار من ساحل المدينة ← الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3594

chevron_left Previous
1…9101112
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter