Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 301 - الحارث بن عمرو عم البراء بن عازب بدري · حديث 3407

3406 - حدثنا محمد بن أحمد بن جعفر الوكيعي المصري ثنا عبيد بن جناد الحلبي ثنا عبد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن عدي بن ثابت عن يزيد بن البراء Y عن أبيه قال : لقيت عمي وقد اعتقد راية فقلت : أين تريد ؟ فقال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل نكح امرأة أبيه أضرب عنقه وآخذ ماله وهكذ رواه أشعث بن سوار و يزيد بن أبي أنيسة عن عدي بن ثابت عن يزيد بن البراء عن أبيه قال : لقيت عمي وخالفهما السدي فرواه عن عدي بن ثابت عن البراء قال : لقيت خالي وخاله أبو بردة بن نيار ولم يدخل بين عدي و البراء يزيد

حضرت یزید بن براء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ،آپ کے ساتھ جھنڈا تھا،میں نے کہا :آپ کا ارادہ کہاں کا ہے ؟کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے آدمی کی طرف قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی زوجہ سے شادی کی ہے۔اسے قتل کرنے کے لیے اور اس کا مال لینے کے لیے ۔اشعث بن سوار اور زید بن براء سے ،وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ۔سدی نے دونوں کی مخالفت کی ہے ۔عدی بن ثابت نے براء سے روایت کی ہے ،وہ فرماتے ہیں :میں اپنے خالو سے ملا ان کے خالو ابو بردہ بن نیار تھے ،عدی اور براء کے درمیان یزید کو داخل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُبَيْدُ بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْوَكِيعِيُّ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3407

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 301 - الحارث بن عمرو عم البراء بن عازب بدري · حديث 3408

3407 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل حدثنا الحسن بن صالح عن عدي بن ثابت Y عن البراء بن عازب قال : لقيت خالي ومعه راية فقلت أين تذهب ؟ قال : أرسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل نكح امرأة أبيه من بعده أضرب عنقه وأقتله

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے خالو سے ملا ،اس حالت میں کہ آپ کے پاس جھنڈا تھا،میں نے کہا :آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟کہا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے آدمی کی طرف قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے شادی کی ہے،میں نے اسے قتل کرنا ہے۔

لقيت خالي ومعه راية فقلت أين تذهب ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3408

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 302 - الحارث بن حاطب الجمحي وهو الحارث بن الحارث بن معمر بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح وأمه فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبدود بن نضر بن مالك بن حسل هاجرت به إلى أرض الحبشة مع زوجها حاطب بن الحارث · حديث 3409

3408 - حدثنا بشر بن موسى ثنا عبد الله بن صالح العجلي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن أبان الواسطي ( ح ) وحدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي حدثنا إبراهيم بن الحجاج السامي وحدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ثنا هدبة بن خالد قالوا ثنا حماد بن سلمة عن يوسف بن سعد Y عن الحارث بن حاطب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بلص فقال : اقتلوه فقالوا : يارسول الله إنما سرق قال : اقتلوه قالوا : يا رسول الله إنما سرق قال : اقطعوا يده ثم سرق فقطعت رجله ثم سرق على عهد أبي بكر رضي الله عنه حتى قطعت قوائمه كلها ثم سرق الخامسة فقال أبو بكر رضي الله عنه : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أعلم بهذا حين قال : اقتلوه

حضرت حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اسے قتل کردو !صحابہ کرام نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس نے چوری کی ہے:آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے قتل کرو! صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس نے چوری کی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو ! اس نے پھر چور ی کی ،اس کا پاؤں کاٹا گیا ،پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں چوری کی تو اس کے سارے اعضا ء کاٹے گئے ،پھر پانچویں مرتبہ چوری کی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی حالت کو زیادہ جانتے تھے ،جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔

الْحَارِثِ بْنِ حَاطِبٍ ← يوسف بن سعد ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← إبراهيم بن الحجاج السامي وحدثنا إبراهيم بن هاشم البغوي ← وحدثنا محمد بن محمد الجذوعي القاضي ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْعِجْلِيُّ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3409

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 302 - الحارث بن حاطب الجمحي وهو الحارث بن الحارث بن معمر بن حبيب بن وهب بن حذافة بن جمح وأمه فاطمة بنت المجلل بن عبد الله بن أبي قيس بن عبدود بن نضر بن مالك بن حسل هاجرت به إلى أرض الحبشة مع زوجها حاطب بن الحارث · حديث 3410

3409 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن خالد الحذاء عن يوسف بن يعقوب Y عن محمد بن حاطب أن الحارث بن حاطب ذكر ابن الزبير فقال : طالما حرص على الامارة قلنا : وما ذاك ؟ قال أتي رسول الله صلى الله عليه و سلم بلص وأمر بقتله فقيل له إنه سرق فقال : اقطعوه ثم أتي به بعد إلى أبي بكر وقد سرق وقد قطعت قوائمه فقال أبو بكر رضي الله عنه : ما أجد لك شيئا إلا ما قضى فيك رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أمر بقتلك فإنه كان أعلم بك ثم أمر بقتله أغليمة من أبناء المهاجرين أنا فيهم فقال ابن الزبير أمروني علينا ثم انطلقنا به فذكر الحديث

حضرت حارث بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :اسے قتل کردو !صحابہ کرام نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس نے چوری کی ہے:آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے قتل کرو! صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس نے چوری کی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو ! اس نے پھر چور ی کی ،اس کا پاؤں کاٹا گیا ،پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں چوری کی تو اس کے سارے اعضا ء کاٹے گئے ،پھر پانچویں مرتبہ چوری کی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طبیعت کو زیادہ جانتے تھے ۔حضرت ابو بکر نے محاجرین کے بچوں میں سے کسی لڑکے کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا ،میں ان میں شامل تھا ۔حضرت ابن زبیر نے فرمایا :مجھے بس اس کا حکم دیتے ہیں ،پھر ہم چلے گئے ،اس کے بعد حدیث ذکر کی ۔

مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3410

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 303 - الحارث أبو مالك الآشعري ربيعة الجرشي عن أبي مالك · حديث 3411

3410 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا علي بن بحر ثنا قتادة بن الفضيل الرهاوي قال سمعت هشام بن الغاز يحدث عن أبيه Y عن جده أن أبا مالك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يكون في أمتي الخسف والمسح والقذف قلنا : فيم يا رسول الله ؟ قال : باتخاذهم القينات وشربهم الخمور

حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میری امت میں دھنسنا اور شکلوں کا بگڑنا تہمت لگانا ہو گا۔ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! وہ کیسا وقت ہو گا؟آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :گانے والی لونڈیاں ہوں گی اور شراب پی جائے گی۔

يكون في أمتي الخسف والمسح والقذف قلنا فيم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جده أن أبا مالك ← أَبِيهِ ← هِشَامِ بْنِ الْغَازِ ← قتادة بن الفضيل الرهاوي ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3411

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3412

3411 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادة عن شهر بن حوشب Y عن عبد الرحمن بن غنم أن أبا مالك الأشعري قال لقومه : اجتمعوا أصلي بكم صلاة النبي صلى الله عليه و سلم ملما جمعهم قال : هل فيكم أحد من غيركم قالوا : لا إلا ابن أخت لنا قال : ابن أخت القوم منهم فدعا بجفنة فيها ماء فغسل يديه ومضمض واستنشق وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ومسح برأسه وغسل قدميه ثم صلى بهم الظهر فكبر فيها اثنتين وعشرين تكبيرة يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه من السجود وقرأ في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب ويسمع من يليه

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے کہا :اکھٹے ہو ! میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نما ز سکھاتا ہوں ،جب لوگ جمع ہوئے تو کہا :کیا تمھارے علاوہ کوئی اور اور بھی ہے ؟انہوں نے کہا :نہیں سوائے ہماری بہن زادے کے ۔میں نے کہا :بہن کا بیٹا قوم میں شامل ہوتا ہے ۔پھر میں نے پانی کا برتن منگوایا ،دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور کلائیوں کو تین مرتبہ دھویا ،سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور دونوں قدم دھوئے ،پھر ان کو ظہر کی نماز پڑھائی ،اس میں بائیس تکبیریں کہیں ،جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ (اور سورۃ پڑھی )اتنی آواز میں کہ ساتھ والا سن سکے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3412

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3413

3412 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا عفان بن مسلم ثنا أبان بن يزيد ثنا قتادة ثنا شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم Y عن أبي مالك الأشعري أنه جمع أصحابه فقال : هل أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ وكان رجلا من الأشعريين فدعا بجفنة من ماء فغسل يديه ثلاثا ومضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ومسح برأسه وأذنيه ومسح قدميه وصلى الظهر فصلى فيها بفاتحة الكتاب وكبر ثنتين وعشرين تكبيرة

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے کہا :اکھٹے ہو ! میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نما ز سکھاتا ہوں ،جب لوگ جمع ہوئے تو کہا :کیا تمھارے علاوہ کوئی اور اور بھی ہے ؟انہوں نے کہا :نہیں سوائے ہماری بہن زادے کے ۔میں نے کہا :بہن کا بیٹا قوم میں شامل ہوتا ہے ۔پھر میں نے پانی کا برتن منگوایا ،دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور کلائیوں کو تین مرتبہ دھویا ،سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور دونوں قدم دھوئے ،پھر ان کو ظہر کی نماز پڑھائی ،اس میں بائیس تکبیریں کہیں ،جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ (اور سورۃ پڑھی )اتنی آواز میں کہ ساتھ والا سن سکے۔

أبي مالك الأشعري أنه جمع أصحابه ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3413

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3414

3413 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد ابن أبي عروبة عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم Y عن أبي مالك الأشعري أنه قال لقومه : اجتمعوا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فاجتمعوا فقال : هل فيكم أحد ؟ فقالوا : لا إلا ابن أخت لنا قال : فذلك من القوم فدعا بجفنة فيها ماء فتوضأ وهم شهود فمضمض واستنشق ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا وذراعيه ثلاثا ومسح برأسه وظهر قدميه ثم صلى بهم الظهر فكبر فيها ثنتين وعشرين تكبيرة يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه وقرأ بهم في الركعتين الأوليين وأسمع من يليه

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے کہا :اکھٹے ہو ! میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نما ز سکھاتا ہوں ،جب لوگ جمع ہوئے تو کہا :کیا تمھارے علاوہ کوئی اور اور بھی ہے ؟انہوں نے کہا :نہیں سوائے ہماری بہن زادے کے ۔میں نے کہا :بہن کا بیٹا قوم میں شامل ہوتا ہے ۔پھر میں نے پانی کا برتن منگوایا ،دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور کلائیوں کو تین مرتبہ دھویا ،سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور دونوں قدم دھوئے ،پھر ان کو ظہر کی نماز پڑھائی ،اس میں بائیس تکبیریں کہیں ،جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ (اور سورۃ پڑھی )اتنی آواز میں کہ ساتھ والا سن سکے۔

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سعيد ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3414

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3415

3414 - حدثنا أسلم بن سهل الواسطي ثنا القاسم بن عيسى الطائي حدثنا طلحة بن عبد الرحمن عن قتادة عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم Y عن أبي مالك الأشعري أنه قال : اجتمعوا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فاجتمعوا فقال : أفيكم أحد من غيركم ؟ قالوا : لا إلا ابن أخت لنا قال ابن أخت القوم منهم فدعا بجفنة فتوضأ منها فمضمض واستنشق وغسل وجهه ثلاثا ويديه ثلاثا ومسح برأسه وظهر قدميه وتقدم فصلى بهم الظهر فقرأ بفاتحة الكتاب يسمع من يليه

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے کہا :اکھٹے ہو ! میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نما ز سکھاتا ہوں ،جب لوگ جمع ہوئے تو کہا :کیا تمھارے علاوہ کوئی اور اور بھی ہے ؟انہوں نے کہا :نہیں سوائے ہماری بہن زادے کے ۔میں نے کہا :بہن کا بیٹا قوم میں شامل ہوتا ہے ۔پھر میں نے پانی کا برتن منگوایا ،دونوں ہاتھ دھوئے اور کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا اور کلائیوں کو تین مرتبہ دھویا ،سر کا ایک مرتبہ مسح کیا اور دونوں قدم دھوئے ،پھر ان کو ظہر کی نماز پڑھائی ،اس میں بائیس تکبیریں کہیں ،جب سجدہ کرتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے اور پہلی دونوں رکعتوں میں سورۃ فاتحہ (اور سورۃ پڑھی )اتنی آواز میں کہ ساتھ والا سن سکے۔

لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ← أَفِيکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِکُمْ ← اجتمعوا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فاجتمعوا ← أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ← أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3415

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3416

3415 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا وهب بن بقية أنا خالد عن داود بن أبي هند عن شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم Y عن أبي مالك الأشعري أنه قال : تعالوا حتى أريكم كيف كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي ؟ فقام فكبر إذا ركع وإذا سجد فلما نهض من الجلوس بعد الركعتين كبر

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے کہا :آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کیسے پڑھتے تھے۔میں کھڑا ہوا ،رکوع اور سجدہ میں جب گیا تو تکبیر کہی ،جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر اٹھنے لگا تو میں نے اللہ اکبر کہا۔

أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3416

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3417

3416 - حدثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا عياش بن الوليد الرقام حدثنا عبد الأعلى ثنا قرة بن خالد ثنا بديل بن ميسرة Y ثنا شهر بن حوشب قال قال أبو مالك الأشعري : لأصلين بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فدعا بوضوء فتوضأ ثم قام إلى الصلاة فصف الرجال وصف خلفهم الغلمان فجعل يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه وإذا قام من الركعتين ثم سلم عن يمينه وعن شماله ولم يذكر عبد الرحمن بن غنم

حضرت شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا :کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز پڑھاؤں ! آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا ،وضو کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے ،پہلی صف مردوں کی ،اس کے پیچھے بچوں کی ،جب رکوع کیا اور سجدہ کیا اور دورکعتوں کے بعد اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ،پھر دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۔عبدالرحمن ٰ بن غنم کا ذکر نہیں کیا گیا ۔

شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3417

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ عبد الرحمن بن غنم عن أبي مالك الأشعري · حديث 3418

3417 - حدثنا موسى بن سهل الجوني البصري ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا ابن جابر ثنا عطية بن قيس الكلابي ثنا عبد الرحمن بن غنم Y حدثني أبو عامر أو أبو مالك الأشعري والله ما كذ بني أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليكونن قي أمتي أقوام يستحلون الحرير والخمر والمعازف ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم فيأتيهم رجل لحاجته فيقولون له : ارجع إلينا غدا فيبيتهم الله عزوجل فيضع العلم عليهم ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں جھوٹ نہیں بول رہا ہوں ،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت ضرور ریشم ،شراب اور گانوں کو حلال جانے گی ،ضرور بضر ور کچھ لوگ ایک جھنڈے کے پاس اتریں گے ،وہاں راحت حاصل کریں گے ،ا ن کے پاس ایک ضرورت مند آدمی آئے گا۔وہ اس کو کہیں گے :اب چلے جاؤ ! کل آنا،اللہ ان کومتنبہ کرے گا ،وہ جھنڈا رکھیں گے اور دوسروں کو بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردے گا،قیامت کے دن تک ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أبو عامر أو أبو مالك الأشعري والله ما كذ بني أنه ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، ← عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ الْكِلَابِيُّ ← ابْنِ جَابِرٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← موسى بن سهل الجوني البصري

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3418

chevron_left Previous
1…737475…79
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter