المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحكم بن عمرو الغفاري كان ينزل البصرة وهو الحكم بن عمرو بن مجدع بن حذيم بن الحارث بن ثعلبة بن مليل بن ضمرة بن بكر بن مناة بن كنانة · حديث 3152
3151 - حدثنا إسحاق بن إبراهيم الدبري عن عبد الرزاق عن ابن التيمي حدثني سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال Y عن عبد الله بن الصامت قال : صلى الحكم بن عمرو الغفاري بالناس في سفر وبين يديه سترة فمرت حمير بن يدي أصحابه فأعاد بهم الصلاة فقالوا : أراد أن يصنع كما صنع الوليد بن عقبة إذا صلى بأصحابه الغداة أربعا ثم قال : أزيدكم فلحقت بالحكم فذكرت ذلك له فوقف حتى تلاحق القوم فقال : إني أعدت بكم الصلاة من أجل الحمير التي مرت بين أيديكم فضربتموني مثلا لابن أبي معيط وإني أسأل الله أن يحسن سيرتكم ويحسن بلاغكم وأن ينصركم على عدوكم وأن يفرق بيني وبينكم فمضوا فلم يروا في وجههم ذلك إلا ما يسرون به فلما أن فرغوا مات
حضرت عبداللہ بن صامت فرماتے ہیں کہ حضرت حکم بن عمرو غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفر میں لوگوں کو نماز پڑھائی' آپ کے آگے سترہ رکھا گیا ' آپ کے آگے سے صحابہ کرام کی خچریں گزریں' آپ نے نماز دوبارہ پڑھی' انہوں نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کرنے کا ارادہ کیا ہے جس طرح کہ ولید بن عقبہ نے کیا ہے' پھر اپنے ساتھیوں کو چار رکعتیں صبح کی پڑھائیں' پھر فرمایا: کیا تمہارے لیے اضافہ کیا؟ میں حکم سے ملا ' میں نے اس کا ذکر کیا تو وہ ٹھہرے ' لوگ بھی ملے۔ آپ نے فرمایا: میں نے نماز دوبارہ لوٹائی ہے' اس وجہ سے کہ تمہارے آگے سے خچریں گزری ہیں ' تم مجھے ابن ابو معیط سے مثال دیتے ہو ' میں اللہ سے مانگتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سیرت اچھی کرے اور تمہارا پیغام اچھے انداز میں پورا کرے اور تمہاری مدد کرے تمہارے دشمن کے خلاف اور میرے اور تمہارے درمیان جدائی کرے' وہ سب اس حال میں گئے' کہ ان کے چہرے پر خوشی کے اثرات تھے' جب وہ فارغ ہوئے تو آپ فوت ہو گئے۔
بين يديه سترة فمرت حمير بن يدي أصحابه فأعاد بهم الصلاة ← صلى الحكم بن عمرو الغفاري بالناس في سفر ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← ابْنُ التَّيْمِيِّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3152
