Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3031

3030 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا أبو الأحوص ثنا فرات القزاز عن عامر بن واثلة Y عن حذيفة بن أسيد الغفاري قال : كنا قعودا نتحدث في ظل غرفة لرسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرنا الساعة فارتفعت أصواتنا فأشرف علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم من غرفته فقال : عم تتساءلون ؟ أو عم تتحدثون ؟ قلنا : ذكرنا الساعة فارتفعت أصواتنا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن تقوم الساعة حتى يكون قبلها عشر آيات طلوع الشمس من مغربها وخروج الدابة وخروج يأجوج ومأجوج والدجال وعيسى بن مريم والدخان وثلاث خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن من قعر عدن تسوق الناس إلى المحشر

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اہل صفہ میں سے ہیں' فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمرے کے سایہ میں ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے ' ہماری آوازیں بلند ہو گئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اوپر سے جھانک کر ہمیں فرمایا: تم کس چیز کے بارے ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہو؟ تم کس بارے گفتگو کر رہے ہو؟ ہم نے عرض کی: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: (1) دھواں (2) دجال (3) جانور (4) سورج کا مغر ب سے طلوع ہونا اور تین دھنسنے (5) مشرق کا دھنسنا (6) مغرب کا دھنسنا (7) جزیرہ عرب کا دھنسنا (8) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول (9) یاجوج و ماجوج کا دیوار کو کھولنا (10) اور آگ کا نکلنایمن کی زمین عدن کی گہرائی سے جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ، ← عَامِرِ بْنِ وَاثِلَۃَ ← فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3031

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3032

3031 - حدثنا حفص بن عمر ثنا قبيصة ثنا سفيان ( ح ) وحدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وحدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالوا ثنا وكيع عن سفيان عن فرات القزاز عن أبي الطفيل Y عن حذيفة بن أسيد قال : اطلع رسول الله صلى الله عليه و سلم من غرفة ونحن نتذاكر الساعة فقال : لا تقوم الساعة حتى يكون عشر آيات الدجال والدخان وطلوع الشمس من مغربها ودابة الأرض ويأجوج ومأجوج وثلاث خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونار تخرج من قعر عدن أبين تسوق الناس إلى المحشر تنزل معهم إذا نزلوا وتقيل معهم إذا قالوا

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اہل صفہ میں سے ہیں ' فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے اوپر سے جھانکا اور ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے' آپ نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: (1) دھواں (2) دجال (3) جانور (4) سورج کا مغر ب سے طلوع ہونا اور تین دھنسنے (5) مشرق کا دھنسنا (6) مغرب کا دھنسنا (7) جزیرہ عرب کا دھنسنا (8) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول (9) یاجوج و ماجوج کا دیوارکو کھولنا (10) اور آگ کا نکلنا زمیں عدن کی گہرائی سے جو لوگوں کوہانک کر محشر کی طرف لے جائے گی۔اترے گی ان کے ساتھ جب وہ جہاں اتریں گے اور جب وہ قیلولہ کریں گے تو وہ ان کےساتھ قیلولہ کرے گی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3032

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3033

3032 - حدثنا محمد بن رزيق بن جامع المصري ثنا محمد بن هشام السدوسي حدثنا أبو عاصم عن الحسن بن فرات حدثني أبي قال سمعت أبا الطفيل Y حدثني حذيفة بن أسيد صاحب النبي صلى الله عليه و سلم قال : كنا نتحدث في ظل غرفة فأشرف علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم من تلك الغرفة فقال : ما تحدثون ؟ قلنا : نتحدث عن الساعة قال : لا تقوم الساعة حتى تخرج عشر آيات طلوع الشمس من مغربها والدجال والدخان ودابة الأرض وثلاث خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف في جزيرة العرب ويخرج يأجوج ومأجوج وتخرج نار من قعر عدن تحيط بالناس لا يتخلفها أحد تسوقهم إلى أرض المحشر فتقيم حتى يقضوا حوائجهم ثم تحرك بهم فترحلهم قال وسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من رومان أو ركوبة يضيء منها أعناق الإبل ببصرى

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اہل صفہ میں سے ہیں ' فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کمرے سے ہمارے اوپر سے جھانکا جبکہ اس کمرے کے سائے میں ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے' آپ نے فرمایا: تم کیا گفتگو کر رہے ہو' ہم نے عرض کی: ہم قیامت کے بارے بات کر رہے ہیں: تو فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: (1) دھواں (2) دجال (3) جانور (4) سورج کا مغر ب سے طلوع ہونا اور تین دھنسنے (5) مشرق کا دھنسنا (6) مغرب کا دھنسنا (7) جزیرہ عرب کا دھنسنا (8) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول (9) یاجوج و ماجوج کا دیوارکو کھولنا (10) اور آگ کا نکلنا زمیں عدن کی گہرائی سے جو لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی' ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا' وہ آگ ان کو میدانِ حشر کی طرف ہانک کر لے جا رہی ہو گی' پس وہ کچھ دیر ٹھہر جائے گی حتیٰ کہ لوگ قضائے حاجت کر کے فارغ ہوں گے تو پھر وہ ان کو حرکت دے گی اور ان کو کوچ کرنے پر مجبور کر دے گی۔ راوی کا بیان ہے: میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: قیامت قائم ہونے سے پہلے رومان یا رکوبہ سے ایک آگ برآمد ہو گی جس سے بصرہ میں اونٹوں کی گردنیں نظر آنے لگیں گی۔

حذيفة بن أسيد صاحب النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← أَبِي ← الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3033

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3034

3033 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا فرات القزاز عن أبي الطفيل عامر بن واثلة Y عن حذيفة بن أسيد أبي سريحة الغفاري قال : أشرف علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم من علية ونحن نتذاكر الساعة فقال : إنكم سترون قبلها عشر آيات الدخان والدجال والدابة ويأجوج ومأجوج ونزول عيسى بن مريم وطلوع الشمس من مغربها وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن أو نحو عدن تطرد الناس إلى محشرهم

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اہل صفہ میں سے ہیں ' فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے اوپر سے جھانک کر دیکھا'اور ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے' آپ نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں: (1) دھواں (2) دجال (3) جانور (4) سورج کا مغر ب سے طلوع ہونا اور تین دھنسنے (5) مشرق کا دھنسنا (6) مغرب کا دھنسنا (7) جزیرہ عرب کا دھنسنا (8) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول (9) یاجوج و ماجوج کا دیوارکو کھولنا (10) اور آگ کا نکلنا زمیں کی گہرائی سے جو لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← فُرَاتٌ الْقَزَّازُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3034

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3035

3034 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا أيوب بن محمد الوزان ثنا الوليد بن الوليد ثنا سعيد بن بشير عن قتادة عن أبي الطفيل Y عن حذيفة بن أسيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تقوم الساعة حتى يخرج عشر آيات طلوع الشمس من مغربها والدخان والدجال والدابة وخسوف ثلاثة خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب ونزول عيسى بن مريم ويأجوج ومأجوج ونار تخرج من قعر عدن ترحل الناس إلى المحشر لا تخلف خلفها أحدا تقيم لهم يعني حوائجهم

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اہل صفہ میں سے ہیں ' فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہو جائیں: (1) دھواں (2) دجال (3) جانور (4) سورج کا مغر ب سے طلوع ہونا اور تین دھنسنے (5) مشرق کا دھنسنا (6) مغرب کا دھنسنا (7) جزیرہ عرب کا دھنسنا (8) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول (9) یاجوج و ماجوج کا دیوارکو کھولنا (10) اور آگ کا نکلنا زمین کی گہرائی سے جو لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی' ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا ' وہ ان کی قضائے حاجت کی خاطر کھڑی بھی ہو گی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3035

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3036

3035 - حدثنا محمد بن رزيق بن جامع المصري ثنا محمد بن هشام السدوسي ثنا الفضل بن العلاء حدثني طلحة بن عمرو عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن أبي الطفيل Y عن أبي سريحة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الدابة يكون لها ثلاث خرجات من الدهر فتخرج خرجة في أقصى اليمن حتى يفشو ذكرها في أهل البادية ولا يدخل ذكرها القرية ثم تكمن زمانا طويلا بعد ذلك ثم تخرج أخرى قريبا من مكة فيفشو ذكرها في أهل البادية ويفشو ذكرها بمكة ثم تكمن زمانا طويلا ثم بينا الناس يوما بأعظم المساجد على الله حرمة وخيرها وأكرمها على الله المسجد الحرام لم يرعهم إلا ناحية المسجد تربو ما بين الركن والمقام إلى باب بني مخزوم على يمين الخارج من المسجد فانقض الناس عنها شتى ومعا وثبت لها عصابة من المسلمين وعرفوا أنهم لن يعجزوا الله فخرجت عليهم تنفض عن رأسها التراب فبدت لهم فحلت وجوههم حتى تركتها كأنها الكواكب الدرية ثم ولت في الأرض لا يدركها طالب ولا يعجزها هارب حتى إن الرجل ليقوم يتعود منها بالصلاة فتأتيه فتقول أي فلان الآن تصلي ؟ فيقبل عليها بوجهه فتسمه في وجهه ثم تذهب ويتحاور الناس في دورهم في أسفارهم ويشتركون في الأموال ويعرف الكافر من المؤمن حتى إن المؤمن ليقول للكافر : يا كافرا اقضني حقي وحتى إن الكافر يقول يا مؤمن اقضني حقي

حضرت ابو سریحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (قربِ قیامت) جانور تین دفعہ نکلے گا' سب سے پہلے یمن سے نکلے گا' اس کا ذکر دیہات میں ہو گا قصبوں میں نہیں ہو گا' اس کے بعد وہ دیر تک چھپا رہے گا' پھر دوسری دفعہ مکہ کے قریب کی بستی سے نکلے گا' اس کا ذکر شہروں اور مکہ میں عام ہو گا' پھر دیر تک چھپا رہے گا پھر لوگ ایک دن اللہ کے ہاں بڑی بہتر مسجدوں میں سے مسجد حرام میں ہوں گے اور مسجد حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان سے لے کر بنی مخزوم کے دروازے تک مسجد کے باہر دایں طرف پر پھیلی ہو گی' لو گ وہاں سے مختلف گروہوں سے نکلیں گے ' مسلمانوں کا ایک گروہ ثابت قدم رہے گا' ان کو یقین ہو گا کہ وہ اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور جانور ان پر نکلے گا' اپنے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے وہ اپنے چہرے کو چھوڑے گا جیسے کہ چمکتا ہوا ستارہ ہوتا ہے ' پھر زمین میں پھیل جائے گا اور کسی تلاش کرنے والے اور بھاگنے والے کو چھوڑے گا نہیں یہاں تک کہ ایک آواز اس سے بچنے کے لیے نماز پڑھنی شروع کر دے گا' وہ اس کے پاس آئے گا اور کہے گا: اے فلاں! اب تو نماز پڑھنے لگا ہے' وہ اس کی طرف اپنے چہرے کے ساتھ متوجہ ہو گا' پھر اس کے چہرے کو داغے گا پھر جائے گا اور لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر سفر شروع کر دیں گے' لوگوں کوا پنے مال میں شریک کر لیں گے ' کافر اور مؤمن الگ الگ پہچانے جائیں گے' مؤمن کافر سے کہے گا: اے کافر ! میرا حق ادا کر! کافر کہے گا: اے مؤمن میرا حق ادا کر۔

أَبِي سَرِيحَةَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3036

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3037

3036 - حدثنا بكر بن محمد القزاز البصري ثنا عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ثنا يحيى بن أبي بكير ثنا زهير بن معاوية عن عبد الله بن عطاء قال حدثني عكرمة بن خالد أن أبا الطفيل حدثه Y أنه سمع عبد الله بن مسعود رضي الله عنه يقول : الشقي من شقي في بطن أمه والسعيد من وعظ بغيره فخرجت من عنده أتعجب مما سمعت حتى دخلت على أبي سريحة حذيفة بن أسيد الغفاري فتعجبت فقال : مم تعجبت ؟ فقلت : سمعت أخاك ابن مسعود يزعم : أن الشقي من شقي في بطن أمه وأن السعيد من وعظ لغيره فقال : من أي ذلك عجبت ؟ قلت : أيشقى أحد بغير عمل فأهوى بيديه إلى أذنيه وقال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم بأذني هاتين وهو يقول : تقع النطفة في الرحم أربعين ليلة ثم يتصور عليها الملك - حسبته قال - الذي يخلقها فيقول : يا رب أذكر أم أنثى ؟ فيجعلها ذكرا أو أنثى فيقول : يا رب أسوي أم غير سوي ؟ فيجعله الله عز و جل سويا أو غير سوي فيقول : يا رب ما أجله ما خلقه فيقول يا رب أشقي أم سعيد ؟ فيجعله الله تعالى شقيا أو سعيدا

حضرت ابو طفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود کو فرماتے ہوئے سنا: بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا اور نیک بخت وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت حاصل کرے' میں ابن مسعود کے پاس سے نکلا ' میں تعجب کرنے لگا' جو میں نے سنا تھا' میں ابو سریحہ حذیفہ بن اُسید الغفاری کے پاس آیا' میں تعجب کر رہا تھا' آپ نے فرمایا: کیا تعجب کر رہے ہو! میں نے عرض کی: میں نے اپنے بھائی ابن مسعود سے سنا ہے' وہ گمان کرتے ہیں کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے بد بخت ہے اور نیک وہ ہے جو دوسرے سے نصیحت پکڑے۔ آپ نے فرمایا: یہ کون سے تعجب کی بات ہے۔ میں نے عرض کی: کیا کوئی بغیر عمل کے بھی بد بخت ہو سکتا ہے' آپ نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دونوں کانوں کے ساتھ سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: چالیس راتوں تک ماں کے پیٹ میں نطفہ رہتا ہے' پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے' میں نے گمان کیا وہ جس کو پیدا کرتا ہے اور فرشتہ عرض کرتا ہے: مذکر یا مؤنث ' اس کو مذکر یا مؤنث بنایا جاتا ہے' تو فرشتہ عرض کرتا ہے: اے میرے رب! کیا اس میں برابری ہے یا نہیں ' اللہ برابر یا غیر برابر کر دیتا ہے' پھر وہ فرشتہ عرض کرتا ہے: اے رب ! اس کی عمر کتنی ہے؟ تو عرض کرتا ہے: اے رب ! نیک بخت یا بد بخت ! اللہ پاک اس ک نیک بخت یا بد بخت بناتا ہے۔

عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَطَاءٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← عبد الله بن أبي يعقوب الكرماني ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3037

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3038

3037 - حدثنا محمد بن العباس المؤدب ثنا عبيد بن إسحاق العطار ثنا محمد بن فضيل عن أشعث بن سوار عن عبد الملك بن ميسرة عن أبي الطفيل Y عن أبي سريحة حذيفة بن أسيد قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يجيء الريح الذي يقبض الله فيها نفس كل مؤمن ثم طلوع الشمس من مغربها وهي الآية التي ذكرها الله في كتابه

ابو سریحہ حذیفہ بن اُسید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہوا آئے گی اس میں ہر مؤمن کی جان اللہ قبض کرے گا' پھر سورج مغرب سے طلوع ہو گا' یہی وہ نشانی ہے جس کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔

أَبِي سَرِيحَةَ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3038

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3039

3038 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا القعنبي ( ح ) وحدثنا يحيى بن عثمان بن صالح ثنا عبد الله بن يوسف قالا ثنا محمد بن مسلم الطائفي عن عمرو بن دينار Y عن أبي الطفيل عامر بن واثلة قال سمعت عبد الله بن مسعود رضي الله عنه يقول : إن الشقي من شقي في بطن أمه وإن السعيد من وعظ بغيره فأتيت حذيفة بن أسيد فقلت : ألا تعجب من قول ابن مسعود ؟ قال : وما قال ؟ قال : إن الشقي من شقي في بطن أمه وإن السعيد من وعظ بغيره قال حذيفة : أنا سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إذا مضت على النطفة خمس وأربعون ليلة قال الملك : أذكر أم أنثى ؟ فيقضي الله عز و جل ويكتب الملك فيقول الملك : أشقي أم سعيد ؟ فيقضي الله ويكتب الملك - قال - فيقول : رزقه وأجله وعمله - قال - فيقضي الله ويكتب الملك - قال - ثم تطوى الصحيفة فلا يزاد فيها ولا ينقص منها

حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت تھا اور سعادت مند وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرتاہے۔ میں حذیفہ بن اُسید کے پاس آیا' میں نے عرض کی: کیا آپ کو ابن مسعود کی بات پر تعجب نہیں ہوتا؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی: انہوں نے فرمایاکہ بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا اور نیک بخت وہ ہے کہ دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نطفہ ماں کے پیٹ میں پنتالیس راتوں تک رہتا ہے' فرشتہ عرض کرتا ہے: مذکر یا مؤنث؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے' پھر فرشتہ عرض کرتا ہے: نیک بخت یا بد بخت؟ فرشتہ عرض کرتا ہے: اس کا رزق ' اس کی عمر ' اس کا عمل ؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے' فرشتہ لکھتا ہے' پھر رجسٹر بند کر دیاجاتا ہے' اس میں نہ کمی ہو گی نہ زیادتی ہو گی۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3039

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3040

3039 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا عمرو بن دينار عن أبي الطفيل Y عن حذيفة بن أسيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يدخل الملك على النطفة بعدما تستقر في الرحم أربعين أو خمسا وأربعين ليلة فيقول : أي رب أشقي أم سعيد ؟ فيقول الله عز و جل ويكتبان أذكر أم أنثى ؟ فيقول الله ويكتبان مصيبته وأثره ورزقه وأجله ثم تطوى الصحيفة فلا يزاد فيها ولا ينقص منها

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس یا پنتالیس راتوں تک رہتا ہے' فرشتہ عرض کرتا ہے: نیک بخت یا بد بخت؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے' فرشتہ لکھتا ہے ' فرشتہ عرض کرتا ہے : مذکر یا مؤنث؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے' پھر فرشتہ عرض کرتا ہے: اس کا رزق ' اس کی زندگی' اس کا عمل ؟ اللہ فیصلہ کرتاہے' فرشتہ لکھتا ہے' پھر رجسٹر بند کر دیا جاتا ہے' اس میں کمی نہ ہو گی نہ زیادتی ہو گی۔

حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3040

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3041

3040 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج بن المنهال ثنا ربيعة بن كلثوم حدثني أبي كلثوم بن جبير Y عن أبي الطفيل عامر بن واثلة قال : كان ابن مسعود إذا خطبنا بالكوفة قال : الشقي من شقي في بطن أمه والسعيد من سعد في بطن أمه قال : فأتيت حذيفة بن أسيد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت : عجبا لرفع ابن أم عبد الشقي من شقي في بطن أمه قال : فقال لي حذيفة : وما يعجبك من ذلك يا أبا الطفيل ؟ أفلا أخبرك من هذا بالشقاء ؟ ورفع الحديث إن ملكا موكل بالرحم بضعا وأربعين ليلة إذا أراد الله أن يخلق ما شاء بإذن الله فيقول أي رب أذكر أم أنثى ؟ فيقضي ربك ويكتب الملك ثم يقول : أي رب أشقي أم سعيد ؟ فيقضي ربك ويكتب الملك ثم يقول : أي رب أجله فيقضي ربك ويكتب الملك ثم يطوى ما زاد ولا نقص

حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ میں جب ہمیں خطبہ دیا تھا تو فرمایا: بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرتا ہے۔ میں حذیفہ بن اُسید کے پاس آیا' میں نے عرض کی: کیا آپ کو ابن مسعود کی بات پر تعجب نہیں ہوتا؟ آپ نے فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کی: انہوں نے فرمایا: کہ بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا اور نیک بخت وہ ہے کہ دوسروں سے نصیحت حاصل کرے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اے ابو الطفیل ! اس میں سے کیا چیز تعجب والی ہے؟ کیا میں اس سے بدبختی کی خبر نہ دوں؟ مرفوع حدیث سنائی کہ نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس اور چند راتوں تک رہتا ہے' رحم پر فرشتہ مقرر ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے حکم سے جو چاہتا ہے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے: مذکر یا مؤنث؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے ' پھر فرشتہ عرض کرتا ہے: نیک بخت یا بد بخت؟ تیرا رب فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھتا ہے' فرشتہ عرض کرتا ہے: اس کا رزق ' اس کی زندگی ' اس کا عمل؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے' فرشتہ لکھتا ہے' پھر رجسٹر بند کر دیا جاتا ہے' اس میں نہ کمی ہو گی نہ زیادتی ہو گی۔

الشقي من شقي في بطن أمه والسعيد من سعد في بطن أمه ← كان ابن مسعود إذا خطبنا ← أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ← أبي كلثوم بن جبير ← رَبِيعَةَ بْنِ كُلْثُومٍ ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3041

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ حذيفة بن أسيد أبو سريحة الغفاري وهو حذيفة بن أسيد بن الأعوس بن واقعة بن حرام بن غفار بن مليل بن ضمرة بن بكر بن عبد مناة بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان أبو الطفيل عامر بن واثلة عن حذيفة بن أسيد · حديث 3042

3041 - حدثنا إدريس بن جعفر العطار ثنا عثمان بن عمر حدثنا عزرة بن ثابت ( ح ) وحدثنا زكريا الساجي ثنا أبو الربيع الزهراني ثنا عون بن عمارة حدثني عزرة بن ثابت عن يعقوب Y عن عمرو بن واثلة قال سمعت ابن مسعود يحدث الناس في مسجد الكوفة يقول : الشقي من شقي في بطن أمه والسعيد من وعظ بغيره فأتيت حذيفة بن أسيد فقلت : أتعجب من ابن مسعود يحدث أن الشقي من شقي في بطن أمه وإن السعيد من وعظ بغيره فما ذنب هذا الطفل ؟ فقال حذيفة : وما أنكرت من ذلك ؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول مرارا ذوات عدد : إن النطفة إذا استقرت في الرحم فمضى لها أربعون يوما - وقال بعض أصحابي : ثمانية وأربعين يوما - جاء ملك الرحم فصور عظمه ولحمه ودمه وشعره وبشره وسمعه وبصره فيقول : يا رب أذكر أم أنثى ؟ يا رب أشقي أم سعيد ؟ فيقضي الله عز و جل ما شاء ويكتب ثم يقول : أي رب أي شيء رزقه ؟ فيقضي الله ما شاء فيكتب ثم يطوى بالصحيفة فلا تنشر إلى يوم القيامة

حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا : وہ کوفہ کی جامع مسجد میں لوگوں کو حدیثیں سنا رہے تھے' بد بخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بد بخت تھا اور نیک بخت وہ ہے جو دوسروں سےنصیحت حاصل کرتا ہے۔ میں حذیفہ بن اُسید کے پاس آیا' میں نے عرض کی: کیا آپ کو ابن مسعود کی بات پر تعجب نہیں ہوتا ؟ وہ کہہ رہے ہیں: بد بخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ میں بد بخت ہوتا ہے اور خوش بخت وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت حاصل کرے' پس اس بچے کا کیا گناہے؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو اس میں سے کس چیز کا منکر ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس راتوں تک رہتا ہے' بعض صحابہ نے اڑتالیس کی روایت کی ہے۔ رحم پر مقرر فرشتہ آتا ہے' پس اس کی ہڈیوں گوشت' خون ' بال ' جلد ' کانوں اور بصارت کی تصویر بناتا ہے' فرشتہ عرض کرتا ہے:اے رب ! مذکر یا مؤنث ؟ نیک بخت یا بد بخت؟ اللہ فیصلہ فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور وہ لکھتا ہے' پھر فرشتہ عرض کرتا ہے: اس کا رزق؟ اللہ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے' فرشتہ لکھتا ہے' پھر رجسٹر بند کر دیا جاتا ہے' قیامت کے دن تک اسے کھولا نہ جائے گا۔

"الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بطن أمه". ← الناس في مسجد الكوفة ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عمرو بن واثلة ← يَعْقُوبُ، ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ، ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3042

chevron_left Previous
1…424344…79
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter