Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
المعجم الکبیر للطبرانی

Al Muajam Al Kabir Tibrani

by Tibrani

23,863 Hadith4718 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2947

2946 - حدثنا الحضرمي ثنا منصور بن مزاحم ثنا أبو سعيد مولى بني هاشم عن سالم الأفطس Y عن سعيد بن جبير قال : لما أصيب حمزة وأصحابه يوم أحد قالوا : ليت أن من خلفنا علموا ما أعطانا الله من الثواب ليكون أجرأ لهم فقال الله عز و جل : أنا أعلمهم فأنزل الله تبارك وتعالى : { لا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا } الآية

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ جب حضرت حمزہ اور ان کے ساتھیوں کو اُحد کے دن شہید کیا گیا تو اُنہوں نے کہا: کاش ہمارےلیے پیچھے کو ئی ہوتا، تاکہ وہ جانتے کہ اللہ نے ہمارے مُردوں کو کیا ثواب دیا تاکہ اپنے لیے ثواب معلوم کرتے ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: میں بتاتاہوں کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی :"وہ لوگ ہرگز مُردہ گمان نہ کریں اُنہیں جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں"۔

لَیْتٍ، ← لما أصيب حمزة وأصحابه يوم أحد ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سَالِمٌ الْأَفْطَسُ ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ ← منصور بن مزاحم ← الْحَضْرَمِيِّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2947

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2948

2947 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا محمد بن عبد الله بن نمير ثنا عبد الله بن إدريس ثنا محمد بن إسحاق عن عبد الله بن الفضل عن سليمان بن يسار Y عن حفص بن عمرو بن أمية الضمري قال : خرجت أنا و عبيد الله بن عدي بن الخيار فأدربنا يعني درب الروم ثم مررنا بحمص وبها وحشي فقلت : لو أتيناه فسألناه عن قتله حمزة رحمه الله كيف قتله ؟ فأقبلنا نحوه فلقينا رجل ونحن نسأل عنه فقال : إنه رجل قد غلبت عليه هذا الخمر فإن تجداه صاحيا تجداه رجلا عربيا يحدثكما ما شئتما من حديث وإن تجداه على غير ذلك فانصرفا عنه فأتيناه فوجدناه بفنائه فنظر إلى عبيد الله بن عدي فقال : ابن عدي بن الخيار ؟ قال : نعم قال : ما رأيتك منذ ناولتنيك أمك السعدية بعرضتك وما هو إلا أن لمعت لي قدماك فعرفتك قال : قلت له : إنا جئناك لتخبرنا عن قتلك حمزة كيف قتلته ؟ كنت عبدا لجبير بن مطعم وكان عمه طعيمة بن عدي قتل يوم بدر فقال : إن قتلت عم محمد بعمي فأنت حر فخرجت يوم أحد في الناس مع حربتي وإنما همي أن أعتق فجعلت حمزة من شأني فعمدت له وتقدمني إليه سباع بن عبد العزى قال : وصدرت عنه وهو يهذ الناس بسيفه هذا كأنه جمل أورق فلما تقدمني إليه سباع قال حمزة هلم يا ابن مقطعة البظور قال : فدنا إليه فضربه فكأنما أخطأه واستترت بشيء هززت حربتي حتى إذا رضيت منها دفعتها فوقعت في ثنته قال : وذهب لينوء فغلب واعتزلت ورجعت في الناس إلى مكة وعتقت فلما فتح النبي صلى الله عليه و سلم مكة خرجت إلى الطائف فأقمت بها فلما أجمع أهل الطائف على مصالحة النبي صلى الله عليه و سلم تعيت علي المذاهب فجعلت أتذكر أين أذهب ؟ فبينا أنا في همي إذا عرض لي رجل فقال مالي أراك هكذا ؟ قلت هذا الرجل قد بلغت من عمه وقد أرى هؤلاء القوم قد أجمعوا على مصالحته فما أدري أين أذهب ؟ قال : فوالله ما يقتل أحدا أتاه وشهد شهادته فخرجت كما أنا فوالله ما شعرت حتى قمت على رأسه بالمدينة فرفع رأسه فنظر إلي فقال : وحشي ؟ قلت : وحشي وشهدت بشهادته فقال : ويحك أخبرني عن قتلك حمزة كيف قتلته ؟ فأخبرته والله كما أخبرتكما فقال : ويحك غيبت عني وجهك فكنت أتجنبه حتى قبضه الله تعالى فلما بعث أبوبكر رضي الله عنه الجيش إلى اليمامة خرجت مع الناس فجعلت مسيلمة من شأني فحملت عليه أنا ورجل من الأنصار ومعي حربتي التي قتلت بها حمزة قال : فإن أك قتلته فقد قتلت خير الناس وشر الناس

حضرت عبید اللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم روم سے واپس آئے تو جب ہم حمص کے قریب ہوئے تو ہم نے کہا: اگر ہم حضرت وحشی کے پاس جائیں تو ہم ان سے حضرت حمزہ کے قتل کی تفصیل پوچھ سکتے ہیں ، سوہم ایک آدمی سے ملے ، ہم نے اس سےحضرت وحشی کا ذکر کیا، اس نے کہا: وہ ایسا آدمی ہے جس پرنشہ غالب رہتا ہے ، اگر تم اس کو پاؤ، او روہ صحیح ہو تو تم اس سے کوئی شے بھی پوچھوگے وہ تم کو بتائے گا، اگر تم اس حالت میں پاؤکہ اس نے شراب پی ہو تو تم دونوں اس سےکچھ نہ پوچھنا۔ سوہم دونوں چلے یہاں تک کہ ان کےپاس پہنچ گئے، وہ اپنے گھر کےصحن میں تھے اور وہ درست حالت میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے کہا: اے ابن خیار! میں نے عرض کی: جی ہاں! میں نےآپ کو اس وقت دیکھا جب آپ کی والدہ آپ کو حالت حمل میں میرے پاس ذی طویٰ میں لائی تھی ، جب اس نے تجھے جنا، تومیں نےتیرے پاؤں کو دیکھا تو میں نے تجھے پہچان لیا۔ کہا کہ میں نے عرض کی : ہم آپ سے حضرت حمزہ کے قتل کی تفصیل پوچھنے آئے ہیں ، تم نے آپ کو کیسے قتل کیا، انہوں نے فرمایاکہ میں جبیربن مطعم کا غلام تھا ، اس کا چچا طعیمہ بن عدی جنگ بدر میں قتل ہوا تھا ، اس نے کہا: اگر تو محمد کے چچا حضرت حمزہ کو قتل کر گا میرے چچا کے بدلے میں تو اس کےبعد تُو آزاد ہوگا۔ سو میں اُحد کے دن اپنے نیزہ کو ساتھ لے کر چلا، میں آزاد ی چاہتاتھا ، سو میں اُحد کے دن نکلا ، میرا ارادہ حضرت حمزہ کے قتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے کا نہیں تھا ۔ سباع بن عبدالعزیٰ نے مجھ سے پہلے ان کی طرف پیش قدمی کی۔ میں نے دیکھا وہ مست خاکستری اونٹ کی طرح لگ رہے تھے اور کوئی بھی آپ کے سامنے آنے کی جرت نہ کر رہا تھا ، میں موقع کی تلاش کرنے لگا ، اسی دوران سباع سامنے آنکلا تو میں نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے ختنہ کرنے والی کے بیٹے ! میرے سامنے آ! (یہ کہہ کر) آپ نے اس پر حملہ کیا اور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ، میں درختوں میں چھپتا چھپاتا آپ پر حملے کی تیاری کرنے لگا اور میرے پاس چھاٹا نیزہ تھا یہاں تک کہ جب میں قدرت یاغلبہ پانے کے قریب ہو ا تو میں نے اپنے چھوٹے نیزے کو حرکت دی، جب مجھے اطمینان ہو گیا تو میں نے اسے آپ پر پھینک دیا اور وہ آپ کی دونوں ٹانگوں کے درمیان سے نکل گیا ، آپ نے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن بے سود، پھر لوگوں کے ساتھ میں واپس مکہ آیا تو میں آزاد کر دیا گیا ، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں بھاگ کر ملک طائف کی طرف چلا گیا ، جا کر وہیں مقیم ہو گیا جب طائب والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی نیت کرلی تو میں سوچ میں پڑگیا کہ اب میں کدھر جاؤں ؟ پس اسی سوچ میں پیچ و تاب کھا رہا تھا کہ ایک شخص مجھے آکر کہنے لگا : اے وحشی ! تجھ پرافسوس ! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کلمہ شہادت پڑھتا ہوا جائے گا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے ، تو میں وہاں سے چل پڑا تو میں آپ کے پس پشت کے بالکل قریب کھڑے ہو کر کلمہ شہادت پڑھنے لگا تو آپ نے پوچھا : کیا تُو وحشی ہے ؟ میں نے عرض کی: ہاں! یارسول اللہ ! فرمایا: تجھ پر افسوس ! تومجھے حضرت حمزہ کےقتل کا واقعہ سنا! تو میں نے وہ ماجرا سنایا جس طرح میں نے تم دونوں کو سنایا ہوا ہے ، پھر آپ نے فرمایا: اے وحشی ! تجھ پر افسوس ! تُو میری نظروں سے ہو جا !تیراچہرہ میں نہ دیکھوں ۔ تم میں اپنے آپ کو اس بات سے بچاتا تھا کہ کہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے دیکھ نہ لیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ۔ پس جب حضرت ابو بکر نے یمامہ کی طف لشکر بھیجا ، جو لشکر اس کی طرف روانہ ہوا ان میں میں بھی شامل ہو گیا تو میں نے مسلیمہ کو اپنا نشانہ بنایا ۔ تو میں نے اپناچھوٹا نیزہ لیا، جب ہم ایک دوسرے کے مدمقابل ہوئے تو میں نے اس کی طرف جلدی سے حملہ کر دیا ، اسی طرح ایک انصاری شخص نے بھی اس پر حملہ کر دیا ، تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم میں سے اسے کس نے قتل کیا؟ اگر میں نے قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہتر کو بھی شہید کیا ہے اور بدترین کو بھی قتل کیا ہے۔

خَرَجْتُ ← حفص بن عمرو بن أمية الضمري ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2948

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2949

2948 - حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحراني حدثني أبي ثنا ابن لهيعة عن أبي الأسود Y عن عروة قال : وقتل مع رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم أحد من المسلمين ثم من بني هاشم حمزة بن عبد المطلب قتله وحشي مولى عتبة بن غزوان

حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں میں سے بنی ہاشم سے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب شہید ہوئے ،عتبہ بن غزدان کے غلام وحشی نے آپ کو قتل کیا تھا ۔

عُرْوَةَ ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2949

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2950

2949 - حدثنا أحمد بن عبد الوهاب بن نجدة الحوطي ثنا أحمد بن خالد ثنا عبد العزيز بن أبي سلمة الماجشون عن عبد الله بن الفضل عن سليمان بن يسار Y عن جعفر بن عمرو بن أمية الضمري قال : خرجت أنا و عبيد الله بن عدي بن الخيار فأدربنا ثم مررنا بحمص وبها وحشي فذكر مثل حديث ابن إسحاق

حضرت جعفر بن عمرہ بن امیہ ضمری فرماتے ہیں میں اور عبید اللہ بن عدی بن خیار نکلے ، پھر ہم حمص سے گزرے ، وہاں وحشی تھے، اس کے بعد ابن اسحاق کی حدیث والی مثل ذکر کی ۔

جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2950

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2951

2950 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ثنا محمد بن شعيب بن شابور حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن عبد الله بن الفضل عن سليمان بن يسار Y عن جعفر بن عمرو قال : خرجت أنا و عبيد الله بن عدي بن الخيار زمن معاوية فأدربنا فلما قفلنا مررنا بحمص وكان بها وحشي بن حرب فذكر نحو حديث ابن إسحاق

حضرت جعفر بن عمرہ فرماتے ہیں کہ میں اور عبید اللہ بن عدی بن خیار حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں نکلے ، پس دشمن کے علاقے میں جانکلے ، پس جب ہم واپس لوٹے توہم حمص کے پاس سے گزرے وہاں حضرت وحشی بن حرب تھے ، اس کے بعد حضرت ابن اسحاق کی حدیث ذکر کی ۔

جعفر بن عمرو ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2951

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2952

2951 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا عبد الواحد بن غياث ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد Y عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى فيما يرى النائم قال : رأيت كأني مردف كبشا وكأن ظبة سيفي انكسرت فأولت أني أقتل كبش القوم وأولت ظبة سيفي قتل رجل من عترتي فقتل حمزة وقتل رسول الله صلى الله عليه و سلم طلحة وكان صاحب اللواء

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں دیکھا ، آپ نے فرمایا: میں گویا مینڈھے کے پیچھے ہوں ، میری تلوار کی دھار کندہوگئی ہے ، میں تاویل یہ کی کہ میں قوم کے مینڈھے کو قتل کروں گا اور میں نے تلوار کی دھار کی تاویل اس سے کی کہ میرے خاندان کے ایک آدمی کو قتل کیا جائے گا، حضرت حمزہ کو شہید کیا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلحہ کو مارا، طلحہ جھنڈے والےتھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2952

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2953

2952 - حدثنا مسعدة بن سعد العطار ثنا إبراهيم بن منذر الحزامي ثنا حاتم بن إسماعيل عن يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة Y عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : والذي نفسي بيده إنه لمكتوب عند الله في السماء السابعة حمزة بن عبد المطلب أسد الله وأسد رسوله

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن ابو لبیبہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میرے جان ہے! اللہ کے ہاں ساتویں آسمان میں لکھا ہوا ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہے۔

جَدِّهِ، ← يحيى بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← إبراهيم بن منذر الحزامي ← مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2953

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2954

2953 - حدثنا محمد بن عبد الحضرمي ثنا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن ابن عون Y عن عمير بن إسحاق قال : كان حمزة بن عبد المطلب يقاتل بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم بسيفين ويقول : أنا أسد الله وأسد رسوله

حضرت عمیر بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حمزہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے دو تلواروں سے لڑتے تھے اور کہتے : میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہوں۔

عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← محمد بن عبد الحضرمي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2954

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2955

2954 - حدثنا محمد بن محمد التمار حدثنا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن أبي هاشم الرماني عن أبي مجلز Y عن قيس بن عباد قال سمعت أبا ذر يقول : أقسم بالله أنزلت هذه الآية { هذان خصمان اختصموا في ربهم } في هؤلاء الستة حمزة و عبيدة و علي بن أبي طالب رضي الله عنهم و عتبة و شيبة ابني ربيعة و الوليد بن عتبة وكانو تبارزوا يوم بدر

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم اُٹھاتا ہوں کہ یہ آیت "ھذان خصمان اختصمو فی ربھم" چھ افراد کے متعلق نازل ہوئی' حضرت حمزہ ' عبید ہ ' علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم ' عتبہ' شیبہ اور ربیعہ کے بیٹے ولید بن عتبہ بدر کے دن یہ آپس میں لڑے تھے۔

أَبَا ذَرٍّ ← قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ← اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2955

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2956

2955 - حدثنا عبدان بن أحمد ثنا حماد بن زيد بن الحريش ثنا حسين الأشقر عن قيس عن السدي عن عبد خير Y عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : أعنت أنا و حمزة و عبيدة بن الحارث يوم بدر على الوليد بن عتبة أظنه قال فلم يغب ذلك على النبي صلى الله عليه و سلم

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ولید بن عتبہ کے خلاف میری اور حمزہ اور عبیدہ بن حارث کی مدد کی گئی۔ راوی کا گمان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن وہاں تھے۔

فلم يغب ذلك على النبي صلى الله عليه و سلم ← و حمزة و عبيدة بن الحارث يوم بدر على الوليد بن عتبة أظنه ← أَعَنْتُ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عبد خير ← السُّدِّيِّ ← قَيْسٍ ← حسين الأشقر ← حماد بن زيد بن الحريش ← عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2956

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2957

2956 - حدثنا محمود الواسطي ثنا القاسم بن عيسى الطائي حدثنا رحمة بن مصب الباهلي عن مجالد Y عن الشعبي قال : قدم على معاوية رجل يقال له هوذة فقال له معاوية : يا هوذة هل شهدت بدرا ؟ قال : نعم يا أمير المؤمنين علي لا لي قال : فكم أتى عليك ؟ قال : أنا يومئذ قمد قمدود مثل الصفاة الجلمود كأني أنظر إليهم وقد صفوا لنا صفا طويلا وكأني أنظر إلى بريق سيوفهم كشعاع الشمس من خلل السحاب فما استفقت حتى غشيتنا عادية القوم في أوائلهم علي بن أبي طالب رضي الله عنه ليثا عفريا يفري الفريا وهو يقول : لن تأكلوا التمر ببطن مكة لن تأكلوا التمر ببطن مكة يتبعه حمزة بن عبد المطلب في صدره ريشة بيضاء قد أعلم بها كأنه جمل يحطم يبيسا فرعت منهما وأحالا على حنظلة يعني أخا معاوية رضي الله عنه : عنك ولا كفران لله زلت فليت شعري متى أرحت يا هوذة ؟ قال : والله يا أمير المؤمنين ما أرحت حتى نظرت إلى الهضبات من أرثد فقلت : ليت شعري ما فعل حنظلة ؟ فقال معاوية : أنت بذكرك حنظلة كذ كر الغني أخاه الفقير فإنه لا يكاد يذ كر إلا وسنانا أو متواسنا

حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے پاس ایک آدمی آیا' اس کو ھوذہ کہا جاتا ہے' حضرت امیر معاویہ نے فرمایا: اے ھوذہ! کیا آپ بدر میں حاضر تھے؟ حضرت ھوذہ نے عرض کی: اے امیر المؤ منین! جی ہاں ! میں حاضر تھا' لیکن مجھ پر اس کا وبال ہے' میرے لیے اس کا فائدہ نہیں (کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں میں تھا) فرمایا: تیرے اوپر کتنے (تیر) آئے؟ اس نے عرض کی: اس دن میں سخت مضبوط آدمی تھا' گویا میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں ' انہوں نے ہمارے لیے ایک لمبی صف بنا لی ہے اور گویا کہ میں ان کی تلواروں کی چمک اس طرح دیکھ رہا تھا جس طرح بادلوں کے درمیان سے سورج کی شعار ہوتی ہے' مجھے زیادہ دیر نہ ہوئی کہ ہمیں قوم کے بڑے بڑوں نے گھیر لیا ' ان کے آگے آگے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے' بپھرے ہوئے شیر کی مانند جو شکار کو بھون کے رکھ دئیے' زبان سے کہہ رہے تھے: وادئ مکہ سے تم لوگ کھجوریں ہر گز نہیں کھا سکو گے' تم لوگ وادئ مکہ سے ہر گز کھجوریں نہیں کھا سکو گے' ان کے پیچھے حضرت حمزہ بن عبدالمطلب تھے' ان کے سینے میں سفید پر تھا' وہ اس سے پہچانے جارہے تھے گویا کہ وہ اونٹ ہیں جو خشک (و تر) کو بھسم کر دیں گے' میں ان دونوں کو دیکھ کر ڈر گیا' انہوں نے حنظلہ یعنی معاویہ کے بھائی پر حملہ کیا۔ حضرت معاویہ نے فرمایا: رک جا! اس بات کو چھوڑ دے' اللہ کی ناشکری نہ کر' تو ہمیشہ رہے' تو بتا! اے ھوذہ ! تجھے کب راحت ملی؟ اس نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! مجھے آرام نہ ملا حتیٰ کہ میں نے اللہ کے زمین پر پھیلے ہوئے پہاڑوں کو دیکھا۔ میں نے کہا: کاش میرے شعر حنظلہ نے کیا کیا' معاویہ نے کہا: تیرا حنظلہ کا ذکر کرنا ایسے ہے جیسے ایک مالدار بھائی اپنے محتاج بھائی کاذکر کرتا ہے' کیونکہ قریب ہے کہ اس کا ذکر بے مقصد ہو۔

فكم أتى عليك ← نعم يا أمير المؤمنين علي لا لي ← له معاوية يا هوذة هل شهدت بدرا ← قدم على معاوية رجل يقال له هوذة ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← رحمة بن مصب الباهلي ← الْقَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ ← مَحْمُودٌ الْوَاسِطِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2957

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ واستشهد حمزة رضي الله عنه يوم أحد · حديث 2958

2957 - حدثنا أحمد بن إبراهيم بن عنبر البصري حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي ثنا محمد بن طلحة التيمي حدثني موسى بن الحارث التيمي Y عن أبيه قال : كان حمزة بن عبد المطلب يوم بدر معلما بريشة نعامة فقال رجل من المشركين : من رجل أعلم بريشة نعامة ؟ فقيل حمزة بن عبد المطلب فقال : ذاك الذي فعل بنا الفعل

حضرت موسیٰ بن حارث تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بدر کے دن شتر مرغ کے پر کے ساتھ نشانی لگائی گئی تھی' مشرکوں میں سے ایک آدمی نے کہا: یہ کون آدمی ہے جس پر شتر مرغ کے پر کے ساتھ نشانی لگائی گئی ہے؟ کہا گیا: حمزہ بن عبدالمطلب ! اس نے کہا: یہ وہ ہے جس نے ہمارے ساتھ یہ یہ کیا ہے۔

ذاك الذي فعل بنا الفعل ← رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ: مَنْ رَجُلٌ أُعْلِمَ بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ؟ فَقِيلَ: حَمْزَةُ بْنُ عَبَدِ الْمُطَّلِبِ. ← كَانَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمَ بَدْرٍ مُعَلَّمًا بِرِيشَةِ نَعَامَةٍ، ← أَبِيهِ ← موسى بن الحارث التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ التَّيْمِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2958

chevron_left Previous
1…353637…79
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter
33. Chapter
34. Chapter
35. Chapter
36. Chapter
37. Chapter
38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
2. Book
    44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter186. Chapter187. Chapter188. Chapter
3. Book
    189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter225. Chapter
3. Book
    226. Chapter227. Chapter228. Chapter229. Chapter230. Chapter231. Chapter232. Chapter233. Chapter234. Chapter235. Chapter236. Chapter237. Chapter238. Chapter239. Chapter240. Chapter241. Chapter242. Chapter243. Chapter244. Chapter245. Chapter246. Chapter247. Chapter248. Chapter249. Chapter250. Chapter251. Chapter252. Chapter253. Chapter254. Chapter
4. Book
    255. Chapter256. Chapter257. Chapter258. Chapter259. Chapter260. Chapter261. Chapter262. Chapter263. Chapter264. Chapter265. Chapter266. Chapter
5. Book
    267. Chapter268. Chapter269. Chapter270. Chapter271. Chapter272. Chapter273. Chapter274. Chapter275. Chapter276. Chapter277. Chapter278. Chapter279. Chapter280. Chapter281. Chapter282. Chapter283. Chapter284. Chapter285. Chapter286. Chapter287. Chapter288. Chapter289. Chapter290. Chapter291. Chapter292. Chapter293. Chapter294. Chapter295. Chapter296. Chapter297. Chapter298. Chapter299. Chapter300. Chapter301. Chapter
6. Book
    302. Chapter303. Chapter304. Chapter305. Chapter306. Chapter307. Chapter308. Chapter309. Chapter310. Chapter311. Chapter312. Chapter313. Chapter314. Chapter315. Chapter316. Chapter317. Chapter318. Chapter319. Chapter320. Chapter321. Chapter322. Chapter323. Chapter324. Chapter325. Chapter326. Chapter327. Chapter328. Chapter329. Chapter330. Chapter331. Chapter332. Chapter333. Chapter334. Chapter335. Chapter336. Chapter337. Chapter338. Chapter339. Chapter340. Chapter341. Chapter342. Chapter343. Chapter344. Chapter345. Chapter346. Chapter347. Chapter348. Chapter349. Chapter350. Chapter351. Chapter352. Chapter353. Chapter354. Chapter355. Chapter356. Chapter357. Chapter358. Chapter359. Chapter360. Chapter361. Chapter362. Chapter363. Chapter364. Chapter365. Chapter366. Chapter367. Chapter368. Chapter369. Chapter370. Chapter371. Chapter372. Chapter373. Chapter374. Chapter375. Chapter376. Chapter377. Chapter378. Chapter379. Chapter380. Chapter381. Chapter382. Chapter383. Chapter384. Chapter385. Chapter386. Chapter387. Chapter388. Chapter389. Chapter390. Chapter391. Chapter392. Chapter393. Chapter394. Chapter395. Chapter396. Chapter397. Chapter398. Chapter399. Chapter400. Chapter401. Chapter402. Chapter403. Chapter404. Chapter405. Chapter406. Chapter407. Chapter408. Chapter409. Chapter410. Chapter411. Chapter412. Chapter413. Chapter414. Chapter415. Chapter416. Chapter417. Chapter418. Chapter419. Chapter420. Chapter421. Chapter422. Chapter423. Chapter424. Chapter425. Chapter426. Chapter427. Chapter428. Chapter429. Chapter430. Chapter431. Chapter432. Chapter433. Chapter434. Chapter435. Chapter436. Chapter437. Chapter438. Chapter439. Chapter440. Chapter441. Chapter442. Chapter443. Chapter444. Chapter445. Chapter446. Chapter447. Chapter448. Chapter449. Chapter450. Chapter451. Chapter452. Chapter453. Chapter454. Chapter455. Chapter456. Chapter457. Chapter458. Chapter459. Chapter460. Chapter461. Chapter462. Chapter463. Chapter464. Chapter465. Chapter466. Chapter467. Chapter468. Chapter469. Chapter470. Chapter471. Chapter472. Chapter473. Chapter474. Chapter475. Chapter476. Chapter477. Chapter478. Chapter479. Chapter480. Chapter481. Chapter482. Chapter483. Chapter484. Chapter485. Chapter486. Chapter487. Chapter488. Chapter489. Chapter490. Chapter491. Chapter492. Chapter493. Chapter494. Chapter495. Chapter496. Chapter497. Chapter498. Chapter499. Chapter500. Chapter501. Chapter502. Chapter503. Chapter504. Chapter505. Chapter506. Chapter507. Chapter508. Chapter509. Chapter510. Chapter511. Chapter512. Chapter513. Chapter514. Chapter515. Chapter516. Chapter517. Chapter518. Chapter519. Chapter520. Chapter521. Chapter522. Chapter523. Chapter524. Chapter525. Chapter526. Chapter527. Chapter528. Chapter529. Chapter530. Chapter531. Chapter532. Chapter533. Chapter534. Chapter535. Chapter536. Chapter537. Chapter538. Chapter539. Chapter540. Chapter
6. Book
    541. Chapter
7. Book
    542. Chapter543. Chapter544. Chapter545. Chapter546. Chapter547. Chapter548. Chapter549. Chapter550. Chapter551. Chapter552. Chapter553. Chapter554. Chapter555. Chapter556. Chapter557. Chapter558. Chapter559. Chapter560. Chapter561. Chapter562. Chapter563. Chapter564. Chapter565. Chapter566. Chapter567. Chapter568. Chapter569. Chapter570. Chapter571. Chapter572. Chapter573. Chapter574. Chapter575. Chapter576. Chapter577. Chapter578. Chapter579. Chapter580. Chapter581. Chapter582. Chapter583. Chapter584. Chapter585. Chapter586. Chapter587. Chapter588. Chapter589. Chapter590. Chapter591. Chapter592. Chapter593. Chapter594. Chapter595. Chapter596. Chapter597. Chapter598. Chapter599. Chapter600. Chapter601. Chapter602. Chapter603. Chapter604. Chapter605. Chapter606. Chapter607. Chapter608. Chapter609. Chapter610. Chapter611. Chapter612. Chapter613. Chapter614. Chapter615. Chapter616. Chapter617. Chapter618. Chapter619. Chapter620. Chapter621. Chapter622. Chapter623. Chapter624. Chapter625. Chapter626. Chapter627. Chapter628. Chapter629. Chapter630. Chapter631. Chapter632. Chapter633. Chapter634. Chapter635. Chapter636. Chapter637. Chapter638. Chapter639. Chapter640. Chapter641. Chapter642. Chapter643. Chapter644. Chapter645. Chapter646. Chapter647. Chapter648. Chapter649. Chapter650. Chapter651. Chapter652. Chapter653. Chapter654. Chapter655. Chapter656. Chapter657. Chapter658. Chapter659. Chapter660. Chapter661. Chapter662. Chapter663. Chapter664. Chapter665. Chapter666. Chapter667. Chapter668. Chapter669. Chapter670. Chapter671. Chapter672. Chapter673. Chapter674. Chapter675. Chapter676. Chapter677. Chapter678. Chapter679. Chapter680. Chapter681. Chapter682. Chapter683. Chapter684. Chapter685. Chapter686. Chapter687. Chapter688. Chapter689. Chapter690. Chapter691. Chapter692. Chapter693. Chapter694. Chapter695. Chapter696. Chapter697. Chapter698. Chapter699. Chapter700. Chapter701. Chapter702. Chapter703. Chapter704. Chapter705. Chapter706. Chapter707. Chapter708. Chapter709. Chapter710. Chapter711. Chapter712. Chapter713. Chapter714. Chapter715. Chapter716. Chapter