المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2874
2873 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمد بن عبد الرحمن بن صالح الأسدي ثنا السري بن منصور بن عمار عن أبيه عن ابن لهيعة Y عن أبي قبيل قال : لما قتل الحسين بن علي رضي الله عنهما إحتزوا رأسه وقعدوا في أول مرحلة يشربون النبيذ يتحيون بالرأس فخرج عليهم قلم من حديد من حائط فكتب بسطر دم : ( أترجو أمة قتلت حسينا ... شفاعة جده يوم الحساب ) فهربوا وتركوا الرأس ثم رجعوا
جناب ابو قبیل فرماتے ہیں : جب حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو شہید کیا گیا ، وہ اپ کے سرانور کو جدا کر کے ساتھ لے گئے ، پہلے ہی مرحلہ میں جا کر بیٹھے ، نبیند پینے لگے ، سر کے اشار ے سے سلام کرتے تھے ، ان کے سامنے دیوار سے ایک لوہے کا قلم ظاہر ہوا، پس اس نے خون کے ساتھ ایک سطر لکھی: " وہ لوگ جنہوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا ہے ، کیا وہ قیامت کے دن ان کا ناناجان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی اُمید بھی رکھتے ہیں"۔ پس وہ سر کو د ہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے ، پھر واپس آئے ۔
أَبِي قَبِيلٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبِيهِ ← السري بن منصور بن عمار ← محمد بن عبد الرحمن بن صالح الأسدي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2874
