المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2862
2861 - حدثنا الحسين بن العباس الرازي ثنا سليم بن منصور بن عمار ثنا أبي ( ح ) وحدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان الرقي ثنا عمرو بن بكير بن بكار القعنبي ثنا مجاشع بن عمرو ثنا عبد الله بن لهيعة عن أبي قبيل Y حدثني عبد الله بن عمرو بن العاص أن معاذ بن جبل أخبره قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم متغير اللون فقال : أنا محمد أوتيت فواتح الكلام وخواتمه فأطيعوني ما دمت بين أظهركم فإذا ذهب بي فعليكم بكتاب الله عز و جل أحلوا حلاله وحرموا حرامه أتتكم بالروح والراحة كتاب من الله سبق أتتكم فتن كقطع الليل المظلم كلما ذهب رسل جاء رسل تناسخت النبوة فصارت ملكا رحم الله من أخذها بحقها وخرج منها كما دخلها أمسك يا معاذ واحص قال : فلما بلغت خمسة قال : يزيد لا يبارك الله في يزيد ثم ذرفت عيناه صلى الله عليه و سلم ثم قال : نعي إلي حسين وأتيت بتربته وأخبرت بقاتله والذي نفسي بيده لا يقتل بين ظهراني قوم لا يمنعوه إلا خالف الله بين صدورهم وقلوبهم وسلط عليهم شرارهم وألبسهم شيعا ثم قال : واها لفراخ آل محمد صلى الله عليه و سلم من خليفة مستخلف مترف يقتل خلفي وخلف الخلف أمسك يا معاذ فلما بلغت عشرة قال : الوليد اسم فرعون هادم شرائع الإسلام بين يديه رجل من أهل بيت يسل الله سيفه فلا غماد له واختلف الناس فكانوا هكذا وشبك بين أصابعه ثم قال : بعد العشرين ومئة موت سريع وقتل ذريع ففيه هلاكهم ويلي عليهم رجل من ولد العباس
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ بدلا ہو اتھا ، فرمایا: میں محمد ہوں، مجھے کلام کی فتوحات اور خاتمہ عطاکیے گئے ہیں ، پس تم میری اطاعت کر و جب تک میں تمہارے اندرہوں ، جب میں وصال کر جاؤں تو تمہارے اوپر اللہ کی کتاب پر عمل کرنا لازم ہے ، ا س کے حلال کو حلال جانو اور اس کے حراموں کو حرام جانو، ہم پر آرام اور راحت کا دور آئے گااور اللہ کا لکھا سبقت لے گیا ، رات کی تاریکی کی طرح تم پرفتنے آئیں گے ، جب بھی کوئی رسول تشریف لے گئے تو دوسرا رسول تشریف لایا ، اس کی نبوت منسوخ اور بادشاہی بن گئی ، اللہ رحم فرمائے اس آدمی پر جس نے اُس کے حق کو پہچانااور اس سے اسی طرح نکلا جس طرح اس میں داخل ہوا تھا ، ٹھہرو! اے معاذ ! اور شمار کرو، پس جب میں پانچ تک پہنچا تو کہا: یزید ، اللہ یزید کو برکت نہ دے ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ پھرفرمایا: مجھے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر دی گئی اور مجھے ان کی قتل گاہ کی مٹی لا کر دی گئی اور مجھے اُن کو شہید کرنےوالے کے بارے میں بتادیا گیا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ! قوم کے سامنے وہ شہید نہیں کیے جائیں گے ، ان کی حفاظت صرف وہی کریں گے جن کے دلوں میں اللہ نے اپنے دشمنوں کی مخالفت ڈالی ہے اور اُن پر اُن کے شرارتی لوگ مسلط ہو جائیں گے اور انہیں گروہ در گر وہ بانٹ دیں گے ۔ پھر فرمایا: آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بچوں کے لیے آنے والے خلیفہ کی طرف سے کمزوری ہے ، وہ میرے بعد شہیدہو ں گے اور میرے خلیفوں کے بعد ، ٹھہرو!اےمعاذ ! پس جب میں دس تک پہنچا تو فرمایا: ولید فرعون کا نام ہے ، اسلام کے احکام اس کے سامنے گرائے جائیں گے ، اہل بیت کا ایک آدمی جس کی تلوار کو اللہ باہر لائے گا تو اس کے لیےنیا م میں آنا نہیں ہو گا ، لوگ اختلاف کریں گے ، پس وہ اس طرح ہوں گے اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل فرمایا، ایک سو بیس کے بعد جلدی آنے والی موت ہوگی اور قتل عام ہوگا، جس میں لوگ ہلاک ہوں گے ، ایک عباسی آدمی اُن پر حاکم ہوگا۔
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي قَبِيلٍ، ← عبد الله بن لهيعة ← مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، ← عمرو بن بكير بن بكار القعنبي ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ ← أَبِي ← سليم بن منصور بن عمار، ← الحسين بن العباس الرازي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2862
