المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2814
2813 - حدثنا بشر بن موسى ثنا عبد الصمد بن حسان المروذي ( ح ) وحدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي و محمد بن محمد التمار البصري و عبدان بن أحمد قالوا ثنا شيبان بن فروخ ثنا عمارة بن زاذان الصيدلاني قالا ثنا ثابت البناني Y عن أنس بن مالك قال : استأذن ملك القطر ربه عزوجل أن يزور النبي صلى الله عليه و سلم فأذن له فجاءه وهو في بيت أم سلمة فقال : يا أم سلمة احفظي علينا الباب لا يدخل علينا أحد فبينما هم على الباب إذ جاء الحسين ففتح الباب فجعل يتقفز على ظهر النبي صلى الله عليه و سلم والنبي صلى الله عليه و سلم يلتثمه ويقبله فقال له الملك : تحبه يا محمد ؟ قال : نعم قال : أما إن أمتك ستقتله وإن شئت أن أريك من تربة المكان الذي يقتل فيها قال : فقبض قبضة من المكان الذي يقتل فيه فأتاه بسهلة حمراء فأخذته أم سلمة فجعلته في ثوبها قال ثابت : كنا نقول : إنها كربلاء
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل سے بارش کے فرشتے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کے لیے اجازت مانگی ، اس کو اجازت دی گئی ، وہ فرشتہ آیا، آپ اُس وقت حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے گھر تھے ۔ آپ نے فرمایا: اے اُم سلمہ! ہمارے دروازہ کی حفاظت کرنا کہ کوئی داخل نہ ہو! آپ دروازہ پر تھیں کہ اچانک حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما تشریف لائے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پرسوار ہونے لگے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں پکڑ کے اپنے ساتھ لگا رہے ہیں اور بوسے لے رہے ہیں ۔ فرشتہ نے آپ سے عرض کی : اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپاس سے محبت کرتےہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اس فرشتے نے عرض کی : آپ کی اُمت اسے شہید کرے گی،اگر آپ چاہیں تو آپ کو اس جگہ کی مٹی دکھادوں جس جگہ ان کو شہید کیا جائے گا، فرشتے نے ایک مٹھی مٹی اس جگہ سے لی جہاں آپ کو شہید کیا جانا تھا ، وہ سرخ مٹی لایا۔ حضرت اُم سلمہ نے اسے کپڑا میں رکھا ۔ حضرت ثابت فرماتے ہیں : ہم کہتے تھے : وہ کر بلا ہے ۔
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2814
