المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه يكنى أبا عبد الله ذكر مولده وصفته وهيأته رضي الله عنه وكرم الله وجهه وعن أبيه و أمه · حديث 2802
2801 - حدثنا زكريا بن يحيى الساجي ثنا محمد بن المثنى ثنا يحيى بن حماد ثنا أبو عوانة عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي إدريس Y ثنا المسيب بن نجبة قال قال علي رضي الله عنه : ألا أحدثكم عن خاصة نفسي وأهل بيتي ؟ قلنا : بلى قال : أما حسن فصاحب جفنة وخوان وفتى من الفتيان ولو قد التقت حلقتا البطان لم يغن عنكم في الحرب حبالة عصفور وأما عبد الله بن جعفر فصاحب لهو وظل وباطل ولا يغرنكم ابنا عباس وأما أنا و حسين فأنا منكم وأنتم منا والله لقد خشيت أن يدال هؤلاء القوم عليكم بصلاحهم في أرضهم وفسادكم في أرضكم وبأدائهم الأمانة وخيانتكم وبطواعيتهم إمامهم ومعصيتكم له وإجتماعهم على باطهم وتفرقكم على حقكم حتى تطول دولتهم حتى لا يدعوا لله محرما إلا استحلوه ولا يبقى مدر ولاوبر إلا دخله ظلمهم وحتى يكون أحدكم تابعا لهم وحتى يكون نصرة أحدكم منهم كنصرة العبد من سيده إذا شهد أطاعه وإذا غاب عنه سبه وحتى يكون أعظمكم فيها غنى أحسنكم بالله ظنا فإن أتاكم الله بعافية فاقبلوا فإن ابتليتم فاصبروا فإن العاقبة للمتقين
حضرت مسیب بن نجبہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: کیا تمہیں اپنے اور اپنی اہل بیت کے متعلق بتاؤں! ہم نے عرض کی : کیوں نہیں !آپ نے فرمایا: حسن تو سخی اور اگر معاملہ سخت ہو جائے ، مصیبت سنگین ہوجائے ، نوجوانوں میں سے ایک جوان ہے ، اگر تو یہ تم کو جنگ میں چڑیاکے پھندےکا بھی فائدہ نہ دے ، عبداللہ بن جعفر تو صاحب لھو سایہ والا اور باطل والا ہے ، ابن عباس کے دونوں بیٹے بھی تمہیں دھوکہ نہ دیں ، میں اور حسین تو پھر میں اور حسین ہیں ۔ پس ہم تم سے ہیں اور تم ہم سے ہو ، قسم بخدا ! مجھے خطرہ ہے کہ یہ قوم تم پر غالب کردی جائے ، اس طرح کہ ان کے ملک میں امن ہو ، تمہارے ملک میں فساد ہو ، وہ امانت ادا کریں ، تم امانت میں خیانت کرو، وہ اپنے امام کا کہا مانیں، لیکن تم نافرمانی کرو، وہ اپنے باطل پراکٹھے ہو جائین اور تم اپنے حق پر تعزیہ بازی کا شکار ہو یہاں تک کہ ان کی حکومت کاز مانہ لمبا ہوجائے یہاں تک کہ ان کی حکومت کا زمانہ لمبا ہو جائے ، یہاں تک کہ وہ اللہ کی حرام چیزوں کو حلال کریں ، ہر چھوٹے بڑے پر ظلم کریں یہاں تک کہ تمہارے کچھ لوگ بھی ان کے تابع ہو جائیں ، اس کی مددان کے ساتھ ایسے ہی ہوجیسے نوکرکی آقا کے ساتھ ہوتی ہے ، سامنے ہو تو بات مانتا ہے ، غائب ہو تو گالی دیتا ہے یہاں تک کہ اس میں غنی تمہارا بڑا ہو، اللہ سے حُسن ظن رکھنے والا ، پس اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت دے تو قبول کرنا اور اگر مصیبت و آزمائش دے تو صبر کرنا ، کیونکہ بہتر انجام پرہیز گا روں کے لیے ہے ۔
الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2802
