المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2682
2681 - حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي ثنا جعفر بن حميد حدثنا عبد الله بن بكير الغنوي عن حكيم بن جبير عن أبي الطفيل Y عن زيد بن أرقم رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لكم فرط وإنكم واردون علي الحوض عرضه ما بين صنعاء إلى بصرى فيه عدد الكواكب من قدحان الذهب والفضة فانظروا كيف تخلفوني في الثقلين فقام رجل فقال : يا رسول الله وما الثقلان ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الأكبر كتاب الله سبب طرفه بيد الله وطرفه بأيديكم فتمسكوا به لن تزالوا ولا تضلوا والأصغر عترتي وإنهم لن يفترقا حتى يردا علي الحوض وسألت لهما ذاك ربي فلا تقدموهما فتهلكوا ولا تعلموهما فإنهما أعلم منكم
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارا نتظار کروں گا ، تم میرے حوض پر آؤ گے ، اس کی چوڑائی صنعاء سے لے کر بصریٰ تک ہے ، اس میں سونے اور چاندی کے برتن ، ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ، تم دیکھو کہ میرے بعد ان دونوں بھاری چیزوں سے کیا سلوک کرتے ہو۔ ایک آدمی کھڑا ہو ا، اُس نے عرض کی : یار سول اللہ ! وہ دونوں بھاری چیزیں کیاہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک بڑی ہے وہ قرآن پاک ہے ، اس کا ایک حصہ اللہ کے قبضئہ قدرت میں ہے اور ایک تمہارے پاس ہے ، اسے مضبوطی سے پکرے رکھو، ہمیشہ ہر گز گمراہ نہیں ہوگے ، اور چھوٹی میری اولاد ہے ، دونوں جدا نہیں ہوں گے ، دونوں میرے حوض پر آئیں گے ، میں نے دونوں کے لیے اپنے رب سے مانگاہے ، دونوں سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہو جاؤئے ، ان دونوں سے سیکھو کیونکہ دونوں تم سے زیادہ علم والے ہیں ۔
زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← حكيم بن جبير ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ، ← جعفر بن حميد ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2682
