المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ بقية أخبار الحسن بن علي رضي الله عنهما · حديث 2634
2633 - حدثنا جعفر بن محمد بن سليمان النوفلي المد يني ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن زيد بن أسلم Y عن أبيه قال : دعا عمر بن الخطاب رضي الله عنه علي بن أبي طالب فساره ثم قام علي فجاء الصفة فوجد العباس و عقيلا و الحسين فشاورهم في تزويج أم كلثوم عمر فغضب عقيل وقال : يا علي ما تزيدك الأيام والشهور والسنون إلا العمى في أمرك والله لئن فعلت ليكونن وليكونن لأشياء عددها ومضى يجر ثوبه فقال علي للعباس : والله ما ذاك منه نصيحة ولكن درة عمر أخرجته إلى ما ترى أما والله ماذاك رغبة فيك يا عقيل ولكن قد أخبرني عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل سبب ونسب منقطع يوم القيامة إلا سببي ونسبي فضحك عمر رضي الله عنه وقال : ويح عقيل سفيه أحمق
حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا' آپ نے ان سے کوئی سرگوشی کی ' پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے' مقام صفہ پر آئے ' وہاں حضرت عباس ' عقیل ' حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پایا' وہاں آپ نے ان سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عمر سے کرنے کا مشورہ کیا تو حضرت عقیل غصے ہوئے ' فرمایا: اے علی ! دن اور مہینے اور سالوں نے تم کو تمہارے معاملہ میں خرابی کا اضافہ کیا' اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا انہوں نے کچھ اشیاء کا ذکر کیا' حضرت عقیل اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے گئے۔ حضرت علی نے حضرت عباس سے کہا: یہ کوئی سمجھ والی بات نہیں ہے۔ لیکن حضرت عمر نے کہا: درہ نکلے گا جو آپ نے دیکھا ہے' اللہ کی قسم ! اے عقیل ! آپ کو اس میں کوئی رغبت نہیں ہے۔ مجھے حضرت عمر نے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : قیامت کے دن ہر نسب و سبب ختم ہو جائے گا سوائے میرے سبب اور نسب کے۔ حضرت عمر مسکرائے اور کہا: حضرت عقیل کے لیے افسوس ہے کہ آپ نے سمجھ داری کی بات نہیں کی ہے۔
أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← جعفر بن محمد بن سليمان النوفلي المد يني
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2634
