المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن جده · حديث 2419
2418 - حدثنا معاذ بن المثنى ثنا مسدد ثنا خالد بن زياد الزيات حدثني أبو زرعة بن عمرو بن جرير عن جرير Y قال : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة قال لأصحابه : ( انطلقوا بنا إلى أهل قباء فنسلم عليهم ) فأتاهم فسلم عليهم ورحبوا به ثم قال : ( يا أهل قباء ايتوني بأحجار من هذه الحرة ) فجمعت عنده أحجار كثيرة ومعه عنزة له فخط قبلتهم فأخذ حجرا فوضعه رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال : ( يا أبا بكر خذ حجرا فضعه إلى حجري ) ثم قال : ( يا عمر خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر أبي بكر ) ثم التفت فقال : ( يا عثمان خذ حجرا فضعه إلى جنب حجر عمر ) ثم التفت إلى الناس بآخرة فقال : ( وضع رجل حجره حيث أحب على ذي الخط )
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم مدینہ میں آئے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا : ہم کو قباء والوں کے پاس لے چلو تاکہ انہیں سلام کریں ، آپ ان کے پاس آئے ، انہیں سلام کیا اور انہوں نے آپ کے آنے پر مرحبا کہا، پھر فرمایا : اے قباء والو ! میرے پاس اس سیاہ پتھروں والی زمین سے پتھر لاؤ۔ آ پ کے پاس بہت زیادہ پتھر جمع کیے گئے ، اپ کے پاس نیزہ تھا، ان کا قبلہ مقرر کیا، ایک پتھر پکڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رکھا، پھر فرمایا : اے ابو بکر ! یہ پتھر پکڑو اسے میرے پتھر کے ساتھ رکھو ۔ پھر فرمایا : اے عمر ! یہ پتھر پکڑو اور اس کو اس کے ساتھ رکھ، ابو بکر والے کے ساتھ ، پھر متوجہ ہوئے ، فرمایا : اے عثمان ! یہ پتھر پکڑو ! ، اس کو عمر کے پتھر کے ساتھ والے کے ساتھ رکھو، پھر دوسرے تمام لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اس لکیر پر جس جگہ جس آدمی کو اپنا پتھر رکھنا پسند ہو ، رکھے ۔
جَرِيرٌ ← أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، ← خالد بن زياد الزيات ← مُسَدَّدٌ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى
Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 2419
